حکومت طلباء و طالبات پر تعلیمی اداروں کے دروازے بند کرنے سے باز رہے

 Nov2017  Comments Off on حکومت طلباء و طالبات پر تعلیمی اداروں کے دروازے بند کرنے سے باز رہے
Nov 302017
 

 حکومت طلباء و طالبات پر تعلیمی اداروں کے دروازے بند کرنے سے باز رہے، سردار حسین بابک

 

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے حکومت کی طرف سے یونیورسٹی کی ٹیوشن اورداخلہ فیسوں میں اضافے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن مہم کے دوران مفت تعلیم کے وعدے کرنے والے درحقیقت عوام کو ورغلانے کے لیے جھوٹے نعرے لگاتے رہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پشاور یونیورسٹی میں کئی روز سے تمام طلباء تنظیمیں فیسوں میں اضافے کے خلاف احتجاج پر ہیں لیکن حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی اسمبلی میں روز اول سے ہی تعلیمی ایمرجنسی کا نفاذ کر کے مفت تعلیم دینے کے دعوے کیے گئے لیکن اب طلباء پر تعلیمی اداروں کے دروازے بند کرکے ان کے لیے مشکلات پیدا کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں معیار تعلیم کو یقینی بنانے اور طلباء و طالبات کو تمام سہولتیں فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن بد قسمتی سے نوجوانوں کو ورغلا کر حکومتی ایوانوں میں پہنچنے والوں کی ترجیحات میں تعلیم شامل ہی نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ طلباء و طالبات کے لیے مشکلات پیدا کرنا اور ان پر تعلیمی اداروں کے دروازے بند کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ حکومت فوری طور پر فیسوں میں اضافے کا فیصلہ واپس لیں اور طلباء کے قیمتی وقت کو ضائع ہونے سے بچائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی تاریخ میں پہلی بار پروفیسرز سے لے کر طلباء تک اپنے جائز مطالبات کے لیے سڑکوں پر آئے لیکن بدقسمتی سے حکومت نے صورتحال کو سنجیدہ نہیں لیا۔

 

مساجد و مدارس کی حرمت سے نا بلد کنٹینرز کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں

 Nov2017  Comments Off on مساجد و مدارس کی حرمت سے نا بلد کنٹینرز کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں
Nov 302017
 

مساجد و مدارس کی حرمت سے نا بلد کنٹینرز کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں، امیر حیدر خان ہوتی

