احتسابی ادارے صوبے کے وسائل لوٹنے والوں کے خلاف فوری حرکت میں آئیں ،میاں افتخار حسین

 July 2017  Comments Off on احتسابی ادارے صوبے کے وسائل لوٹنے والوں کے خلاف فوری حرکت میں آئیں ،میاں افتخار حسین
Aug 022017
 

احتسابی ادارے صوبے کے وسائل لوٹنے والوں کے خلاف فوری حرکت میں آئیں ،میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک پر کرپشن کے الزامات میں آئے روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور احتسابی اداروں کو اب حرکت میں آجانا چاہئے ،کرپشن کے خاتمے کے دعویداروں نے صوبے کے وسائل بے دردی سے لوٹ لئے ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے خٹک نامہ چپری اور سپین خاک میں مختلف شمولیتی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر چپری میں پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی سے عبدالرحمن۔صداقت علی۔شمس۔جاوید۔جبران۔شہریار گوہر زمان۔عتیق الرحمان جبکہ سپین خاک میں پی ٹی آئی سے ملک تمیز گل۔جلات خان۔گل روز۔شیر ولی۔نور حیدر۔جمع گل۔اعجازسمیت درجنوں افراد نے اپنے خاندان اور ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا،میاں افتخار حسین نے شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آئے روز اے این پی میں ہونے والی شمولیتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ عوام پی ٹی آئی کی کارکردگی سے متنفر ہو چکے ہیں، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کے بعد اب ان کی خاتون رکن کی جانب سے پرویز خٹک پر لگائے گئے لزامات کی بھی تحقیقات ہونی چاہئے اور اس سلسلے میں احتسابی ادارے فوری حرکت میں آئیں، انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت سے عوام دوست پالیسیوں کی توقع رکھنا عبث ہے،انہوں نے کہا کہ تصوراتی ایجنڈے،غیر ذمہ دارانہ رویے اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے صوبہ مسائل کی دلدل میں پھنستا جا رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ انتظامی امور سے نا بلد حکو مت کے دور میں ہر طبقہ فکر کے لوگ سراپا احتجاج ہیں،عوامی مسائل کا ادراک نہ رکنھے والی حکومت نہ صرف یہ کہ صوبے کے محدود وسائل استعمال کرنے میں ناکام ہو گئی ہے بلکہ صوبے کو تاریخ کے بدترین مالی و انتظامی بحران سے دوچار کر دیا ہے ، انہوں نے کہا کہ صوبے میں ترقی کا پہیہ رک گیا ہے ،اور تمام امور ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں،جس کا خمیازہ دہشت گردی کے مارے عوام بھگت رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ عوام کی نظریں اے این پی پر لگی ہیں اور اسی سے توقعات وابستہ کر رکھی ہیں،انہوں نے کہا کہ صوبے کے طول و عرض میں رابطہ عوام مہم کو مزید مضبوط بنانے پارٹی کو منظم کرنے اور صوبے و فاٹا کے کونے کونے تک شمولیتی تقاریب مزید بڑھانے کیلئے اپنی تمام توانائیاں بروئے کار لانا ہونگی ، انہوں نے کہا کہ عوام تبدیلی سرکار کے دعوؤں اور وعدوں کو جان گئے ہیں اور عوام کو 2018کے الیکشن کا اب شدت سے انتظار ہے تا کہ وہ اپنے ساتھ دھوکہ کرنے والوں سے ووٹ کے ذریعے بدلہ لے سکیں،انہوں نے کہا کہ اے این پی کی جڑیں عوام میں مزید مضبوط ہوتی جا رہی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اے این پی مخالف قوتیں نہ صرف بوکھلاہٹ کا شکار ہیں بلکہ اپنی مایوسی کا نزلہ کسی نہ کسی صورت عوام پر گرا رہی ہیں۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ نوشہرہ میں بطور وزیر میں نے جو ترقیاتی کام کئے وہ اپنی مثال آپ ہیں جبہ موجودہ حکومت کا وزیر اعلیٰ ،ایم این ایز اور ایم پی ایز یہاں سے منتخب ہوئے لیکن صورتحال ابتر ہوتی جا رہی ہے، انہوں نے کہا کہ آنے والا دور اے این پی کا ہے اور 2018کے الیکشن میں کامیابی کے بعد عوام کی خدمت کا سلسلہ دوبارہ شروع کریں گے۔

