تعلیمی ایمرجنسی کے نام پر اساتذہ کو بے تکریم کیا جا رہا ہے، سردار حسین بابک

 Oct-2017  Comments Off on تعلیمی ایمرجنسی کے نام پر اساتذہ کو بے تکریم کیا جا رہا ہے، سردار حسین بابک
Oct 302017
 

تعلیمی ایمرجنسی کے نام پر اساتذہ کو بے تکریم کیا جا رہا ہے، سردار حسین بابک

پشاور(پ،ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ تبدیلی سرکار کی حکومت میں صوبے کے تمام اساتذہ احتجاج پر ہیں تعلیمی ایمرجنسی کے نام پر کب تک اساتذہ کو ستایا جائے گا،اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی ناقص منصوبہ بندی اور غیر سنجیدہ رویے نے صوبے کے تمام ملازمین کے ساتھ ساتھ اساتذہ کے آئے احتجاج سے ثابت ہوتا ہے کہ اس حکومت نے معاشرے کے محترم طبقے اساتذہ کو کتنا مقام دیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ این ٹی ایس اساتذہ کی مستقلی ان کا جائز حق ہے اور ان کی مستقلی میں تاخیری حربے انتہائی افسوسناک ہیں، سردار حسین بابک نے کہا کہ صوبائی حکومت کو نئی بھرتی پالیسی کے وقت ضروری قانون سازی کرنا چاہئے تھی ، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے آخری ایام میں اساتذہ کو یقین دہانی اور جھوٹے وعدوں سے ٹرخانے کی کوشش کی تاہم وہ اس میں ناکام ہو گئی ، انہوں نے کہا کہ اساتذہ میں پائی جانے والی بے چینی صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی نے اساتذہ کو معاشرے میں ان کا جائز مقام اور تکریم دی اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے دور حکومت میں تعلیمی اداروں کی بہتر کارکردگی کے باعث نتائج بھی بہترین آئے ، انہوں نے کہا کہ انصاف کے دعویدار حکومت صوبے میں تمام کیڈرز کے سکول اساتذہ کو جو کہ این ٹی ایس کے ذریعے بھرتی کیے گئے ہیں کو فوری طور پر مستقل کرے تاکہ وہ دلجمعی کیساتھ بہترین اساتذہ کا کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ فوری مستقلی اساتذہ کا جائز حق ہے اور اس حوالے سے قانون سازی کیلئے بلاتاخیر اقدامات کئے جائیں۔

جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں، پاکستان اور افغانستان صورتحال کا ادراک کریں

 Oct-2017  Comments Off on جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں، پاکستان اور افغانستان صورتحال کا ادراک کریں
Oct 302017
 

جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں، پاکستان اور افغانستان صورتحال کا ادراک کریں، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کی تعطلی اور بداعتمادی کا خاتمہ نہ ہونے کی صورت میں خطے میں بڑی جنگ کے آثار دکھائی دے رہے ہیں ،ہماری سرزمین سپر پاورز کے مفادات کا مسکن ہے اور ان مفادات کے حصول کی ناکامی کی صورت میں کسی بھی وقت تیسری عالمی جنگ چھڑ سکتی ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز میں سابق سوویت یونین میں تعلیم حاصل کرنے والے ڈاکٹرز ، انجینئر،وکلاء اور دیگر شعبوں سے وابستہ افراد کی تنظیم ایلومینائی ایسوسی ایشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،میاں افتخا رحسین اس موقع پر مہمان خصوصی تھے ، تنظیم کی صدر ڈاکٹر فائزہ رشید اور چیئرمین ایگزیکٹو کونسل ڈاکٹر سعید الرحمان نے بھی اس موقع پر خطاب کیا،اپنے خطاب میں میاں افتخار حسین نے کہا کہ حالات اور صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے سوویت یونین کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی بدلاؤ آ چکا ہے اور خطے میں امریکہ کے اثرورسوخ کا کوئی مد مقابل نہیں ہے ، انہوں نے کہا کہ ماضی میں پاکستان میں مختلف نظام رائج تھا طبقاتی دجوجہد جاری تھی تاہم پاکستان کی ناکام خارجہ و داخلہ پالیسیوں کے نتیجے میں نظام بدل گیا اور ہم دنیا میں پسماندگی کی طرف چلے گئے ،انہوں نے کہا کہ صورتحال پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک ہے خطے میں چین ، روس اور امریکہ سپرپاورز جبکہ پاکستان ،ایران اور بھارت ایٹمی طاقت کے طور پر موجود ہیں ، سپرپاورز نے اپنے مفادات کیلئے ہمارے خطے کو مسکن بنا لیا ہے اور ان میں سے کسی کے بھی مفادات کو نقصان پہنچا تو خطہ میں تیسری عالمی جنگ چھڑ جائے گی جس کے بعد یہاں کسی ذی روح کا تصور نہیں کیا جا سکتا،میاں افتخار حسین نے کہا کہ موجودہ وقت میں ہماری ذمہ داری پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے اور اس ممکنہ جنگ کی روک تھام کیلئے مشترکہ کام کرنا ہو گا، انہوں نے کلہا کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ تباہی سے بچنے کیلئے مذاکرات کی طرف جائیں کیونکہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں،انہوں نے کہا کہ پراکسی وار خطے کی تباہی کا باعث بن سکتی ہے اور موجودہ صورتحال میں پاک افغان جامع مذاکرات کا عندیہ امید کی نئی کرن ہے،انہوں نے کہا کہ متفقہ لائحہ عمل بنائے بغیرکامیابی ممکن نہیں ، اور اس کیلئے دونوں ملکوں میں افہام و تفہیم ضروری ہے،میاں افتخار حسین نے کہا کہ وقت آ چکا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کو اپنی خارجہ و داخلہ پالیسیاں قومی مفاد میں بنانی چاہئیں اور خطے کو درپیش جیلنجز کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری وقت کی اہم ضرورت ہے،میاں افتخار حسین نے کہا کہ سب کو متحد ہو کر انسانیت کے دشمنوں کا مقابلہ کرنا ہو گا،انہوں نے کہا کہ موجودہ کٹھن صورتحال میں امن پسند قوتیں اس مخصوص صورتحال کا ادراک کریں ، انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان اپنی پالیسیاں سپر پاورز کی بجائے قومی مفاد میں بنائیں ،قومی قیادت پرائی جنگوں میں کودنے سے گریز کرے ، عراق اور لیبیاا س کی زندہ مثال کے طور پر دنیا کے نقشے پر موجود ہیں، انہوں نے کہا کہ امن پسند قوتیں بد امنی پھیلانے والی تمام قوتوں کے خلاف متحد ہو کر ان کا محاسبہ کریں ،میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ چین ، روس اور امریکہ اپنے مفادات کیلئے ہماری سر زمین استعمال کرنے کا خواب دیکھنے سے گریز کریں۔

 این اے4کا فیصلہ پہلے سے طے تھا ،انتخابی نتائج پر تحفظات ہیں، سردار حسین بابک

 Oct-2017  Comments Off on  این اے4کا فیصلہ پہلے سے طے تھا ،انتخابی نتائج پر تحفظات ہیں، سردار حسین بابک
Oct 272017
 