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ پختونوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے اور گزشتہ ساڑھے چار سال میں پختونخوا کے جو حقوق غصب کئے گئے انہیں واپس حاصل کیا جائے گا ، آئندہ عوام انتخابات میں باچا خان بابا کے پیروکار صوبے کے اختیارات بنی گالہ سے چھین کر اپنے صوبے میں واپس لائیں گے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کے 25مردان توت کلے میں ایک شمولیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، پی کے 25مردان سے امیدوار اور ضلع ناظم حمایت اللہ مایار اور ضلعی جنرل سیکرٹری لطیف الرحمان نے بھی اس موقع پر خطاب کیا ، امیر حیدر خان ہوتی نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں باچا خان بابا کے قافلے میں شامل ہونے پر مبارکباد پیش کی ، اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ سیاسی تاریخ میں پہلی بار اے این پی نے تمام امیدواروں کو ٹکٹ میرٹ کی بنیاد پر تقسیم کئے جبکہ باقی تمام سیاسی جماعتوں میں صرف نامزدگیاں کی جا تی ہیں ، انہوں نے کہا کہ جن درخواست گزاروں کو ٹکٹ نہیں ملے وہ ہمارے لئے زیادہ قابل احترام ہیں البتہ اسے بنیاد پر اگر کوئی انتشار پیدا کرنا چاہے اس کیلئے پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہو گی، انہوں نے کہا کہ موجودہ دور ہم سے اتحاد و اتفاق کا متقاضی ہے اور ہم سب کو مل کر صوبے کے حقوق کا دفاع کرنا ہو گا، صوبے کی مجموعی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ وزیر اعلیٰ نے تنگ نظری کی انتہا کر دی ہے اور عبدالولی خان یونیورسٹی کے فنڈز صرف اس لئے روک رکھے ہیں کیونکہ وہ ولی خان کے نام سے منسوب ہے ، انہوں نے کہا کہ پرویز خٹک پہلے عمران خان سے پوچھیں کہ پشاور میں شوکت خانم ہسپتال کیلئے اراضی کہاں سے آئی ؟ انہوں نے کہا کہ ہم نے سیاسی اختلافات کے باوجود 80کروڑ کی اراضی شوکت خانم ہسپتال کیلئے وقف کر دی، انہوں نے کہا کہ مساجد کی خدمت کو کرپش کا نام دینے والے مساجد اور مدارس کی حرمت سے نا بلد ہیں اور وہ صرف کنٹینر کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں،انہوں نے کہا کہ کپتان وزارت عظمی کی دوڑ میں لگے ہیں انہیں خیبر پختونخوا سے کوئی سروکار نہیں ، تخت اسلام آباد کیلئے پنجاب کا ووٹ بنک چاہئے اس لئے پختونوں کے مینڈیٹ کی توہین کی گئی ،امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ ہمیں پنجاب کی خدمت پر اعتراض نہیں البتہ اس کام کیلئے پختونوں کے وسائل اور ان کا کندھا استعمال نہ کیا جائے ، انہوں نے کہا کہ حکومت کی مدت مکمل ہونے کو ہے اور حال میں جو منصوبے شروع کئے جا رہے ہیں ان کے مستقبل کی کسی کو فکر نہیں تمام منصوبے ادھورے چھوڑے جا رہے ہیں تاہم اے این پی آئندہ الیکشن میں کامیابی کے بعد یہ تمام منصوبے مکمل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پختون اپنے حقوق کے تحفظ کیلئےءاے این پی کے سرخ جھنڈے تلے متحد ہو جائیں۔

فاٹا انضمام میں بلاجواز تاخیر سے معاملات تباہی کی جانب جائیںگے، میاں افتخار حسین

 Nov2017  Comments Off on فاٹا انضمام میں بلاجواز تاخیر سے معاملات تباہی کی جانب جائیںگے، میاں افتخار حسین
Nov 302017
 

