سینیٹ الیکشن میں ووٹ کے خریدار کا عمران خان کو علم تھا ، اپنا ووٹ کس کو دیا؟

 April-2018  Comments Off on سینیٹ الیکشن میں ووٹ کے خریدار کا عمران خان کو علم تھا ، اپنا ووٹ کس کو دیا؟
Apr 192018
 

سینیٹ الیکشن میں ووٹ کے خریدار کا عمران خان کو علم تھا ، اپنا ووٹ کس کو دیا؟ سردار حسین بابک

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ عمران خان اپنے بکاؤ مال ممبران کے خلاف کاروائی کر کے پاکستانی تاریخ کا کریڈٹ لینے کی کوشش نہ کریں ، اے این پی وہ واحد سیاسی جماعت ہے جس نے 1991میں ہارس ٹریڈنگ کے الزام میں اپنے دو ممبران کے خلاف تاریخ میں پہلی بار کاروائی کی تھی، اپنے ایک بیان میں اے این پی پر عمران خان کی جانب سے پیسے لینے کے الزام کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان اے این پی پر الزام لگانے سے پہلے دس مرتبہ سوچیں ، انہوں نے کہا کہ دوسروں پر کیچڑ اچھالنے سے پہلے کپتان یاد رکھیں کہ وہ دو سے تین سال تک انہی کرپٹ لوگوں کے بل بوتے پر حکومت چلاتے رہے اور اب جب حکومت کی رخصتی کا وقت آیا تو قوم کو دھوکہ دینے کی خاطر کاروائی کا شوشہ چھوڑ رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ عمران خان کو ووٹ کے خریدار کا پہلے سے علم تھا اور سینیٹ الیکشن میں انہوں نے خود کس کو ووٹ دیا اس کی بھی وضاحت ہونی چاہئے ، انہوں نے کہا کہ در حقیقت پی ٹی آئی کے پاس حکومت چلانے کا کوئی اخلاقی یا آئینی جواز ہی باقی نہیں رہا بجٹ پیش کرنے سے انکار بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ، سردار حسین بابک نے واضح کیا کہ اے این پی نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ہمیشہ اصولوں کی بنیاد پر سیاست کی ہے جس کی دوسری سیاسی جماعتیں بھی معترف ہیں ، انہوں نے کہا کہ دولت کی چمک سینیٹ الیکشن میں اے این پی ممبران کو خیرہ نہیں کر سکی،انہوں نے کہا کہ حکومت کے آخری ایام میں اپنے اسمبلی ممبران کے خلاف کاروائی سے قوم کو دھوکہ نہیں دیا جا سکتا، دنیا جانتی ہے کہ انہی ممبران اور وزراء کو عمران خان تین سال قبل کرپٹ کہہ چکے ہیں لیکن حکومت قائم رکھنے کی خاطر ان ممبران کو سہارے کے طور پر استعمال کیا گیا، سردار بابک نے کہا کہ الیکشن سے قبل قوم کو ورغلانے اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے ڈرامہ رچایا جا رہا ہے تاہم عوام با شعور ہو چکے ہیں ، انہوں نے کہا کہ نیب کا ہاتھ پڑنے والا ہے اور احتساب کمیشن میں جس طرح بے قاعدگیاں کی گئیں اس سے جلد پردہ ہٹ جائے گا، انہوں نے کہا کہ سیاسی مخالفین کیلئے بنایا گیا احتساب کمیشن کو حکومت نے خود داغدار کر دیا۔

بادی النظر میں پانامہ سکرپٹ پلانٹڈتھا ،جاوید ہاشمی کو طلب کیا جانا چاہئے،میاں افتخار حسین

 April-2018  Comments Off on بادی النظر میں پانامہ سکرپٹ پلانٹڈتھا ،جاوید ہاشمی کو طلب کیا جانا چاہئے،میاں افتخار حسین
Apr 182018
 

