خطہ عالمی مفادات کی بھینٹ چڑھ گیا ہے ، اے این پی بے روزگاری اور غربت کے خلاف جنگ ٹھوس بنیادوں پر لڑے گی

 Aug-2017  Comments Off on خطہ عالمی مفادات کی بھینٹ چڑھ گیا ہے ، اے این پی بے روزگاری اور غربت کے خلاف جنگ ٹھوس بنیادوں پر لڑے گی
Aug 302017
 

 خطہ عالمی مفادات کی بھینٹ چڑھ گیا ہے ، اے این پی بے روزگاری اور غربت کے خلاف جنگ ٹھوس بنیادوں پر لڑے گی، سردار حسین بابک

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ خطہ عالمی مفادات کی بھینٹ چڑھ گیا ہے ، مستقبل میں بے روزگاری ، جہالت ،اور غربت کے خلاف جنگ ٹھوس بنیادوں پر لڑی جائے گی،خوشحال خیبر پختونخوا اے این پی کا مشن ہے اور الیکشن میں کامیابی کے بعد تمام محکموں کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے ہنگامی طور پر کام کیا جائے گا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز میں دیر لوئر کے پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کے اجلاس سے کطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ الیکشن کیلئے درخواستوں کی وصول جاری ہے تاہم پارلیمانی بورڈ کا فیصلہ حتمی ہو گا اور انشاء اللہ ہر ٹکٹ کیلئے فیصلہ عوامی امنگوں کے مطابق کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ موجودہ دور ہم سے اتحاد و اتفاق کا متقاضی ہے اور پختونوں کو چاہئے کہ وہ اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے اے این پی کے سرخ جھنڈے تلے متحد ہو جائیں ، انہوں نے کہا کہ عوام کے کئی حل طلب مسائل پانامہ کی وجہ سے مدفون ہو چکے تھے تاہم اب پانامہ کا ہنگامہ ختم ہونے کے بعد حکومت کو عوامی مسائل پر توجہ دینا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے لوگوں کا نام اب بھی پانامہ میں موجود ہے جبکہ اے این پی واحد سیاسی جماعت ہے جس کے کسی رہنما کا اس میں ذکر نہیں ، انہوں نے کہا کہ کرپشن کے ا لزامات لگانے والے خود سر سے پاؤں تک کرپشن کی دلدل میں دھنسے ہیں،سردار حسین بابک نے کہا کہ بلین سونامی ٹری ، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں حکومت نے کروڑوں روپیہ لوٹ لیا ہے اور وہ خزانہ جو اے این پی نے اقتدار چھوڑتے وقت بھرا چھوڑا تھا آج اس میں پھوٹی کوڑی تک نہیں ، انہو ں نے کہا کہ صوبے کی تاریخ میں جتنے قرضے اس حکومت نے لئے ہیں وہ ایک ریکارڈ ہے ، اے این پی رابطہ عوام مہم کے دوران یہ تمام حقائق عوام کے سامنے رکھے گی، انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت عوام کی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام ہو چکی ہے یہی وجہ ہے کہ اہم سیاسی شخصیات اور عوام کی اے این پی میں جوق در جوق شمولیتوں کا سلسلہ جاری ہے اور لوگ اب تبدیلی کی حقیقت جان کر صوبائی حکومت سے متنفر ہو چکے ہیں، انہوں نے کہا کہ صوبے کو مالی و انتظامی طور پر دیوالیہ کر دیا گیا ہے جبکہ 28ارب روپے کی کرپشن کی داستان زبان زد عام ہے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی آئندہ الیکشن میں کامیابی کے بعد صوبے میں ترقی کا عمل شروع کرے گی اور عوام کو ان کے حقوق ان کی دہلیز پر فراہم کئے جائیں گے۔

 جنگ خطے کے مفاد میں نہیں،پاکستان اور افغانستان اپنے مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کریں

 Aug-2017  Comments Off on  جنگ خطے کے مفاد میں نہیں،پاکستان اور افغانستان اپنے مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کریں
Aug 302017
 