دہشت گردی کے خلاف اے این پی کی لازوال قربانیاں تاریخ کا انمٹ باب ہیں، میاں افتخار حسین

 July 2017  Comments Off on دہشت گردی کے خلاف اے این پی کی لازوال قربانیاں تاریخ کا انمٹ باب ہیں، میاں افتخار حسین
Aug 012017
 

 دہشت گردی کے خلاف اے این پی کی لازوال قربانیاں تاریخ کا انمٹ باب ہیں، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میں افتخار حسین نے پولیس فورس سمیت دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جانوں کے نذرانے پیش کرنے والوں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہداء کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائینگی،اور وہ دن دور نہیں جب ان قربانیوں کے نتیجے میں دھرتی امن کا گہوارہ بن جائے گا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور پریس کلب میں 2009ء میں شہید ہونے والے ریاض الدین کی برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا،انہوں نے کہا کہ پریس کلب کی حفاظت پر مامور ریاض الدین نے دہشت گرد کو پریس کلب میں داخل ہونے سے روکا اور خودکش دھماکے کی نذر ہو گیا انہوں نے شہید کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریاض الدین پوری انسانیت کا محسن ہے ، انہوں نے کہا کہ میں خود اس وقت انفارمیشن منسٹر تھا اور ہمارے دور حکومت میں 2009اور2010انتہائی مشکل ترین سال تھے دہشت گردی عروج پر تھی تاہم ان حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے فوج کو بلانا بھی نا ممکن تھا جبکہ ایف سی بھی پورے ملک میں امن و امان کے قیام کیلئے مختلف علاقوں میں مصروف تھی، انہوں نے کہا کہ مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے ہم نے پولیس کی خصوصی تربیت پر توجہ دی اور اہلکاروں کی تعداد40ہزار سے بڑھا کرتقریباً 80ہزار کر دی گئی،اور ساتھ ہی ان کی تنخواہوں میں بھی مشترکہ طور پر دوگنا اضافہ کر دیا گیا، جبکہ بعد ازاں ان کی تنخوا میں مزید اضافہ بھی کیا، انہوں نے کہا کہ ان تمام اقدامات کیلئے وسائل کی ضرورت تھی تاہم دہشت گردی کے خاتمے اور امن کی بحالی کیلئے ہم نے یہ گھونٹ پیا ، میں افتخار حسین نے کہا کہ ہم نے اپنے دور میں پولیس جوانوں کی تربیت فوجی انداز میں کرائی جبکہ شہداء پیکج 3لاکھ سے بڑھا کر30لاکھ کر دیا گیا، دوران ملازمت شہید ہونے والے اہلکاروں کے بچوں کو نوکریاں دینے کے ساتھ ساتھ ان کی تنخواہ بھی ان کے لواحقین کو ملتی رہی ، انہوں نے کہا کہ پولیس کو جدید اسلحہ کی فراہمی کے ساتھ ساتھ تھانوں کو مضبوط بنایا گیا تاکہ وہ دہشتگردوں کے مذموم حملوں سے محفوظ رہ سکیں ، انہوں نے کہا کہ پشاور پر17بار لشکر کشی کی گئی جسے پولیس کے جوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے دے کر ناکام بنایا،میاں افتخار حسین نے کہا کہ دہشت گردوں نے میرے بیٹے کو صرف اس لئے شہید کیا کہ میں ہر دھماکے کی جگہ پر عوام کی داد رسی کیلئے موجود ہوتا تھا ۔مولانا فضل اللہ نے ایف ریڈیو پر اعلان بھی کیا اور میرے بیٹے راشد حسین کو شہید کرنے والے دہشت گرد قیوم نے اس بات کا اعتراف کیا ہم نے ولی الرحمان کے کہنے پر کیا ہے ، انہوں نے کہا کہ مجھے اپنے بیٹے کی شہادت پر فخر ہے اگر میرے دس بیٹے بھی ہوتے تو دھرتی پر امن کے قیام کیلئے قربان کر دیتا ، انہوں نے کہا کہ میں باچا خان بابا کا سپاہی اور عدم تشدد کا علمبردار ہوں اور دہشت گردی کے خلاف اپنا بھرپور کردار ادا کرتا رہوں گا، آخر میں انہوں نے ایک بار پھر ریاض الدیں سمیت پولیس کے تمام شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے پروگرام کے منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔

باچا خان بابا کے تعلیم کیلئے انقلابی اقدامات تاریخ کا انمٹ باب ہیں ، سردار حسین بابک 

 July 2017  Comments Off on باچا خان بابا کے تعلیم کیلئے انقلابی اقدامات تاریخ کا انمٹ باب ہیں ، سردار حسین بابک 
Jul 312017
 

پختون ایس ایف کی تقریب

باچا خان بابا کے تعلیم کیلئے انقلابی اقدامات تاریخ کا انمٹ باب ہیں ، سردار حسین بابک 

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور پختون ایس ایف کے صوبائی ایڈوائزر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ باچا خان بابا نے حکومتی اور ریاستی تعاون کے بغیر خدائی خدمتگاروں کے ساتھ مل کو تعلیم کے فروغ کیلئے جو انقلابی اقدامات کئے وہ تاریخ کا انمٹ باب ہیں ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز میں پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے زیر اہتمام باچا خان انٹری ٹیسٹ سکالر شپ کیلئے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اے این پی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان ، سابق صوبائی وزیر حاجی ہدایت اللہ خان اور سٹی جنرل سیکرٹری سرتاج خان نے بھی اس موقع پر خطاب کیا ، سردار حسین بابک نے کہا کہ پختون ایس ایف کا جمہوری معاشرے میں ایک کلیدی کردار ہے۔اورتنظیم نئی نسل میں جمہوری رویے پروانچڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ تنظیم کو فلاحی طلباء کی رہنمائی اور فلاحی سرگرمیاں میں حصہ لینا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ باچا خان بابا قوم کے غمخوار تھے اور انہوں نے فرنگی سامراج کی مخالفت کے باوجود آزاد مدرسے قائم کئے اور لوگوں کو ان مدرسوں میں تعلیم حاصل کرنے کیلئے شعور اجاگر کیا۔ صوبائی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ اس مقصد کی خاطر انہوں نے صعوبتیں برداشت کیں لیکن تعلیم کے فروغ کے اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی خدائی خدمتگار تحریک کی تسلسل جماعت ہے اور ہمیشہ تعلیم کو ترجیحی بنیادوں پر عام کرنے کیلئے انقابی اقدامات کرتی رہی ہے، انہوں نے کہا کہ مستقبل میں بھی باچا خان بابا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تعلیم کے شعبے میں اقدامات کئے جائیں گے اور وہ دن دور نہیں جب صوبے سے ناخواندگی کا نام و نشان مٹ جائے گا۔ انہوں نے پختون ایس ایف کے طلباء سے کہا کہ وہ تعلیم کے فروغ کے حوالے سے باچا خان بابا کے طرز عمل کو اپنائیں اور دیگر نئے آنے والے طلباء کی رہنمائی اور فلاحی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ نصابی و ہم نصابی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔

موجودہ اسمبلی کو مدت پوری کرنی چاہئے، نیا وزیر اعظم جو بھی ہو تسلیم کرینگے۔میاں افتخار حسین

 July 2017  Comments Off on موجودہ اسمبلی کو مدت پوری کرنی چاہئے، نیا وزیر اعظم جو بھی ہو تسلیم کرینگے۔میاں افتخار حسین
Jul 312017
 

نوشہرہ میں شمولیتی تقریب

موجودہ اسمبلی کو مدت پوری کرنی چاہئے، نیا وزیر اعظم جو بھی ہو تسلیم کرینگے۔میاں افتخار حسین 