بادی النظر میں پانامہ سکرپٹ پلانٹڈتھا ،جاوید ہاشمی کو طلب کیا جانا چاہئے،میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ بادی النظر میں پانامہ سکرپٹ پہلے سے تیار تھا جسے بعد میں عملی جامہ پہنایا گیا ،نواز شریف سے متعلق جاوید ہاشمی کے عمران خان بارے انکشافات سے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونین کونسل چوکی ممریز میں تنظیمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،انہوں نے کہا کہ سال ڈیڑھ سال قبل جاوید ہاشمی نے اپنی پریس کانفرنس میں عمران خان کے حوالے سے جو انکشافات کئے وہ خوفناک ہیں اور اس سے مسلسل خدشات بڑھتے جا رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ ان حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو لگتا یہی ہے کہ پانامہ سکرپٹ پہلے سے طے شدہ تھا،، انہوں نے کہا کہ عدالت جاوید ہاشمی کو طلب کرے اور ان کے الزامات کی چھان بین کرے تاکہ عدالت کی حیثیت متنازعہ نہ ہو ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ سیاسی قائدین تدبر کا مظاہرہ کرتے تو آج حالات مختلف ہوتے ، سیاسی مسائل کے حل کیلئے پارلیمنٹ بہترین فورم ہے ،عمران خان کی ایک غلطی کی وجہ سے سیاسی معاملات عدالت تک پہنچے جس کا نقصان پارلیمنٹ اور عدالت دونوں کو ہوا، انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اپنی ساکھ اور حیثیت کو متنازعہ ہونے سے بچانے کیلئے سیاسی معاملات میں الجھنے سے گریز کرے۔18ویں ترمیم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 19اپریل2010اے این پی کیلئے تاریخ ساز دن ہے جب آج ہی کے دن ہم صوبائی خود مختاری اور صوبے کی شناخت حاصل کی تاہم جو عناصر 18ویں ترمیم کے خاتمے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں وہ یاد رکھیں اے این پی اپنی فتح کسی کو چھیننے نہیں دے گی،انہوں نے کہا کہ سی پیک پر پختونوں کے ساتھ جو ظلم کیا گیا وہ ناقابل برداشت ہے چینی سفیر نے ملاقات دوران ہمیں یقین دہانی کرائی تھی کہ مغربی اکنامک کوریڈور ہر حال میں بنے گا لیکن وفاقی حکومت نے حسب سابق پختونوں کو اس کے ثمرات سے محروم رکھنے کی سازش کی ، انہوں نے کہا کہ حکومت مغربی اکنامک کوریڈور پر جلد کام کا آغاز کرے ۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پہلے ہی عوام مشکلات کی دلدل میں دھنس چکے ہیں اور صوبائی حکومت کی بد انتظامی کی وجہ سے خیبر پختونخوا تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے ، انہوں نے کہا کہ پشاور میں جو گرین بیلٹ موجود تھی اس کا ریکارڈ بی آر ٹی کی نذر کر دیا گیا ہے جبکہ بلین سونامی ٹری میں ایک پودے میں18روپے کی کرپشن کی گئی جو اربوں میں بنتی ہے، انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے50فیصد خود رو پودے بھی بلین ٹری میں شمار کئے گئے اور جو پودے مرجھا گئے ان کے بارے میں سرکاری مؤقد اپنا یا گیا کہ وہ بے موسمی پودے تھے ، انہوں نے کہا کہ ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ پودوں کی اقسام اور موسمی اثرات سے نا بلد ہے ،احتساب کمیشن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خلاف اور دوسروں کا احتساب کرنے والا ادارہ خود داغدار ہو چکا ہے اور احتساب کمیشن میں حکومت نے جو تاریخی بے قاعدگیاں کیں وہ اپنی مثال آپ ہے ،انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی جانب سے بجٹ پیش نہ کرنے کا اعلان محض ڈرامہ ہے بجٹ پیش کرنے کے بعد وہ بجٹ پاس نہیں کراسکتے تھے کیونکہ ان کے پاس ممبران کی تعداد پوری نہیں ، انہوں نے کہا کہ جس حکومت سے دور حکومت کے تمام بجٹ لیپس ہو جائیں اور آخری بجٹ پیش کرنے سے قاصر ہو وہ تاریخ کی ناکام ترین حکومت ہوتی ہے ، میاں افتخار حسین نے پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں سے کہا کہ الیکشن کی تیاریاں شروع کریں اے این پی الیکشن میں بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔

ووٹ کے تقدس کی پامالی ملک اور جمہوریت کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے ، میاں افتخار حسین

 April-2018  Comments Off on ووٹ کے تقدس کی پامالی ملک اور جمہوریت کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے ، میاں افتخار حسین
Apr 182018
 

ووٹ کے تقدس کی پامالی ملک اور جمہوریت کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے ، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ووٹ کے تقدس کی پامالی ملک کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے، جمہوریت عوام کی حکمرانی کا نام ہے۔عوام ووٹ کے ریعے حق رائے دہی استعمال کرتے ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں نواز شریف کی زیر صدارت ’ ووٹ کو عزت دو ‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے کہا کہ اے این پی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان خود اس سیمینار میں شریک ہونا چاہتے تھے تاہم اپنی علالت کے باعث وہ نہ آ سکے، میاں افتخار حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ گزشتہ70سال سے کسی منتخب وزیر اعظم کو آئینی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی جو بلاشبہ لمحہ فکریہ ہے اور انتہائی عجیب صورتحال ہے عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والا وزیر اعظم پیشیاں بھگت رہا ہے اور سینکڑوں پختونوں کا قاتل راؤ انوار صرف خط لکھ دیتا ہے اور پھر دوسرے خط کے بعد وی آئی پی پروٹوکول کے ساتھ عدالت میں پیش ہو جاتا ہے ، ملک میں قانون کا دوہرا معیار نہیں ہونا چاہئے ،راؤ انوار سمیت اس کے پیچھے موجود نیٹ ورک کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے ، انہوں نے کہا کہ پختونوں کو درپیش مسائل کے حل کیلئے حکومت ترجیحی بنیادوں پر کام کرے ، انہوں نے واضح کیا کہ ہمیشہ سے ہم ظلم کی چکی میں پستے رہے کبھی غدار اور کبھی ایجنٹ کے الزامات لگتے رہے لیکن کسی کو ووٹ کے تقدس کا خیال نہ آیا البتہ اب پنجاب سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم کو گھر بھیجنے کے بعد ووٹ کے تقدس کا خیال آ ہی گیا ہے تو ہم آپ کے ساتھ ہیں،انہوں نے کہا کہ ہمیں تو شاید وہم تھا کہ پنجاب کے وزیر اعطم کو کوئی نہیں چھیڑ سکتا لیکن یہ دن بھی ہمیں دیکھنا پڑا کہ پنجاب کے وزیراعطم کو بھی کرسی چھوڑنی پڑی ، انہوں نے کہا کہ ہم نواز شریف کے اتحادی نہیں صرف ووت کی عزت کیلئے ان کے ساتھ ہم آواز ہیں ،انہوں نے کہا کہ ووٹ کے تقدس سے تو بات بہت آگے جا چکی ہے تاہم میدان میں کھڑے ہیں، سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ پہلے سے پتہ ہو کہ کوئی آئے گا اور ایسے فیصلے صادر کرے گا،میاں افتخار حسین نے کہا کہ اتنی اکثریت کے باوجود بھی اگر وزیر اعظم کو گھر بھیجا سکتا ہے تو پھر اس ملک میں جمہوریت کیسے پروان چڑھے گی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے دور اقتدار میں دہشت گردوں کے خلاف جہاد کیا اور دہشتگردی کے سامنے سیسی پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوئے جس میں مجھے اپنے بیٹے کی بھی قربانی دینا پڑی لیکن میں ڈرا نہیں اور ملک کی بقا کیلئے ڈٹا رہا ، انہوں نے کہا کہ ہم قربانی نہ دیتے تو شاید آج ملک میں ووٹ کے تقدس کی بات بھی ہوتی کیونکہ دہشت گرد ملک پر قبضہ کرنا چاہتے تھے، انہوں نے کہا کہ سب کو مل کر اس اہم مقصد کیلئے ساتھ دینا ہوگا۔

