الیکشن کمیشن فوج تعیناتی بارے اپنی مجبوری کی وضاحت کردے، میاں افتخار حسین

 Oct-2018  Comments Off on الیکشن کمیشن فوج تعیناتی بارے اپنی مجبوری کی وضاحت کردے، میاں افتخار حسین
Oct 152018
 

الیکشن کمیشن فوج تعیناتی بارے اپنی مجبوری کی وضاحت کردے، میاں افتخار حسین
کیا ملک کی پولیس اس قابل بھی نہیں کہ وہ35حلقوں کا الیکشن پر امن طور پر کراسکے؟
ہماری مخلصانہ خواہش ہے کہ ادارے متنازعہ نہ ہوں اور تمام ملکی اداروں کا وقار بحال رہے۔
اے این پی کے فتحیاب امیدوار اور پارٹی کارکن مبارکباد کے مستحق ہیں۔
الیکشن کی شفافیت کے حوالے سے آئی ایس پی آر کا بیان تعجب خیز ہے۔
حکومت اپنا اعتماد کھو چکی ہے ا ایک سال سے زیادہ نہیں چل سکتی۔
ضمنی الیکشن میں عوامی پریشر نے دھاندلی کرنے والوں کا راستہ مسدود کیا۔
اے این پی کی حمایت پر اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کو سلام پیش کرتے ہیں۔میڈیا سے بات چیت

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے ضمنی الیکشن میں اے این پی کے امیدواروں کی کامیابی پر انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے متحدہ اپوزیشن جماعتوں کے قائدین ،کارکنوں اور اے این پی کے عہدیداروں و کارکنوں کا شکریہ ادا کیا ہے ، بلور ہاؤس میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پشاور کے عوام اور سیاسی جماعتوں نے شہید بشیر بلور اور ہارون بلور شہید کی شہادت کی لاج رکھی اور ثمر ہارون بلور کی کامیابی میں اپنا کردار ادا کیا،انہوں نے کہا کہ سوات سے اے این پی کے امیدوار کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت اپنا اعتماد کھو چکی ہے اور دکھائی ایسا دے رہا ہے کہ موجودہ حکومتیں ایک سال سے زیادہ نہیں چل سکتیں،انہوں نے کہا کہ مردان میں اے این پی کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا ،الیکشن کمیشن بتائے کہ کس کے کہنے پر نتیجہ تبدیل کر دیا گیا،میاں افتخار حسین نے استفسار کیا کہ کیا ہماری پولیس اس قابل نہیں کہ صرف35حلقوں کا الیکشن کرا سکے ، الیکشن کمیشن کو فوج بلانے کی ضرورت کیوں پڑتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہماری مخلصانہ خواہش تھی کہ ادارے متنازعہ نہ ہوں اور تمام ملکی اداروں کا وقار بحال رہے،الیکشن کمیشن اس حوالے سے مسلسل ہٹ دھرمی پر قائم ہے اور اگر ایسی کوئی مجبوری ہے تو اسے وضاحت کرنی چاہئے ، انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن اپنا اعتماد کھو چکا ہے ، ملک میں کبھی بھی شفاف الیکشن نہیں ہوئے تاہم25جولائی کے انتخابات میں ہونے والی دھاندلی کے تاریخ کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے اور سٹیبلشمنٹ کی کھلم کھلا مداخلت کا بھانڈا پھوٹ گیا،انہوں نے کہا کہ ضمنی الیکشن میں بھی دھاندلی کی ریہرسل کی جانی تھی لیکن کم حلقوں اور پریشر ڈیویلپ ہونے کی وجہ سے مخصوص قوتیں اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکیں،انہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ الیکشن کا نظام تبدیل کیا جائے اور حقیقی عوامی نمائندگی کا احترام کیا جانا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ سوائے ایک پارٹی کے تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ 25جولائی کو تاریخ کی بدترین دھاندلی ہوئی اور اس کے نتیجے میں عمران کو22کروڑ عوام پر زبردستی مسلط کرکے ملک کو تباہی سے دوچار کر دیا گیا ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ عمران کو لانے والے نہیں جانتے کہ ملک کو اس کی کیا قیمت ادا کرنا پڑے گی،انہوں نے کہا کہ الیکشن کی شفافیت کے حوالے سے آئی ایس پی آر کا بیان تعجب خیز ہے جبکہ الیکشن کے دھاندلی زدہ ہونے میں دو رائے نہیں ، ملک کی تاریخ میں25جولائی کو بدترین دھاندلی کی گئی اور فوجی اہلکار اس میں براہ راست ملوث تھے ، انہوں نے کہا کہتمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ انتخابات میں دھاندلی گئی اور صرف مخصوص پارٹی کو اقتدار سونپنے کیلئے تمام حربے استعمال کئے گئے ، انہوں نے کہا کہ بیرونی دنیا عمران پر اعتماد نہیں کر رہی کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وزیراعظم عوام کا منتخب نمائندہ نہیں،انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندگی کا حق شفاف ہو تو ملکی معاملات بہتر انداز میں چل سکتے ہیں۔

