ناعاقبت اندیشی نے صوبے کو 7ارب روپے سے زائد کی رائلٹی سے محروم کر دیاگیا

 Feb-2016, PRs-2016  Comments Off on ناعاقبت اندیشی نے صوبے کو 7ارب روپے سے زائد کی رائلٹی سے محروم کر دیاگیا
Feb 292016
 

مورخہ 29فروری 2016ء بروز پیر

ناعاقبت اندیشی نے صوبے کو 7ارب روپے سے زائد کی رائلٹی سے محروم کر دیاگیا، ہارون بشیر بلور
پہلی بار مرکز میں نواز شریف کی حکومت آئی تو اُ سوقت کی اتحادی جماعت اے این پی نے مرکز کو بجلی منافع کیلئے مجبور کیا
خیبر پختونخوا کو بجلی اور سندھ و بلوچستان کو گیس کی رائلٹی میں ملنے والا منافع رہبر تحریک خان عبدالولی خان کی مرہون منت ہے
ایم ایم اے اور موجودہ صوبائی حکومتوں کی نا اہلی کے باعث مرکز صوبے کے 7کھرب 96ارب روپے ہڑپ کر چکا ہے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات ہارون بشیر بلور نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کو بجلی اور سندھ و بلوچستان کو گیس کی رائلٹی میں ملنے والا منافع رہبر تحریک خان عبدالولی خان کی مرہون منت ہے تاہم گزشتہ دور میں ایم ایم اے اور موجودہ صوبائی حکومت نے صوبے کے حقوق پر سودے بازی کی اور خیبر پختونخوا کو اس کے جائز حق سے محروم کر دیا ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ بجلی کی مد میں صوبے کی رائلٹی مجموعی طور پر سات سو ارب سے زائد بنتی ہے لیکن ایم ایم اے کے دور میں اس وقت کی حکومت نے پرویز مشرف سے معاہدہ کیا اور معاہدے کے تحت ایم ایم اے حکومت صرف 110ارب روپے پر راضی ہوگئی حالانکہ اس وقت تک بقایا جات چھ سو ارب روپے تک پہنچ چکے تھے، صوبائی ترجمان نے کہا کہ پہلی بار مرکز میں نواز شریف کی حکومت آئی تو اُ سوقت کی اتحادی جماعت اے این پی نے مرکز کو بجلی منافع کیلئے مجبور کیا اور اے جی این قاضی کے نام سے ایک معاہدہ طے پایا جس میں مرکز نے خیبر پختونخوا کو بجلی کی رائلٹی اور تمام بقایا جات کی ادائیگی کا بھی وعدہ کیا،تاہم اُ س زمانے میں بار بار حکومتیں گرنے کی وجہ سے بقایا جات ادا نہیں کئے گئے،
ہارون بلورنے کہا کہ2005سے لے کر 2015ء تک خیبر پختونخوا کی بجلی کا منافع 381ارب روپے یعنی 3کھرب81ارب روپے ہو چکا ہے ،انہوں نے اس امر پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا کہ تحریک انصاف کی موجودہ صوبائی حکومت نے نواز شریف حکومت سے مذاکرات میں صرف 70ارب روپے کے حصول پر اکتفا کیا،انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے صوبے کی دولت سے ہی ایک معمولی خیرات دے کر صوبائی حکومت کو بے وقوف بنایا ،جبکہ پی ٹی آئی کی حکومت اپنی اس ناکامی کو چھپانے کیلئے اسے اپنی کامیابی قرار دے رہی ہے جبکہ حقیقت میں ایم ایم اے اور موجودہ صوبائی حکومتوں کی نا اہلی کے باعث مرکز صوبے کے 7کھرب 96ارب روپے ہڑپ کر چکا ہے۔

اے این پی تمام مظلوم اور محکوم طبقات کے حقوق کی جنگ لڑرہی ہے،سردارحسین بابک

 Feb-2016, PRs-2016  Comments Off on اے این پی تمام مظلوم اور محکوم طبقات کے حقوق کی جنگ لڑرہی ہے،سردارحسین بابک
Feb 292016
 

مورخہ : 29.2.2016 بروز پیر

کوہستانی عوام کے حقوق کی ضامن نئی فارسٹ پالیسی بنائی جائے
اے این پی تمام مظلوم اور محکوم طبقات کے حقوق کی جنگ لڑرہی ہے،سردارحسین بابک

