صوبائی حکومت کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ، سوات میں قیام امن اے این پی کا تاریخی کارنامہ ہے، امیر حیدر خان ہوتی

 Sept 2017  Comments Off on صوبائی حکومت کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ، سوات میں قیام امن اے این پی کا تاریخی کارنامہ ہے، امیر حیدر خان ہوتی
Sep 212017
 

سوات میں جلسہ

صوبائی حکومت کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ، سوات میں قیام امن اے این پی کا تاریخی کارنامہ ہے، امیر حیدر خان ہوتی

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ سوات میں امن کے قیام کا سہرا اے این پی کے سر ہے اور اس امن کیلئے اے این پی نے بیش بہا قربانیاں دی ہیں جنہیں تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کے80مکان باغ سوات میں ایک بڑے اور عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں حکومت نہیں بلکہ جہاد کیا تھا ، دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی اور ایک ہزار سے زائد رہنماؤں اور کارکنوں کی قربانی دی تاکہ صوبے کے عوام سکھ کا سانس لے سکیں ، انہوں نے کہا کہ سوات آپریشن کے بعد جو آئی ڈی پیز نکل مکانی کر گئے ان کی جلد اور باعزت گھروں کو واپسی ممکن بنائی اور ان کی عزت نفس مجروح نہیں ہونے دی ، اسی طرحسیلاب کی صورتحال کا سامن بھی کرنا پڑا لیکن ہم نے ہمت نہیں ہاری اور تمام حالات کا مقابلہ کیا ، انہوں نے کہا کہ آج سوات میں جو امن قائم ہے اس کا سہرا اے این پی کے سر ہے ، امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ منگورہ کا بائی پاس بنا کر علاقے کو تباہی سے بچایا اور تعلیمی اداروں کا قیام ممکن بنایا تاکہ عوام کو دوسرے شہر جا کر صعوبتیں برداشت کرنے سے نجات مل سکے،جبکہ سوات میں بچوں اور بچیوں کے سکول جانے پر پابندی لگائی گئی تھی لیکن دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہوئے ، امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ صوبائی حکومت نے گزشتہ چار سال میں خیبر پختونخوا کا حلیہ بگاڑ دیا ہے، اور جتنے قرضے اس حکومت نے لئے ہیں صوبے کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی ، انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام کو جھوٹے وعدوں سے ورغلایا گیا تاہم پی ٹی آئی حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے ،2018کے انتخابات میں تبدیلی والوں کو اپنے قد کاٹھ کا اندازہ ہوجائے گا۔ امیر حیدر خان ہوتی نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ پختونوں سے ووٹ لے کر پنجاب کی سیاست کی جا رہی ہے اور خیبر پختونخوا کے عوام اور اُن کے مسائل کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پنجاب کے اورنج اورمیٹرو ٹرین سے خیبرپختون خوا کے غریب بچوں کو کوئی فائدہ نہیں ،مسائل اور مصائب سے نکلنے کے لئے پختونوں میں قوم پرستی کا جذبہ بیدار کرناہوگا۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے صحت کے شعبہ کو تباہ کر دیا ہے اور اب محکمہ تعلیم بھی وینٹی لیٹر پر ہے ، سرکاری کالجوں کی نجکاری کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے ، صوبائی صدر نے کہا کہ حکومت نے اپنے دور میں مفاد عامہ سے غافل رہی اور عوام کیلئے کوئی بھی میگا پراجیکٹ شروع کرنے کی بجائے ہمارے منصوبوں پر تختیاں لگاتی رہی ۔ انہوں نے کہاکہ 2013ء کے انتخابات میں اے این پی کا مینڈیٹ چوری کیاگیالیکن اب پختون قوم بیدار ہوچکی ہے اورآئندہ انتخابات میں وہ اپنے ساتھ دھوکہ کرنے والوں کو ووٹ کے ذریعے مسترد کر دے گی۔