حکومتی ممبران بک چکے ہیں، بجٹ پیش کرنے سے انکار راہ فرار اختیار کرنے کا حربہ ہے

 April-2018  Comments Off on حکومتی ممبران بک چکے ہیں، بجٹ پیش کرنے سے انکار راہ فرار اختیار کرنے کا حربہ ہے
Apr 172018
 

حکومتی ممبران بک چکے ہیں، بجٹ پیش کرنے سے انکار راہ فرار اختیار کرنے کا حربہ ہے، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کے برائے فروخت ممبران بِک چکے ہیں اور بجٹ پیش کرنے سے انکار دراصل راہ فرار اختیار کرنے کا حربہ ہے ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونین کونسل بالو میں تنظیمی اجلاس اور این وائی او کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر تنظیمی ساتھیوں کی طرف سے میاں افتخار حسین کی سالگرہ کا کیک بھی کاٹا گیا اور انہیں مبارکباد دی گئی ، اپنے خطاب میں میاں افتخار حسین نے کہا کہ حکومت کو خدشہ ہے کہ ممبران کی تعداد پوری نہ ہونے کی وجہ سے وہ بجٹ پاس نہیں کر سکیں گے لہٰذا عوام کو دھوکہ دینے کیلئے شوشہ چھوڑا گیا ،انہوں نے کہا کہ سینیٹ الیکشن میں حکومت کے کئی ممبران اپنی وفاداریاں تبدیل کر چکے ہیں اور اگر بجٹ پاس نہ ہوا تو حکومت کو جان کے لالے پڑ جائیں گے ، انہوں نے کہا کہ صوبے کی تاریخ میں یہ بدقسمت اضافہ ہے جس سے اپنے دور میں تمام بجٹ لیپس ہوئے اور آخری بجٹ پیش کرنے کے قابل ہی نہیں ہیں اس سے بڑھ کر حکومت کی ناکامی کیا ہو سکتی ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ عمران خان خود پارلیمنٹیرین ہوتے ہوئے پارلیمنٹ پر اعتماد نہیں کرتے اور سیاسی معاملات کو عدالتوں تک لے گئے جو کسی طور اچھی روایت نہیں ہے ، انہوں نے کہا کہ جب عدالتوں سے غیر مقبول اور نا پسندیدہ فیصلے آئیں گے تو عوامی ہمدردیاں سیاستدانوں کو ملیں گی جبکہ عدالت کی حیثیت متنازعہ ہو جائے گی،انہوں نے کہا کہ کپتان نے پانچ سال جمہوریت کے خلاف سازش میں گزار دیئے تاہم وہ اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکے ، انہوں نے کالاباغ ڈیم کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ مذکورہ ڈیم کا مسئلہ پہلے تیکنیکی تھا جو بعد میں سیاسی اور اب جانی صورت اختیار کر گیا ہے ڈیم کی تعمیر سے ہزاروں جانوں کے ضیاع کا خدشہ ہے ،انہوں نے کہا کہ ملک کے تین صوبے اس کے مخالف تھے اور بعد ازاں پنجاب نے بھی اس کی مخالفت میں رائے دی جس کے بعد ماضی میں جسٹس ناصر الملک نے اس معاملے کو مسترد کر دیا اور اسے پارلیمنٹ کے ذریعے حل کرنے کا کہا ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ اس حوالے سے عوامی رد عمل بھی آ چکا تھا اور اب یہ مسئلہ ختم ہوچکا ہے لہٰذا عدالت اس میں مداخلت سے گریز کرے ،مردہ گھوڑے کو زندہ کرنے سے ملک کی یکجہتی اور استحکام کو نقصان پہنچ سکتا ہے ، انہوں نے کہا کہ 39ارب ڈالر سی پیک میں بجلی منصوبوں کیلئے ملے تو تمام خزانہ پنجاب منتقل کر دیا گیا جہاں کوئلے سے مہنگی ترین بجلی پیدا کی جارہی ہے حالانکہ خیبر پختونخوا میں سستی بجلی پیدا کرنے کے مواقع موجود ہیں چھوٹے ڈیم بنائے جاتے تو سستی بجلی کے ساتھ ساتھ پانی کی کمی کا مسئلہ ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جا سکتا تھا لیکن اس وقت عدالت کو نوٹس لینے کا خیال نہیں آیا ،انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ کا احترام کرتے ہیں تاہم سپریم کورٹ متنازعہ اور سیاسی معاملات کو چھیڑ کر اپنی حیثیت متنازعہ نہ کرے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ کسی بھی نئی ترمیم کے ذریعے 18ویں ترمیم کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی اجازت نہیں دیں گے ، این ایف سی ایوارڈ میں چھوٹے صوبوں کے حقوق اس سے بھی زیادہ ہیں جو مرکز کسی صورت دینے کے حق میں نہیں ، انہوں نے کہا کہ پنجاب بڑا بھائی ہے لیکن چھوٹے صوبوں کے حقوق غصب کرنا بڑے بھائی کو زیب نہیں دیتا اور جب تک صوبے مضبوط نہ ہوں ملک مضبوط نہیں ہو سکتا،انہوں نے آخر میں اپنی سالگرہ منانے والے دوستوں اور ساتھیوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیااور کہا کہاس موقع پر کیک کاٹنے والوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے مبارکباد دینے والوں کو انتہائی مشکور ہوں ۔