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ملک محاذآرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا لہٰذا سیاسی رہنما پانامہ فیصلے پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں، جمہوریت ڈی ریل ہونے سے نقصان ملک کا ہوگا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کے 12یو سی تاروجبہ قاسم کلے اورپی کے13 نوشہرہ کینٹ میں الگ الگ شمولیتی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کیا،قاسم کلے میں پی ٹی آئی کے سرکردہ رہنماؤں ذوالفقار علی، اعجاز خان ، ایاز خان، عنایت ، ربنواز،رضوان کامران اور دیگر نے جبکہ پی کے 13نوشہرہ کینٹ میں پیپلز پارٹی کی اہم سیاسی شخصیت نعمان الحق کاکا نے اپنے خاندان اور ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا،میاں افتخار حسین نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارکباد پیش کی ،اے این پی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے بھی پی کے 13 نوشہرہ کینٹ کے اجتماع میں خصوصی طور پر شرکت کی اور خطاب کیا ۔ اپنے خطاب میں میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے این پی کا پانامہ کے حوالے سے روز اول سے مؤقف واضح تھا ، ہم سپریم کورٹ کے ساتھ رہے اور اپنے مؤقف کے مطابق عدالتی فیصلہ قبول کیا اگر چہ اس پر پارٹی کے تحفظات ہیں، انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام چلتے رہنا چاہئے ، پانامہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکا ہے ،عدالتی فیصلے کے بعد ملک کے ان تمام دیگر اہم ترین مسائل پر توجہ دی جائے جو پانامہ کے شور میں دب گئے تھے،، انہوں نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں، سیاسی فیصلے پارلیمنٹ میں کئے جائیں اور پارلیمنٹ کے اختیارات عدالت کو نہ دیئے جائیں ، انہوں نے کہا کہ نوز شریف کے ساتھ فاٹا اور سی پیک سمیت کئی معاملات کے حوالے سے ہمارے اختلافات تھے ، تاہم اے این پی کا وطیرہ نہیں کہ وہ ملک کو عدم استخام کی جانب لے کر جائے ، جبکہ پانامہ کیس کے حوالے سے ہم نواز شریف یا عمران خان کے ساتھ نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے ساتھ تھے ، انہوں نے کہا کہ 2013کے الیکشن میں ہم نے جمہوریت کی بقاء کیلئے نتائج تسلیم کئے ،انہوں نے کہا کہ ہم نے جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی کیلئے ہر ممکن کوششیں اور مستقبل میں بھی ضرورت پڑی تو ہر قربانی دینگے۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ بدقسمتی سے ملکی تاریخ میں کبھی کسی وزیر اعظم نے اپنی آئینی مدت پوری نہیں کیاالبتہ موجودہ اسمبلی کو اپنی مدت پوری کرنی چاہئے اور اب جو بھی نیا وزیر اعظم نیا آئے گا ہم اسے تسلیم کریں گے،انہوں نے کہا کہ صوبے میں انتظامی امور اور امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے جبکہ وزیر اعلیٰ صوبے کے مسائل سے چشم پوشی اختیار کرتے ہوئے اسلام آباد میں اپنے لیڈر کیلئے تخت اسلام آباد کیلئے راہ ہموار کرنے کی کوششوں میں مگن ہیں، میاں افتخار حسین نے کہا کہ صوبائی حکومت کو اے این پی فوبیا ہو گیا ہے ،اور ترقیاتی کاموں کے حوالے سے صوبائی حکومت اے این پی پر تنقید کرتے نہیں تھکتی، انہوں نے کہا کہ حکمران اللہ کا شکر ادا کریں کہ اے این پی نے اپنے دور میں تاریخی ترقیاتی کام کئے ورنہ حکومت آج کن منصوبوں پر اپنے نام کی تختیاں لگاتی ؟ انہوں نے کہا کہ اب اپنی رخصتی کے وقت پی ٹی آئی کی حکومت کو صوبے کی یاد آ گئی جبکہ گزشتہ چار سال تک یہ لوگ عوام سے غافل اور غائب ہو چکے تھے،انہوں نے کہا کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں کا بیڑہ غرق ہو چکا ہے ، صحت کارڈ کے نام پر غریبوں کو صحت جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہو چکے ہیں جبکہ تعلیم کے شعبہ میں میٹرک کا رزلٹ حکومتی کارکردگی کا پول کھولنے کیلئے کافی ہے ،انہوں نے کہا کہ عمران خان فیس بک اور ٹوئٹر کی دنیا سے نکل کر پختونخوا کی حالت زار کو حقیقت کی نگاہ سے دیکھیں۔
میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور میں صوبے کی جو خدمت کی وہ تایخ کا حصہ ہے،انہوں نے کہا کہ 2018اے این پی کا سال ہے اور الیکشن میں کامیابی کے بعد صوبے کی خدمت کا سلسلہ عوام کے تعاون سے دوبارہ شروع کریں گے۔

