پی کے ون پشاور ون کیلئے حاجی ہدایت اللہ خان اے این پی کے امیدوار نامزد

 Dec-2017  Comments Off on پی کے ون پشاور ون کیلئے حاجی ہدایت اللہ خان اے این پی کے امیدوار نامزد
Dec 152017
 

پی کے ون جلسہ

پی کے ون پشاور ون کیلئے حاجی ہدایت اللہ خان اے این پی کے امیدوار نامزد

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے حلقہ پی کے ون پشاور ون کیلئے حاجی ہدایت اللہ خان کو امیدوار نامزد کر دیا ہے ، اس امر کا اعلان انہوں نے پشاورپی کے ون امن چوک میں ایک گرینڈ شمولیتی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر قومی وطن پارٹی کے ناظم امانت علی باچہ سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کی سرکردہ شخصیات نے اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ،اے این پی کے مرکزی سینئر نائب صدر حاجی غلام احمد بلور ،صوبائی سینئر نائب صدر سید عاقل شاہ ، سٹی صدر ملک غلام مصطفی، جنرل سیکرٹری سرتاج خان ،حاجی ہدایت اللہ خان اور ملک طارق اعوان سمیت مرکزی و صوبائی قائدین بھی جلسہ میں موجود تھے، امیر حیدر خان ہوتی نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو مبارکباد دی اور کہا کہ عوام صوبائی حکومت کی ناقص کارکردگی اور غیر سنجیدگی کے باعث متنفر ہو چکے ہیں اور وہ اے این پی کو اپنے حقوق کا محافظ سمجھتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ مستقبل میں اے این پی ایک بار پھر عوام کی طاقت سے اقتدار میں آکر حقیقی تبدیلی لائے گی ،امیر حیدر خان ہوتی نے پارلیمانی بورڈ کے چیئرمین کی حیثیت سے حاجی ہدایت اللہ خان کو پی کے ون پشاور کیلءئے امیدوار نامزد کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ عوام کی طاقت اور محنت سے اے این پی آئندہ الیکشن میں بھرپور کامیابی حاصل کرے گی،موجودہ صورتحال اور عدالتی فیصلوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہم عدالت کے تمام فیصلوں کا احترام کرتے ہیں لیکن قانون سب کیلئے برابر ہونا چاہئے ، نواز شریف کو صرف اقامہ پر نا اہل کر دیا گیا جبکہ کپتان نے خود اپنی آفشور کمپنیوں کا اعتراف کیا لیکن وہ نا اہلی سے بچ گئے جو سمجھ سے بالاتر ہے، انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین کو عدالت نے تا حیات نا اہل کر دیا ہے اور اب عدالت سے بچ جانے والے کپتان کو خیبر پختونخوا کے عوام اپنے ووٹ کی طاقت سے نا اہل کر دیں گے،نہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال اس نہج پر کھڑی ہے جہاں کسی بھی غلطی کی گنجائش نہیں اور سیاستدانوں نے اس صورتحال کا ادراک نہ کیا تو جمہوریت ڈی ریل ہو سکتی ہے ، امیر حیدر خان نے کہا کہ قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ صوبے کے خلاف سازش ہے اور عمران خان صوبے کو ملنے والی 5اضافی سیٹیں ضائع کرنے کے درپے ہیں ، انہوں نے کہا کہ ہم نے تحفظات کے باوجود خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کا مینڈیٹ تسلیم کیا لہٰذا تمام منتخب حکومتوں کو اپنی معیاد پوری کرنی چاہئے اور الیکشن اپنے مقررہ وقت پر ہونے چاہئیں، اے این پی کے صوبائی صدر نے مزید کہاکہ صوبے میں پختون قوم 2018کے انتخابات میں سونامی نہیں بلکہ باچاخانی کو ووٹ دیں گے لوگوں نے ان کی تبدیلی کے جھوٹے دعوؤں اوروعدوں کا حشر دیکھ لیاہے اور ان کے کھوکھلے نعروں میں مزید نہیں آئیں گے ۔انہوں نے کہا کہ اے این پی واحد سیاسی جماعت ہے جو کارکن کی رائے کو اہمیت دیتی ہے اور کارکنوں کے فیصلے کی روشنی میں پارٹی نے تمام حلقوں کے ٹکٹ جاری کئے ، انہوں نے کہا کہ پختون تبدیلی کی حقیقت جان چکے ہیں اور مستقبل میں وہ کسی کے دھوکے میں نہیں آئیں گے کارکن 2018کے انتخابات کے لئے تیاریاں شروع کریں۔

