خواتین کو حقوق ملنے سے مثالی معاشرہ کی تشکیل ممکن ہو سکے گی، شازیہ اورنگزیب

 July 2017, Latest, News  Comments Off on خواتین کو حقوق ملنے سے مثالی معاشرہ کی تشکیل ممکن ہو سکے گی، شازیہ اورنگزیب
Jul 212017
 

 خواتین کو حقوق ملنے سے مثالی معاشرہ کی تشکیل ممکن ہو سکے گی، شازیہ اورنگزیب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کی رہنما اور رابطہ عوام مہم کیلئے خواتین کمیٹی کی سربراہ شازیہ اورنگزیب نے کہا ہے کہ خواتین اگر اپنے حقوق کیلئے مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں تو نہ صرف ترقی کی راہیں کھلیں گی بلکہ ایک مثالی معاشرہ کی تشکیل بھی ممکن ہو سکے گی، ان خیالات کا اظہار انہوں نے رابطہ عوام مہم کے سلسلے میں دورہ صوابی کے دوران ضلع ناظم اور اے این پی صوابی کے صدر امیر الرحمان کے دفتر میں ضلعی نائب صدر ڈاکٹر تسلیم کی زیر صدارت منعقدہ خواتین کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اے این پی صوابی کی تمام ضلعی کابینہ نے اجلاس میں شرکت کی، اس موقع پر کمیٹی کی سیکرٹری اور صوبائی جائنٹ سیکرٹری شگفتہ ملک ، ارم فاطمہ، خدیجہ سردار، یاسمین ضیاء سمیت امیر الرحمان خان نے بھی خطاب کیا ‘ انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے ہمیشہ خواتین کو مردوں کے برابر حقوق دیئے ہیں ‘ اور یہی وجہ ہے کہ خواتین نے ہر دو ر میں اے این پی پر بھر پور اعتماد کا اظہار کیا ہے، شگفتہ ملک نے اپنے خطاب میں کہا کہ پختون خواتین نے ہر دور میں مردوں کے شانہ بشانہ جدوجہد کی ہے جو تاریخ کا انمٹ باب ہے، اے این پی نے اپنے دور حکومت میں شہداء کا نذرانہ پیش کرکے قوم کی بچیوں کا مستقبل بچایا اور آج صوبے بھرمیں خواتین اگر آزادی سے اپنی سر گرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں تو یہ انہی شہداء کے خون کے طفیل ہے‘ انہوں نے کہا کہ خواتین کو حقوق دیئے بغیر کوئی بھی جدوجہد کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتی ‘ اس لئے اے این پی تنظیمی سطح پر خواتین کو زیادہ سے زیادہ نمائندگی دیتی ہے ‘ انہوں نے خواتین سے اپیل کی کہ پختون قوم کے بہتر مستقبل کیلئے پارٹی قائد اسفندیار ولی خان اور اے این پی کے ہاتھ مضبوط کریں ۔

عوامی نیشنل پارٹی کی منشور کمیٹی کا اجلاس 26جولائی کو طلب کر لیا گیا

 July 2017, Latest, Party News  Comments Off on عوامی نیشنل پارٹی کی منشور کمیٹی کا اجلاس 26جولائی کو طلب کر لیا گیا
Jul 202017
 

 عوامی نیشنل پارٹی کی منشور کمیٹی کا اجلاس 26جولائی کو طلب کر لیا گیا۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور منشور کمیٹی کے چیئرمین میاں افتخار حسین نے 2018کے انتخابات کیلئے بنائی گئی منشور کمیٹی کا اجلاس 26جولائی2017بروزبدھ دوپہر ایک بجے باچا خان مرکز میں طلب کر لیا ہے جس میں ملک بھر سے منشور کے حوالے سے موصول ہونے والی تجاویز کا جائزہ لیا جائے گا، کمیٹی کے سیکرٹری سردار حسین بابک نے تمام ممبران سے اجلاس میں بروقت شرکت کی اپیل کی ہے۔

پانامہ کا فیصلہ جلد آنے کا امکان ہے،تمام سیاستدان صبر وتحمل کا مظاہرہ کریں، میاں افتخار حسین

 July 2017  Comments Off on پانامہ کا فیصلہ جلد آنے کا امکان ہے،تمام سیاستدان صبر وتحمل کا مظاہرہ کریں، میاں افتخار حسین
Jul 202017
 