جینا مرنا اے این پی کے ساتھ ہے ، مخالفین اپنی ناؤ کی فکر کریں ، زاہد خان

 Sept 2017  Comments Off on جینا مرنا اے این پی کے ساتھ ہے ، مخالفین اپنی ناؤ کی فکر کریں ، زاہد خان
Sep 212017
 

جینا مرنا اے این پی کے ساتھ ہے ، مخالفین اپنی ناؤ کی فکر کریں ، زاہد خان

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان زاہد خان نے کہا ہے کہ میرا جینا مرنا اے این پی کے ساتھ ہے اور کبھی اے این پی کو چھوڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ، مخالفین میرے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کی بجائے آنے والے انتخابات کی تیاری کریں۔ سیاست چھوڑ سکتا ہوں مگر اے این پی کو چھوڑنے کا تصور نہیں کر سکتا ، سوشل میڈیا پر اپنے حوالے سے جاری افواہوں پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے مقامی میڈیا نمائندوں کے ساتھ لندن سے ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے زاہد خان نے کہا کہ وہ گزشتہ دو ہفتوں سے اپنے بیمار بیٹے کے علاج کی غرض سے لندن میں مقیم ہیں اور 30ستمبر کو وطن واپس آئینگے۔انہوں نے ان افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس بار لندن قیام کے دوران ان کی میاں نواز شریف سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 40برس سے عوامی نیشنل پارٹی کے پلیٹ فارم سے عملی سیاست میں حصہ لے رہا ہوں، پختونوں کے حقوق کے حصول اور دہشت گردوں کا سامنا کرتے ہوئے میری پارٹی، قائدین، کارکنان اور میرے خاندان نے عظیم قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علاقہ کی تعمیر و ترقی کے لیے پہلے بھی جدوجہد کی ، اب بھی جاری رہے گی، مخالفین میری عدم موجودگی میں میرے خلاف پارٹی چھوڑنے کے حوالے سے پروپیگنڈہ کرنے میں مصروف ہیں، جن عناصر نے دروغ گوئی پر مبنی مہم چلائی ہے ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کروں گا، انہوں نے کہا کہ وہ پارٹی قیادت کے حکم پر حلقہ این اے 34دیر لوئیر سے اگلے عام انتخابات میں پارٹی کے امیدوار ہونگے، کارکنان کسی بھی پروپیگنڈے پر کان نہ دھریں، اگلے عام انتخابات میں اے این پی واضح قوت بن کر ابھرے گی۔

گیند حکومت کے کورٹ میں ہے، فاٹا انضمام کا جلد اعلان کیا جائے، میاں افتخار حسین

 Sept 2017  Comments Off on گیند حکومت کے کورٹ میں ہے، فاٹا انضمام کا جلد اعلان کیا جائے، میاں افتخار حسین
Sep 212017
 