فاٹا انضمام کی مخالفت کرنے والے قبائلی عوام کے بشری حقوق کیلئے یک زبان ہو جائیں، میاں افتخار حسین

 Dec-2017  Comments Off on فاٹا انضمام کی مخالفت کرنے والے قبائلی عوام کے بشری حقوق کیلئے یک زبان ہو جائیں، میاں افتخار حسین
Dec 142017
 

ال اسٹوڈنٹس فیڈریشن کانفرنس

فاٹا انضمام کی مخالفت کرنے والے قبائلی عوام کے بشری حقوق کیلئے یک زبان ہو جائیں ، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے ایک بار پھر حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فاٹا کا مسئلہ ترجیحی بنیادوں پر حل کر کے لاکھوں قبائلیوں اور پختونوں میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ کرے ، مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی مخالفت چھوڑ کر قبائلی عوام کے بنیادی انسانی حقوق کیلئے کی جانے والی جدوجہد میں شامل ہو جائیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز میں فاٹا انضمام کے حوالے سے پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے زیر اہتمام آل سٹوڈنٹس فیڈریشن قائدین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع تمام سیاسی جماعتوں اور فاٹا سے تعلق رکھنے والی کی سٹوڈنٹس تنظیموں کے قائدین نے بھرپور شرکت کی ،پختون ایس ایف کی مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین حق نواز خٹک نے اپنے خطاب میں مشترکہ اعلامیہ پیش کیا ،جبکہ سیکرٹری عمران مہمند نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دیئے ، میاں افتخار حسین نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ پختونوں کا اصل اتحاد فاٹا کے صوبے میں انضمام میں ہی مضمر ہے جبکہ ایف سی آر انگریز کی باقیات ہیں اور انگریز سے آزادی حاصل کرنے کے بعد اس کالے قانون کا خاتمہ ضروری ہے ، عسکری قیادت ، مرکزی و صوبائی حکومتیں ، قبائلی عوام اور ان کے نمائندے اور تمام پختون قوم اگر فاٹا کے صوبے میں انضمام کے حق میں ہیں تو پھر تاخیر کا کوئی جواز نہیں بنتا،انہوں نے کہا کہ اے این پی روز اول سے ہی قبائل کے صوبے کے انضمام کے حق میں ہے اور اے این پی 90ء کی دہائی میں صوبائی اسمبلی میں قرارداد پیش کر چکی ہے، تاہم اس وقت کے چند قبائلی مشران کی وجہ سے اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا جبکہ آج حالات یکسر مختلف ہیں اور تمام سٹیک ہولڈرز فاٹا کے صوبے میں انضمام کے حق میں ہیں جو کام ہم 90کی دہائی میں کرنا چاہتے تھے وہی آج سب کا مطالبہ ہے ، انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے اس پر عمل درآمد کی نوید سنائی گئی تاہم پانامہ کے شور میں یہ اہم ایشو دب گیا تاہم اگر مرکزی حکومت موجودہ وقت میں فاٹا اصلاحات پر عمل درآمد کرے اور آئینی ترمیم کے ذریعے اس کا اعلان کر دے تو تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا،انہوں نے کہا کہ یہ وقت اس کام کیلئے انتہائی موزوں ہے اور کوئی نہیں جانتا کل پھر موقع ملے نہ ملے۔