اقوام عالم کے ساتھ برابری کی سطح پر مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا جائے

 Oct-2017  Comments Off on اقوام عالم کے ساتھ برابری کی سطح پر مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا جائے
Oct 202017
 

پی کے 12 افریدو گھڑی پروگرام

اقوام عالم کے ساتھ برابری کی سطح پر مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا جائے،میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ اقوام عالم کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ کھلے دل سے مذاکرات کے ذریعے مسائل اور معاملات کا حل تلاش کیا جائے ۔ بین الاقوامی سطح پر پاکستان تنہائی کا شکار ہے اور دنیا بھر میں ہمارے ہاں ہونے والی بد امنی زیر بحث ہے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کے 12خٹک نامہ آفریدو گڑھی ڈاگ اسماعیل خیل میں ایک بڑے شمولیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،اس موقع پر آفریدی قوم کے سرکردہ مشران کی ایک بڑی تعداد نے اپنے خاندانوں اور دیگر ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کر دیا ، میاں افتخار حسین نے انہیں سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور پارٹی میں شامل ہونے پر مبارکباد پیش کی ، اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ آفریدی قبائل کے ساتھ برادرانہ تعلقات ہیں اورموجودہ صورتحال بھی ہم سے اتحاد و اتفاق کی متقاضی ہے ، انہوں نے کہا کہ پختون اور قبائل ایک ہی نظریے اور سوچ کے حامل ہیں اور باچا خان کی سوچ و فکر کو اپنے لئے مشعل راہ بناتے ہوئے تمام مسائل کے حل کیلئے مشترکہ کوششیں کی جائیں گی ، انہوں نے تمام آفریدی بھائیوں کو مبارکباد پیش کی اور اس امید کا اظہار کیا کہ ان کے تمام مسائل کے حل کی جانب خصوصی توجہ دی جائے گی ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ملک کی خارجہ و داخلہ پالیسیاں ناکام ہیں اور انہیں اب تبدیل کرنے کا وقت آ چکا ہے ، انہوں نے کہا کہ سیاسی قیادت تمام سیاسی قوتوں کے ساتھ مشورہ کر کے فوری طور پر داخلہ و خارجہ پالیسیاں از سر نو ترتیب دے ، انہوں نے کہا کہ پاکستان کا امن افغانستان کے امن سے مشروط ہے اور مترقی پاکستان کیلئے مترقی افغانستان کا ہونا بہت ضروری ہے ، انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان حالیہ دنوں میں ہونے والے مذاکرات کے سلسلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مذاکرات دیرپا امن کی جانب اہم قدم ہے، انہوں نے کہا کہ سپر پاورز کی خطے میں اجارہ داری کی کوششوں کے خطرناک نتائج برآمد ہونگے ،لہٰذا پاکستان اور افغانستان اپنی پالیسیاں سپر پاورز کی بجائے قومی مفاد کو مد نظر رکھ کر بنائیں،انہوں نے کہا کہ تاحال فاٹا کا مسئلہ حل نہیں ہو سکا جس کی وجہ سے عوام میں مایوسی بڑھتی جا رہی ہے ،اے این پی 1990سے فاٹا کے صوبے میں انضمام کے حوالے سے کوششیں کرتی آئی ہے اور قبائلی عوام کی اس جدوجہد میں ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی ، انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے مطالبات تسلیم ہونے کی بازگشت سنائی دی تاہم اس کے بعد سے اب تک مکمل خاموشی ہے اور سرکاری طور پر اس کا اعلامیہ ابھی تک جاری نہیں ہو سکا،صوبے کی مجموعی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام کی اے این پی میں جوق در جوق شمولیت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ صوبائی حکومت اپنی مقبولیت کھو چکی ہے اور آنے والے الیکشن میں عوام اپنے ووٹ کے ذریعے ان کا احتساب کریں گے، انہوں نے کہا کہ مستقبل اے این پی کا ہے اور دوبارہ اقتدار میں آکر عوام کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔عوام جان گئے ہیں کہ ان کے حقوق کا تحفظ اے این پی کے بغیر کوئی جماعت نہیں کر سکتی ،انہوں نے کہا کہ عمران خان نے پنجاب کے ووٹ بنک کیلئے پختونوں کے حقوق پر سودے بازی کی ،میاں افتخار حسین نے کہا کہ صوبے میں کرپشن مافیا کا راج ہے اور آئے روز میڈیا میں ان کی کرپشن کہانیاں قوم کے سامنے آ رہی ہیں،صوبہ شہر نا پُرسان میں تبدیل ہو چکا ہے ، خزانہ لوٹ لیا گیا ہے اور بیرونی دنیا سے اتنے قرضے لئے گئے ہیں کہ اب انہیں چکانے کیلئے آنے والی حکومتوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا،انہوں نے کہا کہ کپتان کشکول توڑنے کے وعدے کرتے رہے لیکن اب چار سال میں کشکول اتنا گھمایا کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی، انہوں نے مزید کہا کہ احتساب کمیشن صرف سیاسی مخالفین کی پگڑیاں اچھالنے کیلئے بنایا گیا اوراب حکمران اے این پی کی مقبولیت میں اضافے سے بوکھلاہٹ کا شکار ہیں ،آخر میں انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ آئندہ الیکشن کیلئے اپنی بھرپور تیاریاں جاری رکھیں اور آنے والا دور ایک بار پھر اے این پی کا ہو گا۔