اے این پی کے امیدواروں کی کامیابی عمرانی حکومت پر عوام کا عدم اعتماد ہے

 Oct-2018  Comments Off on اے این پی کے امیدواروں کی کامیابی عمرانی حکومت پر عوام کا عدم اعتماد ہے
Oct 152018
 

اے این پی کے امیدواروں کی کامیابی عمرانی حکومت پر عوام کا عدم اعتماد ہے، اسفندیار ولی خان

ہارون بلور شہید کا انتقام ووٹرز نے پرچی کے زریعے لے لیا ہے۔

ثمر ہارون بلور کی جیت دراصل دہشت گردوں کی شکست ہے۔

خیبر پختونخوا کے عوام نے اے این پی کو کامیاب کر کے امن پر مہر لگائی ہے۔

کامیابی 25جولائی کو ہونے والے انتخابات کی دھاندلی کا ثبوت ہے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ ہارون بلور شہید کا انتقام ووٹرز نے پرچی کے زریعے لے لیا ہے اور ثمر ہارون بلور کی جیت دراصل دہشت گردوں کی شکست ہے، ضمنی انتخابات کے نتائج کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اے این پی دھرتی کے شہداء اور جمہوریت کی امین ہے ،خیبر پختونخوا کے عوام نے اے این پی کو کامیاب کر کے امن پر مہر لگائی ہے ، انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی ناقص کارکردگی کی وجہ سے دو ماہ میں ہی ایکسپوز ہو چکی ہے اور عوام نے ضمنی الیکشن میں ان پر عدم اعتماد کر کے ثابت کر دیا ہے کہ وہ نام نہاد تبدیلی کے حق میں نہیں ہیں، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ اے این پی اور متحدہ اپوزیشن کے امیدواروں کی کامیابی عمرانی حکومت پر عدم اعتماد ہے ،انہوں نے متحدہ اپوزیشن میں شامل جماعتوں کے قائدین اور کارکنوں کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اے این پی نے دہشتگردوں کے سرپرستوں ،مالی مددگاروں اور ہمدردوں کو شکست دی اور وزیر اعلیٰ کے علاقے میں کامیابی اس بات کا بین ثبوت ہے کہ 25جولائی کو ہونے والے انتخابات شفاف اور منصفانہ نہیں تھے ۔

الیکشن کی شفافیت بارے وضاحتوں نے مزید سوالات کھڑے کر دیئے ہیں

 Oct-2018  Comments Off on الیکشن کی شفافیت بارے وضاحتوں نے مزید سوالات کھڑے کر دیئے ہیں
Oct 142018
 

الیکشن کی شفافیت بارے وضاحتوں نے مزید سوالات کھڑے کر دیئے ہیں، زاہد خان

آئی ایس پی آر کا بیان نا مناسب ہے ، الیکشن کے دھاندلی زدہ ہونے میں دو رائے نہیں ہو سکتیں۔

ملک کے22کروڑ عوام 25جولائی کے متنازعہ الیکشن کی حقیقت سے با خبر ہیں۔

تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے کام کریں تو مسائل کبھی جنم نہ لیں۔

