پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کیلئے صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کے قیام کا اعلان

 April-2016, May-2016  Comments Off on پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کیلئے صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کے قیام کا اعلان
May 022016
 

مورخہ : 2.5.2016 بروز پیر

ایمل ولی خان کا پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کیلئے صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کے قیام کا اعلان
کمیٹی سات ارکان پر مشتمل ہے۔ توحید داؤد زئی چیئرمین جبکہ ارمان بیٹنی سیکرٹری مقرر
کمیٹی پختون ایس ایف کی فارم سازی سمیت اضلاع اور صوبے کی سطح پر تنظیم سازی کے عمل کو یقینی بنائے گی۔

پشاور (پریس ریلیز) پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی ایڈوائزر ایمل ولی خان نے پختون ایس ایف کیلئے صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کا اعلان کر دیا ہے جوکہ سات ارکان پر مشتمل ہے۔
پیر کے روز اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ بیان کے مطابق ایمل ولی خان نے جن ارکان پر مشتمل آرگنائزنگ کمیٹی قائم کی ہے اُن میں توحید داؤزئی چیئرمین (پشاور ڈویژن) ، ارمان بیٹنی سیکرٹری (کوہاٹ ڈویژن) ، ظہور خان ممبر ڈی آئی خان ڈویژن، فہیم خان ممبر بنوں ڈویژن ، صدام ممبر ہزارہ ڈویژن ، جنید خان ممبر ملاکنڈ ڈویژن اور ساجد یوسفزئی ممبر مردان ڈویژن شامل ہیں۔
آرگنائزنگ کمیٹی کے یہ ارکان پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کی فارم سازی کریں گی ، ضلعی تنظیموں کا قیام عمل میں لائے گی ، تنظیم کو منظم کرے گی اور اس تمام پراسس کے نتیجے میں پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کی نئی تنظیموں کے قیام کو حتمی شکل دے گی۔

صوبے اور قومیتوں کے حقوق پر باچا خان ٹرسٹ ریسرچ سنٹر اور باچا خان ایجوکیشنل فاؤنڈیشن کا سیمینار

 April-2016, PRs-2016  Comments Off on صوبے اور قومیتوں کے حقوق پر باچا خان ٹرسٹ ریسرچ سنٹر اور باچا خان ایجوکیشنل فاؤنڈیشن کا سیمینار
Apr 302016
 

مورخہ30 اپریل2016ء بروز ہفتہ

پشاور میں صوبے اور قومیتوں کے حقوق پر باچا خان ٹرسٹ ریسرچ سنٹر اور باچا خان ایجوکیشنل فاؤنڈیشن کا سیمینار
اے این پی کے مرکزی قائدین اور قوم پرست دانشوروں کا اٹھارویں ترمیم اور دیگر اقدامات پر عمل درآمد نہ ہونے پر شدید تحفظات کا اظہار
کسی کو بھی اٹھارویں ترمیم کو ناکام بنانے یاختم کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔بشریٰ گوہر
پاکستان کی سلامتی اور استحکام ایسے فیڈریشن سے وابستہ ہے جس میں تمام قومیتوں اور صوبوں کو ان کے حقوق حاصل ہو۔ افراسیاب خٹک

