پراکسی وار اور بداعتمادی کی بجائے انتہا پسندوں کو مشترکہ دُشمن قرار دے کر کاروائی کی جائے ، میاں افتخار حسین

 Aug-2017  Comments Off on پراکسی وار اور بداعتمادی کی بجائے انتہا پسندوں کو مشترکہ دُشمن قرار دے کر کاروائی کی جائے ، میاں افتخار حسین
Aug 172017
 

پراکسی وار اور بداعتمادی کی بجائے انتہا پسندوں کو مشترکہ دُشمن قرار دے کر کاروائی کی جائے ، میاں افتخار حسین 

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ دنیا کی ہر آزاد قوم دوسری اقوام کی آزادی کااسی طرح احترام کرتی ہے جیسا اپنی آزادی کا کرتی ہے۔اور جس طرح ہر قوم کو اپنی آزادی عزیز ہوتی ہے اور اس کی خوشی مناتی ہے اس طرح افغان قوم کو بھی اپنی آزادی عزیز ہے۔اور ہم ان کے ساتھ جشن آزادی کی اس خوشی میں برابر کے شریک ہیں اور افغانستان کی حکومت اور عوام کو اس کے 98 یوم آزادی پر اپنی پارٹی کی جانب سے مبارک باد دیتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور کے ایک مقامی ہوٹل میں افغان قونصلیٹ کے زیر اہتمام افغانستان کے98ویں یوم آزادی کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا، پارٹی کے سینئر رہنما افراسیاب خٹک اور لطیف آفریدی ایڈوکیٹ بھی ان کے ہمراہ تھے ۔انہوں نے کہا جس طرح ہمیں اپنے ملک پاکستان کی ترقی،خوشحالی اور آزادی عزیز ہے اسی طرح اپنے برادر ہمسایہ ملک افغانستان کی آزادی بھی عزیز ہے دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کے ساتھ دینی۔تہذیبی اور خونی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان دونوں برادر اسلامی ممالک ہیں اور اس وقت دونوں ممالک بدامنی اور دہشت گردی کا شکار ہیں۔لہٰذا دونوں ممالک کو اس صورتحال پر مکمل قابو پانے کے لیے اپنے مشترکہ دشمن کومات دینا ہوگی اور اس مقصد کیلئے مشترکہ طور پر دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرنا ہو گی ،انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کا امن ایک دوسرے کیساتھ جڑا ہوا ہے تاہم اگر اوائل میں اگر ہمارے قائدین کی بات مانی جاتی تو آج دونوں ممالک کو موجودہ صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین ہمارے بھائی ہیں اور ان کے ساتھ عالمی معاہدے اورانسانی حقوق کے تقاضو ں کے مطابق برتاؤ کیاجائے۔انہوں نے کہا کہ میں پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان کی خصوصی ہدایت پر آیا ہوں اور ان کی طرف سے اپنے افغان بھائیوں اور حکومت کو جشن آزادی پر دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔انہوں نے کہا ماضی کی طرح آج بھی اور آنے والے وقتوں میں بھی ہم اپنے افغان بھائیوں کے ہر دکھ درد اور ان کی خوشی میں شریک رہیں گے۔انہوں نے کہا دہشت گردی اور شدت پسندی نے آج پوری دنیا میں ایک مائنڈ سیٹ کی شکل اختیار کررکھی ہے اس لیے دنیا کی تمام امن دوست اور بشردوست قوتوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ مل کر اس مائنڈ سیٹ کومات دیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے علاوہ کوئی آپشن نہیں اور دونوں ممالک کو اپنی خارجہ و داخلہ پالیسیاں قومی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے از سر نو تشکیل دینی چاہئیں، میاں افتخار حسین نے کہا کہ پر امن افغانستان کے قیام اور دہشتگردی کے خاتمے کیلئے این پی کی جدوجہد اور موقف کا سب کو علم ہے اور ہم نے اس ضمن میں بہت بڑی قیمت بھی چکائی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی خطے میں جاری تشدد اور دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کو آرڈی نیشن کے علاوہ بہتر اور دوستانہ تعلقات کو ناگزیر قرار دیتی آئی ہے اور اس سنگین مسئلے کے حل کا واحد راستہ یہ ہے کہ پراکسی وار اور بداعتمادی کی بجائے انتہا پسندوں کو مشترکہ دُشمن قرار دے کر ان کے خلاف موثر کارروائیاں کی جائیں۔

