اسفندیار ولی خان کی فتح پور درگاہ پر خود کش حملے کی مذمت

 Sept 2017  Comments Off on اسفندیار ولی خان کی فتح پور درگاہ پر خود کش حملے کی مذمت
Oct 062017
 

اسفندیار ولی خان کی فتح پور درگاہ پر خود کش حملے کی مذمت

نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد نہ ہونے کا خمیازہ معصوم انسان بھگت رہے ہیں۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے جھل مگسی میں فتھ پور درگاہ پرخود کش بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور سانحہ میں درجنوں افراد کی شہادت پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ، اپنے مذمتی بیان میں اسفندیار ولی خان نے کہا کہ ایک بار پھر نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہ ہونے کا خمیازہ معصوم عوام کو بھگتنا پڑا ، انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا کوئی دین مذہب نہیں ہوتا اور دہشت گرد نے آسان ٹارگٹ جان کر درگاہ کو نشانہ بنایا ،انہوں نے کہا کہاے این پی ایک عرصہ سے مطالبہ کرتی آئی ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تمام20نکات پر من و عن عمل درآمد یقینی بنایا جائے لیکن بدقسمتی سے مصلحت سے کام لیا گیا جس کے نتیجے میں آج ایک بار پھر معصوم انسانی جانوں کی قیمت چکانی پڑی ،انہوں نے کہا کہ دہشت گرد امن کے دشمن ہیں اوران کے ساتھ ریاستی قوت کے ساتھ نمٹا جائے ،انہوں نے کہا کہ دھماکہ دہشت گردوں کی کمرتورنے کے دعوؤں پر سوالیہ نشان ہے ، اسفندیار ولی خان نے شہدا کی مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے بھی دعا کی

پارٹی مخالف سرگرمیاں۔اے این پی کے متعددپارٹی کارکنوں کی رکنیت معطل

 Sept 2017  Comments Off on پارٹی مخالف سرگرمیاں۔اے این پی کے متعددپارٹی کارکنوں کی رکنیت معطل
Oct 052017
 

پارٹی مخالف سرگرمیاں۔اے این پی کے متعددپارٹی کارکنوں کی رکنیت معطل 
* دیر بالا کی 6کارکن شامل ہیں ، دیر پائین اور بونیر کے پارٹی کارکنوں کی بنیادی رکنیت ختم کر دی گئی ۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے دیر بالا، دیر پائیں اور بونیر سے تعلق رکھنے والے چند کارکنان کی پارٹی رکنیت ختم کر دی ہے ،پارٹی مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے ، گروپ بندیوں کو فروغ دینے اور پارٹی کو نقصان پہنچانے کی پاداش میں دیر بالا کے میاں کلیم اللہ ، میاں سمیع اللہ، ملک کامران ، ملک خائستہ رحمان،افتخار احمد،میاں بشیر احمد کی پارٹی رکنیت ایک سال کیلئے معطل جبکہ دیر پائیں کے احمد منیراور بونیر کے اقبال حسین امازئی کی پارٹی رکنیت ختم کر دی ہے ، تمام ارکان کی پارٹی رکنیت کے خاتمے کا نوٹیفیکیشن بھی صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری کر دیا ہے۔

فاٹا انضمام کے معاملے پر 9اکتوبر کا مظاہرہ فیصلہ کن ثابت ہو گا، سردار حسین بابک

 Sept 2017  Comments Off on فاٹا انضمام کے معاملے پر 9اکتوبر کا مظاہرہ فیصلہ کن ثابت ہو گا، سردار حسین بابک
Oct 052017
 