گیند حکومت کے کورٹ میں ہے، فاٹا انضمام کا جلد اعلان کیا جائے، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ فاٹا پاکستان کا حصہ ہے اور اے این پی قبائلی عوام کی جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی ، فاٹا میں مردم شماری نئے سرے سے کرا کر این ایف سی ایوارڈ میں قبائلی عوام کو ان کا جائزحصہ دیا جائے ،موجودہ بین الاقوامی صورتحال میں حکومت کا سیاسی بیانیہ کمزور دکھائی دے رہا ہے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے خٹک نامہ سپین خاک میں ایک بڑے شمولیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر اہم سیاسی شخصیت خالد خٹک اور ان کے 63سے زائد ساتھیوں نے اپنے خاندانوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ، میاں افتخار حسین نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں تدبرانہ فیصلے پر خراج تحسین پیش کیا ،اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ اے این پی میں جوق در جوق شمولیتیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ عوام کی اکثریت نے صوبائی حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا ہے اور وہ مستقبل میں اپنے حقوق کا محافظ اے این پی کو ہی تصور کرتی ہے ،سیاسی صورتحال کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اے این پی کا فاٹا انضمام کے حوالے سے مؤقف واضح ہے اور اب گیند حکومت کے کورٹ میں ہے وزیر اعظم شاہد خاقان قبائلی عوام کی امنگوں کے مطابق فاٹا کے صوبے میں انضمام کا اعلان جلد از جلد کر دیں ، انہوں نے کہا کہ صوبے کی صورتحال مخدوش ہو چکی ہے اور تمام محکمے مفلوج کر دیئے گئے ہیں جس کا سہرا موجودہ حکومت کے سر جاتا ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ تعلیمی ایمرجنسی کا پول میٹرک کے نتائج نے کھول دیا جبکہ ڈینگی نے آ کر صحت کے انصاف کی حقیقت بھی آشکارا کر دی ، انہوں نے کہا کہ چار سال بلین سونامی ٹری میں مصروف حکومت نے اربوں روپے کی کرپشن صرف پودوں کی خریداری میں کی ہے ، خزانہ خالی ہو چکا ہے اور سرکاری ملازمین کے پنشن و جی پی فنڈ سے صوبے کے معاملات چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت عمران کے کزن نوشیروان کو ٹھیکہ پر دے دیا گیا ہے جو بیرون ملک سے ویڈیو لنک کے ذریعے محکمہ کو چلا رہا ہے ، ہمارے سیکرٹری و ڈائریکٹر ہیلتھ اتنے نا اہل تھے کہ محکمہ کسی اور کے حوالے کر دیا گیا ، انہوں نے کہا کہ چار سال تک حکومت صرف اے این پی کے منصوبوں پر تختیاں لگا کر فنڈز بٹورتی رہی لیکن عوام کو کوئی میگا پراجیکٹ نہیں دیا ،اب باقی چہیتوں کو نوازنے کیلئے سرکاری کالجوں کی نجکاری کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور میں صوبے کے حوالے سے جو انقلابی اقدامات کئے ،دنیا اس کی معترف ہے ، البتہ موجودہ دور کی کرپشن بھی تاریخ کا حصہ ضرور بنے گی، انہوں نے کہا کہ مستقبل اے این پی کا ہے اور آئندہ الیکشن میں کامیابی کے بعد عوام کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

امن کے دشمنوں کو شکست دینے کیلئے تعلیم سے بڑا کوئی ہتھیار نہیں، سردار حسین بابک

 Sept 2017  Comments Off on امن کے دشمنوں کو شکست دینے کیلئے تعلیم سے بڑا کوئی ہتھیار نہیں، سردار حسین بابک
Sep 202017
 