پشاور(پ،ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کوہستانی عوام کے ساتھ جنگلات کی مد میں سوتیلی ماں جیسے سلوک سے باز آئے اور انہیں جلد از جلد مالکانہ حقوق اور دیگر علاقوں کی طرح کوہستانی عوام کو بھی 80 فیصد رائلٹی دی جائے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچاخان مرکز پشاورمیں دیر کوہستان کی مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان پر مشتمل ایک نمائندہ وفد سے ملاقات میں کیا،اس موقع پر وفد کے ارکان نے سردار حسین بابک کو اپنے مطالبات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے جنگلات کی مد میں مالکان کو ساٹھ فیصد حصہ دیا جا رہا ہے جو انتہائی زیادتی کے مترادف ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ مالکان کو لکڑی کی نیلامی کا اسی فیصد حصہ دیا جائے جبکہ ساتھ ہی اُنہیں لکڑی ملک کی تمام کھلی مارکیٹوں میں فروخت کرنے کی اجازت دی جائے۔ وفد کے ارکان نے کہا کہ حکومت رائلٹی کا جو بیس فیصد حصہ وصول کرتی ہے وہ علاقے میں ترقیاتی کاموں پر صرف نہیں کیا جا رہا۔ اُنہوں نے کہا کہ گیس ، بجلی آبنوشی سکیمیں ، سرکیں ، صحت اور تعلیم کے شعبے میں ان علاقوں میں ترقیاتی کاموں کی اشد ضرورت ہے اور حکومت کو چاہیے کہ جنگلات کی نیلامی سے حاصل ہونے والی بیس فیصد آمدن ان علاقوں کی ترقی پر خرچ کرے۔ اُنہوں نے محکمہ فارسٹ میں اصلاحات اور غیر قانونی سمگلنگ کے روکنے کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ فارسٹ پالیسی 2002 کو ختم کر کے نئی اور موزوں پالیسی وضع کی جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ٹیکس سے مستثنیٰ علاقہ ہے ۔ لہٰذا تمام قدرتی وسائل پر لاگو ٹیکس کو فوری طور پر خرچ کیا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ جنگلات کے حامل تمام علاقہ جات کیلئے ملک کے تمام فارسٹ اور میڈیکل کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلباء کیلئے کوٹہ مقرر کیا جائے۔
اس موقع پر سردار حسین بابک نے وفد کو اپنے مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہاکہ اے این پی ملک کے تمام محکوم اور مظلوم طبقات کے حقوق کی نمائندہ جماعت ہے،اور کسی بھی طاقت کو صوبے کے عوام کا استحصال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی،انہوں نے کہا کہ جنگلات کی آمدن میں کوہستانی عوام کے ساتھ صوبائی حکومت کارویہ اور سلوک قابل افسوس ہے،کیوں کہ پوری دنیا کا یہ ایک مسلمہ قانون ہے کہ قدرتی وسائل پر سب سے زیادہ حق وہاں کے مقامی افرادکا ہوتاہے، جس کے لیے ہماری جماعت نے تاریخ کے ہردور میں نہ صرف بھرپور آواز اٹھائی ہے بلکہ صوبائی خود محتاری کے لیے عملی اور کامیاب جدوجہد بھی کی ہے ، انہوں نے کہا کہ تبدیلی اور انصاف کے بلند وبانگ دعوے کرنے والی صوبائی حکومت کوہستان کی معاشی اور تعلیمی پسماندگی ختم اور وہاں کے عوام کے مسائل پر توجہ دینے کی بجائے ان سے اپنے وسائل پر اپنا انسانی حق بھی چھیننے کی کوشش کررہی ہے، اُنہوں نے کہا کہ اے این پی کوہستانی عوام کو اپنے جائز حقوق دلانے میں ہرممکن کوشش کرے گی،انہوں نے کہا کہ پرانی فارسٹ پالیسی پر نظرثانی کی جائے اور ایک ایسی ٹھوس پالیسی بنائی جائے جو کوہستانی عوام کے حقوق کی ضامن اور نمائندہ پالیسی ہو۔

عمران خان ابتداء میں جس کی تعریف کرتے ہیں بعد میں اُس پر تنقید کے تیر برساتے ہیں۔حاجی محمد عدیل

 Feb-2016, PRs-2016  Comments Off on عمران خان ابتداء میں جس کی تعریف کرتے ہیں بعد میں اُس پر تنقید کے تیر برساتے ہیں۔حاجی محمد عدیل
Feb 292016
 