پریس کانفرنس

 این اے4کا فیصلہ پہلے سے طے تھا ،انتخابی نتائج پر تحفظات ہیں، سردار حسین بابک

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے این اے4کے انتخابی نتائج پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ الیکشن کمیشن ایک ایسا کمزور اور نااہل ادارہ ہے جو ایک حلقہ کے الیکشن کنٹرول نہیں کر سکتا ، ہمارے امیدوار کے علاقے میں پولنگ بوتھ کم کئے گئے اور منظم طریقے سے دھاندلی کی گئی ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور پریس کلب میں این اے4کے انتخابی نتائج کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، این اے4کے امیدوار خوشدل خان ایڈوکیٹ اور ارباب محمد طاہر خان خلیل بھی ان کے ہمراہ تھے ، سردار حسین بابک نے کہا کہ انتخابی عمل محض دکھاوا تھا اور دکھائی ایسا دیتا ہے کہ فیصلہ پہلے سے طے تھا، انہوں نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران دھاندلی کی تیاریاں جاری رہیں اور سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کیا گیاجبکہ ہم نے اس حوالے سے الیکشن کمیشن کو تحریری طور پر آگاہ بھی کیا تھا لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی اور الیکشن کمیشن خاموش تماشائی بنا رہا ،سردار بابک نے کہا کہ ہمارے پولنگ ایجنٹوں کو باہر بٹھایا گیا اور اندر صورتحال اپنی مرضی سے تبدیل کی جاتی رہی ، انہوں نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ چوری کر کے اس کی توہین کی گئی ،جو انتہائی قابل مذمت ہے ، صوبائی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ انتخابی نتائج پر تحفظات ہیں اور اے این پی ان نتائج کو تسلیم نہیں کرتی ،سہاروں کی بنیاد پر سیاست کرنا افسوسناک فعل ہے تاہم پی ٹی آئی اب اس میں ماہر ہو چکی ہے،انہوں نے حیرت کا ظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر فیصلہ پہلے سے طے تھا تو الیکشن کس لئے کرایا گیا،الیکشن کمیشن کا پی آر او نتائج دیتا رہا ۔

عوامی نیشنل پارٹی کی کوئٹہ بم دھماکے کی مذمت ، امن پسندی کی سزا دی جا رہی ہے

 Oct-2017  Comments Off on عوامی نیشنل پارٹی کی کوئٹہ بم دھماکے کی مذمت ، امن پسندی کی سزا دی جا رہی ہے
Oct 272017
 