 

پانامہ کا فیصلہ جلد آنے کا امکان ہے،تمام سیاستدان صبر وتحمل کا مظاہرہ کریں، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ پانامہ کے حوالے سے اب زیادہ وقت نہیں عدالتی فیصلہ کسی بھی وقت آ سکتا ہے ،تمام سیاستدان صبر وتحمل کا مظاہرہ کریں عدالت جو بھی فیصلہ دے گی اے این پی اسے قبول کرے گی ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کے 12 خان شیر گڑھی سرور آباد اور پبی 1طائزئی میں الگ الگ بڑے شمولیتی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر خان شیر غرھی سے راج محمد خان کی قیادت میں ذیشان، خورشید، فہیم، لال زمان، عمران طفیل نے درجنوں ساتھیوں سمیت پی ٹی آئی سے اور پبی ون طائزئی میں پی ٹی آئی کے سر گرم کارکنوں مسعود، یاسر ، ولی اللہ، اسماعیل،اشفاق، عثمان ، درویش اور اختر علی نے اپنے خاندان اور ساتھیوں سمیت مستعفی ہو کر اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ میاں افتخار حسین نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی سرکردہ شخصیات اور عوام کی اے این پی میں آئے روز جوق درجوق شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگوں کی توجہ اب اے این پی پر مرکوز ہے اور آنے والے دور میں پارٹی عوام کی خدمت کا سلسلہ بلا تفریق جاری رکھے گی۔اپنے خطاب میں انہوں نے مزید کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پانامہ کیس میں صورتحال واضح ہوتی جا رہی ہے اور اب لگتا یہی ہے کہ کیس کا فیصلہ جلد ہونے والا ہے ، تاہم عدالت جو بھی فیصلہ کرے گی اے این پی اسے قبول کریگی لہٰذا سیاستدان صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے عدالتی فیصلے کا انتظار کریں،انہوں نے کہا کہ اے این پی اس اہم ایشو میں کسی سیاسی جماعت یا فرد کے ساتھ نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے ساتھ ہے اور اس حوالے سے جو فیصلہ آئے گا قبول کرینگے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی ماحول خراب کرنے ، افراتفری کی صورتحال پیدا کرنے اور لالچ و خود غرضی کی سیاست کرنے والے دراصل جمہوریت کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ ہمیں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر مستقبل میں ایسا ماحول پیدا کرنا چاہئے جو ملک اور جمہوریت کے مفاد میں ہو،میاں افتخار حسین نے کہا کہ بدقسمتی سے ملک میں پانامہ کے شور میں کئی اہم ایشو دب کر رہ گئے ہیں اور گزشتہ دنوں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات میں جوانوں کی شہادت میڈیا پر کہیں نظر نہیں آ رہی،فاٹا اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے ایک بار پھر اپنا مؤقف دہرایا کہ اے این پی اس مسئلے کا جلد از جلد حل چاہتی ہے تا کہ قبائلی عوام انگریز کے کالے قانون سے چھٹکارا پا کر بنیادی ضروریات زندگی سے استفادہ حاصل کر سکیں ، انہوں نے کہا کہ فون ، سیاستدان ، قبائلی عوام کے منتخب نمائندوں سمیت تمام پختون قوم فاٹا اصلاحات کے حق میں ہیں اور اب تو تمام قبائلی نوجوان نسل بھی اس حوالے سے میدان میں تو پھر رکاوٹ کہاں ہے اور اس اہم مسئلے سے مرکزی حکومت کیوں چشم پوشی کر رہی ہے،؟ انہوں نے کہا کہ اے این پی قبائلی عوام کی اس جدوجہد میں ان کے ساتھ ہے ، لہٰذا وزیر اعظم فاٹاکو آئینی ترمیم کے ذریعے صوبے میں ضم کرنے کا اعلان کرے اور ایف سی آر کا خاتمہ کر کے قبائلی عوام میں پائی جانے والی احساس محرومی کا خاتمہ کرے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ فاٹا اور سی پیک سمیت جہاں کہیں بھی پختونوں کے مفادات کی بات ہو عمران خان اور نواز شریف اندر سے ملے ہیں،ان کے درمیان لڑائی تو صرف کرسی اقتدار کیلئے ہے،، انہوں نے کہا کہ عمران خان چار سال سے جمہوری حکومت کے خلاف سازش میں لگے رہے اور خیبر پختونخوا کے عوام کے مینڈیٹ کی توہین کرتے ہوئے تخت اسلام آباد کی جنگ میں مصروف ہیں، انہوں نے کہا کہ صوبے کے حقوق کیلئے پی ٹی آئی نے کبھی کوئی دھرنا نہیں دیا تمام دھرنے پنجاب کے ووٹ بنک کیلئے دیئے گئے اور تخت اسلام آباد کیلئے پختونوں کا کندھا استعمال کیا گیا تاہم اب پختون بیدار ہو چکے ہیں اور وہ یہ جان چکے ہیں کہ جس تبدیلی کے نام پر انہیں دھوکہ دیا گیا درا صل اس کا کوئی وجود ہی نہیں، انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر زندہ رہنے والی حکومت حقیقت میں کچھ بھی ڈیلیور نہیں کر سکی اور اپنی ناکامی چھپانے کے لیے عوام کو جھوٹے پروپیگنڈوں سے گمراہ کر رہی ہے۔ ہم سیاسی کارکن ہیں اور ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں،انہوں نے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ آنے والے الیکشن کیلئے بھرپور تیاریاں جاری رکھیں کیونکہ 2018کا سورج اے این پی کی کامیابی کی نوید ے کر طلوع ہو گا۔