اصل تبدیلی اے این پی لائے گی،این اے4کا معرکہ تاریخی کامیابی کے ساتھ سر کرینگے۔

 Oct-2017  Comments Off on اصل تبدیلی اے این پی لائے گی،این اے4کا معرکہ تاریخی کامیابی کے ساتھ سر کرینگے۔
Oct 202017
 

ہزار خوانی جلسہ

اصل تبدیلی اے این پی لائے گی،این اے4کا معرکہ تاریخی کامیابی کے ساتھ سر کرینگے۔
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ این اے 4میں سرکاری وسائل اور ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزیوں کے باوجود فتح اے این پی کی ہوگی عوام کے اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے خوشدل خان پر بھرپور اعتماد کا اظہار کریں ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے این اے4کی انتخابی مہم کے دوران اخون بابا ہزار خوانی میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر صوبائی ترجمان ہارون بشیر بلور،سینئر رہنما حاجی ہدایت اللہ خان، سٹی ڈسٹرکٹ کے صدر ملک غلام مصطفی، جنرل سیکرٹری سرتاج خان عالمگیر خلیل اور دیگر قائدین نے بھی خطاب کیا ، ایمل ولی خان نے کہا کہ کہ این اے4ضمنی الیکشن میں کامیابی کے بعد اس حلقہ کی تقدیر بدل جائے گی اور اس تبدیلی کے اثرات آئندہ عام انتخابات پر بھی مرتب ہونگے انہوں نے کہا کہ چار سال اس حلقے کو بے یارو مددگار چھوڑ کر پنجاب کی سیاست کی جاتی رہی لیکن اب وہاں ناکامی کا منہ دیکھنے کے بعد پی ٹی آئی نے این اے4کا رخ کر لیا ہے اور عوام کو ایک بار پھر دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ ٹرانسفارمر اور پائپ سیاسی رشوت کے طور پر استعمال کئے جا رہے ہیں جبکہ اے این پی اس حلقے کے عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنے پر یقین رکھتی ہے ، ایمل ولی خان نے کہا کہ اے این پی آئندہ الیکشن میں بھی کامیابی حاصل کر کے عوام کو ان کے جائز حقوق کیلئے جدوجہد کا آغاز کرے گی ۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے خیبر پختونخوا کے تمام محکموں کو مفلوج کر دیا ہے سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے خزانے میں پیسے نہیں لیکن سیاسی رشوت کیلئے رقم کہاں سے آ رہی ہے؟ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپنے دور میں مفاد عامہ سے غافل رہی اور عوام کیلئے کوئی بھی میگا پراجیکٹ شروع کرنے کی بجائے ہمارے منصوبوں پر تختیاں لگاتی رہی ۔ انہوں نے کہا کہ اس حلقے میں خوشدل خان ایڈوکیٹ عوام کی ہر دلعزیز شخصیت ہیں اور عوامی خدمت کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے خلاف ہمیشہ کمر بستہ رہے ، انہوں نے عوام سی اپیل کی کہ اپنا قیمتی ووٹ خوشدل خان کے حق میں استعمال کریں تاکہ آپ کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے ،انہوں نے کہا کہ کہ مرکزی و صوبائی حکومت نے چار سال تک این اے4کو نظر انداز کئے رکھا ،عمران خان پختونوں کی قیمت پر پنجاب کی سیاست کرتے رہے اور تخت اسلام آباد کیلئے خیبر پختونخوا کے عوام اور وسائل کو لوٹا گیا ، لیکن پنجاب سے مایوس عناصر نے پھر خیبر پختونخوا کے عوام کو دھوکہ دینے کی ٹھان لی اور این اے4کا رخ کر لیا ہے ، تاہم عوام باشعور ہو چکے ہیں اور وہ جھوٹے وعدے کرنے والوں کو جان چکے ہیں،انہوں نے کہا کہ ضمنی الیکشن کا معرکہ تاریخی فتح کے ساتھ سر کریں گے اور انشاء اللہ آئندہ عام انتخابات میں بھی اے این پی اس حلقے میں اپنی کارکردگی کی بنیاد پر کامیابی حاصل کرے گی۔