صوبائی حکومت 14ممبران کو پارٹی سے نکال کر اسمبلی توڑنے کی راہ ہموار کر رہی ہے

 April-2018  Comments Off on صوبائی حکومت 14ممبران کو پارٹی سے نکال کر اسمبلی توڑنے کی راہ ہموار کر رہی ہے
Apr 162018
 

صوبائی حکومت 14ممبران کو پارٹی سے نکال کر اسمبلی توڑنے کی راہ ہموار کر رہی ہے،سردار حسین بابک

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے انکشاف کیا ہے کہ صوبائی حکومت اپنے 14ممبران کو پارٹی سے نکال کر اسمبلی توڑنے کی راہ ہموار کر رہی ہے،تاہم وزیر اعلیٰ کی جانب سے اسمبلی توڑنے کے غیر جمہوری طرز عمل اور نا مناسب اقدام کی ہر صورت مذمت اور مخالفت کی جائے گی، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ صوبائی اسمبلی کے سپیکر کی جانب سے بار بار اجلاس ملتوی کرنے کی روایت جانبداری کی عکاس اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی بدترین مثال ہے ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ صوبہ جس مالی بدانتظامی اور مسائل کا شکار ہے اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی،ڈپٹی سپیکر کے عہدے پر الیکشن سے حکومت کترا رہی ہے اور اس اہم عہدے کو کیوں خالی چھوڑا جا رہا ہے؟انہوں نے کہا کہ دراصل حکومت کے پاس مطلوبہ تعداد ہی نہیں ہے جس سے وہ اس عہدے کو پُر کر سکے ،حکمران اسمبلی کے اندر اور باہر اعتماد کھو چکے ہیں ،سردار حسین بابک نے سپیکر کی جانب سے اپوزیشن کے22نکاتی ایجنڈے کو مسترد کرنے اور اجلاس نہ بلانے کے فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ سپیکر جانبدارانہ طرز عمل کو ترک کر کے حکومتی حکم پر بار بار اجلاس ملتوی کرنے کی نا مناسب روش ترک کردیں ، انہوں نے واضح کیا کہ اپوزیشن ممبران کی جانب سے 22نکاتی ایجنڈا صوبے کے مسائل و مشکلات کے کی نشاندہی اور ان کے حل کیلئے اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرایا گیا تھا لیکن سپیکر نے ان میں سے7ممبران کے دستخطوں پر اعتراض لگا کر اسے مسترد کر دیا جس سے نہ صرف ان ممبران کی توہین بلکہ اسمبلی کا استحقاق بھی مجروح ہوا ہے،انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ارکان نے اجلاس بلانے کیلئے ریکوزیشن جمع کرائی تھی جس کے بعد سپیکر مقررہ معیاد کے اندر اسمبلی کا اجلاس بلانے کے پابند تھے،لیکن بد قسمتی سے اپوزیشن کی ریکوزیشن کو مسترد کر کے حکومتی اشاروں پر اجلاس بلا کر بگیر کسی کاروائی کے ملتوی کر دیا گیا،سردار حسین بابک نے کہا کہ در حقیقت حکومت کے پاس اسمبلی میں تعداد پوری نہیں جس کی وجہ سے اس نے بجٹ پیش کرنے سے معذرت کی کیونکہ یہ بجٹ پاس نہیں کراسکتے تھے ۔