اے این پی بنوں کا سیاسی بنیادوں پر گرفتاریوں کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ

 July 2017  Comments Off on اے این پی بنوں کا سیاسی بنیادوں پر گرفتاریوں کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ
Jul 192017
 

عوامی نیشنل پارٹی بنوں کا سیاسی بنیادوں پر گرفتاریوں کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی بنوں نے تھانہ سٹی پولیس کی جانب سے کارکنوں کو ہراساں کرنے اور سیاسی بنیادوں پر گرفتاریوں کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اے این پی اور ذیلی شاخوں کے کارکنوں کو بنوں پولیس کس بنیاد پر گرفتار کر رہی ہے کارکنوں کے خلاف انتقامی کاروائیوں کا سلسلہ بند کیا جائے، عوامی نیشنل پارٹی اے این پی بنوں کے ضلعی صدر حاجی عبدالصمد خان ،بنوں سٹی کے صدر ملک آصف خان ،پی ایس ایف کے ضلعی صدر حامد سورانی ،قیموس خان اور دیگر رہنماؤں نے ضلعی سیکرٹریٹ میں مشترکہ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ بنوں پولیس اسٹیٹ بن چکا ہے اور آئے روز غیر قانونی اقدامات کا سلسلہ شروع ہے تھانہ سٹی سمیت مختلف تھانہ جات کی حدود میں کارکنوں پر پولیس کی جانب سے سیاسی بنیادوں پرچھاپے مارے جارہے ہیں جبکہ بغیر کسی جرم کے طلبہ اور کارکنان کو گرفتار کیا جا رہا ہے جو کہ غیر قانونی ہے، اے این پی نے ہمیشہ عدم تشدد کی سیاست کو فروغ دیا ہے مگر یہاں بنوں پولیس نے کارکنوں کی گرفتاریوں کا جو سلسلہ شروع کیا ہے اْن کے نتائج خطرناک ہوں گے، اْنہوں نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور حکومت میں سینکڑوں کارکنوں اور پارلیمانی اراکین کی جانوں کی قربانیاں دیکر امن کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کیا لیکن آج پولیس نے سیاسی بنیادوں پر کارکنوں کے گھروں پر غیر قانونی چھاپوں کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے جو کہ انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے، اے این پی کے ضلعی قائدین نے آئی جی پولیس صلاح الدین محسود،ڈ ی آئی جی دار علی خٹک اور ڈی پی اوصادق بلوچ سے مطالبہ کیا ہے کہ اے این پی کے کارکنوں کے خلاف شروع کئے گئے کریک ڈاؤن کا سلسلہ ختم کیا جائے۔

مرکزی و صوبائی حکومتیں اور تمام پختون قوم فاٹا کے صوبے میں انضمام کے حق میں ہیں تو پھر رکاوٹ کہاں ہے