کرپٹ حکمرانوں نے 4سال عوام کی خدمت کے بجائے دھرنوں پر ضائع کر دئے، امیر حیدر خان ہوتی

 Oct-2017  Comments Off on کرپٹ حکمرانوں نے 4سال عوام کی خدمت کے بجائے دھرنوں پر ضائع کر دئے، امیر حیدر خان ہوتی
Oct 192017
 

تورغر جلسہ

کرپٹ حکمرانوں نے 4سال عوام کی خدمت کے بجائے دھرنوں پر ضائع کر دئے، امیر حیدر خان ہوتی

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے خیبر پختونخوا کےعوام کے چار قیمتی سال دھرنوں اور الزام تراشیوں میں ضائع کر دئیے، مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کی جنگ تخت اسلام آباد کے لیے ہے، پختونخوا کے عوام کی خدمت اور ترقی میں انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہے، جو شخص اپنا گھر نہیں سنبھال سکتا وہ ملک کیا چلائے گا، تور غر میرا دوسرا گھر ہے، آج تور غر کے غیرت مند، وفادار، مخلص، باجرأت پختونوں نے میرا سر فخر سے بلند کر دیا ہے،ان خیالات کا اظہار صوبائی صدر امیر ھیدر خان ہوتی نے کنڈر حسن زئی تور غر میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیاجلسے میں ریکارڈ تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر تحصیل ناظم کنڈر حسن زئی سید شہزاد شاہ، امیدوار قومی اسمبلی نیاز خان، اے این پی ضلع مانسہرہ کے صدر سرور خان، مرکزی نائب صدر لالہ اورنگزیب، حاجی جمال، اے این پی ضلع بٹگرام کے صدر آیاز خان، اے این پی شانگلہ کے رہنماءسدیدالرحمان، نائب صدر ضلع تورغر سید نواب گل سمیت سرکردہ شخصیات سٹیج پر موجود تھیں۔ جلسہ سے سابق ایم این اے اور امیدوار صوبائی اسمبلی لائق محمد خان، اے این پی ضلع تورغر کے صدر زرگل جمال حسن زئی، اصغر خان، عزیزخان، اکرم خان اور دیگر رہنماﺅں نے بھی خطاب کیا۔ امیر حیدر خان ہوتی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پرویز خٹک جیسے لوگوں نے خیبر پختونخوا کے عوام کے چار قیمتی سال دھرنوں اور الزام تراشیوں میں ضائع کر دئےے۔ عمران خان دوسروں کی ذات پر توکیچڑ اچھالتا ہے مگر خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے اپنے ایم پی اےز وزراءکو کرپٹ کہہ رہے ہیں، وزراءایم پی ایز کو کرچور کہہ رہے ہیں، وزیر اعلیٰ اپنے وزراءکو چور کہتے ہیں جبکہ وزراءایم پی ایز کہتے ہیں کہ کرپشن میں وزیراعلیٰ کا ہاتھ ہے لیکن عمران خان کو یہ سب کچھ نظر نہیں آرہا ہے اور دوسروں کو برا بلا کہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو شخص اپنا گھر نہیں سنبھال سکتا وہ ملک کیا چلائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کی جنگ تخت اسلام آباد کے لیے ہے، پختونخوا کے عوام کی خدمت اور ترقی میں انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تور غر میرا دوسرا گھر ہے، میں نے اس چھوٹے سے علاقے کو ضلع کا درجہ دیا، ہزاروں نوکریاں اور چار ارب روپے کا پیکج دیا مگر آج کا تاریخی جلسہ اور آپ لوگوں کا جوش و جزبہ، ولولہ، اخلاص، محبت دیکھ کر میں کہتا ہوں کہ اگر آپ کو دس ارب کا پیکج بھی دے دیتا تو یہ کم تھا۔ امیر حیدر خان ہوتی نے جلسہ میں لوگوں کے جوش و خروش اور شاندار استقبال پر انہیں خراج تحسین پیش کیااور کہا کہ آج تور غر کے غیرت مند، وفادار، مخلص، باجرأت پختونوں نے میرا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تورغر جلسہ کے معاملہ پر مجھے طرح طرح کی کی باتوں کا سامنا کرنا پڑا مگر اس بار میں نے قسم اٹھائی تھی کہ کچھ بھی ہو جائے جلسہ میں ضرور شرکت کروں گا۔

این اے 4کے عوام صوبے کے آئینی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو مسترد کر دیں گے

 Oct-2017  Comments Off on این اے 4کے عوام صوبے کے آئینی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو مسترد کر دیں گے
Oct 182017
 

این اے 4کے عوام صوبے کے آئینی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو مسترد کر دیں گے، سردار حسین بابک

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ اے این پی پختونوں کی ترقی و خوشحالی کے لیے ماضی کی طرح مستقبل میں بھی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ این اے 4کے عوام اپنے حقوق کے حصول اور ان کے تحفظ کے لیے اے این پی کا ساتھ دیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے این اے4کے انتخابی مہم کے سلسلے میں یونین کونسل موسیٰ زئی پھندومیں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اے این پی چارسدہ کے صدر برسٹر ارشد عبداللہ اور ارباب کمال نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔ سردار حسین بابک نے کہا کہ مرکزی حکومت خیبر پختونخوا کے حقوق مسلسل ہڑپ کر رہی ہے جبکہ صوبائی حکومت نے ان تمام معاملات پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں سیاسی جماعتوں کی قیادت کا تعلق پنجاب سے ہیں اور دونوں ہی جماعتوں نے پختونوں کو ورغلانے اور انہیں دھوکہ دینے کے لیے گٹھ جوڑ کیا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مرکزہمارے صوبے کی بجلی کی آمدن شفافیت سے ادا کرے تو صوبہ ترقی یافتہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا کہ خیبر پختونخوا کے آئینی حقوق پر ڈاکہ ڈال کر مسلم لیگ این اے 4میں کس منہ سے وؤٹ مانگ رہی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہمارے صوبے کی بجلی 80پیسے فی یونٹ کے حساب سے خرید کر ہمیں واپس 17روپے فی یونٹ بیچی جا رہی ہے۔ جبکہ اس کے باوجود صوبے کو اس کی ضرورت کے مطابق بجلی فراہم نہیں کی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ این اے 4میں ٹرانسفارمر کی سیاست میں مصروف ہیں اور عوام کو دھوکہ دینے کی ہر ممکن کو شش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ این اے 4 اے این پی کا موروثی حلقہ ہے اور ضمنی الیکشن میں اے این پی کے امیدوار خوشدل خان ایڈوکیٹ کی جیت یقینی ہے۔