عوامی نیشنل پارٹی کی کوئٹہ بم دھماکے کی مذمت ، امن پسندی کی سزا دی جا رہی ہے، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کوئٹہ میں اے این پی کے قافلے پر بم دھماکے اور اسلام آباد میں صحافی پر قاتلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف اے این پی کو اس کی جمہوریت پسندی اور امن پسندی کی سزا دی جا رہی ہے جبکہ دوسری جانب صحافت کا گلا گھونٹنے کی مذموم کوششیں جاری ہیں،اپنے ایک مذمتی بیان میں انہوں نے کہا کہ اے این پی رہنما عبدالرازق اپنے بھائی عبدالخالق کے ہمراہ پشین جلسہ میں شرکت کیلئے جا رہے تھے جنہیں راستے میں بم دھماکے سے ٹارگٹ کر کے اے این پی کو پیغام دیا گیا تاہم ہم جھکنے والے نہیں اور باچا خان کے مشن سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ، انہوں نے سانحے میں شہید ہونے والوں کیلئے دعائے مغفرت کرتے ہوئے غمزدہ خاندان سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور کہ دہشت گرد ہماری ہمت توڑ کر اس ملک پر اپنا راج چاہتے ہیں لیکن ہم ہمت نہیں ہاریں گے اور اس ناسور کے خلاف جہاد جاری رہے گا اور دہشت گردوں کے خلاف جو کوئی بھی کاروائی کرے گا اے این پی اس کے ساتھ کھڑی ہوگی، انہوں نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور میں جس طرح دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کی وہ تاریخ کا انمٹ باب ہے اور یہی وجہ ہے کہ اے این پی آج تک دہشت گردوں کے ٹارگٹ پر ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے پی ایس سانحہ کے بعد عسکری ، سیاسی اور مذہبی قیادت ایک 20نکاتی دستاویز پر متفق ہوئیں لیکن اس کے تمام نکات پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں بار بار لاشیں اٹھانا پڑیں،انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ اور پی ٹی آئی سب کچھ بھول کر اقتدار کی جنگ میں مصروف ہیں جس سے دہشت گردوں کیلئے راہ ہموار ہوئی حکمرانوں کیلئے دہشت گردی اور بد امنی کا خاتمہ ترجیح نہیں رہا ، مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ خارجہ پالیسی میں ملکی مفاد کو مقدم رکھ کر کام کیا جائے تو دہشت گردی سے نجات ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں بڑی طاقتوں نے اپنے مفادات کے لےے ہماری سرزمین استعمال کرکے ہم پر 40سال تک جنگیں مسلط کیں جبکہ نائن الیون کے بعد سے آج تک امن کے قیام کے لےے سنجیدہ کوششیں نظر انداز کی گئیں جس کے باعث پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آیا اور اب ایک بار پھر افغانستان اور پاکستان کی پشتون سرزمین کو عالمی اور علاقائی قوتوں کی آپس کی لڑائی کے لےے میدان جنگ میں تبدیل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محسوس یہ ہو رہا ہے جیسے بڑی طاقتےں ہمارا گھیراؤ کرنے کے لےے اکھٹی ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے امن کے لےے لازمی ہے کہ پاکستان اور افغانستان مشترکہ لائحہ عمل اختےار کرکے اتحاد سازی اور بہترےن تعلقات کا آغاز کریں تاکہ خطے کو پھر سے عالمی اکھاڑا بننے سے بچاےا جائے اور پشتونوں پر مسلط کی گئی جنگ کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ میاں افتخار حسین نے اسلام آباد میں صحافی احمد نورانی پر قاتلانہ حملے کی بھی مذمت کی اور کہا کہ مخصوص مائنڈ سیٹ صحافت کا گلا گھونٹنے کیلئے صحافیوں کو ٹارگٹ کر رہا ہے صحافت انسانی جسم میں روح کے مترادف ہے اور جب روح انسانی جسم سے نکل جائے تو جسم مردہ ہو جاتا ہے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی مجروح صحافی کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ صحافی پر حملہ کرنے والے عناصر کو گرفتار کر کے قانون کی گرفت میں لایا جائے،میاں افتخار حسین نے پشین میں شہید ہونے والوں کی مغفرت اور لواحقین کے صبر جمیل جبکہ احمد نورانی کی جلد صحت یابی کیلئے دعاکی۔

تحفظات دور کئے جائیں،فاٹا انضمام کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،میاں افتخار حسین

 Oct-2017  Comments Off on تحفظات دور کئے جائیں،فاٹا انضمام کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،میاں افتخار حسین
Oct 242017
 