کپتان کی ایک غلطی سے سپریم کورٹ کی حیثیت متنازعہ ہو رہی ہے،اسفندیار ولی خا

 April-2018  Comments Off on کپتان کی ایک غلطی سے سپریم کورٹ کی حیثیت متنازعہ ہو رہی ہے،اسفندیار ولی خا
Apr 152018
 

کپتان کی ایک غلطی سے سپریم کورٹ کی حیثیت متنازعہ ہو رہی ہے،اسفندیار ولی خان

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ سیاسی معاملات میں متنازعہ فیصلوں سے سپریم کورٹ کی حیثیت متنازعہ ہو رہی ہے ،عدالت عظمیٰ سے درخواست ہے کہ سیاسی معاملات میں الجھنے سے گریز کریں اور ان معاملات کو پارلیمنٹ میں ہی حل ہونا چاہئے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے بونیر میں گرینڈ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اے این پی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی اور جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک سمیت دیگر مقامی قائدین نے بھی جلسہ سے خطاب کیا ، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ کپتان کی ایک غلطی سے سیاسی معاملات عدالت تک جا پہنچے جبکہ سیاسی رہنماؤں کو اپنے مسائل پارلیمنٹ میں حل کرنا چاہئیں تھے، انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت فاٹا کا مسئلہ حل کرنے میں سنجیدہ نہیں لگتی اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو خدشہ ہے کہ حالات سنگین رخ اختیار کر جائیں گے، انہوں نے کہا کہ اے این پی روز اول سے پختونوں کے مسائل کی نشاندہی کرتی آئی ہے تاہم اسے سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا ، انہوں نے کہا کہ فاٹا کو جلد از جلد صوبے میں ضم کر کے صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دی جائے اور ایک آئینی ترمیم کے ذریعے صوبائی کابینہ میں بھی حصہ دیا جائے ، آپریشن کے نتیجے میں گھر بار چھوڑنے والے آئی ڈی پیز کی گھروں کو باعزت واپسی، مایئنز کی صفائی اور چیک پوسٹیں ختم کی جائیں، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ ایک دینی جماعت کے رہنما اے این پی کے خلاف ہرزہ سرائی میں مصروف ہیں لیکن دنیا جانتی ہے کہ افغان جنگ میں ڈالروں کی خاطر انہوں نے نام نہاد جہاد میں حصہ لیا اور ہزاروں جانیں لیں، انہوں نے کہا کہ ہمارے اسلاف نے جب اسے فساد قرار دیا تو ان پر طرح طرح کے الزامات لگائے گئے لیکن اب جب رد الفساد کے نام سے آپریشن شروع کیا گیا تو ان کی زبان بند ہو گئی ہے ، ایم ایم اے کی بحالی کے اسلام کیلئے نہیں بلکہ اسلام آباد کیلئے ہے پانچ سال تک ایک دینی جماعت مرکز میں اور دوسری صوبے میں