فاٹا انضمام کے معاملے پر 9اکتوبر کا مظاہرہ فیصلہ کن ثابت ہو گا، سردار حسین بابک

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے فاٹا کو صوبے میں فوری انضمام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس حوالے سے فوری اقدامات اٹھائے۔اور فاٹا کے صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام کے لیے جو انتظامی، مالی اور قانونی اقدامات اٹھانا ضروری ہیں حکومت ان پر فوری عمل درآمد کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ 2018ء کے عام انتخابات سے قبل صوبائی اسمبلی میں مکمل نمائندگی کے لیے راہ ہموار ہو سکے ۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ انگریز نے ملک فتح کیا اور اپنا قانون FCRلاگو کیا البتہ افسوس کا مقام یہ ہے کہ آزادی کے بعد اور انگریز کے یہاں سے جانے کے بعد اس کے کالے قانون کا کیا جواز باقی رہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ انفرادی دہشت گردی کے واقعات بلا شبہ تاریخ کا حصہ ہیں۔ البتہ ان واقعات کو بنیاد بنا کر فاٹا کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی کے قائد اسفندیار ولی خان پہلے ہی یہ اعلان کر چکے ہیں کہ فاٹا کے صوبے میں انضمام کے بعد بلوچستان کے پختونوں کو یکجا کرنے کے لیے جدوجہد کا آغاز کیا جائے گا اور بعد ازاں شمالی و جنوبی پختونخوا کے درمیان پختونوں کو تقسیم کرنے والی لکیروں کا خاتمہ کرکے تمام پختونوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کریں گے۔انہوں نے کہا کہ 9اکتوبر کو ہونے والے فاٹا مظاہرے میں اے این پی بھرپور شرکت کرے گی اور یہ مظاہرہ فاٹا کے مستقبل کے حوالے سے فیصلہ کن ثابت ہو گا ، سردار حسین بابک نے کہا کہ فاٹا پاکستان کا حصہ ہے اور اسے صوبے میں ضم کرنے کے سوا دوسرا کوئی آپشن نہیں۔ واحد راستہ یہی ہے کہ 2018ء کے الیکشن سے قبل قبائل کو صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کے عوام کی اکثریت انضمام کے حق میں ہیں۔ لہٰذا اس میں اگر مگر کی پالیسی اختیار کرنے سے پیچیدگیاں اور مشکلات پیدا ہونگی۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کے صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام کے لیے جو انتظامی، مالی اور قانونی اقدامات اٹھانا ضروری ہیں حکومت کی طرف سے ان پر فوری عمل درآمد کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ 2018ء کے عام انتخابات سے قبل صوبائی اسمبلی میں مکمل نمائندگی کے لیے راہ ہموار ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے بروقت، آسان اور مناسب راستہ یہی ہے، فاٹا کے صوبے میں انضمام کے مسئلے پر مزیدتاخیری حربوں سے گریز کیا جائے۔

مطلوبہ اہداف کے حصول کیلئے خواتین کی ترقی اورخودمختاری پر فوکس اولیں ترجیح ہونی چاہئے

 Sept 2017  Comments Off on مطلوبہ اہداف کے حصول کیلئے خواتین کی ترقی اورخودمختاری پر فوکس اولیں ترجیح ہونی چاہئے
Oct 052017
 

مطلوبہ اہداف کے حصول کیلئے خواتین کی ترقی اورخودمختاری پر فوکس اولیں ترجیح ہونی چاہئے، میاں افتخار حسین

* پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے خواتین کو برابری کی بنیاد پر حقوق کی فراہمی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کی ترقی و خود مختاری کے ذریعے ہی معاشرے میں توازن پیدا کیا جا سکتا ہے ،اے این پی خواتین کی آزادی پر یقین رکھتی ہے البتہ یہ آزادی مادر پدر آزاد نہیں ہونی چاہئے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور کے مقامی ہوٹل میں ’’خواتین دوست قوانین کی پاٹا تک رسائی ‘‘ کے موضوع پر منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے کہا کہ ماضی میں اس حوالے سے کئے گئے اقدامات کا ذکر کیا اور کہا کہ اے این پی کے دور میں اس مقصد کیلئے آزاد کمیشن بنایا گیا تاکہ سیٹلڈ ایریا میں خواتین کے تمام بنیادی مسائل حل ہو سکیں ، ان میں سے کئی نکات پر عمل درآمد بھی ہوا تاہم اب بھی بہت کام کرنا باقی ہے ، انہوں نے کہا کہ مطلوبہ اہداف کے حصول کیلئے خواتین کی ترقی اورخودمختاری پر فوکس اولیں ترجیح ہونی چاہئے ،خواتین اس معاشرے کا نصف یا شاید اس ے کچھ زیادہ ہیں لہٰذا ان کی پسماندگی کا خاتمہ ہونا چاہئے اور انہیں تمام انسانی و بشری حقوق ملنے چاہئیں ، ہم جس معاشرے میں زندہ ہیں وہاں مردوں کو فوقیت دی جاتی ہے تاہم خواتین کو ترقی کے شعبوں میں آگے نہیں آنے دیا جاتا اور اگر یہی سلسلہ برقرار رہا تو معاشرہ ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتا،میاں افتخار حسین نے کہا کہ اگر ماضی کے واقعات پر نظر دوڑائی جائے تو یہاں لڑکیوں کے سکول تباہ کئے گئے ان کی تعلیم و تربیت پر پابندی لگانے کی کوششیں کی گئیں اور انہیں چار دیواری تک محدود رکھنے کی جسارت بھی ہوئی یہاں تک کہ شادی بیاہ کی تقریبات میں بھی ان پر قدغنیں لگائی گئیں ،انہوں نے کہا کہ اس افسوسناک صورتحال اور گھٹن کے ماحول کوختم کرنے کی ضرورت ہے،اور خواتین کو ایک ایسا ماحول دیا جائے جس میں وہ خود کو محفوظ تصور کر سکیں،انہوں نے کہا کہ ہماری تہذیب ، ثقافت اور تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ خواتین کی ترقی کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتا اور اس مقصد کیلئے انسانی بشری حقوق تک خواتین کی رسائی بنیادی جزو ہے، ملک کی ترقی میں ہمیشہ سے خواتین نے اہم کردار ادا کیا ہے لہٰذا اس ذہن کو تبدیل کرنا ہو گا جو خواتین کی ترقی اور انہیں حقوق کی فراہمی میں رکاوٹ ہے۔ 
میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ ماضی میں جو سیاسی و مذہبی قوتیں خواتین کی ترقی کے مخالف رہیں آج وہ بھی اپنے طرز عمل میں تبدیلی لا کر خواتین کو ہر میدان میں سرگرمیاں جاری رکھنے کی ضرورت کو محسوس کرتی ہیں کیونکہ موجودہ حالات کا تقاضا ہی یہی ہے، انہوں نے کہا کہ سو سال بعد ہمیں اس موقع کیلئے پچھتانے کی بجائے اس سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے اور اگر ایسا ممکن ہوا تو آئندہ دس سال میں بہت سے اغراض و مقاصد حاصل کئے جا سکتے ہیں،انہوں نے کہا کہ مر و خواتین انسانیت کی بنیاد پر برابر اور ون یونٹ کے طور پر ہیں،اور ہم اپنی تہذیب اور ثقافت کے دائرے میں رہتے ہوئے خواتین کی آزادی کے حق میں ہیں۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ یہ ایک انتہائی اہم ایشو تھا جس کیلئے میں نے آنا ضروری سمجھا حالانکہ ڈاکٹروں نے مجھے ناسازی طبیعت کی وجہ سے آرام کا مشورہ دیا تھا ، انہوں نے اپنی عزت افزائی پر تقریب کے منتظمین کا بھی شکریہ ادا کیا۔

عوامی نیشنل پارٹی کی پشاور رنگ روڈ پر دھماکے کی مذمت

 Sept 2017  Comments Off on عوامی نیشنل پارٹی کی پشاور رنگ روڈ پر دھماکے کی مذمت
Sep 292017
 