انہوں نے کہا کہ انگریز سے آزادی کے باوجود ان کی کھینچی گئی لکیریں تاحال پختونوں کے درمیان موجود ہیں اور ہم ان تمام لکیروں کو متانے کیلئے ہمہ وقت جدوجہد جاری رکھیں گے ، فاٹا اور بلوچستان کے پختونوں کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے،انہوں نے کہا کہ ہم پوائنٹ سکورنگ نہیں کرنا چاہتے بلکہ قبائلی عوام کو ان کے جائز حقوق دلانے کی جدوجہد میں شریک ہیں،لہٰذا قبائلی عوام کو صوبے میں ایک بڑے اور خصوصی پیکج کے ساتھ ضم کیا جائے تاکہ انہیں این ایف سی ایوارڈ میں حصہ اور اسمبلیوں میں نمائندگی مل سکے،اور اسکے ساتھ ساتھ ترقیاتی فنڈز کیلئے صوبائی سطح پر پیکج دیا جائے،انہوں نے مردم شماری میں صوبے اور فاٹا کی آبادی کم ظاہر کرنے پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ مرکزی حکومت نے صرف اس لئے یہ گیم کھیلی تاکہ پختونوں اور قبائلیوں کو وسائل کی تقسیم زیادہ نہ ہو سکے ، انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں بھی ٹرائبل کا حصہ مرکز کے پاس ہے جو صوبے میں انضمام کے بعد ہی قبائلی عوام تک پہنچ سکے گا،اختیارات کی تقسیم کے حوالے سے میاں افتخار حسین نے کہا کہ گورنر مرکزی حکومت کے نمائندے ہیں لہٰذا فاٹا کے انضمام کے بعد تمام اختیارات صوبے کے پاس ہونے چاہئیں ورنہ حالات سدھار کی بجائے تباہی کی جانب جائیں گے،بین الاقوامی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جب بھی مذاکراتی عمل کا آغاز ہوا اسے سبوتاژ کرنے کی سازشیں شروع کر دی گئیں اور افغانستان کے حالات سوچی سمجھی سازش کے تحت خراب کئے جا رہے ہیں، دونوں ملکوں میں افہام و تفہیم ضروری ہے،سپر پاورز کے سحر سے نکلے بغیر کامیابی کا حصول ممکن نہیں ۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ وقت آ چکا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کو اپنی خارجہ و داخلہ پالیسیاں قومی مفاد میں بنانی چاہئیں اور خطے کو درپیش جیلنجز کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری وقت کی اہم ضرورت ہے،انہوں نے کہا کہ جب سے پاک افغان مذاکراتی عمل کا عندیہ دیا گیا ہے تب سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حالات خراب کر کے مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کیا جا رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے لہٰذا مذاکراتی عمل ضروری ہے اور قومی بیانیہ اس حوالے سے اہم اور بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ صورتحال پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک ہے خطے میں چین ، روس اور امریکہ سپرپاورز جبکہ پاکستان ،ایران اور بھارت ایٹمی طاقت کے طور پر موجود ہیں ، سپرپاورز نے اپنے مفادات کیلئے ہمارے خطے کو مسکن بنا لیا ہے اور ان میں سے کسی کے بھی مفادات کو نقصان پہنچا تو خطہ میں تیسری عالمی جنگ چھڑ جائے گی، اور اس جنگ کو روکنے کیلئے سب کو اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی ، انہوں نے کہا کہ ہمارا خطہ پراکسی وار کا متحمل نہیں ہو سکتا ، انہوں نے پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن کے قیام کیلئے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہترین اور اچھے تعلقات اشد ضروری ہیں اور اسی صورت میں مزید جانوں کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔

کرسی اقتدار کی خاطر عمران خان کی پختون دشمنی کھل کر سامنے آ چکی ہے

 Dec-2017  Comments Off on کرسی اقتدار کی خاطر عمران خان کی پختون دشمنی کھل کر سامنے آ چکی ہے
Dec 112017
 

کرسی اقتدار کی خاطر عمران خان کی پختون دشمنی کھل کر سامنے آ چکی ہے، حاجی غلام احمد بلور

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر حاجی غلام احمد بلورنے کہا ہے کہ عمران خان وازرت عظمی تک پہنچنے کی خاطر پختونخوا اور پختون قوم کے ساتھ دشمنی میں اس حد تک آگے جا چکے ہیں کہ ان کے حقوق پاؤں تلے روندنے سے بھی دریغ نہیں کرتے اور ان کے بیانات سے پختونخوا اور پختون قوم کے ساتھ دشمنی کھل کر سامنے آ گئی ہے ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بار ہا قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ نئی مردم شماری کے نتیجے میں ملنے والی5اضافی سیٹیں اور این ایف سی ایوارڈ میں ملنے والا حصہ کپتان کیلئے کوئی اہمیت نہیں رکھتا ، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین کو صرف کرسی اقتدار سے غرض ہے جس کیلئے وہ کسی کے حقوق بھی غصب کرنے سے دریغ نہیں کرتے ، حاجی حلام احمد بلور نے اس بات پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا کہ صرف ایک صوبے پختونخوا سے تحریک انصاف کو ووٹ ملا اور اسی صوبے اور عوام کے ساتھ دشمنی کی جا رہی ہے جبکہ ملک کے دیگر صوبوں نے ان پر عدم اعتماد کرتے ہوئے انہیں مسترد کر دیا تھا،انہوں نے کہا کہ پختون فیصلہ کریں کہ ان کے حقوق کا تحفظ کرنے والی جماعت کون سی ہے ، عوام نے جس جماعت کو ووٹ دیا وہی جماعت نئی مردم شماری کے نتیجے میں نوجوانوں کو ملنے والے ووٹ کے حق سے محروم رکھنا چاہتی ہے، انہوں نے کہا کہ اپنے اقتدار کیلئے صوبائی حقوق کو قربان کرنے والے کسی طور عوام کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے ،انہوں نے قبل از وقت انتخابات کو صوبہ خیبر پختونخوا کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ واویلا کرنے والی پی ٹی آئی کی جماعت ایک جانب نئی حلقہ بندیوں کے تحت صوبے کو ملنے والی نئی 5اضافی نشستیں ضائع کرنا چاہتی ہے اور دوسری جانب صوبے کو این ایف سی ایوارڈ سے محروم رکھنا چاہتی ہے ، انہوں نے کہا کہ قبل از وقت الیکشن 98کی پوزیشن اور پرانی حلقہ بندیوں کے تحت ہونگے اور حالیہ مردام شماری کے نتیجے میں ظاہر کی جانے والی آبادی کو بھی باہر کر دیا جائے گا جبکہ نئی حلقہ بندیوں کے تحت بڑھنے والی 5سیٹوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑیں گے ، انہوں نے کہا کہ صوبے کے حالیہ مالک اور حاکم وقت اپنے ہی صوبے کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں اور عمران خان وزارت عظمی تک جلد از جلد پہنچنے کی خواہش میں آئین تک کو روندنے پر تُلے ہوئے ہیں،حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ ملک کسی غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا ، جمہوریت کی بقاء کیلئے سب کو مدبرانہ سوچ اپنانا ہو گی ، انہوں نے کہا کہ اے این پی نے ہمیشہ جمہوریت کی بقا کیلئے قربانی دی ہے اور کبھی کسی غیر آئینی قوت کے سامنے سر نہیں جھکایا اور اب بھی ہم جمہوریت کے ساتھ ہیں جمہوریت ڈی ریل ہوئی تو ملک و قوم دونوں کو نقصان ہوگا، انہوں نے کہا کہ سیاستدان صورتحال کا ادراک کریں اور غیرضروری خواہشات کی تکمیل کیلئے آئین کو پاؤں تلے روندنے سے باز رہیں ۔

حکومتوں کی ناقص منصوبہ بندی اور غیر سنجیدگی سے دہشت گرد منظم ہو چکے ہیں

 Dec-2017  Comments Off on حکومتوں کی ناقص منصوبہ بندی اور غیر سنجیدگی سے دہشت گرد منظم ہو چکے ہیں
Dec 092017
 