مورخہ : 29.2.2016 بروز پیر

عمران خان ابتداء میں جس کی تعریف کرتے ہیں بعد میں اُس پر تنقید کے تیر برساتے ہیں۔حاجی محمد عدیل
امیر حیدر خان ہوتی نے شوکت خانم کیلئے نہ صرف 50 کنال اراضی دی بلکہ پانچ کروڑ روپے بھی دئیے۔
بنیادی طور پر یہ بات عمران خان کی فطرت میں شامل ہے کہ وہ غیر مستقل مزاج اور غیر سنجیدہ شخص ہیں۔

پشاور(پ،ر)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق صوبائی وزیرخزانہ حاجی محمدعدیل نے کہا ہے کہ یہ بات عمران خان کی فطرت میں شامل ہے کہ جس نے بھی ان سے نیکی کی ہے سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ بھی اسی کو بناتے ہیں، آج تو وہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی تعریف اس لیے کررہے ہیں کہ انہوں نے کراچی میں شوکت خانم ہسپتال کے لیے زمین الاٹ کردی،مگر ہوسکتا ہے کہ ریٹائزمنٹ کے بعد عمران خان اپنی آج کی تعریف بھول جائے اور پھر جنرل راحیل شریف پر بھی تنقید شروع کردیں،اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ بیان میں حاجی عدیل نے کہا کہ جس وزیراعظم میاں نواز شریف نے اپنے گزشتہ دور حکومت میں لاہور میں شوکت خانم ہسپتال میموریل ہسپتال کے لیے نہ صرف مفت زمین دی تھی بلکہ مشینری پر عائد ٹیکسز معاف اور مالی امداد بھی کی تھی یہاں تک کہ ہسپتال کا افتتاح بھی میاں نوازشریف ہی نے کیا تھا،مگر آج وہی نوازشریف عمران خان کی آنکھوں کا کانٹا اور تنقید کا نشانہ بنے ہوئے ہیں،انہوں نے کہا کہ ہماری سابق صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ امیرحیدر خان ہوتی نے پشاور میں شوکت خانم میموریل ہسپتال کے لیے نہ صرف پچاس کنال قیمتی اراضی مفت دی بلکہ افتتاح کے موقع پر پانچ کروڑ روپے بھی دیے،اس وقت عمران خان اے این پی اور وزیراعلیٰ کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملاتے رہے ،مگر بعد میں اور آج اپنی وہ پرانی تعریف بھول گئے ہیں اور اسی زبان سے اے این پی کے قائدین اور سابق وزیراعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی پر تنقید کے تیر برساتے ہیں،جس سے عمران خان کی غیر مستقل مزاجی اور غیرسنجیدگی کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتاہے۔

خیبر پختونخوا اور پختونوں کے حقوق عقب ہونے کی کسی کو اجازت نہیں دینگے۔ زاہد خان

 Feb-2016, PRs-2016  Comments Off on خیبر پختونخوا اور پختونوں کے حقوق عقب ہونے کی کسی کو اجازت نہیں دینگے۔ زاہد خان
Feb 292016
 

مورخہ : 29.2.2016 بروز پیر

خیبر پختونخوا اور پختونوں کے حقوق عقب ہونے کی کسی کو اجازت نہیں دینگے۔ زاہد خان
عمران خان وزارت عظمیٰ کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ سراج الحق صوبے کے حقوق کا سودا کرنے میں مصروف ہیں۔
اے این پی نے بجلی کے خالص منافع کے 389 ارب روپے وفاق سے منوا لیے تھے۔

پشاور(پریس ریلیز ) عوامی نیشنل پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات زاہد خان نے مشترکہ مفادات کے کونسل کے اجلاس میں صوبہ خیبر پختونخواہ کے بجلی کے خالص منافع کی 70ارب روپے کی رقم کی ادائیگی پر متفق ہونے کو صوبائی حکومت تحریک انصاف،جماعت اسلامی اقومی وطن پارٹی کی طرف سے اسے صوبہ خیبر پختون خواہ اور پختونوں سے دشمنی قرار دیا ہے۔زاہد خان نے مزید کہا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت نے وفاق سے بجلی کا خالص منافع 389ارب وفاق سے منوا لیا تھا اور 6ارب کے کیپ کو بھی نہیں مانا تھا۔ایم ایم اے کی حکومت نے وزیر خزانہ سراج الحق نے 110ارب روپے مان کر جنرل مشرف کے زمانے میں صوبے کا سودا کیا اور اب دوبارہ 70ارب روپے کی قلیل رقم تسلیم کر کے پھر پختون دشمنی کا ثبوت دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبہ خیبر پختون خواہ اور پختونوں کے حقوق کسی کو غصب کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔صوبے اور پختونوں کے حقوق کی جنگ جاری رکھیں گے۔زاہد خان نے کہا کہ عمران خان پنجاب کی خوشنودی حاصل کر کے وزارت عظمی کا خواب دیکھ رہے ہیں اور سراج الحق بھی اپنے ذاتی مفادات کیلئے وفاق سے صوبے کے حقوق کا سودا کر رہے ہیں لیکن اے این پی کو پختونوں کے نام نہاد رہنما آفتاب شیر پاؤ کی مفاد پرستی پر افسوس ہے ۔اے این پی ہر فورم پر صوبے اور پختونوں کے حقوق کی آواز بلند کرتی رہیگی۔