فاٹا انضمام میں بلاجواز تاخیر سے معاملات تباہی کی جانب جائیںگے، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ پختونوں کا اصل اتحاد فاٹا کے صوبے میں انضمام میں ہی مضمر ہے جبکہ ایف سی آر انگریز کی باقیات ہیں اور انگریز سے آزادی حاصل کرنے کے بعد اس کالے قانون کا کوئی جواز نہیں بنتا ، عسکری قیادت ، مرکزی و صوبائی حکومتیں ، قبائلی عوام اور ان کے نمائندے اور تمام پختون قوم اگر فاٹا کے صوبے میں انضمام کے حق میں ہیں تو پھر عملدرآمد میں کونسی رکاوٹیں حائل ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے سرحد یونیورسٹی اسلام آباد میں فاٹا اصلاحات اور اس کے صوبے میں انضمام کے موضوع پر نعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اے این پی کی مرکزی نائب صدر بشری گوہر اور دیگر اہم رہنما بھی تقریب میں موجود تھے،میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے این پی روز اول سے ہی قبائل کے صوبے کے انضمام کے حق میں ہے اور اے این پی 90ءکی دہائی میں صوبائی اسمبلی میں قرارداد پیش کر چکی ہے، تاہم اس وقت کے چند قبائلی مشران کی وجہ سے اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا جبکہ آج حالات یکسر مختلف ہیں اور تمام سٹیک ہولڈرز فاٹا کے صوبے میں انضمام کے حق میں ہیں جو کام ہم 90کی دہائی میں کرنا چاہتے تھے وہی آج سب کا مطالبہ ہے ، انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے اس پر عمل درآمد کی نوید سنائی گئی تاہم پانامہ کے شور میں یہ اہم ایشو دب گیا تاہم اگر مرکزی حکومت موجودہ وقت میں فاٹا اصلاحات پر عمل درآمد کرے اور آئینی ترمیم کے ذریعے اس کا اعلان کر دے تو تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا،انہوں نے کہا کہ یہ وقت اس کام کیلئے انتہائی موزوں ہے اور کوئی نہیں جانتا کل پھر موقع ملے نہ ملے۔انہوں نے کہا کہ انگریز سے آزادی کے باوجود ان کی کھینچی گئی لکیریں تاحال پختونوں کے درمیان موجود ہیں اور ہم ان تمام لکیروں کو متانے کیلئے ہمہ وقت جدوجہد جاری رکھیں گے ، فاٹا اور بلوچستان کے پختونوں کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے،انہوں نے کہا کہ ہم پوائنٹ سکورنگ نہیں کرنا چاہتے بلکہ قبائلی عوام کو ان کے جائز حقوق دلانے کی جدوجہد میں شریک ہیں،لہٰذا قبائلی عوام کو صوبے میں ایک بڑے اور خصوصی پیکج کے ساتھ ضم کیا جائے تاکہ انہیں این ایف سی ایوارڈ میں حصہ اور اسمبلیوں میں نمائندگی مل سکے،اور اسکے ساتھ ساتھ ترقیاتی فنڈز کیلئے صوبائی سطح پر پیکج دیا جائے،انہوں نے مردم شماری میں صوبے اور فاٹا کی آبادی کم ظاہر کرنے پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ مرکزی حکومت کی طرف سے یہ گیم صرف اس لئے کھیلی گئی تاکہ پختونوں اور قبائلیوں کو وسائل کی تقسیم زیادہ نہ ہو سکے ، انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں بھی ٹرائبل کا حصہ مرکز کے پاس ہے جو صوبے میں انضمام کے بعد ہی قبائلی عوام تک پہنچ سکے گا،میاں افتخار حسین نے کہا کہ پختونوں کی یک جہتی اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے اتحاد کی باتیں کرنے والے نام نہاد لیڈر اپنے صوبے کے عوام کو متحد ہونے نہیں دے رہے ، انہوں نے کہا کہ فاٹا کے صوبے میں انضمام کی مخالفت کرنے والے پختونوں کی یک جہتی اور قبائلی عوام کے ساتھ مخلص نہیں ہو سکتے ،اختیارات کی تقسیم کے حوالے سے میاں افتخار حسین نے کہا کہ گورنر مرکزی حکومت کے نمائندے ہیں لہٰذا فاٹا کے انضمام کے بعد تمام اختیارات صوبے کے پاس ہونے چاہئیں ورنہ حالات سدھار کی بجائے تباہی کی جانب جائیں گے،انہوں نے کہا کہ اے این پی اس عظیم کاوش میں قبائلی عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے،اور جب بھی یہ اہم مسئلہ حل ہوا اس کے بعد ہم بلوچستان کے پختون عوام کے درمیان کھینچی گئی لکیروں کو مٹانے کیلئے ہراول دستے کا کردار ادا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے سی پیک پر پختونوں کو دھوکہ دیا اور اسی کی بدولت انہیں پختونوں کی بد دعائیں لگ گئیں، انہوں نے کہا کہ پوری قوم فاٹا انضمام کے حق میں ہے لیکن نواز شریف نے صرف دو افراد کی خاطر تمام قبائلی عوام کی امنگوں کا خون کر دیا اور معاملہ تاحال تاخیر کا شکار ہے،انہوں نے کہا کہ مولانا صاحب کا تو پتہ نہیں البتہ حیران کن بات یہ ہے کہ پختونوں کی یک جہتی اور وحدت کے نعرے لگانے والے محمود خان اچکزئی کیوں مخالفت کر رہے ہیں ؟ انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ فاٹا کو صوبے میں فوری طور پر ضم کیا جائے اور اس کا دائرہ اختیار پشاور ہائیکورٹ تک بڑھا کر صوبائی اسمبلی میں واضح نمائندگی دی جائے تاکہ قبائلی عوام اپنے بنیادی حقوق حاصل کر سکیں ، انہوں نے کہا کہ انگریز کو یہاں سے گئے کئی دہائیاں گزر گئیں لیکن انگریز کا کالا قانون آج بھی قبائلی عوام پر مسلط ہے ، انہوں نے کہا کہ پشتونوں کی وحدت کی مخالفت کرنے والے ناکام ہوں گے۔