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی قائدین اور قوم پرست دانشوروں نے قومیتوں اور صوبوں کے حقوق اور مفادات کو درپیش خطرات ، جذبات اور بعض قوتوں کے منفی عزائم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ ماضی کی غلطیوں کے نتائج اور اثرات کے باوجود ملک کے بااختیاراور مقتدر حلقے اب بھی صوبہ کش پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں تاہم کسی کو بھی اٹھارویں ترمیم سمیت بعض دیگر آئینی اور سیاسی اقدامات کو سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ بیان کے مطابق ہفتہ کے روز پشاور میں باچا خان ٹرسٹ ریسرچ سنٹر اور باچا خان ٹرسٹ ایجوکیشنل فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ’’ پختونخوا کا تناظر اور مستقبل ‘‘ کے موضوع پر ایک سیمینار کا انعقاد ہوا جس سے اے این پی کے مرکزی نائب صدر بشریٰ گوہر ، مرکزی رہنما افراسیاب خٹک ، مرکزی خارجہ سیکرٹری بشیر خان مٹہ ، ایجوکیشنل فاؤنڈیشن کے سربراہ ڈاکٹر خادم حسین اور محقق مشتاق مجروح نے خطاب کیا اور مقالے پیش کیے۔
اس موقع پر اپنے خطاب میں مرکزی نائب صدر بشریٰ گوہر نے کہا کہ بعض طاقتور حلقے کوشش کر رہے ہیں کہ صوبوں کو اٹھارویں ترمیم اور بعض دیگر تاریخی اقدامات کے ذریعے جو حقوق ملے ہیں ان کو ایک سازش کے ذریعے غیر موثر اور ناکام بنایا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے کو نام کی شناخت سمیت جو محدود حقوق ملے ہیں ان کے حصول کیلئے اے این پی ، اس کے اکابرین اور کارکنوں نے طویل جدوجہد کرکے مثالی قربانیاں دی ہیں کسی کو بھی یہ اجازت نہیں دی جائیگی کہ وہ صوبے اور پشتونوں کے حقوق پر سودے بازی کریں یا محدود حقوق کو کسی سازش کی نذر کرے۔ اُنہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بعض حلقے جان بوجھ کر صوبہ خیبر پختونخوا کے آئینی نام کو پی کے وغیرہ کے ذریعے غیر مقبول بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور صوبے کے نام کیساتھ منفی رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے افراسیاب خٹک نے کہا کہ صوبوں اور قومیتوں کا مسئلہ کئی دھائیاں گزرنے کے باوجود حل طلب ہے۔ حالانکہ اس ایشو سے متعلق حکمرانوں کی پالیسیوں کے باعث 70 کی دہائی میں پاکستان ٹوٹ بھی چکا ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ ایک منظم منصوبے کے تحت آزادی کے بعد پشتونوں کو صوبوں ، فاٹا اور پاٹا جیسے غیر فطری انتظامی یونٹوں میں تقسیم کیا گیا اور اب بھی طاقتور حکمران حلقے اسی رویے پر گامزن ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ون یونٹ کے ذریعے صوبوں سے جو حقوق اور اختیارات چھینے گئے ان میں سے اب بھی بہت سے اختیارات مرکز یا پنجاب کے قبضے میں ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی اور استحکام ایک ایسے فیڈریشن سے وابستہ ہے جس میں تمام صوبوں کو ان کے اختیارات حاصل ہو۔
سیمینار سے اپنے خطاب میں بشیر خان مٹہ نے کہا کہ صوبے کے حقوق ، اختیارات اور اثاثہ جات موجودہ حکمرانوں کی نااہلی کے باعث خطرے سے دوچار ہیں اور صوبے پر ایسے لوگ مسلط ہیں جن کو اس مٹی کے اجتماعی مفادات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ سیمینار میں ان رہنماؤں کے علاوہ صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک ، جمیلہ گیلانی ، اعجاز یوسفزئی ، خوشحال خان خٹک ، ڈاکٹر سعید الرحمان ، محسن داوڑ ، ارباب الطاف ، ثناء گلزار ایڈوکیٹ ، شہزاد یوسفزئی ، زلان مومند اور متعدد دیگر بھی شریک ہوئے۔

اگر عمران خان پر کڑا وقت آگیا تو ان کی کشتی سے سب سے پہلے چھلانگ لگانے والے پرویز خٹک ہوں گے

 April-2016, PRs-2016  Comments Off on اگر عمران خان پر کڑا وقت آگیا تو ان کی کشتی سے سب سے پہلے چھلانگ لگانے والے پرویز خٹک ہوں گے
Apr 302016
 

مورخہ : 30.4.2016 بروز ہفتہ
اگر عمران خان پر کڑا وقت آگیا تو ان کی کشتی سے سب سے پہلے چھلانگ لگانے والے پرویز خٹک ہوں گے۔ حیدر خان ہوتی
پرویز خٹک نے پیر صابر شاہ کی حکومت کے خاتمے کیلئے ممبران کے ضمیروں کا سودا کیا۔ وہ ہر حکومت کا حصہ رہے ہیں۔
موجودہ حکمرانوں کی فائلیں کھل چکی ہیں اب ان کو اپنے کیے کی جوابدہی کرنی پڑے گی۔
عوام 2018 میں ان کا محاسبہ کریں گے۔ پی کے 30 مردان میں شمولیتی اجتماع سے خطاب