حکومتوں کی ناقص منصوبہ بندی اور غیر سنجیدگی سے دہشت گرد منظم ہو چکے ہیں ، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ بے گناہ انسانوں اور تعلیمی اداروں پر حملے کرنے والے دہشت گردوں کا مقصد ملک اور عوام میں دہشت کی فضا پھیلانا ہے تاہم عوام کا دہشت گردی کے خلاف اتحاد کسی صورت انہیں اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیگا ، انہوں نے کہا کہ جب تک ملک بھر خصوصاً پنجاب میں دہشت گردوں کے نیٹ ورکس تباہ نہیں کئے جاتے امن کا قیام ممکن ہی نہیں ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں شمالی وزیرستان دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت اور بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ،نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کی مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین محسن داوڑ بھی اس موقع پر ان کے ہمراہ تھے،میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ صرف وزیرستان آپریشن سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں بلکہ گڈ اور بیڈ کا فرق ختم کر کے تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کرنا ہو گی۔اور پنجاب میں سرگرم 70 کالعدم تنظیموں کے خلاف مؤثر کاروائی کے بغیر امن کا قیام ممکن ہی نہیں ، جو مختلف ناموں سے اب بھی چندے اکٹھے کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، اور اس رقم کو دہشت گردی کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے لیکن انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان کالعدم تنظیموں پر ہاتھ ڈالنے والا کوئی نہیں اور اب یہ تنظیمیں ملک کے انتخابات میں بھی حصہ لے رہی ہیں جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ دہچت گردی کے خاتمے میں کون کتنا سنجیدہ ہے ؟انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے پے در پے واقعات نے قوم کی زندگی اجیرن کر کے رکھ دی ہے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک بھر میں ٹارگٹڈ اور سرچ آپریشن کر کے دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کی جائے، مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ مخصوص ذہنیت کے خلاف سخت کاروائیوں کے بغیردہشت گردوں کی پیداواری فیکٹریوں کا خاتمہ ممکن نہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ اے پی ایس سانحے کے بعد ایک متفقہ 20نکاتی دستاویز سامنے آئی تاہم بدقسمتی سے مرکزی ، پنجاب اور خیبر پختونخوا حکومت نے اس پر عمل درآمد میں مصلحت سے کام لیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج دہشت گرد آزاد ہیں اور وہ جب جہاں چاہیں کاروائی کر سکتے ہیں،پنجاب میں ان دہشتگردوں کی نرسریوں پر ہاتھ نہیں ڈالا گیا جبکہ ہماری صوبائی حکومت دہشت گردوں کو دفتر فراہم کرنے کا سوچتی رہی جس سے دہشت گردوں کو تقویت ملی ،انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اگرنیشنل ایکشن پلان کے تمام 20نکات پراب بھی عملدرآمد کر لے تو ملک بھر میں امن قائم ہو سکتا ہے، مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ خارجہ پالیسی میں ملکی مفاد کو مقدم رکھ کر کام کیا جائے تو دہشت گردی سے نجات ممکن ہے، البتہ ابھی تک دہشت گردوں کی حکمت عملی کامیاب رہی اور وہ جب جہاں جسے چاہیں ٹارگٹ کر سکتے ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں حکومتی حکمت عملی ناکامی سے دوچار ہے،انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی بہتری تک خطے میں امن کے قیام کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ، خطے کو درپیش جیلنجز کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری وقت کی اہم ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ دونوں ملکوں میں پختون بیلٹ دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں ، لہٰذا اب بہت خون بہہ چکا ہے اور اس کے تدارک کیلئے عالمی سطح پر کوششیں کرنا ہونگی، انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کی حکومتیں خارجہ و داخلہ پالیسیاں سپر پاورز کے مفاد کی بجائے قومی مفاد کو پیش نظر رکھ کر ری وزٹ کریں ، اور دہشت گردی کے خاتمے اور پاکستان اور افغانستان میں امن کے قیام کیلئے کوئی راہ نکالی جائے کیونکہ افغانستان سے اچھے تعلقات خود پاکستان کے مفاد میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کو باہمی افہام و تفہیم سے اپنے مسائل کا حل نکالنا چاہئے ، گزشتہ دنوں مذاکرات کے حوالے سے باز گشت سنائی دی تاہم ابھی تک اس پر کوئی پیپش رفت نہیں ہوئی ،اسی طرح جائنٹ سیکشن کے بارے میں بھی معاملات سست روی کا شکا ر ہیں،میاں افتخار حسین نے کہا کہ خطے میں تین سپرپاورز امریکہ ، چین اور روس اپنے مفادات کی جنگ میں مصروف ہیں جبکہ تین ایٹمی طاقتیں پاکستان ایران اور بھارت کے بھی تعلقات ایک دوسرے سے کشیدہ ہیں ایسے موقع پر ذرا سی غلطی بڑی تباہی کا پیش ضیمہ ثابت ہو سکتی ہے ، انہوں نے کہا کہ تمام ممالک صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے تحمل کا مظاہرہ کریں ،اور سپرپاورز اس خطے پر اپنے مفادات کی جنگ مسلط نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ پالیسیاں تبدیل نہ ہوئیں تو تیسری عالمی جنگ چھڑ سکتی ہے جس کی ذمہ داری آج کے پالیسی سازوں پر عائس ہو گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیرستان سمیت تمام قبائلی بیلٹ کے متاثرین کو خصوصی پیکج دیا جائے اور جن کے پیارے دہشت گردی کی نذر ہوئے ان کی داد رسی کیلئے ان کے ساتھ تعاون کیا جائے ۔انہوں نے تمام زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے بھی دعا کی۔

 فلسطینیوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، ٹرمپ نے دنیا کا امن خطرے میں ڈال دیا ہے، اسفندیار ولی خان

 Dec-2017  Comments Off on  فلسطینیوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، ٹرمپ نے دنیا کا امن خطرے میں ڈال دیا ہے، اسفندیار ولی خان
Dec 082017
 

 فلسطینیوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، ٹرمپ نے دنیا کا امن خطرے میں ڈال دیا ہے، اسفندیار ولی خان

اسلام آباد ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دینے کے امریکی اعلان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اے این پی مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ ہے اور اگر امریکہ جارحیت سے باز نہ آیا تو ہم اس کے خلاف میدان میں ہونگے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شولگرہ ترناب چارسدہ PK-19 میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کا صدر بننا امریکہ کی بدقسمتی تھی۔ ہم نے ہمیشہ مظلوموں کی سیاست کی ہے اور اُس خطے میں فلسطینی مظلوم ہیں۔ دنیا میں کوئی بھی ملک امریکہ کے اس جارحیت پر مبنی فیصلے کی حمایت نہیں کرتا۔ آج تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں کوئی بھی ملک تشدد کی حمایت نہیں کرتا اور دنیا باچا خان بابا کے دیے ہوئے عدد تشدد کے فلسفے پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی صورت فلسطینیوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ چالیس برس قبل جب ہمارے اکابرین نے افغان جہاد کو فساد کا نام دیا تو اس وقت کسی نے ان کی بات نہیں مانی تاہم آج ردالفساد کے بعد تمام سیاسی جماعتیں اور سٹیک ہولڈرز اس کی تقلید کر رہے ہیں۔ دنیا میں جتنا خون پختونوں کا بہا ہے شاید وہ دوسری جنگ عظیم میں بھی نہیں بہا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پختونوں کو دنیا کے سامنے دہشت بنا کر پیش کیا گیا جبکہ حقیقت میں دہشت گردی پختونوں پر مسلط کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ میری درخواست ہے کہ ہماری نئی نسل کو گولی اور خودکش جیکٹ کی بجائے قلم اور کتاب دی جائے۔ ان کے لیے سکول، کالجز اور یونیورسٹیاں بنائی جائیں۔ اسفندیار ولی خان نے خطے میں دیر پا امن کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کا امن ایک دوسرے سے مشروط ہے۔ جب تک افغانستان میں امن قائم نہیں ہوگا پاکستان میں قیام امن کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے دونوں ملکوں کی حکومتوں سے کہا کہ آپس میں مل بیٹھ کر پائی جانے والی غلط فہمیاں دور کرے اور امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں شروع کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان نے صورتحال کا ادراک نہ کیا تو مستقبل میں بڑی تباہی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ملک کے مجموعی صورتحال کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پانامہ میں صرف نوازشریف اور اس کے خاندان کا نام نہیں تھا، نیب کی تحقیقات صرف ایک خاندان تک محدود ہے جبکہ پانامہ میں شامل دیگر افراد احتساب کے شکنجے میں نہیں آئے۔ انہوں نے کہا کہ بلا امتیاز سب کا احتساب ہونا چاہئے اور نیب اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرے۔ 
فاٹا کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ فاٹا کو فی الفورصوبے میں ضم کیا جائے کیونکہ حکومت کے پاس اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ صرف دو افراد پختونوں کے اتحاد اور یکجہتی کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ان میں ایک مولانا صاحب اور دوسرا خود کو پختونوں کا قوم پرست رہنما کہتا ہے اور وہی قوم پرست رہنما پختونوں کے اتحاد کی راہ میں روڑے اٹکا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محمود اچکزئی نے نواز شریف سے نظریاتی اتحاد صرف اپنے بھائی کو گورنر بنانے کے لیے کیا لیکن افسوس کہ انہوں نے اپنی انتہائی کم قیمت لگائی ہے۔ اسفندیار ولی خان نے کہا کہ ہم نے جب ماضی میں اتحاد کیا تو صوبے کے لیے حقوق اور شناخت حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کو آئندہ الیکشن سے قبل صوبے میں ضم کر کے 2018کے انتخابات میں صوبائی اسمبلی میں نمائندی دی جائے۔ صوبے کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ آج ہمیں کرپٹ کہنے والے وزیراعلیٰ پرویز خٹک اپنے گریبان میں جھانکیں اور بتائیں کہ جس حکومت کو وہ کرپٹ کہتے ہیں اس میں وہ خود کیوں وزیر رہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کرپشن کی ہوتی تو آج ہمارے ایم پی ایز، ایم این ایز اور وزراء جیلوں میں ہوتے لیکن ہمارے کسی ممبر کے خلاف کوئی چوری ثابت نہیں ہوئی جبکہ پرویز خٹک کے اپنے ممبران ان کے خلاف سلطانی گواہ بن چکے ہیں۔ انہوں نے خود کو احتساب کے لیے پیش کرتے ہوئے کہا کہ میرے خلاف کوئی بھی کرپشن ثابت ہو جائے تو میں سزا کے لیے تیار ہوں۔ اسفندیار ولی خان نے کہا کہ اے این پی کے بغیر کوئی بھی جماعت پختونوں کے حقوق کا تحفظ نہیں کر سکتی۔ عوام آئندہ انتخابات میں اے این پی کو کامیاب کرکے اپنے ساتھ دھوکہ کرنے والوں کو مسترد کر دیں گے۔