پاکستان میں بشری حقوق کے تحفظ کیلئے جمہوریت سے بہتر کوئی نظام نہیں

 Nov2017  Comments Off on پاکستان میں بشری حقوق کے تحفظ کیلئے جمہوریت سے بہتر کوئی نظام نہیں
Nov 272017
 

پاکستان میں بشری حقوق کے تحفظ کیلئے جمہوریت سے بہتر کوئی نظام نہیں، میاں افتخار حسین

* اے این پی کا گراف بلندیوں کو چھو رہا ہے، خطے پر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں، لورا لائی میں تاریخی جلسہ عام سے خطاب 
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے ایک بار پھر اس عزم کا عادہ کیا ہے کہ جمہوریت کے خلاف کسی سازش کا حصہ نہیں بنیں گے اور پاکستان میں بشری حقوق کے تحفظ کیلئے جمہوریت سے بہتر کوئی نظام نہیں ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان کے دور افتادہ علاقے لورا لائی میں ایک عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، عوام کے جم غفیر نے جلسہ میں شرکت کی اور لورا لائی کی تاریخ کا یہ سب سے بڑا جلسہ تھا ، میاں افتخار حسین نے اپنے تاریخی خطاب میں جلسہ میں شرکت کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ صورتحال سے واضح ہے کہ اے این پی کا گراف انتہائی حد تک بڑھ گیا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب اے این پی بلوچستان سے بھی بھاری اکثریت سے کامیاب ہو گی،میاں افتخار حسین کے جذباتی خطاب سے ہر آنکھ پر نم تھی ، انہوں نے کہا کہ امن محبت اور بھائی چارہ ہمارا مشن ہے اور اسی مقصد کیلئے اے این پی ہمیشہ میدان میں رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ جمہوری حکومتوں کو اپنی مدت پوری کرنی چاہئے۔ جو لوگ قبل از وقت انتخابات کی بات کر رہے ہیں وہ جمہوریت دشمن عناصر ہیں اور جمہوریت کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں،تاہم اگر جمہوریت ڈی ریل ہوئی تو یہ عناصر بھی متاثر ہونگے،جمہوریت کی قیمت پر وزارت عظمی کا خواب دیکھنے والوں کی خواہش کبھی پوری نہیں ہو گی، میاں افتخار حسین نے ملکی حالات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ہمیشہ کی طرح جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں، ڈکٹیٹر شپ کو نہیں مانتے،اے این پی نے کبھی بھی ڈکٹیٹر کا ساتھ نہیں دیا ، سی پیک کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے سی پیک پر پختونوں کو دھوکہ دیا اور اسی کی بدولت انہیں پختونوں کی بد دعائیں لگ گئیں ، مغربی اکنامک کوریڈور پختونوں کی معاشی ترقی کا منصوبہ تھا جسے سابق وزیر اعظم نے غصب کر کے پختونخوا کو صرف ایک سڑک تک محدود کر دیا اور تمام وسائل پنجاب کیلئے خرچ کر ڈالے،انہوں نے کہا کہ سی پیک پر تحفظات تاحال موجود ہیں اور اس معاملے پر اے این پی اپنے مؤقف سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے گی،فاٹا