گڈ گورننس کے دعوؤں میں کوئی حقیقت نہیں، تمام محکمے نا انصافیوں کی زد میں ہیں

 Oct-2017  Comments Off on گڈ گورننس کے دعوؤں میں کوئی حقیقت نہیں، تمام محکمے نا انصافیوں کی زد میں ہیں
Oct 182017
 

گڈ گورننس کے دعوؤں میں کوئی حقیقت نہیں، تمام محکمے نا انصافیوں کی زد میں ہیں، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ صوبے میں گڈ گورننس کے دعوؤں میں کوئی حقیقت نہیں ہے اور یہ صرف عوام کو ورغلانے کا ایک نیا حربہ ہے ، معاشرے کی نا انصافیوں کی جھلک ہر طرف دکھائی دے رہی ہے ،تعلیم ،صحت اور پولیس کے محکمے زبوں حالی کا شکار ہیں جبکہ صوبے کے تمام افسران کو مضطرب کر کے دیگر صوبوں سے افسران یہاں لائے جا رہے ہیں جو خیبر پختونخوا کے ماحول سے مکمل طور پر نابلد ہیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کے12ڈاگ اسماعیل خیل میں ایک بڑے شمولیتی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئےء کیا ، اس موقع پر اہم سیاسی شخصیات اور درجنوں افراد نے اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ، میاں افتخار حسین نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے دعوے سمجھ سے بالاتر ہیں جبکہ ایک ماہ قبل وہ خود اپنی صوبائی حکومت کی ناکامی کا اعتراف کر چکے ہیں،انہوں نے کہا کہ الیکشن کی آمد سے قبل ایک بار پھر عوام کو ورغلانے کیلئے غلط اور جھوٹے دعوے کئے جا رہے ہیں،تعلیمی ایمرجنسی کا پول میٹرک کے نتائج نے کھول دیا جبکہ میٹرک کے بعد تعلیم حاصل کرنے والوں پر تعلیم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور زر کی کنجی سے اسے کھولنے کا مشورہ دیا جاتا ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور حکومت میں نامساعد حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے پولیس کی خصوصی تربیت پر توجہ دی اور اہلکاروں کی تعداد40ہزار سے بڑھا کرتقریباً 80ہزار کر دی گئی،اور ساتھ ہی ان کی تنخواہوں میں بھی مشترکہ طور پر دوگنا اضافہ کر دیا گیا، جبکہ بعد ازاں ان کی تنخواہ میں مزید اضافہ بھی کیا، انہوں نے کہا کہ ان تمام اقدامات کیلئے وسائل کی ضرورت تھی تاہم دہشت گردی کے خاتمے اور امن کی بحالی کیلئے ہم نے یہ گھونٹ پیا ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ہم نے اپنے دور میں پولیس جوانوں کی تربیت فوجی انداز میں کرائی جبکہ شہداء پیکج 3لاکھ سے بڑھا کر30لاکھ کر دیا گیا، دوران ملازمت شہید ہونے والے اہلکاروں کے بچوں کو نوکریاں دینے کے ساتھ ساتھ ان کی تنخواہ بھی ریٹائرمنٹ تک ان کے لواحقین کو ملتی رہی ، انہوں نے کہا کہ پولیس کو جدید اسلحہ کی فراہمی کے ساتھ ساتھ تھانوں کو مضبوط بنایا گیا تاکہ وہ دہشتگردوں کے مذموم حملوں سے محفوظ رہ سکیں،انہوں نے کہا کہ آج پولیس کو سیاسی بنا دیا گیا ہے اور اپنے ذاتی مفادات کی خاطر ہزاروں اہلکاروں کو ’’اِدھر اُدھر‘‘ کر دیا گیا،موجودہ صوبائی حکومت تاریخ کی ناکام ترین حکومت ہے جس کا واضح ثبوت اے این پی میں ہونے والی آئے روز شمولیتیں ہیں،انہوں نے کہا کہ عوام تبدیلی کے نعرے سے تنگ آچکے ہیں اور عمران خان کے غیر پالیمانی طرز سیاست کی وجہ سے لوگ ان سے متنفر ہو گئے ہیں،انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین احترام سے مبرا ہیں اور تمام سیاستدانوں کو بے عزتی کرنا معمول بنا لیا ہے جو آنے والی نسلوں کے مستقبل پر منفی اثرات مرتب کرے گا۔انہوں نے کہا کہ کرپشن اور لوٹ مار کے خاتمے کے دعوے کرنے والوں نے احتساب کمیشن کو صرف سیاسی مخالفین کیلئے استعمال کیا اور اب اپنے وزراء اور ارکان اسمبلی کو نیب سے بچا نے کیلئے احتساب ایکٹ میں ترمیم کی جا رہی ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ امن قائم کرنے کے دعویدار یاد رکھیں یہ امن نہیں بلکہ دہشت گردوں کے ساتھ مک مکا ہے جبکہ اے این پی کو صرف اس لئے ٹارگٹ کیا جاتا رہا کیونکہ وہ نظریاتی طور پر دہشت گردی کے خلاف تھی، انہوں نے کہا کہ آئندہ الیکشن میں عوام دہشت گردوں کے دوستوں کو نہیں بلکہ اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے اے این پی کو کامیاب کریں گے ۔