پشاور (پریس ریلیز ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک بے بنیاد الزامات چھوڑ کر اپنی صحت پر توجہ دیں ،دنیا جانتی ہے کہ اسفند یارولی خان کون ہیں انگریز وں سے آزادی اور آمریت کے خلاف ہماری جدوجہدسے تاریخ بھری پڑی ہے ،عمران خان پر کڑا وقت آیا تو کشتی سے پہلے چھلانگ لگانے والے پرویز خٹک ہی ہوں گے ،بلین ٹری سونامی سیاست رشوت کے طورپر استعمال کی جارہی ہے ،فائلیں کھل گئی ہیں سرکاری اراضی کوڑیوں کے دام دینے والوں کو جواب دینا ہوگاوہ ہفتہ کی شام حلقہ پی کے 30کے علاقہ ملیانوکلے میں ایک بڑے شمولیتی جلسے سے خطاب کررہے تھے جس میں سینکڑوں افراد نے مختلف سیاسی پارٹیوں سے مستعفی ہوکر اے این میں شمولیت اختیارکی امیر حیدر خان ہوتی نے انہیں سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور ان کا پارٹی میں خیر مقدم کرتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کیااے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی نے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کو براہ راست تنقید کانشانہ بناتے ہوئے کہاکہ جب بے نظیر بھٹو پر مشکل وقت آیا تو اس نے پارٹی کو خیر آباد کہا آفتاب شیرپاؤ کی پارٹی کی صوبائی صدارت کے ساتھ ہماری حکومت کا حصہ بنے اورچارسال تک وزارت کے مزے لوٹے لیکن کھبی کابینہ میں بات تک نہیں کی انہوں نے کہاکہ اگر عمران خان پر آزمائش آتی ہے تو وزیراعلیٰ اپنی تاریخ دہرائیں گے اے این پی کے صوبائی صدر نے الزام عائد کیاکہ 1993میں پیر صابر شاہ کی حکومت کے لئے خاتمے کے لئے پرویز خٹک نے رات کے اندھیرے میں بریف کیس لے کر ممبران کی ضمیروں کا سودا کیاانہوں نے کہاکہ آج وہ میری حیثیت کے بارے میں سوالات اٹھارہے ہیں انہوں نے کہاکہ وہ ہوتی کے لخکرخیل خاندان سے ہیں والد اعظم ہوتی ،داد اامیرمحمد خان ہوتی ،پر داداغلام حیدرخان ہوتی ہیں اللہ تعالیٰ کا دیاہوا اتناکچھ ہے کہ وزیراعلیٰ پوری زندگی پیدل سفر کریں تو ہماری جائیداد کا احاطہ نہیں کرسکتے امیرحیدرخان ہوتی نے وزیراعلیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ وہ اپنی صحت پر توجہ دیں اچھا کھائیں انہوں نے کہاکہ ضلع ناظم مردان کے خلاف سازشوں سے ہم باخبرہیں لیکن صوبائی وزیراعلیٰ کو معلوم ہوناچاہئے کہ وہ اس کا بھائی بھی ضلع ناظم ہیں اوروہ اتنا ظلم کریں جتنا کل برداشت کرسکتے ہیں شیش محل میں رہنے والوں دوسروں پر پتھر پھینکے سے پہلے اتنا ظلم کریں جتنا کل برداشت کرسکتے ہوں امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ موجودہ حکمرانوں کی فائلیں کھل گئی ہیں اور انہیں جواب دنیا ہوگاکہ ملم جبہ میں کروڑوں کی اراضی کس طرح کوڑیوں کے دام الاٹ کی گئی انہوں نے کہاکہ سونامی ٹری منصوبہ سیاسی منصوبہ میں بدل چکاہے اور حکمران اپنے چہیتوں کو نوازرہے ہیں اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ عمران خان وزیراعظم بننے کے لئے پنجاب کی سیاست کررہے ہیں جبکہ میاں نوازشریف اپنی کرسی بچانے میں لگے ہوئے ہیں دونوں کو پختون قوم کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں انہوں نے کہا کہ نام نہاد تبدیلی کے جھوٹے دعوؤں سے عوام بے زارہوچکے ہیں اوران کی نظریں اے این پی پر لگی ہوئی ہیں 2018 کے انتخابات میں پختون ووٹ کے ذریعے اپنی حق تلفیوں کا بدلہ لیں گے اور نئے پاکستان بنانے والوں کو بنی گالہ واپس بیجھ کر دم لیں گے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی اورصوبائی حکومت نہ جانے پختونوں کو کس جرم کی سزا دے رہی ہیں تبدیلی کے دعویداروں نے روزگار کے متلاشی نوجوانوں کو تین سال بعد چوہے مارنے پر لگادیاہے انہوں نے کہاکہ پختون قوم مسائل اورمصائب کے شکارہیں کپتان چارحلقوں کے لئے 126دن دھرنا تو دیتے ہیں لیکن پختون قوم کے مسائل پر خاموشی اختیار کررکھی ہے انہوں نے کہاکہ پختون قوم کو مشکلات سے نکلنے کے لئے سرخ جھنڈا تلے متحد ہوناہوگا پختون اب بیدارہوچکے ہیں اور وہ مزید کسی کے جھوٹے دعوؤں اور وعدوں میں نہیں آئیں گے اوراس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ اپوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی چترال سے ڈیرہ اسماعیل خان تک پختون سرخ جھنڈے تلے جمع ہورہے ہیں یہی اے این پی کی بڑی کامیابی ہے ۔