 جنگ خطے کے مفاد میں نہیں،پاکستان اور افغانستان اپنے مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کریں، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ اے این پی ہمیشہ سے جنگوں کی مخالف رہی ہے اور خطے کو درپیش مسائل کے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی خواہاں ہے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز میں اے این پی دیر لوئر کے صدر حسین شاہ یوسفزئی کی قیادت میں آنے والے وفد کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کی سر زمین کیلئے تین بڑی قوتیں نبرو آزما ہیں،اور ان سپر پاورز کے درمیان مفادات کی رسہ کسی کے نتیجے میں تیسری عالمی جنگ چھڑ سکتی ہے، انہوں نے کہا کہ امریکی پالیسی سے مشکلات تو بڑھیں گی تاہم اس بار غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ، ماضی میں شروع ہونے والی جنگ میں 40سال تک پختونوں کو جنگ کا ایندھن بنایا گیا اور ایک سازش کے تحت آج تک پختونوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ باچا خان اور ولی خان بابا نے ہمیشہ اس جنگ میں کودنے کی مخالفت کی لیکن ان پر الزامات لگائے گئے تاہم آج تمام سیاسی جماعتیں اے این پی کے مؤقف کی تائید کرتی ہیں ، اور یہ ایشو ہر زبان پر ہے کہ پرائی جنگ اپنے گھر لانے کے خطرناک نتائج سامنے آئے ،انہوں نے کہا کہ جب تک پاکستان اور افغانستان اپنی خارجہ و داخلہ پالیسیاں سپر پاور کی بجائے قومی مفاد میں نہ بنائیں تب تک دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں،انہوں نے کہا کہ اے این پی روز اوّل سے پاکستان کے لئے ایک آزاد خارجہ کی حامی رہی ہے ،انہوں نے کہا کہ تمام پڑوسی ممالک بالخصوص افغانستان کے ساتھ اعتماد بحال کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے دونوں ملک مل کر فیصلہ کن اقدامات اٹھائیں،اور اپنے تمام مسائل افہام و تفہیم کے ساتھ مل بیٹھ کر حل کریں،ملکی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو پختونوں کے ساتھ دغا بازی اور فریب کی سزا ملی تاہم غلط فیصلے نے انہیں زندہ شہید کا درجہ دے دیا ، انہوں نے کہا کہ ہم نواز شریف کے حامی نہیں اسی لئے تحفظات کے باوجود عدالتی فیصلہ قبول کیا ، انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور عمران خان پختونوں کے حقوق غصب کرنے میں ایک ہی پیج پر ہیں، پختونوں کے حقوق کا سودا کرنے والے وزارت عظمیٰ کیلئے پنجاب کی سیاست میں مصروف ہیں ، صوبائی حکومت کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تعلیم۔ صحت ،زراعت اور اسی طرح تمام دیگر محکمے زبوں حالی کا شکار ہیں جبکہ وزیر اعلیٰ خود کو ہارس ٹریڈنگ کا ماہر ثابت کرنے کیلئے کوششوں میں مگن ہیں، انہوں نے کہا کہ خزانہ خالی ہو چکا ہے اور ملازمین کو تبنخواہوں کی ادائیگی کیلئے ملازمین کے ہی پنشن اور جی پی فنڈ سے قرضہ لیا جا رہا ہے جو اس صوبے کی بدقسمتی ہے ، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت صرف سوشل میڈیا پر زندہ ہے اور آنے والے الیکشن میں پختون اسفندیار ولی خان کی قیادت میں سرخ جھنڈے تلے متحد ہو کر امپورٹڈ حکمرانوں کا بوریا بستر گول کر دیں گے،میاں افتخار حسین نے سراج الحق کی جانب سے اسفندیار ولی خان کے خلاف ہرزہ سرائی کی بھی مذمت کی اور کہا کہ جماعت اسلامی کے امیر خود اور ان کی جماعت غداری کا سرٹیفیکیٹ لے چکی ہے بنگلہ دیش میں ہونے والی پھانسیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ جماعت ازل سے ہی غداروں پر مشتمل تھی ، انہوں نے کہا کہ ڈالروں کے خاطر جہاد کے نام پر پختونوں کا قتل عام کرانے والوں کو پختونوں کے رہبر اسفندیار ولی کے خلاف زبان استعمال کرنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ روس اور امریکہ کی جنگ میں امریکی ایما پر جہاد فی سبیل اللہ کا نعرہ لگانے والی جماعت کون سے اسلام کی جنگ لڑ رہی ہے ، حالیہ واقعات میں خیبر بنک سکینڈل میں جماعت اسلامی کے وزیر پر کرپشن کا الزام ہے اور یہ الزام خیبر بنک کے ایم ڈی کی جانب سے لگایا گیا ہے ،انہوں نے کہا جن کا اپنا دامن داغدار ہے وہ کسی دوسرے کے خلاف منہ کھولنے کی جرأت نہیں کر سکتے ، خیبر لیکس کا معاملہ آج زبان زد عام ہے اور وہ دن دور نہیں جب قوم کو اس کرپٹ اور دہشت گردی کو سپورٹ کرنے والی جماعت کی حقیقت معلوم ہو جائے گی ، انہوں نے کہا کہ اسلام کے نام پر سیاست کرنے والی جماعت نے اس خطے میں شدت پسندی کو تقویت دی ہے اور اس کے برعکس عوامی نیشنل پارٹی نے اپنے سروں کے نذرانے دے کر دہشت گردی کی نہ صرف مخالفت کی ہے بلکہ ملک وقوم کی خاطر کھلے عام اس کے خلاف مزاحمت بھی کی ہے ، انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پاکستان کو دولخت کرنے الشمس اور البدر جیسی تنظیمیں پیدا کرنے اور بنگلہ دیش بنوانے میں اہم کردار ادا کیا اور جب بنگلہ دیش میں ان کے رہنماؤں کو پھانسیاں دی گئیں تو مفاد پرستوں نے اپنی آنکھیں بند کر رکھی تھیں، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی عروج پر تھی تو دہشتگردوں نے مذاکرات کیلئے جن لیڈروں کے نام لئے ان میں جماعت اسلامی سر فہرست تھی۔انہوں نے کہا کہ اس جماعت کا اپنا گریبان تار تاراور عوام کی سب سے ناپسندیدہ جماعت ہے، انہوں نے کہا کہ کارکن آپس میں اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کریں آئندہ سال الیکشن میں اے این پی ان تمام پختون دشمن قوتوں کا صفایا کر دے گی۔