اقتدار کے مزے لوٹتی رہی اور اقتدار کے خاتمے پر انہیں اسلام یاد آ گیا ہے ، انہوں نے کہا کہ مولانا صاحب ایک فون کال پر فاٹا اصلاحات کا بل رکوا سکتے ہیں تو ایک فون پر شرعیت کیوں نافذ نہیں کراتے ، انہوں نے کہا کہ سارا کھیل اقتدار کیلئے ہے ،خیبر بنک کے سکینڈل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام انتظار کریں حکومت کے جاتے ہی مزید بڑے سکینڈل بھی سامنے آئیں گے ، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے حوالے سے تاحال خدشات سامنے آ رہے ہیں اور اگر اسے ختم کرنے یا اس میں مزید کسی ترمیم کی کوشش کی گئی تو اے این پی بھرپور قوت کے ساتھ مزاحمت کرے گی،انہوں نے کہا کہ ہم نے بڑی قربانی اور کوشش کے بعد اپنے صوبے کے حقوق حاصل کئے اور یہ اے این پی کی تاریخی کامیابی تھی جسے اب کسی کی جھولی میں نہیں ڈالیں گے اور نہ ہی اپنے حقوق غصب کرنے کی کسی کو اجازت دینگے ، انہوں نے کہا کہ سی پیک پر مرکزی حکومت نے دھوکہ دیا اور پختونوں و فاٹا کے عوام کے ساتھ زیادتی کی ہے ، انہوں نے کہا کہ سی پیک اب چائنہ پاکستان کی بجائے چائنہ پنجاب اکنامک کوریڈور تک محدود ہو کر رہ گیا ہے جو کسی صورت ملکی مفاد میں نہیں ، انہوں نے کہا کہ 70 سال سے پنجاب کو پاکستان تصور کرنے کا سلسلہ جاری ہے چھوٹے صوبوں کے حقوق نہ ملنے سے ان میں احساس محرومی بڑھتا جا رہا ہے ،پنجاب بڑا بھائی ضرور ہے لیکن چھوٹے صوبے بڑے بھائی کے غلام نہیں ہیں،بڑا بھائی ہمارا حق نہیں دے گا تو وہ ہمارے لئے قابل احترام نہیں رہے گا،انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قیام کیلئے پختونوں کے مرد و خواتین نے جانوں کے نذرانے دیئے جس کی واضح مثال سانحہ بابڑہ تاریخ کا حصہ ہے ، انہوں نے کہا کہ ملک کی تمام صوبوں کو برابری کی بنیاد پر حق ملنا چاہئے صوبے مضبوط ہونگے تو ملک بھی مضبوط ہوگا ، صوبائی حکومت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اے این پی پر کرپشن کے الزامات لگانے والے اپنے گریبان میں جھانکیں کہ وہ اُسی حکومت میں وزیر رہے ہیں انہیں اس وقت کرپشن کیوں نظر نہیں آئی ، انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت صوبے کی تاریخ کی ناکام ترین حکومت ہے جس کے پاس عوام کو دینے کیلئے کچھ نہیں تھا ، انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ آئندہ الیکشن کی تیاری کے حوالے سے اپنی سرگرمیاں تیز کریں ، اس موقع پر جماعت اسلامی سے درجنوں اہم شخصیات نے اپنے خاندان اور ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان بھی کیا۔