اے پی ایس اور باچا خان یونیورسٹی جیسے سانحات سے بچنے کیلئے دہشتگردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں کی جائیں

 Feb-2016, PRs-2016  Comments Off on اے پی ایس اور باچا خان یونیورسٹی جیسے سانحات سے بچنے کیلئے دہشتگردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں کی جائیں
Feb 292016
 

مورخہ : 29.2.2016 بروز پیر
باچا خان یونیونیورسٹی چارسدہ کے شہداء کے چہلم کے موقع پر یونیورسٹی کا دورہ

اے پی ایس اور باچا خان یونیورسٹی جیسے سانحات سے بچنے کیلئے دہشتگردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں کی جائیں۔ میاں افتخار حسین
افسوسناک امر یہ ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے لاتعلقی پر مبنی رویہ اپنایا اور اس واقعے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔
ضرورت اس بات کی تھی کہ حکومتیں خصوصی پیکجز کا اعلان کر کے یونیورسٹی کے پیچھے کھڑی ہو جاتیں اور نیشنل ایکشن پلان پر پورا عمل کیا جاتا۔
پیکجز کے علاوہ شہداء کے یادگار بنائی جائیں ، ان کو ایوارڈز دئیے جائیں اور اے پی ایس کی طرح یونیورسٹی کو مثالی ادارہ بنایا جائے۔
شوال میں کپیٹن عمیر اور ان کے ساتھ شہید ہونے والے جوانوں کی قربانی کو خراج تحسین پیش کیا۔

پشاور(پریس ریلیز ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ یہ بات قابل افسوس ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف نے باچا خان یونیورسٹی کا دورہ کرنے کی زحمت بھی نہیں اُٹھائی جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا رویہ بھی لا تعلقی پر مبنی رہا جس سے یہ تاثر پھیلتا گیا کہ ارباب اختیار نہیں چاہتے کہ قوم اور اداروں کو دہشتگردی کے خلاف ایک صفحے پر لایا جائے۔
باچا خان یونیورسٹی کے شہداء کے چہلم کے موقع پر یونیورسٹی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ عوام کی توقع تھی کہ اے پی ایس واقعے کی طرح باچا خان یونیورسٹی کے حملے کو بھی سنجیدگی سے لیا جائے گا اور اس کی آڑ میں حملہ آوروں کو قومی سطح پر پیغام دیا جائیگا کہ قوم اور قیادت دہشتگردی کے معاملے پر ایک صفحے پر ہیں تاہم حکومتوں نے لا تعلقی پر مبنی رویہ اپنا کر یہ موقع ضائع کر دیا ۔ اُنہوں نے کہا کہ اے پی ایس واقعے اور نیشنل ایکشن پلان کے بعد اُمید پیدا ہو چکی تھی کہ دہشتگردوں کے خلاف پورے ملک میں بلا امتیاز کارروائیاں کی جائیں گی تاہم افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وزیر اعظم نے یونیورسٹی کا دورہ کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی جبکہ دونوں حکومتوں نے ہمارے مطالبے اور وقت کی ضرورت کے باوجود پیکج یا سہولیات دینے بھی گریز کا راستہ اپنایا ۔ حالانکہ ضرورت اس بات کی تھی کہ عملی اقدامات کے ذریعے یونیورسٹی کو مثالی ادارہ بنایا جاتا اور حکومتیں اس کے پیچھے کھڑی ہو جاتیں۔ اُنہوں نے یاد دہانی کرائی کہ این ایف سی ایوارڈ کی رقم میں اربوں روپے دہشتگردی کے متاثرین کیلئے مختص ہیں۔ وزیر اعلیٰ کو چاہیے تھے کہ اس رقم سے یونیورسٹی کو مناسب ادائیگی کی جاتی اور خصوصی پیکج کا اعلان کیا جاتا ۔ حالانکہ صوبائی حکومت سے اربوں کا بجٹ ویسے ہی لیپس ہو رہا ہے۔ دوسری طرف یونیورسٹیز کے سربراہ کی حیثیت سے گورنر کا رویہ بھی لاتعلقی کا شکار رہا۔
اُنہوں نے کہا کہ اب جبکہ اعلان کے مطابق آپریشن ضرب غضب آخری مراحل میں ہیں ۔ حال ہی میں اُنہوں نے شوال میں کپیٹن عمیر اور ان کے ساتھ شہید ہونے والے جوانوں کی قربانی کو خراج تحسین پیش کیااور اس مقصد کیلئے بے شمار افسران ، فوجیوں ، پولیس ، ایف سی اور لیویز نے جانوں کی قربانیاں دی ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ فورسز اور عوام کی قربانیوں کا پاس رکھتے ہوئے پورے ملک میں بلا امتیاز اور فیصلہ کن کارروائیاں کی جائیں تاکہ ملک کو مزید سانحات سے بچایا جا سکے اور دہشتگردی کے ناسور کا خاتمہ ممکن بنایا جائے۔اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی کیلئے خصوصی پیکجز کا اعلان کیا جائے، شہداء کی یادگار تعمیر کی جائیں، ان کو ایوارڈز دئیے جائیں اور یونیورسٹی کی بندش کا ازالہ کرتے ہوئے طلباء و طالبات کی فیسیں یا تو معاف کی جائیں یا حکومت اُس کی ادائیگی کرے۔
قبل ازیں میاں افتخار حسین یونیورسٹی نے وی سی ڈاکٹر فضل رحیم مروت سے ملاقات کر کے شہداء کیلئے فاتحہ خوانی اور زخمیوں کیلئے دُعا کی جبکہ اُنہوں نے اساتذہ اور طلباء کے ساتھ بھی کافی وقت گزارا۔