موجودہ اسمبلی کو مدت پوری کرنی چاہئے، نیا وزیر اعظم جو بھی ہو تسلیم کرینگے۔میاں افتخار حسین

 July 2017  Comments Off on موجودہ اسمبلی کو مدت پوری کرنی چاہئے، نیا وزیر اعظم جو بھی ہو تسلیم کرینگے۔میاں افتخار حسین
Jul 312017
 

موجودہ اسمبلی کو مدت پوری کرنی چاہئے، نیا وزیر اعظم جو بھی ہو تسلیم کرینگے۔میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ملک محاذآرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا لہٰذا سیاسی رہنما پانامہ فیصلے پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں، جمہوریت ڈی ریل ہونے سے نقصان ملک کا ہوگا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کے 12یو سی تاروجبہ قاسم کلے اورپی کے13 نوشہرہ کینٹ میں الگ الگ شمولیتی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کیا،قاسم کلے میں پی ٹی آئی کے سرکردہ رہنماؤں ذوالفقار علی، اعجاز خان ، ایاز خان، عنایت ، ربنواز،رضوان کامران اور دیگر نے جبکہ پی کے 13نوشہرہ کینٹ میں پیپلز پارٹی کی اہم سیاسی شخصیت نعمان الحق کاکا نے اپنے خاندان اور ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا،میاں افتخار حسین نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارکباد پیش کی ،اے این پی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے بھی پی کے 13 نوشہرہ کینٹ کے اجتماع میں خصوصی طور پر شرکت کی اور خطاب کیا ۔ اپنے خطاب میں میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے این پی کا پانامہ کے حوالے سے روز اول سے مؤقف واضح تھا ، ہم سپریم کورٹ کے ساتھ رہے اور اپنے مؤقف کے مطابق عدالتی فیصلہ قبول کیا اگر چہ اس پر پارٹی کے تحفظات ہیں، انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام چلتے رہنا چاہئے ، پانامہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکا ہے ،عدالتی فیصلے کے بعد ملک کے ان تمام دیگر اہم ترین مسائل پر توجہ دی جائے جو پانامہ کے شور میں دب گئے تھے،، انہوں نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں، سیاسی فیصلے پارلیمنٹ میں کئے جائیں اور پارلیمنٹ کے اختیارات عدالت کو نہ دیئے جائیں ، انہوں نے کہا کہ نوز شریف کے ساتھ فاٹا اور سی پیک سمیت کئی معاملات کے حوالے سے ہمارے اختلافات تھے ، تاہم اے این پی کا وطیرہ نہیں کہ وہ ملک کو عدم استخام کی جانب لے کر جائے ، جبکہ پانامہ کیس کے حوالے سے ہم نواز شریف یا عمران خان کے ساتھ نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے ساتھ تھے ، انہوں نے کہا کہ 2013کے الیکشن میں ہم نے جمہوریت کی بقاء کیلئے نتائج تسلیم کئے ،انہوں نے کہا کہ ہم نے جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی کیلئے ہر ممکن کوششیں اور مستقبل میں بھی ضرورت پڑی تو ہر قربانی دینگے۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ بدقسمتی سے ملکی تاریخ میں کبھی کسی وزیر اعظم نے اپنی آئینی مدت پوری نہیں کیاالبتہ موجودہ اسمبلی کو اپنی مدت پوری کرنی چاہئے اور اب جو بھی نیا وزیر اعظم نیا آئے گا ہم اسے تسلیم کریں گے،انہوں نے کہا کہ صوبے میں انتظامی امور اور امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے جبکہ وزیر اعلیٰ صوبے کے مسائل سے چشم پوشی اختیار کرتے ہوئے اسلام آباد میں اپنے لیڈر کیلئے تخت اسلام آباد کیلئے راہ ہموار کرنے کی کوششوں میں مگن ہیں، میاں افتخار حسین نے کہا کہ صوبائی حکومت کو اے این پی فوبیا ہو گیا ہے ،اور ترقیاتی کاموں کے حوالے سے صوبائی حکومت اے این پی پر تنقید کرتے نہیں تھکتی، انہوں نے کہا کہ حکمران اللہ کا شکر ادا کریں کہ اے این پی نے اپنے دور میں تاریخی ترقیاتی کام کئے ورنہ حکومت آج کن منصوبوں پر اپنے نام کی تختیاں لگاتی ؟ انہوں نے کہا کہ اب اپنی رخصتی کے وقت پی ٹی آئی کی حکومت کو صوبے کی یاد آ گئی جبکہ گزشتہ چار سال تک یہ لوگ عوام سے غافل اور غائب ہو چکے تھے،انہوں نے کہا کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں کا بیڑہ غرق ہو چکا ہے ، صحت کارڈ کے نام پر غریبوں کو صحت جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہو چکے ہیں جبکہ تعلیم کے شعبہ میں میٹرک کا رزلٹ حکومتی کارکردگی کا پول کھولنے کیلئے کافی ہے ،انہوں نے کہا کہ عمران خان فیس بک اور ٹوئٹر کی دنیا سے نکل کر پختونخوا کی حالت زار کو حقیقت کی نگاہ سے دیکھیں۔
میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور میں صوبے کی جو خدمت کی وہ تایخ کا حصہ ہے،انہوں نے کہا کہ 2018اے این پی کا سال ہے اور الیکشن میں کامیابی کے بعد صوبے کی خدمت کا سلسلہ عوام کے تعاون سے دوبارہ شروع کریں گے۔