دہشت گردوں کے حمایت یافتہ سیاسی موت مر چکے،2018میں کوئی حکیم اللہ محسود نہیں آئے گا

 Oct-2017  Comments Off on دہشت گردوں کے حمایت یافتہ سیاسی موت مر چکے،2018میں کوئی حکیم اللہ محسود نہیں آئے گا
Oct 172017
 

دہشت گردوں کے حمایت یافتہ سیاسی موت مر چکے،2018میں کوئی حکیم اللہ محسود نہیں آئے گا، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے حمایت یافتہ سیاسی موت مر چکے ہیں اور عوام کے حقوق پر سودے بازی کرنے والے اب دوبارہ کبھی اقتدار میں نہیں آ سکتے ، فاٹا کے معاملے پر حکومتی خاموشی سے تحفظات بڑھتے جا رہے ہیں، اے این پی سی پیک کے معاملے پر اپنے مؤقف پر قائم ہے اور پختونوں کے حقوق کیلئے ہر فورم پر آواز اٹھائی جائے گی،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کے12پبی میں ایک بڑے شمولیتی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر پی ٹی آئی کی انتہائی اہم اور سرکردہ شخصیات محفوظ جان اور حفیظ جان نے اپنے خاندان اور ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کر دیا ، میاں افتخار حسین نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں باچا خان بابا کے قافلے میں شامل ہونے پر مبارکباد پیش کی، میاں افتخار حسین نے وزیر اعظم اور قبائلی مشران کے درمیان فاٹا معاملے پرمذاکرات کے نتیجے میں مطالبات تسلیم ہونے کے دعوے کو اعلامیہ کی صورت میں سامنے لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ حکومت نے جو مطالبات تسلیم کئے ہیں ان کا نوٹیفیکیشن جلد از جلد عوام کے سامنے لایا جائے کیونکہ اس حوالے سے عوام میں تحفظات بڑھتے جا رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ انگریز کے جانے کے بعد اُس کے لاگو کردہ قانون کا کوئی جواز نہیں بنتا ،سی پیک کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ چین نے اس روٹ کو اس لئے اہمیت دی تا کہ انتہا پسندی سے متاثرہ اور پسماندہ رہ جانے والے علاقوں کو ترقیافتہ علاقوں کے برابر لا یا جا سکے ، لیکن وفاقی حکومت نے پختونخوا کو اس سے باہر کر کے پنجاب کو فوقیت دی ،انہوں نے کہا کہ چائنہ پاک اقتصادی راہداری منصوبہ پختونوں کی ترقی کا منصوبہ ہے ، اور ر اس کے مغربی روٹ کے حوالے سے تمام کریڈٹ اے این پی کے قائد اسفندیار ولی خان کے سر ہے ،مرکزی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ نواز شریف نے مغربی روٹ کے حوالے سے یقین دہانی