کا ذکر کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ پوری قوم فاٹا انضمام کے حق میں ہے لیکن نواز شریف نے صرف دو افراد کی خاطر تمام قبائلی عوام کی امنگوں کا خون کر دیا اور معاملہ تاحال تاخیر کا شکار ہے،انہوں نے کہا کہ مولانا صاحب کا تو پتہ نہیں البتہ حیران کن بات یہ ہے کہ پختونوں کی یک جہتی اور وحدت کے نعرے لگانے والے محمود خان اچکزئی کیوں مخالفت کر رہے ہیں ؟ انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ فاٹا کو صوبے میں فوری طور پر ضم کیا جائے اور اس کا دائرہ اختیار پشاور ہائیکورٹ تک بڑھا کر صوبائی اسمبلی میں واضح نمائندگی دی جائے تاکہ قبائلی عوام اپنے بنیادی حقوق حاصل کر سکیں ، انہوں نے کہا کہ انگریز کو یہاں سے گئے کئی دہائیاں گزر گئیں لیکن انگریز کا کالا قانون آج بھی قبائلی عوام پر مسلط ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا ، انہوں نے کہا کہ کہ پشتونوں کی وحدت کی مخالفت کرنے والے ناکام ہوں گے، دہشت گردی کے حوالے سے انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ تشدد سے کبھی معاملات حل نہیں ہوتے ،بلکہ ان میں مزید اضافے کا باعث بنتا ہے، بلوچستان حکومت عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے، آئے روز بے گناہ انسانوں کی لاشیں گرائی جا رہی ہیں اور پورے صوبے میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے، خیبرپختونخوا اور پنجاب سمیت مرکزی حکومت دہشتگردوں کی حامی اور دہشت گردوں کو فنڈنگ کر رہے ہیں جس کے نتائج خطرناک ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ خطے پر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں اور سپر پاورز نے خطے کو اپنے ذاتی مفادات کیلئے مسکن بنایا ہوا ہے ، انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان میں سے کسی کے بھی مفادات کو نقصان پہنچا تو خطے میں تیسری عالمی جنگ چھڑ سکتی ہے ، انہوں نے کہا کہ ان حالات میں پاکستان اور افغانستان کو نازک صورتحال کا ادراک کرنا ہو گا اور اپنی پالیسیاں سپر پاورز کی بجائے قومی مفاد میں بنانی ہو نگی، انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کا امن ایک دوسرے سے مشروط ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان بد اعتمادی کی فضا کے کاتمے کیلئے مذاکرات اور بات چیت اہم ترین آپشن ہے ، انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کو اپنے مسائل افہام و تفہیم سے حل کرنے چاہئیں۔
جلسہ سے بلوچستان کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی ،انجینئر زمرک اچکزئی، صوبائی جنرل سیکرٹری نظام الدین کاکڑ، سینئر نائب صدر ارباب عمر فاروق کاسی، ضلع لورالائی کے صدربسم اللہ لونی، ڈاکٹر عیسیٰ خان، گنو خان غلزئی، مابت کاکا نے بھی خطاب کیا۔