ٹرمپ کی غلط پالیسیوں نے مشرق وسطیٰ کا امن داؤ پر لگا دیا ہے، امیر حیدر خان ہوتی

 Dec-2017  Comments Off on ٹرمپ کی غلط پالیسیوں نے مشرق وسطیٰ کا امن داؤ پر لگا دیا ہے، امیر حیدر خان ہوتی
Dec 082017
 

ٹرمپ کی غلط پالیسیوں نے مشرق وسطیٰ کا امن داؤ پر لگا دیا ہے، امیر حیدر خان ہوتی

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ اے این پی مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ ہے اور امریکہ کے جارحانہ عزائم کی پرزور مذمت کرتی ہے ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کے 23کسکورونہ مردان میں ایک شمولیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر مختلف سیاسی جماعتوں سے بیشتر افراد نے اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ، امیر حیدر خان ہوتی نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارکباد پیش کی، اپنے خطاب میں امیر حیدر خان ہوتی نے امریکی صدر ٹرمپ کے حالیہ اعلان پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ بیت المقدس پر اسرائیلی قبضے کا اعلان جارحیت کی انتہا ہے اے این پی نے ہمیشہ دنیا بھر میں آزادی کی چلنے والی تحریکوں کی حمایت کی اور آج بھی کرتی ہے ، امریکی صدر کے اعلان سے مشرق وسظی پر جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں ،انہوں نے کہا کہ بیت المقدس مسلمانوں کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اسے اسرائیلی تسلط میں دینے کے خطرناک نتائج نکلیں گے ، انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کا حالیہ اعلان مشرق وسطی سمیت عالم اسلام کیلئے خطرہ ہے۔ اگر بیت المقدس اور فلسطینیوں کی آزادی برقرار رہتی تو آج امریکہ اس قسم کے اعلان کی جرأت نہ کرتا ،انہوں نے کہا کہ جب اے این پی نے زور دیا کہ فلسظینیوں کی تحریک آزادی کی حمایت کرنی چاہئے اس وقت کسی نے ایک نہ سنی ،آج جس ظلم اور جارحیت کی انتہا کی گئی ہے اور اپنے ہی لوگوں کی غفلت کا نتیجہ ہے ، اگر اس وقت فلسظینیوں کا ساتھ دیا جاتا تو خطے میں اسرائیل کا اثرورسوخ قائم نہ ہو سکتا لیکن امریکہ اس کی بیک پر تھا، انہوں نے کہا کہ سب کو موجودہ نازک صورتحال کا ادراک کر کے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔صوبے کی مجموعی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو معاشی طور پر دیوالیہ کر دیا گیا ہے اور ہم پر کرپشن کے الزام لگانے والوں کے اپنے ارکان اسمبلی وزیر اعلیٰ پر کرپشن کے الزامات لگا رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ ساڑھے چار سال تک پنجاب کی میٹرو کو جنگلہ بس کہنے والوں نے آخر کار اسی میٹرو کو سیاسی رشوت کیلئے استعمال کیا اور عوام کو ورغلانے کیلئے اس پر کام شروع کر دیا ، ، امیر حیدر خان نے کہا کہ قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ صوبے