زخمیوں کی عیادت

عوامی نیشنل پارٹی کی پشاور رنگ روڈ پر دھماکے کی مذمت

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے پشاور رنگ روڈ پر دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ مخصوص ایام میں اس واقعہ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف سخت کاروائی کرے ، ہسپتال میں دھماکے کے زخمیوں کی عیادت کرنے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اے این پی روز اول سے دہشت گردی کے خلاف رہی ہے اور اس کیلئے ہم نے بیش بہا قربانیاں بھی دی ہیں ، انہوں نے کہا کہ مجھے ایک نجی تقریب کے دوران دھماکے کی اطلاع ملی جبکہ نقصان بھی کافی زیادہ بتایا گیا تاہم اللہ کا شکر ہے کہ جانی نقصان نہیں ہوا البتہ تین افراد زخمی ہیں اور اللہ انہیں جلد صحت یاب کرے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ دہشت گرد بڑی تباہی کی غرض سے آیا اور اس نے بارودی مواد سوئی گیس کی پائپ لائن کے قریب نصب کیا تاہم خوش قسمتی سے بڑا نقصان نہیں ہوا ، انہوں نے کہا کہ محرم الحرام کے مخصوص ایام میں اس قسم کے واقعات کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے اور حکومت سرچ آپریشن کے ذریعے دہشت گردوں کی گرفتاری کیلئے کوششیں کرے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر تاحال عمل درآمد نہیں ہو رہا جس کی وجہ سے بڑی تباہی کے خطرات منڈلا رہے ہیں اے این پی بار ہا 20نکاتی متفقہ دستاویز پر من و عن عمل درآمد کا مطالبہ کرتی رہی لیکن حکومت اسے سنجیدہ لینے کیلئے کسی صورت تیار نہیں ، انہوں نے غمزدہ خاندانوں کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی متاثرین کے غم میں برابر کی شریک ہے ، انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ دھماکے کے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں ،انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے بھی دعا کی، انہوں نے کہا کہ اے این پی دہشت گردی کے خلاف اور امن کے قیام کے حق مین اور ہر اس کوشش کا ساتھ دینگے جو دہشت گردی کے خلاف کی جائے گی۔

حکومت کی الٹی گنتی جاری ہے ،تبدیلی آئندہ الیکشن میں سونامی کی نذر ہو جائیگی

 Sept 2017  Comments Off on حکومت کی الٹی گنتی جاری ہے ،تبدیلی آئندہ الیکشن میں سونامی کی نذر ہو جائیگی
Sep 292017
 