ڈینگی کے وار نے صحت کے انصاف کی قلعی کھول دی ہے ، ‘ہارون بشیر بلور

 Aug-2017  Comments Off on ڈینگی کے وار نے صحت کے انصاف کی قلعی کھول دی ہے ، ‘ہارون بشیر بلور
Aug 172017
 

ڈینگی کے وار نے صحت کے انصاف کی قلعی کھول دی ہے ، ‘ہارون بشیر بلور

پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات ہارون بشیر بلور نے صوبے میں ڈینگی سے ایک ماہ کے دوران 9افراد کی ہلاکت اور محکمہ صحت کی ناگفتہ بہ حالت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صو با ئی حکومت کی نا قص صحت پالیسی کے باعث سینکڑوں افراد مختلف موزی امراض کا شکار ہو رہے ہیں اور حکومت نے صوبے کے غریب عوام کو وبائی امراض کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے۔اے این پی سیکر ٹریٹ سے جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ایک رپورٹ کے مطابق ایک ماہ میں 9افراد ڈینگی کے مرض سے جاں بحق ہو چکے ہیں کیونکہ سرکاری ہسپتالوں میں انہیں علاج کی مناسب سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ڈینگی کے مسئلے پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے کیونکہ وہ جانتے ہی نہیں کہ اس مسئلے سے کیسے نمٹا جائے ، انہوں نے کہا کہ سالانہ اربوں روپے محکمہ صحت کیلئے مختص کئے جا رہے ہیں تاہم محکمہ کی کارکردگی صفر ہے ، صحت کے انصاف کی قلعی ڈینگی نے کھول دی ہے، انہوں نے کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ صوبائی حکومت نے دوسرے شعبوں کی طرح صحت کو بھی اپنی روایتی تنگ نظر ی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے جسکا واضح ثبوت صوبے میں 1185شیر خوار بچوں کی اموات ہیں جو صحت کی بنیادی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہی انتقال کر گئے اور ایسا اس ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ان اموات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ اس پر حکومت کی خاموشی اور غفلت سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ صوبائی حکومت کو صوبے کے عوام کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے، اُنہوں نے مزیدکہاکہ صوبے میں کانگو وائرس سے بھی متعدد افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے جبکہ اس مرض میں مبتلا تین مریض پہلے ہی جاں بحق ہو چکے ہیں ، ہارون بلور نے کہا کہ حکومت صحت کی سہولیات کی فراہمی کو بنیادی ترجیح بنائے تاکہ معصوم انسانی زندگیوں کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔

بم دھماکے معمول بن چکے ، حکمران تماشائی بنے بیٹھے ہیں، ہارون بشیر بلور

 Aug-2017  Comments Off on بم دھماکے معمول بن چکے ، حکمران تماشائی بنے بیٹھے ہیں، ہارون بشیر بلور
Aug 162017
 

بم دھماکے معمول بن چکے ، حکمران تماشائی بنے بیٹھے ہیں، ہارون بشیر بلور 

پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان ہارون بشیر بلور نے پارٹی کے اہم رہنما ارباب محمد عثمان کے حجرے پر دستی بم حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہصوبائی حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ میں ناکام ہو چکی ہے اور بم حملوں کے واقعات میں ایک بار پھر اجافہ ہو گیا ہے ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ حکمران اس نازک صورتحال میں تماشائی بنے بیٹھے ہیں اور دہشت گرد جب چاہیں جسے اور جہاں چاہیں حملہ کر کے یا قتل کر کے آسانی سے فرار ہو جاتے ہیں، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہے اس لئے وہ ان واقعات کی مذمت تک نہیں کرتی، انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کیلئے دہشت گردی کا خاتمہ اولیں ترجیح ہی نہیں بلکہ وہ تخت اسلام اور تخت پنجاب کی جنگ میں مصروف ہے ، انہوں نے کہا کہ دہشت گرد ی کے خاتمے کیلئے فاٹا اور خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر میں کالعدم تنظیموں کے خلاف بلا امتیاز کاروائی کا آغاز کیا جائے ورنہ دائمی امن کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا،انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ داخلہ اور خارجہ پالیسیوں میں ملکی مفاد کو مقدم رکھ کر کام کیا جائے تو دہشت گردی سے نجات ممکن ہے،تاہم مرکزی حکومت اگر اس معاملے کو سنجیدگی سے لے تو بے گناہ انسانی جانیں ضائع ہونے سے بچ سکتی ہیں،۔