تحفظات دور کئے جائیں،فاٹا انضمام کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ فاٹا کے صوبے میں انضمام کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کا وقت آ پہنچا ہے اور حکومت اپنی سیاسی مجبوریوں اور مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر کروڑوں قبائلی عوام کی خواہشات پر عمل درآمد یقینی بنائے ،اب حکومتی سرد مہری پر عوام خاموش نہیں رہینگے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے فاٹا انضمام اور ایف سی آر کے خلاف پیدل مارچ کرنے والے شہری کثرت رائے کا نوشہرہ پہنچنے پر استقبال کرنے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ،اے این پی کے ضلعی صدر ملک جمعہ خان اور دیگر ضلعی رہنما بھی اس موقع پر موجود تھے ، میاں افتخار حسین نے کثرت رائے کی ہمت ،حوصلہ اور مخلصانہ کاوش کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ کثرت رائے کی طرف سے فاٹا انضمام اور ایف سی آر کے خلاف پورے ملک کا پیدل مارچ مرکزی حکومت کی آنکھیں کھول دینے کیلئے کافی ہے،اور اس اہم موقع پر صرف اے این پی ہی کثرت رائے کے ساتھ کھڑی ہے ،انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام غیر یقینی کی کیفیت سے دوچار ہیں اور اب تو ان میں مایوسی بھی آخری حدوں کو چھونے لگی ہے تاہم اے این پی فاٹا کے صوبے میں انضمام کیلئے ہر ممکن کوششیں جاری رکھے گی ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ جہاں حکومت کا اپنا مطلب ہو وہاں راتوں رات آئین میں ترمیم کر کے اپنا مفاد پورا کر لیتی ہے جبکہ لاکھوں قبائلی عوام کی خواہشات کو مسلسل روندنے کا سلسلہ جاری ہے انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں اور تمام مکتبہ فکر کے لوگ فاٹا کے صوبے مین انضمام پر متفق ہو رہے ہیں،میاں افتخار حسین نے مطالبہ کیا کہ فاٹا کو فوری طور پر صوبے میں ضم کیا جائے ،ایف سی آر کا خاتمہ کر کے اسے باضابطہ عدالتی دائرہ اختیار میں لایا جائے ، قبائلی عوام کو آئینی، قانونی اور انسانی حقوق دیئے جائیں، فاٹا کی ترقی کیلئے دس سالہ ترقیاتی پیکج دیا جائے اور صوبائی اسمبلی میں اسے باضابطہ نمائندگی دی جائے،انہوں نے کہا کہ یہ وہ نکات ہیں جن پر تمام سیاسی جماعتیں متفق تھیں ہم فاٹا اصلاحات پر جلد از جلد عمل درآمد کیلئے تگ و دو کر رہے ہیں ،گزشتہ مظاہرے اور دھرنے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے جو مطالبات تسلیم کئے ہیں ان کا نوٹیفیکیشن جلد از جلد عوام کے سامنے لایا جائے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ احتجاج اور دھرنے کی کال قبائل کی جانب سے دی گئی تھی جس پر اے این پی نے ان کا ساتھ دیا اور اے این پی نے واضح کیا تھا کہ قبائلی مشران وزیر اعظم کے ساتھ جو بھی فیصلہ کریں گے ہمیں منظور ہو گا ، اسی اثنا شاہ جی گل آفریدی اور امیر مقام کے وزیر اعظم کے ساتھ مذاکرات ہوئے جس کے بعد قبائلی وفد اور امیر مقام نے مظاہرین کو مطالبات کی منظور ی کی نوید سنا کر منتشر ہونے کیلئے کہا اور بتایا گیا کہ حکومت نے پشاور ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار فاٹا تک بڑھانے کا مطالبہ تسلیم کر لیا ہے اور اس حوالے سے نوٹیفیکیشن موجود ہے تاہم ابھی تک قبائلی مشران کی جانب سے نوٹیفیکیشن سامنے آ سکانہ ہی وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے پریس ریلیز جاری کی گئی جس سے مایوسی پھیلتی جا رہی ہے ،انہوں نے کہا کہ مظاہرے اور دھرنے کے اختتام کے بعد سے اب تک میں اس نوٹیفیکیشن کیلئے استفسار کر چکا ہوں ،تاہم صورتحال واضح نہیں ہو رہی ، انہوں نے کہا کہ قبائلی مشران شاہ گی گل آفریدی اور دیگر کو اس حوالے سے قوم کو اعتماد میں لینا چاہئے اور اس کے علاوہ وزیر اعظم کے ساتھ مذاکرات کے دوران جو بھی طے ہوا اس کو بلیک اینڈ وائٹ کی صورت میں عوام کے سامنے لایا جائے یہ صرف ایک فرد، ایک جماعت یا ایک طبقے کا معاملہ نہیں بلکہ کروڑوں قبائلی عوام کی امنگوں کی آواز ہے ، انہوں نے کہا کہ فاٹا انضمام کے حوالے سے اے این پی بنیادی کردار ادا کرتی آئی ہے، جبکہ قبائلی عوام کا یہ مطالبہ ہے کہ فاٹا کوصوبے میں ضم کیا جائے ، ایف سی آر کا خاتمہ کر کے قبائلی عوام کو عدالتی دائرہ اختیار میں لایا جائے ، این ایف سی ایوارڈ میں قبائلی عوام کا حصہ دیا جائے ،اور2018کے الیکشن میں صوبائی اسمبلی میں ان کی نمائندگی دی جائے اور ہم نے ان مطالبات پر قبائلی مشران کا ساتھ دیا لہٰذا اب اس اہم مسئلے پر جو بھی کچھ اندر خانے طے ہوا اس کی تفصیل عوام کے سامنے رکھی جائے تا کہ صورتحال واضح ہو سکے ۔