ساڑھے چار سال تک ملک میں سیاسی بے چینی پیدا کرنے والے عوام کا اعتماد کھو چکے ہیں

 Nov2017  Comments Off on ساڑھے چار سال تک ملک میں سیاسی بے چینی پیدا کرنے والے عوام کا اعتماد کھو چکے ہیں
Nov 252017
 

ساڑھے چار سال تک ملک میں سیاسی بے چینی پیدا کرنے والے عوام کا اعتماد کھو چکے ہیں، اسفندیار ولی خان

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ ساڑھے چار سال تک ملک میں سیاسی بے چینی پیدا کرنے والے عوام کا اعتماد کھو چکے ہیں اور اب قوم کو مزید دلفریب نعروں سے نہیں بہکایا جا سکتا ، خطے میں دائمی امن کے قیام کی خاطر مرکزی و صوبائی حکومتوں سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کو ایک پیج پر متفق ہونا چاہئے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے ولی باغ چارسدہ میں کیا ، اس موقع پرکرک سے تعلق رکھنے والے اے این پی کے دیرینہ سیاسی کارکن اختر نواز ایڈوکیٹ نے تمام رنجشیں بھلا کر اے این پی میں واپس شمولیت کا اعلان کیا ، مرکزی سیکرٹری مالیات ارباب محمد طاہر خان خلیل ، کرک کے صدر سجاد خان ، وزیر اعظم خان ، اسلام بادشاہ، شازیہ اورنگزیب خان اور پیر حضرت کمال بھی اس موقع پر موجود تھے ، اسفندیار ولی خان نے اختر نواز ایڈوکیٹ کو پارٹی میں واپسی پر خوش آمدید کہا اور اسے خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام پختونوں کو اپنے اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے اے این پی کے سرخ جھنڈے تلے متحد ہو جانا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ قوم کو اتحاد و اتفاق کی جتنی ضرورت آج ہے وہ اس سے پہلے کبھی نہیں تھی، انہوں نے تمام پارٹی کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ جلد از جلد اپنے ارد گرد موجود ناراض کارکنوں کو منائیں اور پارٹی کا پیغام گھر گھر پہنچانے کیلئے انتھک محنت کریں ، اختر نواز ایڈوکیٹ نے اسفندیار ولی خان کا شکریہ ادا کیا اور اپنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ پارٹی کے فعال سیاسی کارکن کی حیثیت سے اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہیں گے، مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں جن مشکلات کا سامنا ہے ان کا مقابلہ صرف باہمی اتحاد و اتفاق سے ہی کیا جا سکتا ہے ، انہوں نے کہا کہ قوم کی نظریں اے این پی پر ہیں کیونکہ گزشتہ الیکشن میں دلفریب نعروں سے اقتدار میں آنے والوں نے عوام کیلئے کچھ نہیں کیا اس کے برعکس ملک میں صرف سیاسی بے چینی پیدا کی گئی اور ملک و قوم کو مسائل میں الجھائے رکھا گیا ، انہوں نے کہا کہ آئندہ الیکشن میں عوام ان عناصر کا احتساب ووٹ کے ذریعے کریں گے ، گزشتہ روز پشاور حیات آباد میں ہونے والے خود کش دھماکے میں ایڈیشنل آئی جی اشرف نور کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے شہید کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ملک میں دائمی امن کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس مقصد کیلئے مرکزی و صوبائی حکومتوں سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کو ایک پیج پر متفق ہونا ہو گا ، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ سیکورٹی فورسز پر حملے تواتر سے جاری ہیں اور ان کی روک تھام کیلئے ٹھوس اور مثبت اقدامات نہیں کئے جا رہے ، انہوں نے کہا کہ پائیدار امن کیلئے پاکستان اور افغانستان کو مشترکہ کوششیں کرنا چاہئیں ، انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان بد اعتمادی کی فضا کے خاتمے اور ماحول کو سازگار بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان اور افغانستان کا امن ایک دوسرے سے مشروط ہے لہٰذا خطے میں دہشت گردی کے خاتمے اور امن کے قیام کیلئے دونوں ملکوں کو مربوط حکمت عملی اپنانی ہو گی اور اپنے مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کو ترجیح دینی چاہئے ۔

آئین کی بالادستی اور عوام کو انصاف کی فراہمی میں وکلا کا کردار مسلمہ ہے

 Nov2017  Comments Off on آئین کی بالادستی اور عوام کو انصاف کی فراہمی میں وکلا کا کردار مسلمہ ہے
Nov 242017
 

مردان میں بھوک ہڑتالی کیمپ

آئین کی بالادستی اور عوام کو انصاف کی فراہمی میں وکلا کا کردار مسلمہ ہے، امیر حیدر خان ہوتی