کالاباغ ڈیم پر عدالتی مداخلت سےمنصوبوں کا اتفاق بلڈوز ہو سکتا ہے، میاں افتخار حسین

 April-2018  Comments Off on کالاباغ ڈیم پر عدالتی مداخلت سےمنصوبوں کا اتفاق بلڈوز ہو سکتا ہے، میاں افتخار حسین
Apr 152018
 

کالاباغ ڈیم پر عدالتی مداخلت سے منصوبوں کا اتفاق بلڈوز ہو سکتا ہے، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الحسن کے گھر پر فائرنگ اور حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اے این پی دہشت گردی اور ٹارگٹڈ حملوں کی ہمیشہ سے مخالف رہی ہے ،جس ملک میں عدالت عظمیٰ کے جج محفوظ نہ ہوں وہاں شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کیسے ہوسکتا ہے ؟ ان خیالات کا اظہار انہوں نے رات گئے یو سی ڈاگ اسماعیل خیل میں تنظیمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ اب جج صاحبان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عام شہریوں کو انصاف کی فراہمی کیلئے ملک بھر کی عدالتوں میں پڑے لاکھوں کیسز نمٹائیں اور ان معاملات میں خود کو نہ الجھائیں جو ان کا کام نہیں ، سیاسی مسائل کے حل کیلئے پارلیمنٹ موجود ہے کیونکہ سیاسی مسائل میں الجھنے سے عدالتوں کی اپنی حیثیت متنازعہ ہونے کے ساتھ ساتھ اسے دھچکا بھی لگ سکتا ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ملک کے تمام اداروں کی توقیر برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ عدالت ان مسائل کو نہ چھیڑے جو پارلیمنٹ کا کام ہے ، انہوں نے کہا کہ کالاباغ ڈیم اب سیاسی نہیں بلکہ انسانی مسئلہ بن چکا ہے ملک کے چاروں صوبے اس پر متفق نہیں ہیں جبکہ ماضی میں جسٹس ناصر الملک بھی اس کیس کو اس لئے مسترد کر چکے ہیں کیونکہ یہ پارلیمنٹ کا کام ہے ،ملک کی تمام صوبائی اسمبلیوں ، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اس اہم ایشو پر ماضی میں بہت بحث ہو چکی ہے اور سب نے متفقہ طور پر اسے مسترد کر دیا ہے لہٰذا اب اس مسئلے کو اٹھانے کا کوئی جواز نہیں بنتا ،انہوں نے کہا کہ پختونوں کے جائز مسائل کے حل کیلئے اے این پی نے ہمیشہ ہر فورم پر جنگ لڑی ہے اور حالیہ درپیش مسائل سے متعلق تمام مطالبات تسلیم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے ،میاں افتخار حسین نے کہا کہ فاٹا سے متعلق عدالتی دائرہ اختیار بڑھانے کا بل منظور ہونے کے بعد حکومت جلد از جلد انضمام کا اعلان کرے اور آئندہ الیکشن میں فاٹا کو صوبائی اسمبلیوں سمیت آئینی ترمیم کر کے صوبائی کابینہ میں بھی نمائندگی دے،انہوں نے کہا کہ آئی ڈی پیز کی واپسی ،ان کے تباہ حال سکول و گھروں کی تعمیر ،مائنز کی صفائی، چیک پوسٹوں کے خاتمے اور دیگر مسائل کیلئے اے این پی بار ہا آواز اٹھاتی رہی ہے جو فی الفور حل طلب ہیں،18ویں ترمیم کے ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبوں کے حقوق چھینے کی پالیسی ملک کے مفاد میں نہیں ماضی میں ایسی ہی پالیسی سے ملک دولخت ہوچکا ہے لہٰذا حکومت ہوش کے ناخن لے اور اس اہم قومی ایشو کو چھیڑنے اور 18ویں ترمیم کے خاتمے کا خواب دیکھنا چھوڑ دے،انہوں نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مغربی اکنامک کوریڈور کی تعمیر میں لیت و لعل سے احساس محرومی اور حکومت کے خلاف بد اعتمادی بڑھتی جا رہی ہے، چینی سفیر سے ملاقات میں مغربی اکنامک کوریڈور بنانے کی یقین دہانی کرائی گئی تاہم حکومت اس معاملے میں سنجیدہ نظر نہیں آ رہی جو پختونوں کے معاشی قتل کے مترادف ہے،انہوں نے کہا کہ عوام صوبائی حکومت کی ناقص اور غیر سنجیدہ پالیسیوں سے متنفر ہو چکے ہیں اور ان کی جانب سے اے این پی کو پذیرائی مل رہی ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ دیگر سیاسی جماعتیں دولت کی چمک کے بل بوتے پر زندہ ہیں جبکہ اے این پی کا کُل قیمتی سرمایہ اس کی مضبوط اور فعال تنظیمیں ہیں ، انہوں نے کارکنوں و عہدیداروں پر زور دیا کہ آئندہ الیکشن کے حوالے سے تنظیموں کو مزید فعال کرنے کیلئے دن رات محنت کریں ، انہوں نے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب اے این پی عوام کے بھرپور تعاون سے صوبے میں ایک بار پھر حکومت بنائے گی اور اولیں ترجیح کے طور پر صوبے و پختونوں کے تمام مسائل کے حل پر توجہ مرکوز رکھے گی۔