امن کے دشمنوں کو شکست دینے کیلئے تعلیم سے بڑا کوئی ہتھیار نہیں، سردار حسین بابک
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ امن کے دشمنوں کو شکست دینے کیلئے تعلیم سے بڑا کوئی ہتھیار نہیں،قیام امن کے بغیر کسی بھی ملک کی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ، اے این پی نے امن کے قیام کیلئے جو قربانیاں دی ہیں وہ تاریخ کا حصہ ہیں اور وہ دن دور نہیں جب ان قربانیوں کے نتیجے میں دھرتی امن کا گہوارہ بن جائے گی ، 21ستمبر عالمی یوم امن کے حوالے سے اپنے ایک بیان میں سردار حسین بابک نے کہا کہ امن کے بغیر ترقی ناممکن ہے اور امن کو یقینی بنانے کیلئے سب نے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ بدامنی نے ہماری معیشت کو تباہ کر دیا ہے لہٰذا اب وقت آچکا ہے کہ بدامنی کے اس ناسور کو ختم کرنے کیلئے مصلحتوں اور ’’ اگر مگر ‘‘ کی پالیسی سے نکلنا ہوگا۔ اُنہوں نے کہا کہ ملک اور خصوصاً خیبر پختونخواو قبائلی علاقہ جات میں بدامنی نے پختونوں کو بے پناہ نقصان پہنچایا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ فخر افغان باچا خان اور ان کے ساتھیوں نے عدم تشدد سے محبت اور تشدد سے نفرت کا درس دیا ہے۔ اور اسی فلسفے پر عمل پیرا ہو کر اے این پی نے ہر دور میں امن کے قیام کیلئے لازوال قربانیاں دی ہیں اور اب تک اپنی جدوجہد جاری رکھی ہوئی ہے۔سردار حسین بابک نے کہا کہ امن کے قیام کیلئے سیکیورٹی فورسز ، سول سوسائٹی ، میڈیا اور عوام کی قربانیاں بھی قابل ستائش ہیں تاہم امن کے قیام کیلئے یک آواز ہونا پڑے گا اور تعلیم کو عام کرکے شرپسندقوتوں کو مؤثر جواب دینا پڑے گا تاکہ عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری دھرتی پر امن کو سب سے زیادہ خطرہ دہشتگردی سے ہے۔ جب تک دہشتگردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا تب تک مکمل امن کا قیام نا ممکن ہے۔اُنہوں نے کہا کہ امن کے عالمی دن کی مناسبت سے دُنیا کے تمام ممالک کو دُنیا کے کونے کونے میں امن کے قیام کیلئے سنجیدہ اقدامات اُٹھانے ہونگے، ہمارے خطے میں طویل عرصہ سے امن ناپید ہے لہٰذا یہ سب سے اہم اور بنیادی مسئلہ سمجھ کر تمام سیاسی پارٹیوں اور تمام مکتبہ فکر کے لوگ اپنے نظریات سے بالا تر ہو کر امن کے قیام کیلئے جدوجہد کریں۔کیونکہ اس موقع پر ملک کسی بھی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

عوامی نیشنل پارٹی نے فاٹا میں کی گئی مردم شماری مسترد کر دی

 Sept 2017  Comments Off on عوامی نیشنل پارٹی نے فاٹا میں کی گئی مردم شماری مسترد کر دی
Sep 192017
 