اے این پی پرنٹرز اور پبلشرز کے حقوق کی جنگ میں ان کے ساتھ ہے، سینیٹر ستارہ ایاز

 Feb-2016, PRs-2016  Comments Off on اے این پی پرنٹرز اور پبلشرز کے حقوق کی جنگ میں ان کے ساتھ ہے، سینیٹر ستارہ ایاز
Feb 282016
 

مورخہ 28فروری 2016ء بروزاتوار
اے این پی پرنٹرز اور پبلشرز کے حقوق کی جنگ میں ان کے ساتھ ہے، سینیٹر ستارہ ایاز
سن 2013 ء میں آئین میں اٹھارویں ترمیم کے بعد دوسری بہت سی چیزوں کے ساتھ ساتھ تعلیم کی وزارت بھی صوبوں کو منتقل کی گئی
نا اہل اور اٹھار ویں ترمیم سے بے خبر حکمرانوں نے پرنتنگ کا کام اوپن ٹینڈر کے ذریعے پنجاب کے حوالے کر دیا ہے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی نے پرنٹرز اور پبلشرز کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ طویل عرصہ سے اپنے جائز حقوق کیلئے مظاہرہ کرنے والوں کے مطالبات جلد تسلیم کئے جائیں،اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری بیان مین پارٹی کی سینیٹر ستارہ ایاز نے کہا کہ اے این پی پرنٹرز اور پبلشرز کے مطالبات کی بھرپور حمایت کرتی ہے ،انہوں نے کہا کہ اے این پی نے صوبائی حقوق کے حصول کیلئے طویل جدوجہد کی اور صوبائی خود مختاری کیلئے بہت قربانیاں دی ہیں ،2013ء میں آئین میں اٹھارویں ترمیم کے بعد دوسری بہت سی چیزوں کے ساتھ ساتھ تعلیم کی وزارت بھی صوبوں کو منتقل کی گئی ہر صوبہ اپنی ٹیکسٹ بک خود پرنٹ کرتا ہے اور کسی دوسرے صوبے کے لوگ دوسرے صوبے میں پرنٹنگ کا کام حاصل نہیں کر سکتے تاہم موجودہ نا اہل اور اٹھار ویں ترمیم سے بے خبر حکمرانوں نے پرنتنگ کا کام اوپن ٹینڈر کے ذریعے پنجاب کے حوالے کر دیا ہے جو خیبر پختونخوا کے پرنٹرز کے ساتھ سراسر زیادتی ہے اور پرنٹرز کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے ،اور اس اقدام سے 100سے زائد پرنٹنگ یونٹس اب تک بند ہو چکے ہیں جس کے باعث ہزاروں افراد کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ چکے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ پنجاب کے پرنٹرز کو دیا جانے والا کام ان سے واپس لے کر پختونخوا کے پرنٹرز کو دیا جائے ، انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ دیگر صوبوں میں پرنٹنگ کے کام پر کوئی ٹیکس وصول نہیں کیا جا رہاجبکہ خیبر پختونخوا کے پرنٹرز سے یہ ٹیکس وصول کرنا ان کے حقوق غصب کرنے کی سازش ہے ،انہوں نے کہا کہ ایک طرف یہ دعوے کئے جارہے ہیں کہ حکومت صوبے میں انقلاب برپا کر رہی ہے جبکہ دوسری جانب صوبے میں بے روزگاری بڑھائی جا رہی ہے، ستارہ ایازنے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کی قسمت کے فیصلے بنی گالہ میں کچن