نوازشریف کو پختونوں کی آہیں لے ڈوبیں، عمران کبھی وزیر اعظم نہیں بن سکتے، میاں افتخار حسین

 Aug-2017  Comments Off on نوازشریف کو پختونوں کی آہیں لے ڈوبیں، عمران کبھی وزیر اعظم نہیں بن سکتے، میاں افتخار حسین
Aug 162017
 

نوازشریف کو پختونوں کی آہیں لے ڈوبیں، عمران کبھی وزیر اعظم نہیں بن سکتے، میاں افتخار حسین

*صوبہ معاشی اور انتظامی طور پر دیوالیہ ہو چکا ہے،پی کے 12 اکبر پورہ میں بڑے شمولیتی اجتماع سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ نوازشریف کو پختونوں کی آہیں لے ڈوبی ہیں ،فیصلے میں ان کے ساتھ زیادتی تو ہوئی تاہم اے این پی نے جمہوریت کی بقاء کیلئے عدالتی فیصلہ تحفظات کے باوجود قبول کیا ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کے تپہ اکبر پورہ میں ایک بڑے شمولیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی سے درجنوں افراد نے اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ، میاں افتخار حسین نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارکباد پیش کی ، اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ اے این پی میں آئے روز جوق در جوق ہونے والی شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام اب باقی سیاسی جماعتوں سے متنفر ہو چکے ہیں اور اے این پی کو ہی اپنے حقوق کے تحفظ کا ضامن سمجتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ گزشتہ الیکشن میں ہم ہارے نہیں بلکہ ہمیں جان بوجھ کر ہرایا گیا اور پی ٹی آئی الیکشن نہیں جیتی اسے زبر دستی جتایا گیا کیونکہ یہ پلان پہلے سے طے تھا اس لئے ہمارے کارکنوں اور رہنماؤں پر حملے کر کے گھروں میں بند کر دیا گیا ہمارے کارکن لاشیں اٹھاتے رہے ،لیکن اب کوئی امپائر نہیں آئے گا اور اے این پی آئندہ الیکشن میں عوام کے تعاون سے کامیابی حاصل کرے گی، انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو پختونوں کی حق تلفی کرنے کی سزا ملی انہوں نے سی پیک پر اسفندیار ولی خان کے ساتھ مغربی روٹ کے حوالے سے جو وعدہ کیا اس سے مکر گئے ، تاہم عدالتی فیصلے نے انہیں جیتا جاگتا شہید بنا دیا، اور اب وہ عوام میں پہلے سے زیادہ مقبول نظر آتے ہیں،البتہ عمران خان کو ان کی نا اہلی سے کوئی فائدہ نہیں ہوا ، انہوں نے کہا کہ سی پیک پر بھی نواز شریف اور عمران خان کا مک مکا ہو چکا تھا اور ہمارے احتجاج کے باوجود وزیر اعلیٰ نے دورہ چین کے دوران صوبے کے مقدمہ پر سودے بازی کر کے مشرقی روٹ کو