حکومت کی الٹی گنتی جاری ہے ،تبدیلی آئندہ الیکشن میں سونامی کی نذر ہو جائیگی ،میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ تبدیلی کی الٹی گنتی جاری ہے اور آئندہ عام انتخابات میں عوام جھوٹے وعدے کرنے والوں کا صفایا کر دیں گے ، خیبر پختونخوا مسائل کی دلدل میں گھر چکا ہے جبکہ اربوں روپے کے اشتہارات صرف اپنی ساکھ کو بچانے کیلئے جاری کئے جا رہے ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کے12خٹک نامہ جڑوبہ میں ایک بڑے شمولیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر عثمان کاکا ،سید امیر ، سہیل خان اور دیگر رہنماؤں کی قیادت میں 60کے قریب افراد نے پی ٹی آئی سے مستعفی ہو کر اپننے خاندان اور ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ، میاں افتخار حسین نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارکباد پیش کی ، اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ آئے روز عوام کی اے این پی میں جوق در جوق شمولیت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عوام اب پی ٹی آئی کی پالیسیوں سے متنفر ہو چکے ہیں اور وہ اے این پی کو ہی اپنے حقوق کی محافظ جماعت تصور کرتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ صوبے کو مالی و انتظامی طور پر بدحال کر دیا گیا ہے جبکہ تمام محکمے مفلوج ہو چکے ہیں، صحت اور تعلیم کے شعبوں کو جس طرح روندا گیا اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ،اور یہ واحد حکومت ہے جس میں سرکاری ملازمین کے ساتھ ساتھ اعلیٰ افسران بھی پہلی بار اپنے حقوق کیلئے سڑکوں پر آئے ، انہوں نے کہا کہ حکومت چار سال گزرنے کے باوجود کچھ بھی ڈیلیور نہیں کر سکی اور اب رخصتی سے قبل اپنی گری ہوئی ساکھ کو بچانے کیلئے اربوں روپے کے اشتہارات جاری کئے جا رہے ہیں،کہ عوام اب سونامی اور تبدیلی سے متنفر ہوچکے ہیں اور وہ اے این پی کی پالیسیوں پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کہ پی ٹی آئی کی چار سالہ حکومت نے ان کا پول کھول دیا ہے ،صوبائی حکومت اخباری بیانات کے علاوہ کچھ کرنے کے قابل نہیں،ڈینگی وائرس مزید بے قابو ہو چکا ہے اور آئے روز ہلاکتوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جبکہ حکومت خاموش تماشائی بنی عوام کے مرنے کا انتظار کر رہی ہے ،انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا اور حکمران اس انسانی جانوں کو بچانے کی بجائے اسے انا کا مسئلہ بنا کر چپ سادھے ہوئے ہیں،اُنہوں نے کہا کہ اسفندیارولی خان کی قائدانہ صلاحیتوں اور سیاسی تدبر کی وجہ سے اے این پی نے گزشتہ پانچ سالہ دور حکومت میں جو تاریخی کامیابیاں حاصل کیں۔ وہ باچاخانؒ اور خان عبدالولی خان کے ارمانوں کی تکمیل تھی۔ اُنہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کے جی پی فنڈز اور پنشن سے فنڈ حاصل کرکے صوبے کو چلایا جا رہا ہے۔ موجودہ حکومت نے تقریباً چارسالہ حکومت میں خزانہ خالی کر دیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی کی سیاست کے خاتمے کا خواب دیکھنے والے جان لیں کہ صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت پہلی اور آخری مرتبہ آئی ہے۔ عمران خان وزیر اعظم بننے کیلئے پنجاب کی سیاست کر رہے ہیں اور اُن کو صوبے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔فاٹا کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اے این پی فاٹا کے صوبے میں انضمام کے اپنے مؤقف سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گی اور مرکزی حکومت جلا از جلد اس اہم قومی ایشو پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فاٹا کو صوبے کرنے کا اعلان کرے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی9اکتوبر کو فاٹا کے مظاہرے اور لانگ مارچ میں بھرپور شرکت کرے گی۔

پاکستان اور افغانستان سپر پاورز پر تکیہ کرنے کی بجائے مسائل افہام و تفہیم سے حل کریں، میاں افتخار حسین

 Sept 2017  Comments Off on پاکستان اور افغانستان سپر پاورز پر تکیہ کرنے کی بجائے مسائل افہام و تفہیم سے حل کریں، میاں افتخار حسین
Sep 282017
 