 July 2017  Comments Off on مرکزی و صوبائی حکومتیں اور تمام پختون قوم فاٹا کے صوبے میں انضمام کے حق میں ہیں تو پھر رکاوٹ کہاں ہے
Jul 192017
 

mian-sab

 اسٹیبلشمنٹ سمیت مرکزی و صوبائی حکومتیں اور تمام پختون قوم فاٹا کے صوبے میں انضمام کے حق میں ہیں تو پھر رکاوٹ کہاں ہے؟
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ایف سی آر انگریز کی باقیات ہیں اور انگریز سے آزادی حاصل کرنے کے بعد اس کالے قانون کا کوئی جواز نہیں بنتا، اسٹیبلشمنٹ، مرکزی و صوبائی حکومتیں ، قبائلی عوام کے نمائندے اور تمام پختون قوم اگر فاٹا کے صوبے میں انضمام کے حق میں ہیں تو پھر رکاوٹ کہاں ہے اور کون اس کی راہ میں روڑے اٹکا رہا ہے ؟ ان خیالات کا اظہار انہوں نے فاٹا سٹوڈنٹس کے زیر اہتمام فاٹا کے صوبے میں انضمام اور ایف سی آر کے خلاف گورنر ہاؤس کے سامنے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،انہوں نے اہم قومی ایشو پر اتحاد و اتفاق پر قبائلی طلباء کو خراج تحسین پیش کیا اور انہیں مبارکباد دی، میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے این پی روز اول سے ہی قبائل کے صوبے کے انضمام کے حق میں ہے اور 90ء کی دہائی میں صوبائی اسمبلی میں قرارداد پیش کر چکی ہے، تاہم اس وقت کے چند قبائلی مشران کی وجہ سے اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا جبکہ آج حالات یکسر مختلف ہیں اور تمام سٹیک ہولڈرز فاٹا کے صوبے میں انضمام کے حق میں ہیں،انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں ہر جمہوری حکومت کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور اسے آزادی سے کام کرنے کلا موقع نہیں دیا گیا اور یہی صورتحال آج بھی ہے ملک میں بحرانی کیفیت ہے تاہم اگر مرکزی حکومت موجودہ وقت میں فاٹا اصلاحات پر عمل درآمد کرے اور آئینی ترمیم کے ذریعے اس کا اعلان کر دے تو تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا،انہوں نے کہا کہ انگریز سے آزادی کے باوجود ان کی باقیات قبائلی عوام پر مسلط ہیں جس کی وجہ سے قبائلی عوام آج تک پسماندہ زندگی گزار رہے ہیں،اور دہشت گردی و نا مساعد حالات کی وجہ سے اپنے گھر بار چھوڑ کر آئی ڈی پیز بنے ہوئے ہیں ، بچوں کی تعلیم اور صحت کے حوالے سے کیمپوں میں مقیم یہ آئی ڈی پیز مسائل و مشکلات کا شکار رہتے ہیں لیکن ان کی حالت زار پر ان کی داد رسی کرنے والا کوئی نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام کو صوبے میں ایک بڑے اور خصوصی پیکج کے ساتھ ضم کیا جائے تاکہ انہیں این ایف سی ایوارڈ میں حصہ اور اسمبلیوں میں نمائندگی مل سکے،اور اسکے ساتھ ساتھ ترقیاتی فنڈز کیلئے صوبائی سطح پر پیکج دیا جائے،انہوں نے معذرت کے ساتھ کہا کہ اس اہم ایشو میں صوبائی حکومت کا کردار انتہائی اہم ہے تاہم عمران خان اور پی ٹی آئی نے تمام دھرنے وزارت عظمیٰ کیلئے دیئے ہیں جبکہ پختونوں کے حقوق اور فاٹا کے عوام کیلئے کوئی احتجاج نہیں کیا،انہوں نے کہا کہ مخالفت کرنے والے پختونوں اور قبائلی عوام کے ساتھ مخلص نہیں ہو سکتے ،انہوں نے مولانا فضل الرحمان اور محمد خان اچکزئی سے بھی درخواست کی کہ موجودہ وقت میں قبائلی عوام کے روشن مستقبل کی خاطر فاٹا اصلاحات میں تمام پختونوں کا ساتھ دیں اور مزید رخنہ ڈالنے سے گریز کریں،میاں افتخار حسین نے کہا کہ گورنر مرکزی حکومت کے نمائندے ہیں اور ان کا بھی اس معاملے میں کردار بنیادی ہے لہٰذا انہیں مرکزی حکومت کے نوٹس میں لا کر فاٹا کو صوبے میں ضم کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں،انہوں نے کہا کہ اے این پی اس عظیم کاوش میں قبائلی عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے،اور جب بھی یہ اہم مسئلہ حل ہوا اس کے بعد ہم بلوچستان کے پختون عوام کے درمیان کھینچی گئی لکیروں کو مٹانے کیلئے ہراول دستے کا کردار ادا کریں گے۔انہوں نے آخر میں تمام قبائلی طلباء کو اتحاد و اتفاق پر مبارکباد پیش کی اور فاٹا کے معاملے پر اے این پی کے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔

مالی بے قاعدگیوں پر احتسابی ادارے حرکت میں آئیں، سردار حسین بابک

 July 2017  Comments Off on مالی بے قاعدگیوں پر احتسابی ادارے حرکت میں آئیں، سردار حسین بابک
Jul 182017
 

 خیبر پختونخوا حکومت کی 28ارب روپے سے زائد کی مالی بے قاعدگیوں پر احتسابی ادارے حرکت میں آئیں
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے 2014-15کے دوران صوبائی حکومت کی جانب سے کی گئی مالی بے ضابطگیوں اور گھپلوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے احتسابی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اربوں روپے کی ہیر پھیر کرنے والی بڑی مچھلیوں پر ہاتھ ڈالا جائے ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے مالی سال2014-15کی آڈٹ رپورٹ میں خیبر پختونخوا حکومت کی اکاؤنٹس اور مختلف محکموں میں 28ارب روپے سے زائد کی مالی بے قاعدگیوں کا انکشاف کیا ہے جبکہ مالی سال-2013-14کے دوران آڈٹ رپورٹ میں خیبر پختونخوا میں 17ارب روپے سے زائد کی مالی بے قاعدگیوں کا انکشاف کیا گیا تھااسی طرح آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی 2014-15پبلک سیکٹر انٹر پرائزز کی آڈٹ رپورٹ میں 7ارب98کروڑ سے زائد کی مالی بے قاعدگیوں کا انکشاف ہو اہے آڈٹ رپورٹ میں پارلیمانی سیکرٹری برائے محکمہ جنگلات نے غیر ضروری اخراجات ، سرکاری گاڑی کی غلط استعمال اور ٹی اے ڈی اے اور الاؤنسز کی مد میں لاکھوں روپے خرچ اور وصول کئے آڈٹ رپورٹ میں پارلیمانی سیکرٹری سے لاکھوں روپے وصول کرنے کی سفارش کی گئی ہے آڈ ٹ رپورٹس میں قواعد و ضوابط کے برعکس مختلف محکموں میں سرکاری ملازمین کو ترقیاں دینے اور ڈیپوٹیشن یا پھر دیگر اداروں سے صوبائی محکموں اور کمپنیوں میں ملازمت دیکر اربوں روپے کے غیرضروری اخراجات کرنے پر بھی اعتراضات اٹھائے گئے ہیں سال 2014-15کے دوران سب سے زیادہ6ارب85کروڑ کی مالی بے قاعدگیوں کا انکشاف محکمہ سی اینڈ ڈبلیو میں کیا گیا ہے جبکہ دوسرے نمبر پر5ارب89کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے قاعدگیوں کا انکشاف انرجی اینڈ پاور میں کیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ امریکی امدادی ادارے یو ایس اے آئی ڈی کی جانب سے ملاکنڈ ڈویڑن کی تعمیر نو بحالی و آبادکاری کیلئے دی جانے والی امداد میں سے ایک ارب 10کروڑروپے کی مالی بے قاعدگی کا انکشاف ہو اہے جن میں 