صوبائی حکومت میں دراڑ گہری ہو چکی ہے ،ترقیاتی سکیمیں سیاسی رشوت بنا دی گئیں

 Aug-2017  Comments Off on صوبائی حکومت میں دراڑ گہری ہو چکی ہے ،ترقیاتی سکیمیں سیاسی رشوت بنا دی گئیں
Aug 292017
 

صوبائی حکومت میں دراڑ گہری ہو چکی ہے ،ترقیاتی سکیمیں سیاسی رشوت بنا دی گئیں،میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ صوبہ انتہائی گھمبیر مسائل میں گھر چکا ہے تمام ادارے مفلوج ہو چکے ہیں اور صوبائی حکومت کی اپنی جماعت میں ہی پھوٹ پڑ چکی ہے جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے حکومت پے در پے غلطیاں کر رہی ہے،اور بجٹ میں جن سکیموں کا اعلان کیا گیا ان کیلئے نہ صرف فنڈز نہیں رکھے گئے بلکہ کئی منصوبوں سے وزیر خزانہ خود بے خبر ہیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈاگ بیسود میں ایک بڑے شمولیتی اجتماع سے خطاب کر تے ہوئے کیا ، اس موقع پر پی ٹی آئی سے سمیع اللہ، اکبر علی ،شیراز گل ، عبدالودود اور آصف اللہ سمیت متعدد افراد نے اپنے خاندان اور ساتھیوں سمیت مستعفی ہو کر اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ، میاں افتخار حسین نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ صوبے کے فنڈز کو ذاتی جاگیر سمجھ کر ذاتی پسند و نا پسند کی بنیاد پر خرچ کیا جا رہا ہے جو قابل گرفت اقدام ہے اور اس اقدام پر ان کا احتساب ہونا چاہئے، انہوں نے کہا کہ ملک کی مجموعی صورتحال مخدوش ہے،دہشت گردی نے پختونوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے، انہوں نے کہا کہ ملک کی خارجہ و داخلہ پالیسیاں ناکام ہیں اور انہیں اب تبدیل کرنے کا وقت آ چکا ہے ، انہوں نے کہا کہ اگر سیاسی قیادت اپنی پالیسیاں سپر پاور کی بجائے قومی مفاد میں بنائیں تو صورتحال یکسر تبدیل ہو سکتی ہے انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں تمام سیاسی قوتوں کے ساتھ مشورہ کر کے فوری طور پر داخلہ و خارجہ پالیسیاں از سر نو ترتیب دی جائیں ، انہوں نے کہا کہ بد امنی کا خاتمہ حکومت کی اولیں ترجیح ہونی چاہئے اور عسکری و سیاسی قیادت کو مل بیٹھ کر اس مسئلے کا حل نکالنا چاہئے،میاں افتخار حسین نے کہا کہ تمام سیاسی و عسکری قیادت جس 20 نکاتی دستاویز پر متفق ہوئی اس پر من و عن عمل درآمد نہیں کیا گیا جس کا خمیازہ غریب عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے ، صوبے کی مجموعی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے میں صرف نمود و نمائش کیلئے سکیمیں دی جارہی ہیں اور ان سکیموں کو الیکشن کیلئے سیاسی رشوت کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر بنک سکینڈل پر وزیر اعلیٰ اور وزراء کے درمیان اختلافات ہیں اسی طرح کئی وزیر کرپشن سے متعلق برملا الزامات لگا رہے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی میں دراڑ پڑ چکی ہے اور اب عمران خان کی مصالحتی کوششوں کے باوجود سب کی کرپشن کھل کر سامنے آنے والی ہے،انہوں نے کہا کہ صوبے میں تعلیمی نظام مفلوج ہو چکا ہے حالیہ میٹرک کے نتائج تعلیمی ایمرجنسی کے اعلانات پر سوالیہ نشان ہیں ،انہوں نے کہا کہ ڈینگی نے پشاورمیں صوبائی حکومت کی کارکردگی کا پول کھول دیا ہے ، حکومت کی تمام پالیسیاں ناکام ہو چکی ہیں اور ڈینگی کی وجہ سے قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع صحت کا انصاف پر سوالیہ نشان ہے، انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو اس صورتحال سے سبق سیکھنا چاہئے اور فوری طور پر احتیاطی تدابیر، مرض کی روک تھام اور فوری علاج معالجے کے طریقہ کار کے حوالے سے آگاہی مہم کا آغاز کیا جائے تاکہ لوگوں میں اس موذی مرض سے بچاؤ کیلئے شعور اجاگر کیا جا سکے ،انہوں نے کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ صوبائی حکومت نے محکمہ صحت کا حلیہ بگاڑ دیا ہے صحت کی سہولیات عوام کی دسترس سے باہر ہو چکی ہیں اور صورتحال انتہائی نازک ہو چکی ہے انہوں نے کہا کہ اب ان حالات میں انا پرستی کی بجائے حکومت حقیقت کا سامنا کرے اور عوام کو علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی اور ڈینگی کی روک تھام کیلئے فوری طور پرٹھوس اقدامات اٹھائے۔ میاں افتخار حسین نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ الیکشن2018کیلئے اپنی تمام توانائیاں بروئے کار لائیں،کیونکہ آنے والاایک بار پھر اے این پی کا ہے۔