فوقیت دی،انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ صوبے کے نہیں عمران کے چیف ایگزیکٹو ہیں اور پنجاب کی سیاست میں ان کے ساتھ پیش پیش ہیں،انہوں نے کہا کہ ہم پنجاب کی ترقی کے خلاف نہیں لیکن پختونوں کو بھی ان کا جائز حق ملنا چاہئے ،انہوں نے کہا کہ صوبے کا سارا نظام بنی گالہ اور امریکہ سے نوشیروان برکی چلا رہے ہیں تاکہ پنجاب کا ووٹ بنک حاصل کیا جا سکے ، پی ٹی آئی کو صوبے سے کوئی سروکار نہیں پختونوں کو انہوں نے بھیڑ بکریاں تصور کررکھا ہے اور پختونوں کا کندھا استعمال کر کے عمران خان وزارت عظمی تک پہنچنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ کپتان کبھی وزیر اعظم نہیں بن سکتے ،صوبے کی معاشی حالت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب ہم نے اقتدار چھوڑا تو اس وقت خزانہ بھرا ہوا تھا اور متعدد ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری تھا جبکہ اب ان کے پاس سرکاری ملازمین کو تنخواہیں ادا کرنے کیلئے پیسے نہیں ہیں اور ملازمین کے پیشن اور جی پی فنڈ سے قرضہ لے کر صوبے کا نظام چلایا جا رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ صوبئی حکومت نے ہمارے منصوبوں پر تختیاں لگانے کی سیاست کی ہے کیونکہ ان کے پاس کوئی پلان نہیں تھا ،اس کے برعکس ہمارے دور میں بنایا گیا اجمل خٹک پولی ٹیکنیک انسٹی تیوت بھی وزیر اعلیٰ اپنے حلقے میں لے گئے ، اگر اے این پی اتنے منصوبے نہ مکمل کرتی تو نجانے یہ حکومت اپنی کارگزاری کیسے بتاتی ، انہوں نے کہا کہ صوبے کو معاشی اور انتظامی طور پر دیوالیہ کر دیا گیا ہے اور حکومت کے وزراء بھی وزیر اعلیٰ پر کرپشن کے الزامات لگاتے نہیں تھکتے ،میاں افتخار حسین نے کہا کہ میں نے نوشہرہ میں ایک یونیورسٹی کیمپس تعمیر کرایا جبکہ پرویز خٹک اس علاقے کا وزیر اعلیٰ ہونے کے باوجود نوشہرہ میں کوئی دوسری یونیورسٹی نہیں بنا سکے ۔انشاء اللہ الیکشن جیت کر ہم یہاں مکمل یونیورسٹی بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے راشد شہید فاؤنڈیشن کے نام پر جلوزو میں 100کنال زمین خرید لی ہے جہاں پر پرائمری سے لے کر یونیوسٹی تک ادارے اور ہسپتال بنائیں گے جس میں شہداء کے بچوں سمیت تمام یتیم اور غریب بچوں کو مفت تعلیم دی جائے گی اور ان میں لڑکوں اور لڑکیوں کے علیحدہ علیحدہ ہاسٹل ہونگے اسی طرح ان کا علاج بھی فری ہوگا۔انہوں نے کہا کہ آنے والا دور اے این پی کا ہے اور کارکن الیکشن کے حوالے سے اپنی بھرپور تیاری جاری رکھیں۔