کرائی تھی کہ ایشیائی ترقیاتی بنک سے قرضہ لے کر اس روٹ کی تعمیر شروع کی جائے گی ، تاہم وہ وعدہ خلافی کر کے اپنے وعدوں سے مکر گئے،ہمیں صرف اس مکمل مغربی اکنامک کوریڈور کی تعمیر چاہئے جو اس خطے میں بسنے والے پختونوں کا جائز حق ہے کیونکہ اے این پی اس منصوبے کو ملک کی خوشحالی اور استحکام کے علاوہ فاٹا ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی جنگ زدہ عوام کی بہتری اور خوشحالی کا ایک بڑا ذریعہ سمجھتی ہے ،جبکہ آئینی سیاسی اور نظریاتی جماعت ہونے کے ناطے اے این پی صوبے کے حقوق کیلئے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی،انہوں نے کہا کہ پاک چائنہ اکنامک کوریڈور پر اے این پی کا مؤقف واضح ہے اور پارٹی نے پہلے ہی دن سے واضح کر دیا تھا کہ اس منصوبے پر فاٹا اور صوبے کے ساتھ کسی قسم کا امتیاز برداشت نہیں کیا جائے گا ، انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کے آغاز کی نوید خوش آئند ہے اور خطے کے دیرپا امن اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے دونوں ملکوں کے درمیان بد گمانیاں اور غلط فہمیاں دور کرنے کی ضرورت ہے ، انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ اور پی ٹی آئی سب کچھ بھول کر اقتدار کی جنگ میں مصروف ہیں جس سے دہشت گردوں کیلئے راہ ہموار ہوئی کیونکہ حکمرانوں کیلئے دہشت گردی اور بد امنی کا خاتمہ ترجیح نہیں رہا ، مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ خارجہ پالیسی میں ملکی مفاد کو مقدم رکھ کر کام کیا جائے تو دہشت گردی سے نجات ممکن ہے، انہوں نے کہا کہ گزشتہ الیکشن میں ہمارا مینڈیٹ چھینا گیا اور دہشت گردوں کے حمایت یافتہ لوگوں کو اقتدار حوالہ کرنے کیلئے ہمیں دیوار سے لگایا گیا ، تاہم 2018میں کوئی حکیم اللہ محسود نہیں آئے گا اور اے این پی عوام کے تعاون سے اقتدار میں آ کر عوام کی خدمت کا سلسلہ دوبارہ شروع کرے گی۔انہوں نے کہا کہ ملک کی بد قسمتی ہے کہ عمران خان جیسے لوگ بھی سیاست کا حصہ بن چکے ہیں اور پارلیمانی سیاست کی ابجد سے نا بلد نئی نسل کو گالم گلوچ کی سیاست سکھا رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت صوبے کی تاریخ کی ناکام ترین حکومت ہے اور صوبے کے تمام وسائل پی ٹی آئی کے چہیتوں میں بانٹ دیئے گئے ہیں،انہوں نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ آنے والے الیکشن کیلئے بھرپور تیاری جاری رکھیں ۔