پریس بریفنگ

عوامی نیشنل پارٹی نے فاٹا میں کی گئی مردم شماری مسترد کر دی۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی نے فاٹا میں کی جانے والی مردم شماری کو یکسر مسترد کرتے ہوئے تمام قبائلی علاقوں میں از سر نو مردم شماری کا مطالبہ کیا ہے ، باچا خان مرکز میں اے این پی کی مرکزی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا کو پریس بریفنگ دیتے ہوئے پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا کہ مرکزی حکومت وضاحت کرے گزشتہ مردم شماری کے بعد آج تک وزیرستان کی آبادی بڑھنے کی بجائے کم کیسے ہو گئی مردم شماری نئے سرے سے کرا کے قبائلی عوام کو این ایف سی ایوارڈ میں ان کا جائز حصہ دیا جائے ، انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام پاکستان کا حصہ ہیں لیکن ان پر آج تک انگریز کا کالا قانون ایف سی آر لاگو ہے،ملکی تجارت میں قبائلی عوام کی70فیصد شرکت ہے اور وہ ٹیکس بھی حکومت پاکستان کو دیتے ہیں لیکن بنیادی حقوق سے ان کی محرومی کسی کو دکھائی نہیں دیتی،انہوں نے کہا کہ اے این پی نے اس حوالے سے کامیاب اے پی سی منعقد کی تاہم یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ چترال سے بولان تک پختونوں کی وحدت کے نعرے لگانے والے فاٹا کے معاملے پر کیوں مخالفت کر رہے ہیں،اے این پی انگریز کی کھینچی گئی لکیر مٹا کے پختونوں کو ایک یونٹ پر متحد کرے گی، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ سی پیک کے حوالے سے وزیر اعلیٰ کے بیان سے ہمارے خدشات درست ثابت ہوئے اوراب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ خیبر پختونخوا کو سی پیک سے مکمل طور پر باہر کر دیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ سی پیک اور فاٹا پر نفرت اور بد گمانیاں پیدا ہونے سے نقصان ملک کا ہو گا ، انہوں نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے مطالبہ کیا کہ نواز شریف نے پختونوں کے ساتھ سی پیک اور فاٹا کے حوالے سے جو وعدے کئے ان پر فوری عمل درآمد کیا جائے ، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کا امن ایک دوسرے سے مشروط ہے اور مترقی افغانستان کے بغیر مترقی پاکستان کا تصور ممکن نہیں،دونوں ملکوں کے درمیان بداعتمادی دور کر کے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا جائے ،انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اشرف غنی کی جانب سے مذاکرات کے عندیہ کے باوجود حکومت پاکستان نے اس پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا اور انتہائی اہم ایشو پر حکمرانوں کی خاموشی از خود ایک سوالیہ نشان ہے ، انہوں نے کہا کہ ملک کی پالیسیاں ناکم ہو چکی ہیں اور داخلہ و خارجہ پالیسیاں ری وزٹ کرنے کی ضرورت ہے،انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اپنے چار میں سے تین ہمسایوں کے ساتھ تعلقات خراب ہیں اور اب تو چین کا بھی موڈ بدلا دکھائی دے رہا ہے جس کے بعد نئی سمت کا تعین کرنا لازمی ہو چکا ہے کیونکہ ٹرمپ کی پالیسی پاکستان اور افغانستان کیلئے تباہ کن ہو گی ، ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قومی حکومت کی تشکیل اور انتخابات کے التوا کی افواہوں سے نقصان ہو گا ،اور قوم اب مزید کسی مارشل لاء کی متحمل نہیں ہو سکتی،انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ با اختیار ہو تو ملک میں مارشل لاء کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ،ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شدت پسندی میں ملوث تنظیمیں اپنے گناہ قبول کر کے توبہ کریں اور سیاسی دھارے میں شامل ہونا چاہیں تو تو کوئی مضائقہ نہیں البتہ خفیہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہونی چاہئے، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ مسلم لیگ ن اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی پر گامزن ہے اور اس پالیسی سے سب سے زیادہ نقصان مسلم لیگ اور نواز شریف کو ہی ہوگا ،اے این پی نے نواز لیگ تک پیغام پہنچا دیا تھا کہ اداروں سے ٹکراؤ ملکی مفاد میں نہیں اور ملکی و بین الاقوامی صورتحال کے پیش نظر ملک اور جمہوریت کے مفاد میں قومی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کی فضا از حد ضروری ہے،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کپتان کی ناجربہ کاری نے صوبے کا حالت بگاڑ دی اور تمام محکمے زبوں ھالی کا شکار ہیں ، انہوں نے کہا کہ صحت کے بعد تعلیم کے محکمہ بھی آخری سانسیں لے رہا ہے جبکہ پی ٹی آئی نے صوبے کو تجربہ گاہ سمجھتے ہوئے خیبر پختونخوا کے محکموں کو اپنے چہیتوں کو نوازنے کیلئے استعمال کیا ، انہوں نے کہا کہملک میں عدم برداشت کی مادہ سرایت کر چکا ہے جو خطرے کی گھنٹی ہے کسی بھی معاشرے میں جب برداشت ختم ہو جائے تو یہ اس ملک کے زوال کی جانب پہلی کڑی ہوتی ہے ، قبل ازیں اے این پی کی مرکزی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ این اے 4کے ضمنی الیکشن پر گہری نظر ہے اور یہ الیکشن آئندہ عام انٹخابات کیلئے راہ متعین کرے گا۔

کارکن الیکشن کی تیاری کریں ، مستقبل اے این پی کا ہے، میاں افتخار حسین 

 Sept 2017  Comments Off on کارکن الیکشن کی تیاری کریں ، مستقبل اے این پی کا ہے، میاں افتخار حسین 
Sep 182017
 