مشالونہ

پاکستان اور افغانستان سپر پاورز پر تکیہ کرنے کی بجائے مسائل افہام و تفہیم سے حل کریں، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی ثقافت، تاریخ،جغرافیائی صورتحال اور اقتصادیات ایک دوسرے پر منحصر ہیں اور دونوں ملکوں کو سپر پاورز پر تکیہ کرنے کی بجائے آپس کے تعلقات افہام و تفہیم سے بہتر بنانے چاہئیں ، امریکہ کے اندر بہت سے حلقے پاکستان کی قربانیوں کے معترف ہیں تاہم امریکی پالیسی میں ترجیح پاکستان اور افغانستان میں قیام امن ہونا چاہئے ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور پریس کلب میں نجی ریڈیو چینل کی جانب سے شائع کردہ کتاب ’’ مشالونہ‘‘ کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے خدائی خدمت گاروں کی قربانیوں کو کتابی شکل دینے پر مصنف سمیت پوری ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ اس عظیم کاوش سے انہوں نے پختون قوم پر بڑا احسان کیا ہے ، انہوں نے کتاب بینی کی افادیت پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ کوئی بھی انسان کتاب سے دوستی کر کے نہ صرف اپنی علمی استعداد میں اضافہ کر سکتا ہے بلکہ اپنے علم سے دوسروں کو بھی فیضیاب کر سکتا ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ پختون قوم اور نوجوان نسل کیلئے خدائی خدمت گاروں کی قربانیاں مشعل راہ ہیں ، انہوں نے کہا کہ ہماری نوجوان نسل دن بہ دن کتاب بینی سے دور ہوتی جارہی ہے جس کے سبب معاشرے میں بیگاڑ پیدا ہوتا ہے اور کسی قوم کی بربادی اس کی اپنے اسلاف سے دوری کے سبب ہی وجود میں آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ لائبریریوں کا رخ کرنا چاہئے اور آنے والے درپیش چیلنج کا سامنا کرنے اور اس کے حل کے لئے عملی کام کرنا چاہئے۔
بین الاقوامی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین ، پاکستان اور افغانستان کے درمیان پریکٹیکل کوآپریشن مذاکرات کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ پالیسی کمیونیکیشن، انفراسٹرکچر، ہیومن ریسورسز، معیشت کی تعمیر اور عوامی رابطوں جیسے اہم نکات پر عمل کر کے امن اور خوشحالی حاصل کی جا سکتی ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ امریکہ کا بنیادی مقصد دونوں ملکوں میں امن کے قیام کیلئےء کوششیں ہونا چاہئے ،جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ، خطے میں امن کے قیام کیلئے عسکری کی بجائے مفاہمتی حل دیرپا ثابت ہو سکتا ہے ، انہوں نے کہا کہ اس وقت جو صورتحال بن رہی ہے اس میں سپرپاورز اور خطر کے ایٹمی طاقت ممالک کو ہوش کے ساتھ معاملات نمٹانا ہونگے ورنہ جلد بازی اور ذاتی مفادات کی تگ و دو میں ایک بڑی تباہی تیسری عالمی جنگ کی صورت میں سامنے کھڑی ہے، اور اگر یہ جنگ چھڑ گئی تو کوئی ملک اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہے گا۔لہٰذا پاکستان اور افغانستان کا فرض بنتا ہے کہ وہ بد اعتمادی کی فضا کے خاتمے کیلئے فوری اقدامات اٹھائیں ۔انہوں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ چین پاکستان اور افغانستان کے درمیان ضامن کا کردار ادا کرے تو صورتحال بہتری کی جانب بڑھ سکتی ہے، انہوں نے کہا کہ ملک کی موجودہ سیاسی اور بین الاقوامی صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ صبر اور تحمل و برداشت کا مظاہرہ کیا جائے ، ملک حالت جنگ میں ہے اور ایسی صورتحال میں سب سے پہلے حکومت کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی چاہئے ، اے این پی روز اوّل سے پاکستان کے لئے ایک آزاد خارجہ پالیسی کی حامی رہی ہے۔ 1980 کی دہائی میں جب اس خطے میں جہاد کے نام پر بڑی طاقتوں نے اپنے مفادات کے لئے فساد رچایا تو ہم نے اس وقت بھی اس کی مخالفت کی تھی آج بھی ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ تمام پڑوسی ممالک بالخصوص افغانستان کے ساتھ اعتماد بحال کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے دونوں ملک مل کر فیصلہ کن اقدامات اٹھائیں، انہوں نے کہا کہ خطے کے اندر محاذ آرائی کا خاتمہ کرنے سے جہاں دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہوگا وہاں کسی بیرونی دباؤ کے لئے گنجائش نہیں رہیگی۔