ضمنی الیکشن سے قبل وضاحت کس جانب اشارہ کر رہی ہے،وزیر اطلاعات کے بیان پر وضاحت چاہئے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد خان نے الیکشن کی شفافیت کے حوالے سے آئی ایس پی آر کے بیان پر حیرت اور تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 22کروڑ عوام 25جولائی کے انتخابات میں دھاندلی سے با خبر ہے اور تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ الیکشن کسی صورت شفاف اور غیر متنازعہ تھے ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ملک کا اہم ستون الیکشن کی شفافیت بارے صفائی دے رہا ہے جو ایک ناپسندیدہ بیان ہے ، انہوں نے کہا کہ انتخابات کی شفافیت اور الیکشن کمیشن کے کردار پر انگلیاں اٹھ چکی ہیں لہٰذا فوج کا الیکشن کی شفافیت کے حوالے سے بیان دینا نامناسب ہے،انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کے تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے کام کریں تو مسائل کبھی جنم نہ لیں ، انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک اہم ادارہ ناپسندیدہ شخص کو صادق و امین کا سرٹیفیکیٹ جاری کر چکا ہے ، انہوں نے کہا کہ سیاست میں مداخلت اداروں کا کام نہیں اور ضمنی الیکشن سے صرف ایک روز قبل آئی ایس پی آر کی جانب سے وضاحت نے ضمنی الیکشن کی شفافیت پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے ،انہوں نے گزشتہ دنوں وفاقی وزیر اطلاعات کے بیان پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ فواد چوہدری اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ ہماری پشت پر فوج اور عدلیہ موجود ہے،اے این پی سمجھتی ہے کہ اس حوالے سے وضاحت سامنے آنی چاہئے کیونکہ متنازعہ بیان سے شکوک و شبہاٹ میں مذید اضافہ ہو چکا ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کا خورشید خٹک کی والدہ کے انتقال پر اظہار تعزیت

 Oct-2018  Comments Off on عوامی نیشنل پارٹی کا خورشید خٹک کی والدہ کے انتقال پر اظہار تعزیت
Oct 122018
 

عوامی نیشنل پارٹی کا خورشید خٹک کی والدہ کے انتقال پر اظہار تعزیت

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی اور جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے پارٹی رہنما محمد شریف خٹک کی اہلیہ اور پارلیمانی بورڈ کے ممبر محمد خورشید خٹک کی والدہ ماجدہ کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے غمزدہ خاندان سے دلی تعزیت کی ہے ، اپنے تعزیتی بیان میں پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ مرحومہ کی وفات ان کے خاندان کیلئے ناقابل تلافی نقصان ہے اور پارٹی ان کے غم میں برابر کی شریک ہے ، انہوں نے مرحومہ کی مغفرت اور پسماندگان کے صبر جمیل کیلئے دعا کی۔

قوم کا وقار مجروح کرنے والی حکومت ایک سال سے زیادہ نہیں چلے گی

 Oct-2018  Comments Off on قوم کا وقار مجروح کرنے والی حکومت ایک سال سے زیادہ نہیں چلے گی
Oct 122018
 

قوم کا وقار مجروح کرنے والی حکومت ایک سال سے زیادہ نہیں چلے گی،میاں افتخار حسین

حکومت نے ملک کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے ، عمران خان کو قوم پر مسلط کرنے والے حکومت کو چلتا کر دیں ۔

پاکستانی روپے کی بے قدری سے9سو ارب ڈالر کا نقصان ہوا جو اس حکومت کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ملک پر کٹھ پتلی وزیر اعظم مسلط کرنے کی وجہ سے چین اور سعودی عرب نے قرض دینے انکار کیا ۔

سیاسی جماعتوں کو پارلیمنٹ سے باہر کرنے اور اپنے لئے طوطا پالنے کی ملک کو کیا قیمت ادا کرنا پڑے گی؟

تمام دوست ہمسایہ ممالک ناراض ہیں اور ملک کی داخلہ و خارجہ پالیسیاں ناکام ہو چکی ہیں۔