2کروڑ50لاکھ روپے ملبہ ہٹانے کیلئے اضافی اورغیر ضروری طور پر دیئے گئے ، آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ میں خیبر پختونخوا اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی پر بھی اعتراض اٹھایا گیا ہے کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے اربوں روپے کی نشاندہی کرنے کے باوجود پبلک اکاؤنٹس کمیٹی رقم وصول کرنے میں ناکام ہے جبکہ صوبائی محکمے بھی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو ریکارڈ فراہم نہیں کر رہے ہیں جبکہ محکموں کو مالی بے قاعدگیوں پر قابو پانے میں بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، سردار حسین بابک نے مزید کہا کہ رپورٹ کے مطابق بجٹ خرچ نہ کرنے پر محکمہ خزانہ میں 4ارب روپے سے زائد ، محکمہ خوراک میں3 ارب 87 کروڑ ،محکمہ ہاؤسنگ میں 77کروڑ20لاکھ، محکمہ زراعت میں15کروڑ50لاکھ،محکمہ حج اوقاف اور مذہبی امور میں9کروڑ50لاکھ،محکمہ تعلیم میں 56کروڑ50لاکھ، محکمہ ماحولیات میں10کروڑ80لاکھ،محکمہ صحت میں 19 کروڑ 70 لاکھ، محکمہ داخلہ و قبائیلی امور میں23کروڑ10لاکھ،محکمہ ایریگیشن میں 6 کروڑ 80 لاکھ، محکمہ صنعت میں 5 کروڑ 40 لاکھ ، محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ میں3کروڑ70لاکھ، محکمہ پبلک ہیلتھ اینڈ انجینئرنگ میں 34کروڑ70لاکھ، ڈائریکٹوریٹ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں26کروڑ70لاکھ اور محکمہ ٹرانسپورٹ میں ایک کروڑ20لاکھ روپے کی مالی بے قاعدگیوں کا انکشاف کیا گیا ہے آڈٹ رپورٹ کے مطابق محکمہ بپلک ہیلتھ اینڈ انجینئرنگ نے بٹ گرام میں واٹر سپلائی سکیم کے نام پر 8کروڑ60لاکھ روپے نکالے تاہم آڈٹ کے دوران 8کروڑ60لاکھ کی واٹر سپلائی سکیم غیر فعال پائی گئی ہے اسی طرح محکمہ پبلک ہیلتھ اینڈ انجینئرنگ کے ایک اور سکیم میں6کروڑ97? ?لاکھ روپے سے زائد کی مالی بے قاعدگیوں کا انکشاف بھی کیا گیا ہے۔سردار حسین بابک نے کہا کہ صوبے کو مالی و انتظامی طور پر لوٹ لیا گیا ہے اور اربوں روپے کی بے قاعدگیوں پر اب قانون کو حرکت میں آنا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے صرف تین سال میں 45ارب روپے کا سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا جو کہ مالی بے ضابطگیوں کا ریکارڈ ہے، انہوں نے کہا کہ دوسروں پر کرپشن کے الزامات لگانے والے اب نوشتہ دیوار پڑھ لیں۔