ملک کی سیاسی صورتحال گھمبیر ہے ،محاذآرائی ملک اور جمہوریت کیلئے زہر قاتل ہے

 Oct-2017  Comments Off on ملک کی سیاسی صورتحال گھمبیر ہے ،محاذآرائی ملک اور جمہوریت کیلئے زہر قاتل ہے
Oct 162017
 

ملک کی سیاسی صورتحال گھمبیر ہے ،محاذآرائی ملک اور جمہوریت کیلئے زہر قاتل ہے،میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ حکومت سی پیک سمیت تمام اہم معاملات پر دوغلے پن ، ابہام اور لاتعلقی پر مبنی رویوں پر گامزن ہیں جبکہ اس کے سربراہ عمران خان کو تخت لاہور ، تخت اسلام آباد پر قبضے کی کوشش میں کسی بھی حد تک جانے کو تیار نظر آرہے ہیں ، ملک کی سیاسی صورتحال گھمبیر ہے ،محاذآرائی ملک اور جمہوریت کیلئے زہر قاتل ہے، تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں نے صوبے کو بنی گالہ اور اس کے مخصوص ٹولے کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے اور اسی کا نیبجہ ہے کہ صوبے کے عوام نہ صرف حکومت سے بیزار اور مایوس ہو چکے ہیں بلکہ اب ان پر یہ بات بھی واضح ہو گئی ہے کہ صوبے اور عوام کے حقوق کا تحفظ صرف اے این پی ہی کر سکتی ہے۔۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کے 12اکبر پورہ کنڈر میں شمولیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،اس موقع پر پی ٹی آئی اور دیگر جماعتوں سے درجنوں افراد نے اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ، میاں افتخار حسین نے شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارکباد پیش کی، اُنہوں نے کہا کہ عوام تبدیلی کے نام و نہاد نعروں کی حقیقت جان چکے ہیں اور صوبے کے مفادات داؤ پر لگے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگلے انتخابات تبدیلی والوں کے عوامی احتساب کا عمل ثابت ہو گا اور اے این پی ایک بار پھر عوام کی بھر پور توجہ اور اعتماد کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ دہشتگردی کا مسئلہ حکومتی دعوؤں کے برعکس حل نہیں ہو رہا اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل نہیں ہو رہا ۔ اُنہوں نے کہا کہ پنجاب بیسڈ دہشتگردوں پر ہاتھ نہ ڈالنے کے منفی اور خطر ناک نتائج برآمد ہو رہے ہیں جبکہ اب سرحدوں پر بھی جنگ اور بدترین کشیدگی کے بادل منڈلارہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمیں کسی تاخیر اور مصلحت کے بغیر خارجی اور داخلی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیاں لانی ہوں گی۔ سی پیک کے منصوبے میں پشتونوں اور بلوچوں کے حصے اور حق کے حصول کیلئے کسی قسم کی جدوجہد یا قربانی سے دریغ نہیں کیا جائیگا۔ پاکستان محض پنجاب کے مفادات کے تحفظ کا نام نہیں ہے بلکہ اس میں رہنے والی تمام قومیتوں کو ان کے جائز حقوق ملنے چاہئیں اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ اے این پی کا سی پیک پر مؤقف واضح ہے اور پختونوں کے حقوق پر سودے بازی کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی، انہوں نے کہا کہ سی پیک پر صوبے کے تحفظات موجود ہیں،انہوں نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پختونوں کے حقوق کے حصول تک پر امن جدوجہد جاری رہے گی ، مردم شماری کے حوالے سے میاں افتخار حسین نے کہا کہ وفاقی حکومت دہشت گردی سے متاثرہ صوبے کا حق غصب کرنے میں مصروف ہے