اقتدار کیلئے پارٹیاں بدلنے والے شخص کو اے این پی جیسی پارٹی کی مخالفت زیب نہیں دیتی

 April-2016, PRs-2016  Comments Off on اقتدار کیلئے پارٹیاں بدلنے والے شخص کو اے این پی جیسی پارٹی کی مخالفت زیب نہیں دیتی
Apr 302016
 

مورخہ30 اپریل2016ء بروز ہفتہ

اقتدار کیلئے پارٹیاں بدلنے والے شخص کو اے این پی جیسی پارٹی کی مخالفت زیب نہیں دیتی۔ سردار حسین بابک
وزیر اعلیٰ نے حقائق کش رویہ اپنا کر غلط بیانی سے کام لیا ہے ۔ ان کو اپنے منصب کے تقاضوں کا بھی علم نہیں ہے۔
وزیر اعلیٰ وضاحت کریں کہ جس امن کی وہ بات کر رہے ہیں اس میں ان کی حکومت کا کیا اور کتنا حصہ ہے۔
اُن کے اپنے دور اقتدار میں حکمران جماعت کے چار ممبران اسمبلی سمیت سینکڑوں افراد دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ گئے۔
وزیر اعلیٰ بوکھلاہٹ میں الزام تراشی کی بجائے اپنی کارکردگی پر توجہ دیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اور صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے نوشہرہ میں وزیرا علیٰ پرویز خٹک کی اے این پی مخالف تقریر اور حقائق کش الزامات کو موصوف کی بوکھلاہٹ کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ نے غلط بیانی اور اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کر کے عملاً یہی ثابت کیا ہے کہ وہ اتنے اہم منصب کے تقاضوں سے بے خبر ہیں وہ اے این پی کی مقبولیت سے خوفزدہ ہو کر ایسی باتیں کرنے لگے ہیں جن کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ مذمتی بیان میں اُنہوں نے کہا ہے کہ اے این پی نے امن ، ترقی ، تعلیم اور صوبے کے حقوق جیسے ایشوز پر کبھی بھی مصلحت سے کام نہیں لیا اور آج جن حقوق اور مراعات سے صوبے کے عوام ، موصوف اور ان کے ساتھی مستفید ہو رہے ہیں اس کا کریڈٹ اے این پی کو جاتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ جس حکومت کو وہ کرپٹ قرار دے رہے ہیں وزیر اعلیٰ اس حکومت میں تین سال تک وزیر تھے۔ تاہم پارٹیاں بدلنے کی اپنی عادت کے باعث وہ اس سے الگ ہو کر نئی کشتی میں اس شرط پر سوار ہوئے کہ ان کو وزیر اعلیٰ بنایا جائے۔ بطور وزیر ان کی کارکردگی پر تبصرہ کرنا مناسب اس لیے نہیں کہ اس کا پورے صوبے کے سیاسی لوگوں اور عوام کو علم ہے۔اُنہوں نے کہا کہ اے این پی نے میدان میں ڈٹ کر دہشتگردوں کا مقابلہ کیا اور اس مزاحمت میں 800 سے زائد کارکنوں اور لیڈروں کی قربانی دی تاہم وزیر اعلیٰ اور ان کے ساتھیوں کو اب بھی اس الزام کا سامنا ہے کہ وہ خوفزدہ ہو کر اب بھی حملہ آور گروپوں کو بھتہ دے رہے ہیں۔
سردار حسین بابک نے کہا کہ جس امن کی موصوف بات کر رہے ہیں اس کا کریڈٹ لیتے وقت وزیر اعلیٰ کو سوچنا چاہیے کہ اس میں ان کی حکومت کا کیا حصہ اور کردار ہے۔ یہ وہی شخص ہے جنہوں نے طالبان کو دفتر دلانے کا تاریخی فارمولا دیا تھا اور حکومت سنبھالنے کے بعد یہ مصلحت کوشش اور خوف کا شکار رہ کر امن کی بحالی سے متعلق معاملات سے بالکل لاتعلق رہے۔ سابق وزیر نے مزید کہا کہ موصوف کے دور اقتدار میں برسر اقتدار پارٹی کے چار ممبران اسمبلی کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا جبکہ سینکڑوں دیگر معصوم شہری دہشتگردی کا شکار ہوئے تاہم وزیر اعلیٰ اور ان کی حکومت مسلسل مصلحت خوف اور لاتعلقی کی پالیسی پر گامزن رہے۔
اُنہوں نے کہا کہ ترقیاتی بجٹ کے لیپس ہونے کا دوسروں کے علاوہ کابینہ کے متعدد ارکان اور پاپولر میڈیا مختلف اوقات میں ثبوتوں اور اعداد و شمار کی شکل میں خود اعتراف کرتے آئے ہیں ایسے میں وزیر اعلیٰ کا کہنا کوئی اخلاقی اور سیاسی جواز نہیں رکھتا۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی کی مثالی حکومت ، ترقیاتی منصوبوں اور تاریخی پس منظر ہی کا نتیجہ ہے کہ یہ وزیر اعلیٰ سمیت بہت سے دیگر کے اعصاب پر سوار ہیں اور ان کو اپنا مستقبل تاریک نظر آرہا ہے۔ اُنہوں نے وزیر اعلیٰ کو مشورہ دیا کہ اگر وہ حقائق کا ادراک نہیں رکھتے تو کم ازکم اپنے منصب کا خیال رکھا کریں کیونکہ اس قسم کی باتیں ان کو زیب نہیں دیتیں۔

مرکزی اور صوبائی حکومتیں پشتونوں اور صوبے کے عوام کو سزا دینے کے رویے پر گامزن ہیں

 April-2016, PRs-2016  Comments Off on مرکزی اور صوبائی حکومتیں پشتونوں اور صوبے کے عوام کو سزا دینے کے رویے پر گامزن ہیں
Apr 292016
 