عدالتی فیصلہ تحفظات کے باوجود قبول ہے، پارلیمنٹ کے اختیارات جوڈیشری کو نہ دیئے جائیں ،اسفندیار ولی خان 

 July 2017  Comments Off on عدالتی فیصلہ تحفظات کے باوجود قبول ہے، پارلیمنٹ کے اختیارات جوڈیشری کو نہ دیئے جائیں ،اسفندیار ولی خان 
Jul 292017
 

29.07.2014

عدالتی فیصلہ تحفظات کے باوجود قبول ہے، پارلیمنٹ کے اختیارات جوڈیشری کو نہ دیئے جائیں ،اسفندیار ولی خان 
پانامہ اپنے منطقی انجام کو پہنچا ،عدالتی فیصلے کے بعد ان اہم ترین مسائل پر توجہ دی جائے جو پانامہ کے شور میں دب گئے تھے۔
سیاستدان سیاسی تنازعات پیدا کرنے سے گریز کریں کیونکہ ملک اس وقت مزید محاذآرائیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔
جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی کیلئے ہر ممکن کوششیں کیں اور مستقبل میں بھی ضرورت پڑی تو ہر قربانی دینگے۔
 آئین کے آرٹیکل 62اور 63کے ہم مخالف نہیں ہیں تاہم اسے اس کی 73والی اصل روح کے مطابق بحال کیا جائے ۔
 نواز شریف نے 62اور63میں ضیاء الحق کی ترامیم ختم کرنے کی مخالفت کی تھی اور آج وہ اسی کے ہاتھوں گھر چلے گئے ۔
 نواز شریف کے ساتھ کئی اہم معاملات پر اختلافات تھے جن میں فاٹا اور سی پیک سر فہرست ہیں لیکن ہم عدم استحکام کی جانب نہیں گئے۔
اسمبلی کو اپنی مدت پوری کرنی چاہئے، بلور ہاؤس پشاور میں مشاورتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے پانامہ پر عدالتی فیصلے کو تحفظات کے باوجود قبول کرتے ہوئے سیاستدانوں سے اپیل کی ہے کہ سیاسی تنازعات پیدا کرنے سے گریز کریں کیونکہ ملک اس وقت مزید محاذآرائیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلور ہاؤس پشاور میں پارٹی کی مشاورتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں، سیاسی فیصلے پارلیمنٹ میں کئے جائیں اور پارلیمنٹ کے اختیارات جوڈیشری کو نہ دیئے جائیں ، انہوں نے کہا کہ جمہوریت ڈی ریل کی گئی تو نقصان ملک کا ہو گا، اس لئے جمہوری نظام چلتے رہنا چاہئے ،انہوں نے کہا کہ پانامہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکا ہے ،عدالتی فیصلے کے بعد ملک کے ان تمام دیگر اہم ترین مسائل پر توجہ دی جائے جو پانامہ کے شور میں دب گئے تھے، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ ہمارے بھی نواز شریف کے ساتھ کئی اہم معاملات پر اختلافات تھے جن میں فاٹا اور سی پیک سر فہرست ہیں تاہم اے این پی نے