روزمرہ اشیا کی قیمتیں دو ماہ پہلے کی سطح پر لائی جائیں، مہنگائی کے خلاف مظاہرے سے خطاب اور میڈیا سے بات چیت

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے ملک کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے ، عمران خان کو قوم پر مسلط کرنے والے حکومت کو چلتا کر دیں ،حقیق جمہوری حکومت کے بغیر عوامی مسائل حل نہیں ہو سکتے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور پریس کلب کے سامنے مہنگائی ، ناجائز ٹیکسوں اور قرضوں کی بھرمار کے خلاف اے این پی کے زیر اہتمام احتجای مظاہرے سے خطاب اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ، صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک ، سینئر نائب صدر سید عاقل شاہ اور اے این پی ڈسٹرکٹ و سٹی کی تنظیموں کے صدور و جنرل سیکرٹریز سمیت دیگر قائدین بھی موجود تھے،میاں افتخار حسین نے کہا کہ ملک کو ایک رات میں پاکستانی روپے میں بے قدری سے9سو ارب ڈالر کا نقصان ہوا جو اس حکومت کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے ، انہوں نے کہا کہ حکومت کے اقتدار میں آتے وقت ملکی خزانے میں 17ارب ڈالرز موجود تھے جو کم ہو کر اب 8سو ارب ڈالر رہ گئے ہیں جن میں سے6ارب ڈالرز بیرون ملک پاکستانیوں کے ہیں ، انہوں نے کہا کہ اپنی مرضی کے فیصلے کرانے کیلئے کٹھ پتلی وزیر اعظم کو عوام پر مسلط کرنے والے ددیکھ لیں کہ سیاسی جماعتوں کو پارلیمنٹ سے باہر کرنے اور اپنے لئے طوطا پالنے کی ملک کو کیا قیمت ادا کرنا پڑے گی، انہوں نے کہا کہ چین اور سعودی عرب نے قرض دینے سے انکار اس لئے کیا کیونکہ عمران منتخب وزیر اعظم نہیں اور دنیا یہ بات اچھی طرح جانتی ہے،انہوں نے کہا کہ نیازی اور ان کے حواریوں پر قوم کا اعتبار نہیں رہا،عسکری وزیر اعظم اور جعلی پارلیمنٹ عوام کے گلے پر چھری پھیر کر مخصوص مفادات کیلئے دولت اینٹھنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کسی صورت قابل برداشت نہیں ، انہوں نے کہا کہ روز مرہ اشیا کی قیمتیں عوام کی دسترس سے باہر ہو چکی ہیں،اور غریب خود کشیوں پر مجبور ہیں،میاں افتخار حسین نے کہا کہ تمام دوست ہمسایہ ممالک ناراض ہیں اور ملک کی داخلہ و خارجہ پالیسیاں ناکام ہو چکی ہیں ، انہوں نے اقتصادی پالسیسی نہ ہونے کی وجہ سے حکومت ایک سال بمشکل نہیں چل سکتی،انہوں نے کہا کہ حکومت کو اقتدار میں لانے والے اسی راستے سے گھر بھیجے اور مہنگائی سمیت ٹیکسوں کے نفاذ اور قرضوں کے عوام پر منفی اثرات کی روک تھام کی جائے ،انہوں نے کہا کہ روزمرہ اشیا کی قیمتوں کو دو ماہ پہلے والی سطح پر لا کر منجمد کیا جائے انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو مالیاتی اداروں کے پاس گروی رکھ دیا گیا ہے اور مدینہ جیسی ریاست کو اب سودی کاروبار کے ذریعے چلایا جا رہا ہے،انہوں نے کہا کہ ملک دو ماہ میں ذلت کی آخری حدوں کو چھو رہا ہے جس سے قوم کا وقار مجروح ہو رہا ہے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ضمنی ا الیکشن میں25جولائی والی ریہرسل نہ کی جائے ،فوج پولنگ سٹیشنوں کے اندر تعینات نہ کی جائے،انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں انہوں نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن متحد ہے، شہباز شریف کی گرفتاری کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نیب کسی کے اشاروں پر احتساب کی بجائے انتقام لے رہا ہے ، اگر تحقیقات کیلئے شہباز شریف کو گرفتار کیا جا سکتا ہے تو عمران خان ، علیم خان ، اور پرویز خٹک کے خلاف بھی انکوائری چل رہی ہے انہیں بھی گرفتار کیا جائے۔