مورخہ 29اپریل2016ء بروز جمعہ

مرکزی اور صوبائی حکومتیں پشتونوں اور صوبے کے عوام کو سزا دینے کے رویے پر گامزن ہیں۔ امیر حیدر خان ہوتی
خیبر لیکس کا معاملہ سنگین ہے۔ حکومت صفائی کی بجائے حقائق عوام کے سامنے لے آئیں۔
سنہ2018 کے الیکشن میں صوبے کے عوام اپنے ساتھ کی گئی ناانصافی کا بدلہ چکا دیں گے۔
دونوں بڑی پارٹیوں کی نظریں تخت لاہور پر لگی ہوئی ہیں۔ پی کے 8 میں انتخابی جلسے سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ مسلم لیگ اور پی ٹی آئی نے تخت پنجاب کی لڑائی میں اپنی سیاست کا محورپنجاب کو بنا لیا ہے اور اقتدار کی لالچ میں خیبر پختونخوا کو بھلا دیا گیا ہے ، صوبائی حکومت نے صوبے کے عوام کو چوہے مار مہم پر لگا کر روزگار دینے کا وعدہ پورا کیا جس کیلئے بعد میں فنڈز کی عدم دستیابی کا بہانہ بنا کر مہم ختم کر دی گئی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے چارسدہ روڈ لنڈی سڑک پر پی کے 8کے ضمنی الیکشن کے حوالے سے ایک عظیم الشان انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر ڈاکٹر شاہین ضمیر نے اپنے خاندان ، رشتہ داروں اور دیگر سینکڑوں ساتھیوں سمیت تحریک انصاف سے مستعفی ہو کر اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ، امیر حیدر خان ہوتی نے پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور ان کا پارٹی میں خیر مقدم کرتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کیا ، صوبائی صدر نے اپنے خطاب میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے اسفندیار ولی خان کے بارے میں ہرزہ سرائی کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ نوشہرہ میں جس کی کوئی حیثیت نہیں وہ باچا خان کے خاندان کے بارے میں منہ کھولنے سے گریز کرے کیونکہ جب میں نے منہ کھولا تو وزیر اعلیٰ کو صوبے میں کہیں بھی چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔انہوں نے کہا کہ نام نہاد تبدیلی کے جھوٹے دعوؤں سے عوام بے زارہوچکے ہیں اوران کی نظریں اے این پی پر لگی ہوئی ہیں ، انہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں پی ٹی آئی کو اپنی مقبولیت کا پتہ چل جائے گا ،نوجوان ہمارے ساتھ ہیں صوبائی حکومت کے پاس کوئی اختیا رنہیں ،خزانے کی چابیاں بنی گالہ میں پڑی ہیں، امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام تبدیلی کے وعدوں اور دعوؤں کی حقیقت جان چکے ہیں اور 2018 کا الیکشن پی ٹی آئی اور ان کے حکومتی اتحادیوں کے عوامی محاسبے کا