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ وکلاء ریاست کا اہم ستون ہیں اور آئین کی بالادستی ، جمہوریت کی بقا اور عوام کو انصاف کی فراہمی میں وکلا کا کردار مسلمہ ہے ، حکومت وکلا کے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ کرے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے مردان ڈسٹرکٹ بار ایسوسیشن کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے کہا کہ صوبے کی تاریخ میں پہلی بار تمام مکتبہ فکر کے لوگ سڑکوں پر ہیں اور صوبائی حکومت کی نا تجربہ کاری اور غیر سنجیدگی کے باعث وکلا بھی اپنے مسائل کے حل کیلئے بھوک ہڑتال پر ہیں،امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ جوڈیشل کمپلیکس کی تعمیر ، شہداء پیکج اور گرانٹ کا اعلان کیا گیا تاہم عرصہ گزرنے کے باوجود ان نعروں کو عملی جامہ نہیں پہنایا گیا ،انہوں نے کہا کہ عوام کو ساڑھے چار سال صرف بے وقوف بنایا گیا اور کھوکھلے نعروں کے ذریعے اقتدار میں آنے والے کچھ بھی ڈیلیور نہ کر سکے، انہوں نے مظاہرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج میں پارٹی کی حیثیت سے کم لیکن مردان کے ایک فرد کی حیثیت سے آیا ہوں، یہ صرف وکلاء کا مسئلہ نہیں بلکہ مردان کے عوام کا مسئلہ ہے۔اور میں آپ کے ان جائز مسائل میں آپ کا ساتھ دوں گا۔ 
انہوں نے کہا کہ وکلا نے مشرف جیسے ڈکٹیٹر کے خلاف سڑکوں پر آ کر اس کی ڈکٹیٹر شپ کا خاتمہ کیا اور جمہوریت کو بحال کرنے میں نمایا ں کردارادا کیا ہے حکومت نے جو وعدے کیے ہیں وہ وہ پورے کرے،اور مردان کے عوام کیلئے پارک کی متبادل جگہ کا انتظام کیا جائے ۔صوبائی صدر نے اپنے دور میں مردان پارک کیلئے خریدی گئی300کنال اراضی دینے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ یہ جگہ پختونخوا حکومت کی ملکیت ہے، جس کی چاردیواری مکمل ہے، سٹرکچر تیار ہے، جس کی فیزیبلٹی ہوئی ہے ، انہوں نے کہا کہ مسئلہ پارک کی تعمیر کا نہیں بلکہ بد نیتی پر مبنی ہے ، حکومت اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کرے ، انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پشاور میں میٹرو کا افتتاح کر دیا گیا ، مردان پارک کیلئے جلد بازی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے لیکن وزیر اعلیٰ اسمبلیاں توڑنے کے حق میں ہیں ، اگر اسمبلیاں توڑنی ہیں تو منصوبے کیوں شروع کئے جا رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک جوڈیشنل کمپلیکس کی ضرورت ہے، اب یہ فیصلہ کرنا کہ کس طرح بننا ہے اور کہاں بننا ہے، یہ فیصلہ میں وکلاء پر چھوڑ دیتا ہوں، یہ فیصلہ بینچ کو کرنا چاہئے، وکلاء کر نا چاہئے، یہ فیصلہ جوڈیشنری کو کرنا چاہئے، بجائے اس کے کہ کوئی سیاسی اہلکار اس کا فیصلہ کرے ، یہ فیصلہ ان لوگوں کو کرنا چاہئے جو اس کے ساتھ منسلک ہیں۔ انہوں نے وکلا برادری کو اپنے بھرپور تعاون کایقین دلایا اور کہا کہ اے این پی تمام مسائل میں آپ کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی،

 اے این پی کی حیات آباد پشاور میں ایڈیشنل آئی جی پر خود کش حملے کی مذمت

 Nov2017  Comments Off on  اے این پی کی حیات آباد پشاور میں ایڈیشنل آئی جی پر خود کش حملے کی مذمت
Nov 242017
 

 اے این پی کی حیات آباد پشاور میں ایڈیشنل آئی جی پر خود کش حملے کی مذمت

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے حیات آباد پشاور میں ایڈیشنل آئی جی اشرف نور کی گاڑی پرخود کش حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سانحے میں اشرف نور اور ان کے سیکورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے ، اپنے مذمتی بیان میں صوبائی صدر نے کہا کہ اے این پی بار ہا مطالبہ کرتی آ رہی ہے کہ دہشت گردوں کو کچلنے کیلئے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمدیقینی بنایا جائے اور پنجاب میں موجود کالعدم تنظیموں کی پناہ گاہوں و سہولت کاروں کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائی کی جائے لیکن ہماری بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا جس کے باعث دہشت گرد منظم ہو رہے ہیں،اور اس کا خمیازہ پختونخوا کے عوام بھگت رہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ دہشت گرد اپنی موجودگی کا احساس دلانے کیلئے سیکورٹی فورسز پر حملے کر رہے ہیں،تاہم اگر صورت حال پر قابو نہ پایا گیا تو اس سے بھی بڑی تباہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔، انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے صرف مذمتی بیانات کے علاوہ کوئی ٹھوس حکمت عملی نظر نہیں آ رہی ، انہوں نے غمزدہ خاندانوں کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی ان کے غم میں برابر کی شریک ہے ،انہوں نے شہید ہونے والوں کی مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے بھی دعا کی۔