کیبنٹ کے لوگ کر رہے ہیں ، صوبائی وزیر اعلیٰ اور وزراء پرنٹرز کے مسائل سننے کے روادار نہیں جبکہ امن و امان کے حوالے سے صوبے کی صورتحال خراب ہے ٹارگٹ کلنگ جاری ہے اور جب لوگ احتجاجاًسڑکوں پر آتے ہیں تو حکمران چوہوں کی طرح اپنے بلوں میں گھس جاتے ہیں انہیں اتنی بھی توفیق نہیں کہ وہ احتجاج کرنے والوں کے ساتھ بات چیت کریں اور ان کی داد رسی کریں ، انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے کاروباری طبقے کے ساتھ جو رویہ اختیار کر رکھا ہے اس میں غریب عوام بری طرح متاثر ہو رہے ہیں ، تاہم حکومت میں بیٹھے لوگ عوامی مسائل سے بے خبر ہیں

ملک بھر میں دہشت گردوں کے سرپرستوں اور سہولت کاروں کے خلاف آپریشن کیا جانا چاہیے، زاہد خان

 Feb-2016, PRs-2016  Comments Off on ملک بھر میں دہشت گردوں کے سرپرستوں اور سہولت کاروں کے خلاف آپریشن کیا جانا چاہیے، زاہد خان
Feb 282016
 

مورخہ 28فروری 2016ء بروز اتوار
ملک بھر میں دہشت گردوں کے سرپرستوں اور سہولت کاروں کے خلاف آپریشن کیا جانا چاہیے، زاہد خان
شہادتوں کا صلہ قوم اس وقت تک حاصل نہیں کرسکتی جب تک دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے والے ختم نہیں ہوں گے
پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی دونوں طالبانی نظام اور دہشت گردوں کی اعلانیہ حمایت رکھتی ہیں۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سینیٹر زاہد خان نے کہا ہے کہ فوجی و سویلین کی شہادتوں کا صلہ قوم اس وقت تک حاصل نہیں کرسکتی جب تک دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے والے بھی ختم نہیں ہوں گے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل کئے بغیر کامیابی مشکل ہے۔ زاہد خان نے مزید کہا کہ ملک بھر میں دہشت گردوں کے سرپرستوں اور سہولت کاروں کے خلاف آپریشن کیا جانا چاہیے ۔ اے این پی اور دوسری ترقی پسند جماعتوں کے خلاف بین الاقوامی آلہ کاروں نے زہریلا پروپیگنڈہ کیا اور جماعت کے کارکنوں اور قیادت کو شہید کروایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیکورٹی ادارے اور افواجِ پاکستان جب تک دہشت گردی کے ذہنی ٹھکانوں کو ختم نہیں کرتی دہشت گردی جاری رہی گی ۔ تمام تر مشکلات کے باؤجود اے این پی پاکستان کو پرامن اور تمام شہریوں کے لئے یکساں مراعات اور حقوق کے لئے جدوجہد جاری رکھے گی۔مرکزی ترجمان اے این پی زاہدخان نے کہا ہے کہ صوبہ خیبرپختون خواہ کی حکومت صوبے میں دہشت گردوں کے خلاف اس لئے موثر کاروائی نہیں کررہی کہ پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی دونوں طالبانی نظام اور دہشت گردوں کی اعلانیہ حمایت رکھتی ہیں۔