کے خلاف سازش ہے اور عمران خان صوبے کو ملنے والی 5اضافی سیٹیں ضائع کرنے کے درپے ہیں ، انہوں نے کہا کہ ہم نے تحفظات کے باوجود خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کا مینڈیٹ تسلیم کیا لہٰذا تمام منتخب حکومتوں کو اپنی معیاد پوری کرنی چاہئے اور الیکشن اپنے مقررہ وقت پر ہونے چاہئیں، اے این پی کے صوبائی صدر نے مزید کہاکہ صوبے میں پختون قوم 2018کے انتخابات میں سونامی نہیں بلکہ باچاخانی کو ووٹ دیں گے لوگوں نے ان کی تبدیلی کے جھوٹے دعوؤں اوروعدوں کا حشر دیکھ لیاہے اور ان کے کھوکھلے نعروں میں مزید نہیں آئیں گے . 

اے این پی کی ایگری کلچر ڈائریکٹوریٹ اینڈ انسٹی ٹیوٹ پر دہشت گردوں کے حملے کی مذمت

 Dec-2017  Comments Off on اے این پی کی ایگری کلچر ڈائریکٹوریٹ اینڈ انسٹی ٹیوٹ پر دہشت گردوں کے حملے کی مذمت
Dec 012017
 

اے این پی کی ایگری کلچر ڈائریکٹوریٹ اینڈ انسٹی ٹیوٹ پر دہشت گردوں کے حملے کی مذمت

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی اور جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے ایگری کلچر ڈائریکٹوریٹ اینڈ انسٹی ٹیوٹ پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سانحے میںطلباءکے شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے ، اپنے مذمتی بیان میں انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی ہے تا ہم مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی بار ہا مطالبہ کرتی آ رہی ہے کہ دہشت گردوں کو کچلنے کیلئے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمدیقینی بنایا جائے لیکن ہماری بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا جس کے باعث دہشت گرد منظم ہو رہے ہیں،اور اس کا خمیازہ پختونخوا کے عوام بھگت رہے ہیں ۔انہوں نے کہا ہے کہ دہشت گردی کا حالیہ واقعہ متحرک دانشوروں، طالب علموں اور درسگاہ کے خلاف ایک بزدلانہ فعل ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گرد اپنی موجودگی کا احساس دلانے مسلسل حملے کر رہے ہیں،تاہم اگر صورت حال پر قابو نہ پایا گیا تو اس سے بھی بڑی تباہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے سیکورٹی فورسز کی جانب سے بروقت کامیاب کارروائی پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی نظریں ان پر ہیں اور ہم ان سے اسی طرح توقع رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے صرف مذمتی بیانات کے علاوہ کوئی ٹھوس حکمت عملی نظر نہیں آ رہی، انہوں نے غمزدہ خاندانوں کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی ان کے غم میں برابر کی شریک ہے ،انہوں نے شہید ہونے والوں کی مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے بھی دعا کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ زخمیوں کو فوری اور بہتر طبی امداد دی جائے۔