سال ثابت ہو گا انہوں نے کہا کہ صوبے کے نوجوان اور عوام تبدیلی کے دعویداروں کو بنی گالہ تک محدود کر کے دم لیں گے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی اورصوبائی حکومت نہ جانے پختونوں کو کس جرم کی سزا دے رہی ہیں تبدیلی کے دعویداروں نے روزگار کے متلاشی نوجوانوں کو تین سال بعد چوہے مارنے پر لگادیاہے اگر یہ تبدیلی ہے تو ایسی تبدیلی کو پختون نہیں مانتے اور 2018ء وعدوں کو ایفا نہ کرنے والوں کا خیبرپختون خوا سے بوریابستر گول کردیں گے،امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ خیبرلیکس کا معاملہ انتہائی سنگین ہے صوبائی حکومت صفائی پیش کرنے کی بجائے عوام کوجواب دے۔ انہوں نے کہاکہ خیبربنک کی انتظامیہ کی طرف سے صوبائی وزیرخزانہ پر لگائے گئے الزامات انتہائی تشویشناک ہیں اور جماعت اسلامی کو فری کرپشن پاکستان سے پہلے اپنی جماعت کو کرپشن سے پاک کرناچاہئے۔ انہوں نے کہاکہ کپتان بھی تضادات کے شکارہوچکے ہیں اوران کی صوبائی حکومت میں الٹی گنگا بہتی ہے ایک طرف سے وزیر کے احتساب کے لئے وزیر کی نگرانی میں کمیشن قائم کیاگیاہے جبکہ دوسری طرف وزیراعلیٰ تحقیقات سے قبل اپنے وزیرخزانہ کی بے گناہی کے راگ الاپ رہے ہیں یہ دوغلا اب نہیں چلے گا۔ پختون جاگ گئے ہیں اوران حکمرانوں کے کرتوں کو جان چکے ہیں انہوں نے کہا کہ عوام اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا بدلہ چکادیں گے انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کا خیبرپختون خوا کے غریب عوام کے مسائل سے کوئی سرورکار نہیں اور مسلسل پختونوں کو نظر انداز کرنے کی پالیسی اختیارکررکھی ہے۔ امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ اے این پی کے دور حکومت میں ہرطرف ترقی کا دوردورہ تھا تبدیلی والوں کے دور میں ترقی کا پہیہ رک گیاہے اورتین سال گزرنے کے باوجود کوئی نیا منصوبہ شروع نہیں کیاگیا بلکہ ہمارے ترقیاتی منصوبوں پر اپنے نام کی تختیاں لگارہے ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ آنے والا دور اے این پی کا ہے اوراس کاواضح ثبوت یہ ہے کہ اپوزیشن میں ہوتے ہوئے عوام کی بڑی تعداد جوق در جوق اے این پی میں شامل ہو رہے ہیں جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ لوگ اب تبدیلی والوں سے اکتا چکے ہیں،اس موقع پر جلسہ سے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک،ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان ، شازیہ اورنگزیب اور اعجاز سیماب نے بھی خطاب کیا۔