کارکن الیکشن کی تیاری کریں ، مستقبل اے این پی کا ہے، میاں افتخار حسین 

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ نواز شریف اور عمران خان پختونوں سے مخلص نہیں اور دونوں کے درمیان جنگ صرف تخت اسلام آباد کیلئے ہے، کپتان نے پنجاب کے ووٹ بنک کیلئے پختونوں کے حقوق کو پس پشت ڈال کر صوبے کو نظر انداز کر دیا ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے این اے 4کے ضمنی الیکشن کے سلسلے میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،اس موقع پر سینئر رہنما عبدالطیف آفریدی ایڈوکیٹ، ارباب محمد طاہر خان خلیل اور ارباب مجیب الرحمان سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا، انہوں نے مزید کہا کہ اب پی ٹی آئی اپنی ناقص کارکردگی کی بنیاد پر عوام میں اپنی مقبولیت کھو چکی ہے اور عوام جان گئے ہیں کہ ان کے حقوق کا تحفظ اے این پی کے بغیر کوئی جماعت نہیں کر سکتی ،انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ اور پی ٹی آئی کا گٹھ جوڑ صرف پختونوں کے حقوق پر سودے بازی کیلئے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ این اے 4اے این پی کا گڑھ ہے اور ہمیشہ کی طرح اس بار بھی اے این پی اس حلقے سے بھرپور کامیابی حاصل کرے گی ، انہوں نے کہا کہ پختون قوم اب بیدار ہو چکی ہے اور اپنے حقوق کیلئے اسفندیار ولی خان کی قیادت میں سرخ جھنڈے تلے متحد ہو چکی ہے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی واحد جماعت ہے جس کا مقصد حصول اقتدار نہیں بلکہ عوامی خدمت ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ پی ٹی آئی والے اے این پی پر الزامات لگانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں ، اور قوم کو بتائیں کہ انہوں نے چار سال میں کون سا تیر مارا ہے ، تبدیلی کے نام پر آنے والے صوبے کا پرانا نظام بھی لے ڈوبے اور نیا نظام بھی نہ دے سکے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ صوبے میں کرپشن مافیا کا راج ہے اور آئے روز میڈیا میں ان کی کرپشن کہانیاں قوم کے سامنے آ رہی ہیں،صوبہ شہر نا پُرسان میں تبدیل ہو چکا ہے ، خزانہ لوٹ لیا گیا ہے اور بیرونی دنیا سے اتنے قرضے لئے گئے ہیں کہ اب انہیں چکانے کیلئے آنے والی حکومتوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا،انہوں نے کہا کہ کپتان کشکول توڑنے کے وعدے کرتے رہے لیکن اب چار سال میں کشکول اتنا گھمایا کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی، انہوں نے مزید کہا کہ احتساب کمیشن صرف سیاسی مخالفین کی پگڑیاں اچھالنے کیلئے بنایا گیا اوراب حکمران اے این پی کی مقبولیت میں اضافے سے بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، مرکزی سیکرٹری جنرل نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ آئندہ الیکشن کیلئے اپنی بھرپور تیاریاں جاری رکھیں اور آنے والا دور ایک بار پھر اے این پی کا ہو گا۔

ٹکٹ کیلئے درخواستیں جمع کرانے کی تاریخ میں30ستمبر تک توسیع کر دی گئی 

 Sept 2017  Comments Off on ٹکٹ کیلئے درخواستیں جمع کرانے کی تاریخ میں30ستمبر تک توسیع کر دی گئی 
Sep 182017
 

ٹکٹ کیلئے درخواستیں جمع کرانے کی تاریخ میں30ستمبر تک توسیع کر دی گئی 

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اور پارلیمانی بورڈ کے چیئرمین امیر حیدر خان ہوتی نے آئندہ انتخابات کیلئے درخواستوں کی وصولی کیلئے مقرر کردہ تاریخ میں 30ستمبر تک توسیع کر دی ہے، امیر حیدر خان ہوتی نے پارٹی کے ساتھیوں کے اصرار اور ان کی غیر متوقع دلچسپی کی وجہ سے درخواستوں کی وصولی کی تاریخ میں توسیع کی ہے ۔یاد رہے اس سے قبل آخری تاریخ 15ستمبر مقرر کی گئی تھی ۔