نئے پاکستان کی پہلی ’’ففٹی‘‘عوام کیلئے قیامت سے کم نہیں

 Oct-2018  Comments Off on نئے پاکستان کی پہلی ’’ففٹی‘‘عوام کیلئے قیامت سے کم نہیں
Oct 122018
 

نئے پاکستان کی پہلی ’’ففٹی‘‘عوام کیلئے قیامت سے کم نہیں ،سردار حسین بابک

حکمرانوں نے معاشی قتل عام اور سیاسی افراتفری شروع کر دی ہے،عوام سے آخری نوالہ تک چھین لیا گیا

مہنگائی کے طوفان،ٹیکسوں میں اضافے و نئے ٹیکسوں کے نفاذ نے عوام کو ذہنی مریض بنا دیا ہے۔

نئے پاکستان کی شروعات انتہائی بھیانک ہے جبکہ حکمرانوں کی نااہلی کا ملبہ عوام پر گر رہا ہے۔

حکمرانوں کی تمام توجہ گورنر ہاؤسز کھولنے ،بھینسیں بیچنے اور سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنے پر صرف ہو رہی ہے۔

ٹیم اور وژن سے محروم تبدیلی سرکار کے پاس کوئی منصوبہ بندی نہیں، مہنگائی کے خلاف مظاہرے سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ نئے پاکستان کے حکمرانوں نے معاشی قتل عام اور سیاسی افراتفری شروع کر دی ہے اور مہنگائی کا طوفان کھڑا کر کے غریب عوام سے آخری نوالہ تک چھین لیا گیا ہے،پشاور پریس کلب کے سامنے مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئے پاکستان کے پہلے 50دن عوام کیلئے قیامت سے کم نہیں اور مہنگائی کی چکی میں پسے عوام کی چیخیں نکال دی گئیں،روپے کی قیمت تاریخ کی کم ترین سطح پر آ گئی اور ٹیکسوں میں اضافے و نئے ٹیکسوں کے نفاذ نے عوام کو ذہنی مریض بنا دیا ہے ،سردار حسین بابک نے کہا کہ حکمران انتہائی غیر سنجیدگی اور غیر ذمہ داری کے ساتھ ملکی امور چلا رہے ہیں جس سے روزانہ کی بنیاد پر عوامی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے ،انہوں نے اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ تبدیلی سرکار کے پاس نہ ٹیم ہے نہ وژن اور نہ ہی کوئی منصوبہ بندی ، نئے پاکستان کی شروعات انتہائی بھیانک ہے جبکہ حکمرانوں کی نااہلی کا ملبہ عوام پر گر رہا ہے،انہوں نے کہا کہ دوسروں پر الزامات لگانے، گالیاں دینے اور ملک میں سیاسی کلچر کو آلودہ کرنے والوں کی حکومت کی اصلیت سب پر عیاں ہو گئی ہے حکمرانوں کی تمام توجہ گورنر ہاؤسز کھولنے ،بھینسیں بیچنے ،لیٹرینیں صاف کرنے اور سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنے پر صرف ہو رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ ناتجربہ کار وزرا کو عوامی مسائل کا کوئی ادراک نہیں اور ان کی غیر ذمہ داری سے ملک میں افراتفری کی صورتحال ہے۔

اے این پی کا مہنگائی اور ٹیکسوں کے خلاف ا حتجاج کا فیصلہ بروقت ہے

 Oct-2018  Comments Off on اے این پی کا مہنگائی اور ٹیکسوں کے خلاف ا حتجاج کا فیصلہ بروقت ہے
Oct 102018
 