سی پیک ، بنک آف خیبر اور صوبے کے اجتماعی حقوق پر صوبائی حکومت ، مصلحت اور دوغلے پن کا شکار ہے

 April-2016, PRs-2016  Comments Off on سی پیک ، بنک آف خیبر اور صوبے کے اجتماعی حقوق پر صوبائی حکومت ، مصلحت اور دوغلے پن کا شکار ہے
Apr 282016
 

مورخہ : 28.4.2016 بروز جمعرات

سی پیک ، بنک آف خیبر اور صوبے کے اجتماعی حقوق پر صوبائی حکومت ، مصلحت اور دوغلے پن کا شکار ہے۔ میاں افتخار حسین
وزیر اعلیٰ کا مسلسل یو ٹرن اور نت نئے بیانات سے ثابت ہوتا ہے کہ سی پیک پر حکومت اور پی ٹی آئی کی سرے سے کوئی پالیسی ہی نہیں ہے۔
نیشنل ایکشن پلان پر پنجاب میں عمل نہیں ہو رہا۔ بلاامتیاز کارروائیوں کے بغیر دہشتگردی کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔
پانامہ سکینڈل اور سی پیک پر اے این پی کا موقف بالکل واضح ہے ۔ خیبر لیکس کی تحقیقات ناگزیر ہیں۔ این وائی او کے کنونشن سے خطاب