 اے این پی کا ملائشیا سے پشاور اور اسلام آباد کیلئے براہ راست پروازوں کی بحالی کا مطالبہ

 Aug-2017  Comments Off on  اے این پی کا ملائشیا سے پشاور اور اسلام آباد کیلئے براہ راست پروازوں کی بحالی کا مطالبہ
Aug 152017
 

 اے این پی کا ملائشیا سے پشاور اور اسلام آباد کیلئے براہ راست پروازوں کی بحالی کا مطالبہ

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے ملائشیا سے پشاور اور اسلام آباد کیلئے براہ راست پروازوں کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ پروازوں کی بندش سے وہاں پر مقیم پختونوں کو شدید مشکلات کا سامنا کر پڑ رہا ہے جو کسی طور مناسب نہیں ہے ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ملائشیا میں مقیم ہزاروں پختون سالانہ کروڑوں روپے کا زر مبادلہ پاکستان بھیج کر ملکی معیشت کی بہتری میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں لیکن بد قسمتی سے ان کیلئے پشاور اور اسلام آباد تک ڈائریکٹ پروازیں معطل کر کے زیادتی کی گئی ہے انہوں نے کہا کہ ملائشیا میں مقیم ہزاروں پختون محنت مزدوری کے ساتھ بڑے بڑے کاروبار کے ساتھ بھی وابستہ ہیں اور ایک طویل عرصہ سے ملک کو کروڑوں روپے کا زر مبادلہ دے رہے ہیں ،لہٰذا مرکزی حکومت اور قومی ایئرلائن ان کی مشکلات میں اضافہ کی بجائے انہیں سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی حوصلہ افزائی بھی کرے، سردار حسین بابک نے مرکزی حکومت اور وزارت خارجہ سے یہ درخواست بھی کی کہ ملائشیا کے ساتھ سفارتی سطح پر وہاں مقیم پختونوں کی پکڑ دھکڑ اور انہیں بے جا ہراساں کرنے کا معاملہ اٹھایا جائے تاکہ اُن میں پائی جانے والی احساس محرومی کا خاتمہ ہو اور انہیں یقین ہو جائے کہ ملکی سطح پر بھی ان کیلءئے کوئی آواز اٹھانے والا ہے،انہوں نے کہا کہ 70لاکھ سے زائد پختون مختلف ممالک میں محنت مزدور اور کاروبار کر کے سالانہ اربوں روپے بھیج رہے ہیں جو ملکی آمدان کا بڑا اور مستقل ذریعہ ہے ،لہٰذا مرکزی حکومت اور اورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن ان کی بہترین حوصلہ افزائی کریں اور سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ عزت افزائی بھی یقینی بنائی جائے ،انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے اے این پی صوبائی اسمبلی میں ایک قرارداد بھی جمع کرائے گی جس میں مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا جائے گا کہ ملائشیا میں مقیم پختونوں کو بے جا تنگ کرنے کا معاملہ سفارتی سطح پر اٹھایا جائے اور ان کیلئے ملائشیا سے پشاورت اور اسلام آباد کیلئے براہ راست پروازیں شروع کی جائیں۔

دہشت گرد دوبارہ منظم ہو چکے ہیں،ناکام پالیسیاں بدلنے کا یہی وقت ہے ، میاں افتخار حسین

 Aug-2017  Comments Off on دہشت گرد دوبارہ منظم ہو چکے ہیں،ناکام پالیسیاں بدلنے کا یہی وقت ہے ، میاں افتخار حسین
Aug 142017
 