اے این پی کا مہنگائی اور ٹیکسوں کے خلاف ا حتجاج کا فیصلہ بروقت ہے، میاں افتخارحسین
آئی ایم ایف جانے کی صورت میں خودکشی کا وعدہ کرنے والے کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے۔
پی ٹی آئی کے سپورٹرز پچھتاوے کا شکار ہیں مگر ان سے انہونی فیصلے کروائے جارہے ہیں۔
ضمنی انتخابات پی ٹی آئی کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف ایک ریفرنڈم ہے۔
عمران کی عوام دشمن پالیسیاں ان کی حکومت کو ختم کرنے کیلئے کافی ہیں۔
اپوزیشن منظم اور متحد ہے، مختلف مکاتب فکر کے لوگ اے این پی کے احتجاج اور انتخاب میں ساتھ دیں۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین نے عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کی جانب سے بڑھتی ہوئی مہنگائی، ٹیکسوں میں اضافے، نئے ٹیکسیز کے نفاذ، افراط زر اور حکومت کا آئی ایم ایف سے قرضے لینے کے خلاف صوبہ بھر میں احتجاج کے اعلان کو بروقت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چونکہ عوامی مسائل اے این پی کی ترجیح ہیں اور اس کڑے اور مشکل وقت میں عوامی نیشنل پارٹی چپ سادھ نہیں لے سکتی، یہ ایک احسن اور بروقت فیصلہ ہے اور قوم کو ایک آواز ہوکر موجودہ حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف متحدہ اپوزیشن کو سپورٹ کرکے میدان میں آنا چاہئے۔ انہوں نے تاجر تنظیموں، ٹرانسپورٹروں، طلباء ، مزدوروں، کسانوں ، نوجوانوں اور دکانداروں سمیت مختلف مکاتب فکر سے اپیل کی کہ وہ موجودہ حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف اے این پی کے احتجاج میں شامل ہوکرموثر آواز بنیں اور ائندہ ضمنی انتخابات میں اپوزیشن کے حمایت یافتہ امیدواروں کو سپورٹ کرکے موجودہ حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف کا اظہار کریں کیونکہ یہ پی ٹی آئی کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف ایک ریفرنڈم ہے۔
انہوں نے کہا کہ کپتان عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف نے عوام کو اس زغم میں مبتلا کردیا تھا کہ ان کے پاس ایک تجربہ کار ٹیم اور تمام مسائل کا حل موجود ہے جبکہ دوسری جانب ان کو مختلف حوالوں سے قوم کے سامنے ایک مسیحا ے طور پر پیش کیا جاتا رہالیکن بدقسمتی سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے عنان حکومت سنبھالتے ہی ایسے اقدامات کئے جس نے خود ان کے سپورٹرزکو پریشان کردیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جن قوتوں نے عمران خان کو سپورٹ کیا، وہ خود اپنے کئے پر پشیماں ہیں اور ایک پیج پر ہرگز نہیں ہیں مگر ان سے ایسے انہونی فیصلے کروائے جارہے ہیں جس کیلئے کوئی دوسری سیاسی اور قوم پرست جماعت ہرگز تیار نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی اپنی پالیسیاں ہی ان کی حکومت کو ختم کرنے کیلئے کافی ہیں اور اس کیلئے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا تھا کہ وہ آئی ایم ایف کو جانے کے بجائے خودکشی کرنے کو ترجیح دینگے، میاں افتخارحسین نے یاد دلایا کہ اب عمران خان سمیت تحریک انصاف کی قیادت کسی کو منہ دکھانے کی لائق نہیں رہی کیونکہ آئی ایم ایف جانے کا فیصلہ کرکے انہوں نے خود اپنے پاوں پر کلہاڑی ماردی ہے۔
میاں افتخارحسین نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی عوام دشمن پالیسوں کی روک تھام صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ آنے والے ضمنی انتخابات میں عوام عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ اپوزیشن کے نامزد امیدواروں کو ووٹ پول کرکے موجودہ حکومت کی پالیسیوں پر عدم اعتماد کا اظہار کرلیں۔ کیونکہ تحریک انصاف کو چھوڑ کر ساری سیاسی پارٹیاں متحد ہیں اور ملک کے بہتر مستقبل اور جمہوریت کی بقاء کیلئے یک زباں ہے۔