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے چائنا پاک اکنامک کاریڈور کے معاملے پر تحریک انصاف اور صوبائی حکومت کے مؤقف اور پالیسی کو مبہم اور دوغلا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ کی جانب سے یوٹرن لینے اور آئے روز نت نئے بیانات سے ثابت ہوا ہے کہ کاریڈور جیسے اہم ایشو پر صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی کی سرے سے کوئی پالیسی ہے ہی نہیں اور نہ ہی صوبائی حکومت کو اپنی ذمہ داریوں کا کوئی احساس ہے۔
خوش مقام نوشہرہ میں نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ کاریڈور پر اے این پی کا مؤقف نہ صرف یہ کہ بالکل واضح ہے بلکہ اس کے بارے میں سیاسی سطح پر سب سے پہلے اے این پی نے سیمینارز کا انعقاد کر کے آواز اُٹھائی۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ جنگ زدہ صوبے اور فاٹا کی تقدیر بدلنے والا منصوبہ ہے اور جو بھی قوت اس پر خاموشی اختیار کرے گی یا مصلحت کا شکار ہو گی اس کا عوامی اور سیاسی سطح پر محاسبہ کیا جائیگا۔ اُنہوں نے کہا کہ سی پیک معاشی انقلاب کا ایک بڑا ذریعہ ہے تاہم حکمران طبقے کا مؤقف مصلحت گوشی ، غفلت اور لاپرواہی پر مبنی ہے اور وزیر اعلیٰ کے نت نئے بیانات اس جانب اشارہ ہے کہ ان کے پاس سرے سے کوئی واضح پالیسی ہے ہی نہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت صوبے کو دیوالیہ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ تین بجت لیپس ہوئے اب کہا جا رہا ہے کہ صوبے کو بجٹ کے بحران کا سامنا ہے۔ دوسری طرف کاریڈور کے بنیادی ایشو پر بھی مسلسل مصلحت اور غلط بیانی سے کام لیا جارہا ہے۔
اُنہوں نے دہشتگردی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان میں یہ نکتہ شامل تھا کہ جب اور جہاں بھی دہشتگردہوں گے اُن کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائیگی۔ تاہم حکومت پنجاب میں آپریشن سے گریز کرتی رہی اور اب بھی صورتحال یہ ہے کہ عسکری قیادت اور پنجاب حکومت اس معاملے پر ایک صفحے پر نہیں ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اس سے قبل جب سانحہ پشاور کے بعد آپریشن ضرب عضب کا فاٹا اور صوبہ خیبر پختونخوا میں آغاز کیا گیا تو صوبائی حکومت اس سے عملاً لاتعلق رہی اور دونوں حکومتوں نے آئی ڈی پیز کی بحالی ، امداد اور واپسی سے بھی لاتعلقی اختیار کی۔ اُنہوں نے کہا کہ ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک پنجاب سمیت پورے ملک میں گڈ اور بیڈ کی تفریق کے بغیر بلا امتیاز کارروائیاں نہیں کی جاتیں اور افغانستان کے ساتھ اعتماد سازی کے ذریعے مشترکہ حکمت عملی کا راستہ ہموار نہیں کیا جاتا۔
اُنہوں نے پانامہ لیکس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی کا موقف بہت واضح ہے کہ چیف جسٹس کی سربراہی میں قابل قبول تحقیقاتی کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے اور اے این پی اپنا یہ مؤقف 2 مئی کی اے پی سی میں بھی دُہرائے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ پانامہ لیکس کی اب تک کی فہرست سے وزیر اعظم کا نام نکلنے یا نکالنے کے معاملے نے مزید سوالات کو جنم دے رکھا ہے جبکہ یہ بات بھی زیر گردش ہے کہ سینکڑوں مزید افراد کے نام سامنے آنے والے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ پانامہ لیکس کی طرح خیبر لیکس کی فوری اور جامع تحقیقات بھی ازحد ضروری ہیں کیونکہ اس معاملے کے ساتھ صوبے کا مفاد وابستہ ہے اور یہ صوبے کے حقوق اور مفادات پر ڈاکہ ڈالنے والی بات ہے۔
اُنہوں نے این وائی او کے عہدیداران اور کارکنوں پر زور دیا کہ وہ نادار اور تعلیم سے محروم طلباء کو علم کی روشنی سے آراستہ کرنے کیلئے اپنا موثر کردار ادا کرے تاکہ معاشرے میں سیاسی شعور کے علاوہ تعلیم کے فروغ کا راستہ بھی ہموار کیا جا سکے۔ کنونشن سے این وائی او کے رہنماؤں سنگین خان ایڈوکیٹ ، محسن داوڑ اور بعض دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔

بزرگ خدائی خدمتگار بختیار باچا کا انتقال

 April-2016, PRs-2016  Comments Off on بزرگ خدائی خدمتگار بختیار باچا کا انتقال
Apr 282016
 

کراچی۔ جمعرات 28 اپریل 2016،

عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید اور صوبائی جنرل سیکریٹری یونس خان بونیری نے خدائی خدمت گار اور پارٹی کے انتہائی سینئر بزرگ رکن بختیار باچہ کے انتقال گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے ، باچا خان مرکزی سے جاری کردہ مشترکہ تعزیتی بیان میں پارٹی کے صوبائی رہنماؤں نے مذید کہا ہے کہ فخر افغان بابا کے وقت سے قومی تحریک سے وابستہ بختیار باچہ کی وفات پارٹی کے بہت بڑا نقصان ہے پارٹی کے لیے مرحوم کی خدمات ناقابل فراموش ہے پوری پارٹی دعا گو ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطاء فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطاء فرمائے ۔