بلوچستان و خیبر پختونخوا سمیت تمام پختون بیلٹ کے حقوق کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے

 Oct-2017  Comments Off on بلوچستان و خیبر پختونخوا سمیت تمام پختون بیلٹ کے حقوق کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے
Oct 232017
 

بلوچستان و خیبر پختونخوا سمیت تمام پختون بیلٹ کے حقوق کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ہم پختونوں کے حقوق کیلئے میدان میں نکلے ہیں اور بلوچستان و خیبر پختونخوا سمیت تمام پختون بیلٹ کے حقوق کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے ، انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پختونوں کے درمیان انگریز کی کھینچی گئی لکیر مٹا دی جائے اور اس کیلئے اے این پی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی، ن خیالات کا اظہار انہوں نے کندی تازہ دین پبی میں شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر درجنوں افراد نے مختلف سیاسی جماعتوں سے مستعفی ہو کر اے این پی میں شمولیت اختیار کی، میاں افتخار حسین نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ اپنے وسائل پر اپنے اختیار کیلئے کسی بھی حد تک جائیں گے ،اور اس کے ثمرات عوام تک بھی پہنچائے جائیں گے، اُنہوں نے کہا کہ فاٹا مظاہرے کے بعد سے اب تک بعد مرکزی حکومت نے چپ سادھ لی ہے۔ اس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ عوام کو صرف طفل تسلی سے ٹرخایا گیا ہے جبکہ اصل کہانی کچھ اور ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صورتحال تبدیل ہو چکی ہے لہٰذافاٹا کوصوبے میں جلد از جلد ضم کرکے اختیارات صوبے کے حوالے کیے جائیں ۔مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ہم پختونوں کے حقوق کیلئے میدان میں نکلے ہیں اور بلوچستان و خیبر پختونخوا سمیت تمام پختون بیلٹ کے حقوق کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے ، انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پختونوں کے درمیان انگریز کی کھینچی گئی لکیر مٹا دی جائے اور اس کیلئے اے این پی ہراول دستے کا کردار ادا کرے گی،انہوں نے کہا کہ بعض رہنما اسے امریکی ایما پر کی جانے والی حکومتی سازش قرار دے رہے ہیں اور ناقابل فہم بات یہ ہے کہ وہ خود بھی اسی حکومت میں بیٹھے ہیں،سی پیک کے حوالے سے اُنہوں نے کہا کہ مغربی اکنامک کاریڈور پر ہمارے خدشات اور تحفظات تاحال موجود ہیں تاہم حکومت نے اس معاملے پر سرد مہری اختیار کر رکھی ہے اور لگتا ہے کہ پختونوں کے حقوق سی پیک کے ملبے تلے دفن کر کے اکنامک کاریڈور بنایا جا رہا ہے جس کی ہم کسی صورت اجازت نہیں دینگے وزیر اعلیٰ نے سی پیک پر پختونوں کے حقوق کا سودا کیا ہے اور اپنے لیڈر کو وزارت عظمیٰ کی کرسی تک پہنچانے کیلئئے اپنے صوبے کے مفادات کو پس پشت ڈال دیا ہے،ہم پاکستان میں چین کی سرمایہ کاری کے خلاف نہیں ہیں تاہم چائینہ پاک اکنامک کوریڈور کی آڑ میں مخصوص مفادات کے حصول کی اجازت کسی صورت نہیں دیں گے،انہوں نے کہا کہ آئندہ الیکشن میں اے این پی ایک بار پھر اقتدار میں ہو گی اور صوبے کے عوام کے تعاون سے ترقی کا سفر شروع کریں گے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور ساڑھے چار سال میں عوام خوشحال ہونے کی بجائے تبدیلی کے الٹ پھیر کی نذر ہو گئے ہیں، انہوں نے کہا کہ ڈینگی سے تاحال اموات کا سلسلہ جاری ہے لیکن کوئی حکومتی نمائندہ منظر عام پر آنے کو تیا رنہیں ،خزانہ خالی ہو چکا ہے جبکہ صوبے کو مالیاتی اداروں کے پاس گروی رکھ کر پشاور ریپڈ بس منصوبہ شروع کر دیا گیا ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ عمران خان نے جس طرح خیبر پختونخوا کو تباہ کیا اس کی مثال کسی آمرانہ دور میں بھی نہیں ملتی ۔صحت اور تعلیم کے شعبے وینٹی لیٹر پر آکری سانسیں گن رہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ اے این پی اقتدار میں آ کر عوام کا احساس محرومی دور کرنے اور اداروں کو ٹھیک کرنے کے ساتھ ساتھ عوامی مسائل کے حل کا سفر شروع کرے گی۔