دہشت گرد دوبارہ منظم ہو چکے ہیں،ناکام پالیسیاں بدلنے کا یہی وقت ہے ، میاں افتخار 

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ملک کی مجموعی صورتحال مخدوش ہے اورکوئٹہ سمیت ملک کے دیگر حصوں میں دہشت گردی کی کاروائیاں تشویشناک ہیں،دہشت گردی نے پختونوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پبی ون خدریزی سمندر گڑھی اور محلہ شیخ اعظم بابا میں دو مختلف شمولیتی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر پی ٹی آئی کی انتہائی اہم سرکردہ شخصیات اور سینکڑوں کارکنوں نے اپنے خاندان اور ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ، میاں افتخار حسین نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ 14اگست سے قبل کوئٹہ میں دہشت گردوں نے وار کیا جس پر دل خون کے آنسو رو رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ ملک کی خارجہ و داخلہ پالیسیاں ناکام ہیں اور انہیں اب تبدیل کرنے کا وقت آ چکا ہے ، انہوں نے کہا کہ اگر سیاسی قیادت اپنی پالیسیاں سپر پاور کی بجائے قومی مفاد میں بنائیں تو صورتحال یکسر تبدیل ہو سکتی ہے انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں تمام سیاسی قوتوں کے ساتھ مشورہ کر کے فوری طور پر داخلہ و خارجہ پالیسیاں از سر نو ترتیب دی جائیں ، انہوں نے کہا کہ بد امنی کا خاتمہ حکومت کی اولیں ترجیح ہونی چاہئے اور عسکری و سیاسی قیادت کو مل بیٹھ کر اس مسئلے کا حل نکالنا چاہئے،میاں افتخار حسین نے کہا کہ تمام سیاسی و عسکری قیادت جس 20 نکاتی دستاویز پر متفق ہوئی اس پر من و عن عمل درآمد نہیں کیا گیا جس کا خمیازہ غریب عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے ، صرف وزیرستان آپریشن سے امن کا قیام ممکن نہیں آپریشن سے دہشت گرد وقتی طور پر منتشر ہوئے تاہم اب وہ دوبارہ منظم ہو چکے ہیں،انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت واضح کرے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد میں کیا رکاوٹ ہے ؟ اور پنجاب میں اس پر عمل درآمد کیوں نہیں کیا جا رہا ، انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی نرسریاں پنجاب میں ہیں اور 70سے زائد کالعدم تنظیمیں آج بھی مختلف ناموں سے چندے وصول کر رہی ہیں لیکن ان پر ہاتھ ڈالنے والا کوئی نہیں ، انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان تنہائی کا شکار ہے اور دنیا بھر میں ہمارے ہاں ہونے والی بد امنی زیر بحث ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور میں جس طرح دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کی وہ تاریخ کا انمٹ باب ہے اور یہی وجہ ہے کہ اے این پی آج تک دہشت گردوں کے ٹارگٹ پر ہے ، کہ آئے روز اے این پی میں ہونے والی شمولیتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ عوام پی ٹی آئی کی کارکردگی سے متنفر ہو چکے ہیں، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کے بعد اب ان کی خاتون رکن کی جانب سے پرویز خٹک پر لگائے گئے لزامات کی بھی تحقیقات ہونی چاہئے اور اس سلسلے میں احتسابی ادارے فوری حرکت میں آئیں، انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت سے عوام دوست پالیسیوں کی توقع رکھنا عبث ہے،انہوں نے کہا کہ تصوراتی ایجنڈے،غیر ذمہ دارانہ رویے اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے صوبہ مسائل کی دلدل میں پھنستا جا رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ انتظامی امور سے نا بلد حکو مت کے دور میں ہر طبقہ فکر کے لوگ سراپا احتجاج ہیں،عوامی مسائل کا ادراک نہ رکنھے والی حکومت نہ صرف یہ کہ صوبے کے محدود وسائل استعمال کرنے میں ناکام ہو گئی ہے بلکہ صوبے کو تاریخ کے بدترین مالی و انتظامی بحران سے دوچار کر دیا ہے ، انہوں نے کہا کہ صوبے میں ترقی کا پہیہ رک گیا ہے ،اور تمام امور ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں،جس کا خمیازہ دہشت گردی کے مارے عوام بھگت رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ عوام کی نظریں اے این پی پر لگی ہیں اور اسی سے توقعات وابستہ کر رکھی ہیں،انہوں نے کہا کہ صوبے کے طول و عرض میں رابطہ عوام مہم کو مزید مضبوط بنانے پارٹی کو منظم کرنے اور صوبے و فاٹا کے کونے کونے تک شمولیتی تقاریب مزید بڑھانے کیلئے اپنی تمام توانائیاں بروئے کار لانا ہونگی ۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ نوشہرہ میں بطور وزیر میں نے جو ترقیاتی کام کئے وہ اپنی مثال آپ ہیں جبہ موجودہ حکومت کا وزیر اعلیٰ ،ایم این ایز اور ایم پی ایز یہاں سے منتخب ہوئے لیکن صورتحال ابتر ہوتی جا رہی ہے، انہوں نے کہا کہ آنے والا دور اے این پی کا ہے اور 2018کے الیکشن میں کامیابی کے بعد عوام کی خدمت کا سلسلہ دوبارہ شروع کریں گے

سیاستدانوں نے صبر وتحمل کا مظاہرہ نہ کیا تو جمہوریت کو خطرات درپیش ہو سکتے ہیں، میاں افتخار حسین

 Aug-2017  Comments Off on سیاستدانوں نے صبر وتحمل کا مظاہرہ نہ کیا تو جمہوریت کو خطرات درپیش ہو سکتے ہیں، میاں افتخار حسین
Aug 132017
 