دہشت گردی کے خاتمے اور پرامن خطے کیلئے ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات ضروری ہیں

 Aug-2017  Comments Off on دہشت گردی کے خاتمے اور پرامن خطے کیلئے ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات ضروری ہیں
Aug 282017
 

دہشت گردی کے خاتمے اور پرامن خطے کیلئے ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات ضروری ہیں، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پختونوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کیلئے یہ قربانیاں مشعل راہ ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے مردان کچہری بم دھماکے کا ایک سال مکمل ہونے پر شہداء کی برسی کے حوالے سے منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،انہوں نے سانحے میں شہید ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کی مغفرت کیلئے فاتحہ خوانی بھی ، اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ 40سال تک پختونوں کو جنگ کا ایندھن بنایا گیا اور ایک سازش کے تحت آج تک پختونوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ باچا خان اور ولی خان بابا نے ہمیشہ اس جنگ میں کودنے کی مخالفت کی لیکن ان پر الزامات لگائے گئے تاہم آج تمام سیاسی جماعتیں اے این پی کے مؤقف کی تائید کرتی ہیں ، اور یہ ایشو ہر زبان پر ہے کہ پرائی جنگ اپنے گھر لانے کے خطرناک نتائج سامنے آئے ، انہوں نے کہا کہ خطے کی صورتحال تبدیل ہو چکی ہے،انہوں نے کہا کہ جب تک پاکستان اور افغانستان اپنی خارجہ و داخلہ پالیسیاں سپر پاور کی بجائے قومی مفاد میں نہ بنائیں تب تک دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں،انہوں نے کہا اے این پی روز اوّل سے پاکستان کے لئے ایک آزاد خارجہ کی حامی رہی ہے۔ 1980 کی دہائی میں جب اس خطے میں جہاد کے نام پر بڑی طاقتوں نے اپنے مفادات کے لئے فساد رچایا تو ہم نے اس وقت بھی اس کی مخالفت کی تھی آج بھی ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ تمام پڑوسی ممالک بالخصوص افغانستان کے ساتھ اعتماد بحال کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے دونوں ملک مل کر فیصلہ کن اقدامات اٹھائیں، انہوں نے کہا کہ خطے کے اندر محاذ آرائی کا خاتمہ کرنے سے جہاں دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہوگا وہاں کسی بیرونی دباؤ کے لئے گنجائش نہیں رہیگی، ،انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں پختونوں کا اتحاد و اتفاق وقت کی اہم ضرورت ہے اور اگر پختون آپس میں متحد ہو جائیں تو کوئی ان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا،صوبائی حکومت کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو حکمران ڈینگی کے سامنے بے بس ہو جائیں ان کے کوئی کیا توقع رکھ سکتا ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ صوبے کے حالات انتہائی سنگین ہیں اور عوام خود کو غیر محفوظ تصور کر رہے ہیں ، انہوں نے ڈینگی سے جاں بحق افراد کی تعداد آئے روز بڑھنے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت ٹھوس اقر فوری اقدامات اٹھائے تاکہ مزید جانیں ضائع ہونے سے بچائی جا سکیں۔ آخر میں انہوں نے سانحہ کچہری مردان کے شہداء کی مغفرت کیلئے خصوصی دعا کی۔