کبھی ان سے استعفی کا مطالبہ نہیں کیا اور نہ ہی ہم کبھی عدم استحکام کی جانب گئے ہم نواز شریف یا عمران خان کے ساتھ نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے ساتھ تھے ،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 2013کے الیکشن میں ہم نے تحفظات کے باوجود نتائج اس لئے تسلیم کئے تاکہ جمہوریت کو نقصان نہ پہنچے اور اب بھی عدالتی فیصلہ تحفظات کے باوجود تسلیم کرتے ہیں،انہوں نے کہا کہ ہم نے جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی کیلئے ہر ممکن کوششیں اور مستقبل میں بھی ضرورت پڑی تو ہر قربانی دینگے۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 62اور 63کے ہم مخالف نہیں ہیں تاہم اسے اس کی 73والی اصل روح کے مطابق بحال کیا جائے ،اور جو ترامیم اس میں ضیاء الحق نے کیں انہیں ختم کیا جائے ، انہوں نے کہا کہ نواز شریف ہی وہ سیاستدان تھے جنہوں نے ضیاء الحق کی طرف سے کی جانے والی 62اور63میں ترامیم ختم کرنے کی مخالفت کی تھی اور آج وہ اسی کے ہاتھوں گھر چلے گئے،انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ملکی تاریخ میں کبھی کسی وزیر اعظم نے اپنی آئینی مدت پوری نہیں کی،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسمبلی کو اپنی مدت پوری کرنی چاہئے اور اب جو بھی وزیر اعظم نیا آئے گا ہم اسے تسلیم کریں گے،انہوں نے کہا کہ اے این پی نے کبھی نہیں چاہا کہ وہ عوام کے فیصلوں پر اپنا فیصلہ مسلط کرے ہم آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے تمام معاملات طے کرنے کے حامی ہیں۔آئندہ الیکشن کے حوالے سے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ اے این پی الیکشن کیلئے تیار ہے اور کسی کیلئے میدان کھلا نہیں چھوڑے گی،انہوں نے کہا کہ پارٹی کا نیا انتخابی منشور تیاری کے مراحل میں ہے اور اس کی تیاری کا عمل جلد مکمل کر لیا جائے گا۔ 
قبل ازیں اے این پی کی مشاورتی کمیٹی کا اجلاس بلور ہاؤس میں مرکزی صدر اسفندیار ولی خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں پانامہ پر عدالتی فیصلے کے بعد بننے والی صورتحال سمیت ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تفصیلی غور وخوض کیا گیا ۔

پی ٹی آئی میں دراڑ پڑچکی، سب کی کرپشن کھل کر سامنے آنے والی ہے

 July 2017  Comments Off on پی ٹی آئی میں دراڑ پڑچکی، سب کی کرپشن کھل کر سامنے آنے والی ہے
Jul 282017
 