حیات آباد خود کش حملہ سیکورٹی صورتحال اور سیف سٹی کے اعلانات پر سوالیہ نشان ہے

 July 2017  Comments Off on حیات آباد خود کش حملہ سیکورٹی صورتحال اور سیف سٹی کے اعلانات پر سوالیہ نشان ہے
Jul 182017
 

 حیات آباد خود کش حملہ سیکورٹی صورتحال اور سیف سٹی کے اعلانات پر سوالیہ نشان ہے،میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کی طرف سے سیکورٹی فورسز پر حملے قابل مذمت ہیں اور حیات آباد کا سانحہ سیف سٹی منصوبے کے اعلانات پر سوالیہ نشان ہے ، حکومت نے کروڑوں روپے کی لاگت سے حیات آباد کو سیف سٹی بنانے اور دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام یقینی بنانے کے اعلانات کئے تھے لیکن حیات آباد میں دہشت گردی کے دوسرے بڑے واقعے کے بعد ان اعلانات کی قلعی کھل گئی ہے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کے12خان شیر گڑھی میں شمولیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر پی ٹی آئی کے سرکردہ رہنما حضرت گل ، شیراز خان اور عمر گل نے اپنے خاندان اور درجنوں ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ، میاں افتخار حسین نے شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارکباد دی، اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ حیات آباد میں دہشتگردی کا یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے اور صوبائی حکومت کی جانب سے حیات آباد کو سیف سٹی بنانے اور وہاں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کے دعوے غلط ابت ہو گئے ہیں ، انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو اب اس حوالے سے قوم کو اعتماد میں لینا چاہئے اور بتا یا جائے کہ ان اعلانات پر عمل درآمد صرف کاغذوں کی حد تک کیوں محدود رہا ؟ اگر کروڑوں روپے اس پراجیکٹ پر خرچ کئے گئے تو دہشت گرد پکڑے کیوں نہیں جاتے ، انہوں نے سانحے میں شہید ہونے والے میجر اور ان کے رائیور کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ سیکورٹی فورسز کے جوانوں نے عوام کی جان و مال کی حفاظت اور خطے میں امن کے قیام کیلئے جو قربانیاں دی ہیں وہ ناقابل فراموش ہیں، ہم نے جس طرح سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کیا اسی طرح جے آئی ٹی کے بعد آنے والے عدالتی فیصلے کو بھی تسلیم کرینگے ،جے آئی کی رپورٹ صرف سفارشات پر مبنی ہے حتمی فیصلہ عدالت عظمی نے کرنا ہے،کہ عوام اب اس حقیقت سے بخوبی آشنا ہو چکے ہیں کہ ان کے حقوق کے تحفظ کی ضامن اے این پی ہے ، انہوں نے کہا کہ لوگ موجودہ صوبائی حکومت کی چار سالہ کارکردگی سے متنفر ہو چکے ہیں کیونکہ عوام کے حقوق پر سودے بازی کر کے پنجاب کے ووٹ بنک کیلئے راہ ہموار کی جاتی رہی ، انہوں نے کہا کہ عمران خان نے جتنے دھرنے وزارت عظمی کیلئے دیئے ہیں اگر پختونوں کے حقوق کیلئے دیئے ہوتے تو حالات آج تبدیل ہوتے ، خیبر پختونخوا میں تبدیلی صرف یہ آئی کہ ترقی کے میدان میں صوبہ کئی سال پیچھے چلا گیاہے ، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اپنی رخصتی کے آخری سال میں ہے تاہم صوبے میں تبدیلی صرف اس حد تک نظر آئی کہ خیبر پختونخوا کئی سال پیچھے چلا گیا ہے ،جس کی وجہ سے آنے والی حکومتوں کو بڑے چیلنجز کا سامناکرنا پڑے گا،انہوں نے مذید کہاکہ موجودہ صوبائی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے اور اب حکومت کے پاس سر کاری ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے بھی پیسے نہیں،ا نہوں نے کہا کہ نواز شریف اور عمران خان کے درمیان صرف کرسی کی جنگ ہے باقی تمام معاملات میں اندر سے ملے ہوئے ہیں اور ملکی مفاد کے برعکس اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دیئے ہوئے ہیں،میاں افتخار حسین نے کہا کہ کپتان نے پنجاب کے ووٹ بنک کیلئے پختونوں کے حقوق پر سودے بازی کی ہے ،پانامہ کے حوالے سے انہوں نے مزید کہا کہ اے این پی کا اس اہم ایشو پر مؤقف شروع دن سے بالکل واضح ہے اور ہم سپریم کورٹ کے ساتھ ہیں جو فیصلہ عدالت کرے گی ہمیں قبول ہو گا، انہوں نے کہا کہ اے این پی نے ہمیشہ اصولوں کی بنیاد پر بات کی ہے ہم ملزم کو مجرم سے ثابت ہونے سے پہلے سزا دینے کے حق میں نہیں۔لہٰذا دیگر جماعتوں کو بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہئے۔انہوں نے صوبائی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نااہل حکومت نے خزانہ خالی کر دیا ہے اور اب ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی تک کیلئے اُن کے پاس پیسے نہیں ہیں اور سرکاری ملازمین کی پنشنز اور جی پی فنڈ سے صوبے کے نظام کو چلایا جا رہا ہے۔ صوبہ بدترین مالی و انتظامی بحران کا شکار ہے،انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے کرپشن کے حوالے سے بیان دے کر سپریم کورٹ کو دھمکی دی ہے اور اپنی مرضی کے فیصلے کیلئے عدالت کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ اس کی آڑ میں وہ اپنی کرپشن کو دوام بخشنے کیلئے جواز پیدا کر رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کو چیف ایگزیکٹو کے عہدے کا پاس ہونا چاہئے ،میاں افتخار حسین نے کہا کہ کارکن الیکشن کیلئے بھپور تیاری کریں کیونکہ آنے والا دور ایک بار پھر اے این پی کا ہے۔