اسفندیار ولی خان کارکن اسمبلی گلزار خان کی وفات پر اظہار تعزیت

 Aug-2017  Comments Off on اسفندیار ولی خان کارکن اسمبلی گلزار خان کی وفات پر اظہار تعزیت
Aug 282017
 

اسفندیار ولی خان کارکن اسمبلی گلزار خان کی وفات پر اظہار تعزیت

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے رکن قومی اسمبلی گلزار خان کے انتقال پردلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے غمزدہ خاندان سیمرحوم کی مغفرت کیلئے دعا کی ہے ، اپنے ایک تعزیتی بیان میں انہوں نے کہا کہ مرحوم گلزار خان بہترین پارلیمنٹرین تھے اور ان کے انتقال سے پارلیمنٹ بہترین ساتھی سے محروم ہو گئی ۔اسفندیار ولی خان نے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی اس غم میں ان کے ساتھ برابر کی شریک ہے۔ انہوں نے مرحوم کی مغفرت اور پسماندگان کے صبر جمیل کیلئے بھی دعا کی۔

 فاٹا کا صوبے میں انضمام ہی پختونوں کے اتحاد کی اصل کنجی ہے، میاں افتخار حسین

 Aug-2017  Comments Off on  فاٹا کا صوبے میں انضمام ہی پختونوں کے اتحاد کی اصل کنجی ہے، میاں افتخار حسین
Aug 262017
 