پی ٹی آئی میں دراڑ پڑ چکی ، سب کی کرپشن کھل کر سامنے آنے والی ہے،میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ پانامہ پر عدالتی فیصلہ آ چکا ہے اور امید ہے کہ اب ملک خصوصاً خیبر پختونخوا میں امن و امان اور انتظامی مسائل پر توجہ دی جائے گی، اے این پی کا اس حوالے سے روز اول سے ہی مؤقف واضح تھا تاہم ملی قائد اسفندیار ولی خان اس حوالے سے کل پارٹی کی مشاورتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس بریفنگ میں مزید تفصیلات بیان کریں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ناصر کلے اور کندی تازہ دین میں ایک بڑے شمولیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر غنی الرحمان اور قیصر علی کی قیادت میں درجنوں افراد نے پی ٹی آئی سے مستعفی ہو کر اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ، میاں افتخار حسین نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ صوبہ انتہائی گھمبیر مسائل میں گھر چکا ہے تمام ادارے مفلوج ہو چکے ہیں اور صوبائی حکومت کی اپنی جماعت میں ہی پھوٹ پڑ چکی ہے جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے حکومت پے در پے غلطیاں کر رہی ہے،اور بجٹ میں جن سکیموں کا اعلان کیا گیا ان کیلئے نہ صرف فنڈز نہیں رکھے گئے بلکہ کئی منصوبوں سے وزیر خزانہ خود بے خبر ہیں،انہوں نے کہا کہ صوبے میں صرف نمود و نمائش کیلئے سکیمیں دی جارہی ہیں اور ان سکیموں کو الیکشن کیلئے سیاسی رشوت کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔صوبے کے فنڈز کو ذاتی جاگیر سمجھ کر ذاتی پسند و نا پسند کی بنیاد پر خرچ کیا جا رہا ہے جو قابل گرفت اقدام ہے اور اس اقدام پر ان کا احتساب ہونا چاہئے، انہوں نے کہا کہ خیبر بنک سکینڈل پر وزیر اعلیٰ اور وزراء کے درمیان اختلافات ہیں اسی طرح کئی وزیر کرپشن سے متعلق برملا الزامات لگا رہے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی میں دراڑ پڑ چکی ہے اور اب سب کی کرپشن کھل کر سامنے آنے والی ہے،انہوں نے کہا کہ صوبے میں تعلیمی نظام مفلوج ہو چکا ہے حالیہ میٹرک کے نتائج تعلیمی ایمرجنسی کے اعلانات پر سوالیہ نشان ہیں ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ صحت کے شعبہ میں بھی حکومت اصلاحات کرنے میں ناکام رہی جبکہ غریب عوام سے سستے علاج کی سہولیات تک چھیں لی گئیں انہوں نے کہا کہ ہسپتال کے آپریشن تھیٹر کی چھت لیکج کے معاملے پر حکومت کی ناقص کارکردگی کو ویڈیو کے ذریعے عوام کے سامنے لانے والوں کو معطل کر دیا گیا، میاں افتخار حسین نے کہا کہ اب عوام اور میڈیا پانامہ کے سحر سے نکل کر خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے مسئلے پر توجہ دیں،اپنے دورہ لاہور کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لاہور جانے کا مقصد یہی تھا کہ ہم وہاں دھماکے کے زخمیوں اور شہداء کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں ، اور دہشت گردی جہاں کہیں بھی ہو ہم اس کے خلاف ہیں ، انہوں نے کہا کہ دہشت گرد نہ تو پنجابی ہے ۔ نہ بلوچی ، نہ سندھی اور نہ ہی پختون ، دہشت گرد صرف دہشت گرد ہے اور اس کا کسی نظریے اور مذہب سے کوئی تعلق نہیں،انہوں نے کہا کہ سانحہ اے پی ایس کے بعد بڑی مشکل سے ہمیں ایک 20نکاتی متفقہ ایجنڈا ملا لیکن بد قسمتی سے اس پر عمل درآمد نہیں ہوا جس کی وجہ سے دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہو سکا ،انہوں نے کہا کہ حکومت اس کی ذمہ دار تھی اگر نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد نہیں ہو سکتا تھا تو حکمرانوں کو بتانا چاہئے تھا کہ رکاوٹ کہا ہے اور اس پر نظر ثانی کر کے دوبارہ سے قابل عمل بنانا چاہئے تھا،انہوں نے کہا کہ یہ ایک مائنڈ سیٹ کی جنگ ہے اور دہشت گردی کا خاتمہ کئے بغیر خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ملک کی خارجہ و داخلہ پالیسیاں تبدیل اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات کے بغیر مقاصد حاصل نہیں ہو سکتے ،انہوں نے کہا کہ نواز شریف تو اب سابق وزیر اعظم ہو چکے ہیں کتنا ہی اچھا ہوتا اگر وہ سی پیک پر ہمارے ساتھ کئے گئے وعدے پورے کر لیتیاور پختونوں کو ان کا حق مل جاتا ، انہوں نے کہا کہ اے این پی اس اہم ایشو پر اپنے مؤقف پر ڈٹی رہے گی آخر میں انہوں نے کہا کہ ملک کسی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا اور ملکی استحکام کیلئے جمہوریت کی گاڑی کو چلتا رہنا چاہئے