انتخابی اصلاحات بل میں حلف نامہ تبدیلی کے ذمہ دار حکومتی و جے یو آئی اراکین پارلیمنٹ ہیں،باز محمد خان

 Oct-2017  Comments Off on انتخابی اصلاحات بل میں حلف نامہ تبدیلی کے ذمہ دار حکومتی و جے یو آئی اراکین پارلیمنٹ ہیں،باز محمد خان
Oct 222017
 

انتخابی اصلاحات بل میں حلف نامہ تبدیلی کے ذمہ دار حکومتی و جے یو آئی اراکین پارلیمنٹ ہیں،باز محمد خان

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر حاجی باز محمد خان ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ حکومتی و جے یو آئی کے اراکین الیکشن بل میں حلف نامہ تبدیل کرنے کے مرتکب ہیں قانون سازی کیلئے بل کمیٹی ،قومی اسمبلی اور کابینہ میں پاس کرنے کے بعد منظوری کیلئے سینیٹ میں لایا جا تا ہے ان تمام مراحل سے گزر کر جے یو آئی نے اس کی نہ صرف حمایت کی بلکہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے جے یو آئی کے وزیر ڈاکخانہ جات نے باقاعدہ تقریرکی کہ الیکشن بل کے حلف نامے میں کوئی بھی ایسالفظ نہیں جس سے توہین رسالت ہو اْنہوں نے کہا کہ مذکورہ بل میں انتخابی مہم چلانے ،الیکشن فارم پْر کرنے ،پولنگ کے اندرونی و بیرونی فرائض ،حلف لینے سمیت متعدد نکات شامل ہیں جس میں حلف نامہ متنازعہ بن گیا اور اس متنازعہ نقطہ کو پاس کرانے میں دوسروں پر الزامات لگانے والے خود ملوث ہیں جنہوں نے چار مراحل میں اسے پاس کیا اْنہوں نے کہا کہ مذکورہ الیکشن بل قانون سازی کیلئے پہلے کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا جس میں جے یو آئی سمیت حکومتی و مذہبی جماعتوں کے اراکین ہیں وہاں سے پاس کیا گیا تو کابینہ بعد ازاں قومی اسمبلی لایا گیا وہاں بھی ان کے وزراء اور ممبران نے اس کی حمایت کی اور آخر میں سینیٹ میں لا کر ہم سے 37/38سے پاس کرایا گیا پاکستان تحریک انصاف نے بھی اس کی مخالفت میں ہماری حمایت کی تھی مگر منظوری کے وقت ان کے دو سینیٹر حاضر نہیں ہوئے جس کی وجہ سے پاس کیا گیا اگر دونوں موجود ہوتے تو بل پاس نہیں کیا جا سکتا تھا اْنہوں نے کہا کہ عوام کو ورغلانے والے جلسوں میں اپنی بے گناہی اور ملوث نہ ہونے کی تسلی نہ دیا کریں ہم اس کی حقیقت عوام کے سامنے لا رہے ہیں جس کے بعد دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