 سیاستدانوں نے صبر وتحمل کا مظاہرہ نہ کیا تو جمہوریت کو خطرات درپیش ہو سکتے ہیں، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ جمہوریت کے استحکام اور پارلیمنٹ کی بالادستی کیلئے ضروری ہے کہ تمام ریاستی ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں،سیاستدانوں نے صبر وتحمل کا مظاہرہ نہ کیا تو جمہوریت کو خطرات درپیش ہو سکتے ہیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجاب کے شہر خوشاب میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ ہم تمام قومیتوں کے حقوق کے تحفظ کے حق میں ہیںاور جس طرح پختونخوا میں بسنے والے تمام قومیتوں کے افراد کو تحفظ حاصل ہے پنجاب میں بھی اس کی تقلید ہونی چاہئے، انہوں نے کہا کہ قومیتوں کے درمیان نفرت حکومتی پالیسیوں کے باعث پیدا ہوتی ہے اور جس طرح دہشت گردی کے خلاف آپریشن کی آڑ میں پنجاب میں پختونوں کے ساتھ بد سلوکی کی گئی وہ انتہائی تکلیف دہ امر ہے ، شناختی کارڈز کی بندش، گھروں پر چھاپوں ، تھانوں میں رجسٹریشن جیسے عوامل کی وجہ سے پنجاب میں بسنے والے پختون ذہنی کرب میں مبتلا ہو گئے، انہوں نے کہا کہ ہم بھائی چارے کی فضاءچاہتے ہیں اور پنجاب کے شہری یاد رکھیں کہ اگر اے این پی دہشت گردی کے خلاف لازوال قربانیاں نہ دیتی تو دہشت گردوں کا آج پورے پنجاب پر قبضہ ہوتا، میاں افتخار حسین نے کہا کہ حکمران اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں بصورت دیگر پنجاب کے بسنے والوں کو تکلیف دہ مراحل سے گزرنا پڑے گا، انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی نرسریاں اور مضبوط اڈے پنجاب میں ہیں اور70سے زائد کالعدم تنظیمیں نام بدل بدل کر کاروائیاں کر رہی ہیں جبکہ اب انہوں نے مختلف ناموں سے سیاسی جماعتیں بھی تشکیل دے رکھی ہیں،انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ختم کرنے اور پائیدار امن کیلئے گڈ اور بیڈ کی تمیز کئے بغیر پنجاب میں آپریشن کیا جائے ،یہ مائنڈ سیٹ کی جنگ ہے اور ہم باچا خان کی سپاہی ہونے کے ناطے ملک کے ہر کونے میں ہونے والی دہشت گردی کے خلاف ہیںاور اس ناسور کے خلاف جنگ جاری رہے گی، پانامہ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اے این پی نے تحفظات کے باوجود عدالتی فیصلہ قبول کیا تاہم سیاستدانوں کو اپنے مسائل پارلیمنٹ میں حل کرنا چاہئیں اور پارلیمنٹ کے اختیارات دوسرے اداروں تک نہیں جانے چاہئیں ، انہوں نے کہا کہ عمران خان نے جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی بھرپوری کوشش کی جس میں انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور خیبر پختونخوا میں کیو ڈبلیو پی کو حکومت سے نکالنا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی،انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو جیتے جاگتے شہید کر دیا گیا اور اب وہ اپنا مقدمہ لے کر عوام کی عدالت میں پیش ہو گئے ہیں، انہوں نے کہا کہ آئینی تبدیلی نیک شگون ہے تاہم پارلیمنٹ کے اندر ہونے والے فیصلوں سے دوسرے اداروں کو معاملات میں مداخلت کا موقع نہیں ملتا البتہ ملک کا مفاد اسی میں ہے کہ جمہوریت مضبوط ہو ، انہوں نے کہا کہ ہم اپنا مقدمہ پنجاب لے کر آئے ہیں اور یہاں کے عوام کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کر رہے ہیں جس پر انہیں سوچنا ہو گا کہ وہ اپنا مستقبل محفوظ بنانے کیلئے اپنی صوبائی حکومت پر دباو¿ ڈالیں کہ وہ اپنی پالیسیاں عوامی مفاد میں بنائے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ہم پنجاب کے عوام کے ساتھ اور ہمیشہ ان کے دکھ درد میں شریک رہیں گے ، انہوں نے پنجاب میں بسنے والے پختونوں سے بھی اپیل کہ وہ آپس میں متحد رہیں اور امن کے قیام کیلئے اتفاق و اتحاد کی جتنی ضرورت آج ہے وہ پہلے کبھی نہیں تھی