 فاٹا کا صوبے میں انضمام ہی پختونوں کے اتحاد کی اصل کنجی ہے، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ پختونوں کا اصل اتحاد فاٹا کے صوبے میں انضمام میں ہی مضمر ہے جبکہ ایف سی آر انگریز کی باقیات ہیں اور انگریز سے آزادی حاصل کرنے کے بعد اس کالے قانون کا خاتمہ ضروری ہے ، عسکری قیادت ، مرکزی و صوبائی حکومتیں ، قبائلی عوام اور ان کے نمائندے اور تمام پختون قوم اگر فاٹا کے صوبے میں انضمام کے حق میں ہیں تو پھر تاخیر کا کوئی جواز نہیں بنتا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی ہوٹل میں فاٹا اصلاحات میں تاخیر کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے این پی روز اول سے ہی قبائل کے صوبے کے انضمام کے حق میں ہے اور اے این پی 90ء کی دہائی میں صوبائی اسمبلی میں قرارداد پیش کر چکی ہے، تاہم اس وقت کے چند قبائلی مشران کی وجہ سے اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا جبکہ آج حالات یکسر مختلف ہیں اور تمام سٹیک ہولڈرز فاٹا کے صوبے میں انضمام کے حق میں ہیں جو کام ہم 90کی دہائی میں کرنا چاہتے تھے وہی آج سب کا مطالبہ ہے ، انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے اس پر عمل درآمد کی نوید سنائی گئی تاہم پانامہ کے شور میں یہ اہم ایشو دب گیا تاہم اگر مرکزی حکومت موجودہ وقت میں فاٹا اصلاحات پر عمل درآمد کرے اور آئینی ترمیم کے ذریعے اس کا اعلان کر دے تو تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا،انہوں نے کہا کہ یہ وقت اس کام کیلئے انتہائی موزوں ہے اور کوئی نہیں جانتا کل پھر موقع ملے نہ ملے۔انہوں نے کہا کہ انگریز سے آزادی کے باوجود ان کی کھینچی گئی لکیریں تاحال پختونوں کے درمیان موجود ہیں اور ہم ان تمام لکیروں کو متانے کیلئے ہمہ وقت جدوجہد جاری رکھیں گے ، فاٹا اور بلوچستان کے پختونوں کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے،انہوں نے کہا کہ ہم پوائنٹ سکورنگ نہیں کرنا چاہتے بلکہ قبائلی عوام کو ان کے جائز حقوق دلانے کی جدوجہد میں شریک ہیں،لہٰذا قبائلی عوام کو صوبے میں ایک بڑے اور خصوصی پیکج کے ساتھ ضم کیا جائے تاکہ انہیں این ایف سی ایوارڈ میں حصہ اور اسمبلیوں میں نمائندگی مل سکے،اور اسکے ساتھ ساتھ ترقیاتی فنڈز کیلئے صوبائی سطح پر پیکج دیا جائے،انہوں نے مردم شماری میں صوبے اور فاٹا کی آبادی کم ظاہر کرنے پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ مرکزی حکومت نے صرف اس لئے یہ گیم کھیلی تاکہ پختونوں اور قبائلیوں کو وسائل کی تقسیم زیادہ نہ ہو سکے ، انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں بھی ٹرائبل کا حصہ مرکز کے پاس ہے جو صوبے میں انضمام کے بعد ہی قبائلی عوام تک پہنچ سکے گا،میاں افتخار حسین نے کہا کہ پختونوں کی یک جہتی اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے اتحاد کی باتیں کرنے والے نام نہاد لیڈر اپنے صوبے کے عوام کو متحد ہونے نہیں دے رہے ، انہوں نے کہا کہ فاٹا کے صوبے میں انضمام کی مخالفت کرنے والے پختونوں کی یک جہتی اور قبائلی عوام کے ساتھ مخلص نہیں ہو سکتے ،اختیارات کی تقسیم کے حوالے سے میاں افتخار حسین نے کہا کہ گورنر مرکزی حکومت کے نمائندے ہیں لہٰذا فاٹا کے انضمام کے بعد تمام اختیارات صوبے کے پاس ہونے چاہئیں ورنہ حالات سدھار کی بجائے تباہی کی جانب جائیں گے،انہوں نے کہا کہ اے این پی اس عظیم کاوش میں قبائلی عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے،اور جب بھی یہ اہم مسئلہ حل ہوا اس کے بعد ہم بلوچستان کے پختون عوام کے درمیان کھینچی گئی لکیروں کو مٹانے کیلئے ہراول دستے کا کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ سپریم ہے تو اس کے فیصلوں پر عمل درآمد نہ ہونا افسوسناک ہے ، انہوں نے واضح کیا کہ اے این پی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے آئندہ ماہ 14ستمبر کو اس حوالے سے اے پی سی بھی طلب کی ہے جس میں تمام سیاسی جماعتوں کو دعوت دی جائے گی اور فاٹا اصلاحات بارے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔

 اے پی سی اور پارٹی اجلاسوں کے انتظامات بارے باچا خان مرکز میں اہم اجلاس

 Aug-2017  Comments Off on  اے پی سی اور پارٹی اجلاسوں کے انتظامات بارے باچا خان مرکز میں اہم اجلاس
Aug 262017
 

 اے پی سی اور پارٹی اجلاسوں کے انتظامات بارے باچا خان مرکز میں اہم اجلاس

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان کی جانب سے آئندہ ماہ14ستمبر کو بلائی جانے والی آل پارٹیز کانفرنس اور بعد ازاں 18و 19ستمبر کو بالترتیب اے این پی کی مرکزی کونسل اور ورکنگ کمیٹی کے اجلاسوں کی تیاری اور انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے پارٹی کے سینئر نائب صدر حاجی غلام احمد بلور کی زیر صدارت باچا خان مرکز میں اجلاس منعقد کیا گیا ،اجلاس میں مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین ، صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک سمیت پارٹی کے اہم رہنماؤں اور ذمہ داروں نے شرکت کی، میاں افتخار حسین نے متذکرہ بالا اجلاسوں کے حوالے سے شرکاء کو بریفنگ دی اور اہم امور زیر غور لائے گئے ،حاجی غلام احمد بلور نے انتظامات اور تیاری کے سلسلے میں تجاویز کا جائزہ لیا تاہم اس حوالے سے آئندہ اجلاس میں تفصیلی غور کیا جائے گا۔