فقیر اف ایپی

 Personalities  Comments Off on فقیر اف ایپی
Apr 142016
 

faqirippiعظیم پختون حریت پسند،قوم پرست صوفی،درویش مجاہد میرزاعلی خان المعروف فقیرایپی کی 56برسی پر
روخان یوسف زئی کی تحریر

دنیا کے دیگر اقوام کے مقابلے میں پختون قوم اس لحاظ سے منفرد اور خوش قسمت واقع ہوئی ہے کہ ان کی قومی تاریخ ایسے بے شمار حریت پسندوں اور تاریخی شخصیات کے عظیم کارناموں سے بھری ہوئی ہے جس کی مثال شائد کوئی دوسری قوم پیش کرسکے لیکن اتنی درخشاں تاریخ کے مالک پختون اپنے ماضی اور تاریخ کے بارے میں ہمیشہ بڑے غافل اور لاپروا ثابت ہوئے ہیں۔  یہی وجہ ہے کہ آج اتنی بڑی قوم میں کسی کو بھی اپنا عظیم مجاہد، حریت پسند اور جنگ آزادی کا نامور سپوت فقیرایپی کی 56 ویں برسی یاد نہیں یہاں تک کہ اپنے علاقے وزیرستان اور اپنے قبیلے وزیر کو بھی پتہ نہیں ہوگا کہ 17اپریل1960ء کو اس مٹی کے ایسے فرزند نے داغ اجل لبیک کہا تھا جنہوں نے اپنی ساری عمر برطانوی سام راج کے خلاف اپنی قوم اور مٹی کی آزادی کی جنگ لڑی تھی اور اپنی بے مثال بہادری ذہانت اور قائدانہ صلاحیتوں کے ذریعے فرنگی سام راج کو ہر محاذ پر عبرتناک شکست سے دو چار کر رکھاتھا، لیکن افسوس کہ آج پختونوں نے اپنے اس عظیم محسن کے نام اور کارناموں پر منوں مٹی ڈال رکھی ہے ان کی زندگی اور جدوجہد سے آج کی نئی نسل کو بے خبر رکھا گیا ہے۔ ویسے بھی ہمارے ملک میں جنگ آزادی کی تاریخ صرف ایک خاص دائرے میں قید ہوکر لکھی جاتی ہے جس میں ان اصل کرداروں کو اندر داخل ہونے نہیں دیا جاتا ہے جن کی سوچ حاکم وقت، فقہیہ شہراورطبقہ اشرافیہ سے مختلف ہو۔ یہاں تو
اگا رہا ہے وہ ایک ایسی فصل کھیتوں میں
کہ جس سے بھوک تو مٹ جائے ذہن بنجر ہوں
وزیرستان کی سنگلاخ پہاڑوں اور پتھریلی زمین سے پیدا ہونے والے عظیم حریت پسند فقیرایپی کا قبیلوی تعلق وزیرستان کے طوری خیل وزیروں کی شاخ ھبتی مدی خیل سے تھا۔ وہ ایک غریب عالم دین گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ آٹھ سال کی عمر میں مذہبی تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے اپنا گھر بار چھوڑ کر بنوں اور اردگرد کے بڑے بڑے حریت پسند اور وطن پرست علماء سے علم حاصل کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ پورے برصغیر میں انگریزوں کے خلاف آزادی کی تحریکیں زوروں پر تھیں جن کی بازگشت وزیرستان میں بھی سنائی دی جاتی تھی۔ فقیرایپی جو پیدائشی طور پر حق گو اور وطن پرستی کے مجسم پیکر تھے ان تحریکوں سے متاثر ہوکر فرنگی سام راج کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ پختونوں کے یہ عظیم حریت پسند اور قوم پرست صوفی فقیرایپی جن کا اپنا اصل نام میرزاعلی خان تھا۔ ٹوچی کے علاقہ ایپی نام کے گاؤں میں ایک عالم دین ارسلاخان کے ہاں1891ء میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ بچپن میں دینی علوم کے حصول کے لیے بنوں آئے اور مختلف علماء کے شاگرد رہے۔ ان کے نام کے ساتھ میرزا کے لفظ کے معنی مقامی طور پربھائی کے ہیں۔ بھائی ایپی نام انگریزوں کے خلاف جہادکے زمانے میں ایپی گاوں کی نسبت سے پڑگیاتھا۔ جہاں یہ درویش مجاہد1936ء تک رہائش پزیر تھے، جومیرعلی کیمپ شمالی وزیرستان کے قریب واقع ہے۔ ان کے والد مولانا ارسلاخان مولانا گلاب دین سرکی خیل کے دست راست تھے اور1931ء میں انگریزوں کے خلاف جہاد میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیاتھا اور جس وقت ایک ہندو لڑکی ایک بنوسی لڑکے کی محبت میں گرفتار ہوکر اسلام اپنا گھر بار چھوڑ کر بھاگ آئی اور اسلام قبول کیا تو اس مسئلے پرہندوں اور مسلمانوں کے مابین ایک جنگ چھڑ گئی جس کی وجہ سے وہ لڑکی پھر اسلام بی بی کے نام سے مشہور ہوگئی۔ اس دوران فقیرایپی انگریزوں کے خلاف جہاد کی غرض سے علاقہ داوڑ چلے گئےاور وہاں سے انگریزوں پر لشکرکشی شروع کردی۔ آپ کے دو بڑے بیٹے گلزار علی اور میر زمان اس جہاد میں شہید ہوئے تھے، جب کہ میرزا علی جلال آباد میں تھے مگر قوم کے جہاد کی قربانیوں سے کافی متاثر تھے۔ فقیر ایپی امن پسند عالم دین تھے انہوں نے دوبار فریضہ حج کی سعادت حاصل کی تھی۔ وہ علمائے دین کی ملاقاتوں کو جاتے اور صوفیائے کرام کی زیارتوں میں مشغول رہتے۔ انہوں نے سید حسین نقیب صاحب جلال آباد چار باغ کے دست مبارک پر سلسلہ قادریہ میں بیعت کی اور خرقہ خلافت حاصل کیا۔ وطن واپسی سے قبل انہوں نے قاضی حیات الدین صاحب (عرف شیر زاد) کی صاحب زادی سے نکاح کیا جو تحریک خلافت کے دوران فاطمہ خیل کلاں ضلع بنوں سے افغانستان ہجرت فرما گئے تھے لیکن حاجی صاحب لاولد رہے۔ وہ وزیر، دوڑ اور دیگر قوموں میں کافی ہر دل عزیز تھے۔
فقیر صاحب چھوٹے قد کے دبلے پتلے انسان تھے غاروں میں کافی عرصہ گزارنے کے سبب انہیں دمہ کی شکایت ہو گئی تھی۔ آخر عمر میں معذور ہو گئے تھے چناںچہ لوگ ان کو چارپائی پر اٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتے۔ فقیر صاحب کا دل روشن تھا اور آنکھوں میں گہرائی تھی انہیں خطرے کا پیشتر احساس ہو جاتا تھا۔ جہاں بھی قیام کرتے تیز رفتار گھوڑے موجود رہتے کبھی یہ ہوتا کہ وہ آدھی رات کو حکم دیتے کہ یہاں سے نکل چلو۔ راستے میں۔اطلاع ملتی کہ پیچھے انگریزوں نے گولہ باری شروع کر دی۔ لہٰذا فقیر ایپی کے پاس ہر طرف سے مجاہد بھی آنا شروع ہوئے اور مالی امداد بھی پہنچنے لگی، شمالی اور جنوبی وزیرستان اور صوبے کے دوسرے ضلعوں سے لوگ زکوٰۃ قربانی کی چمڑی اور دیگر چندے جمع کر کے فقیر صاحب کے لنگر کے لیے بھیجا کرتے اور انگریزوں کے خلاف جہاد میں حصہ لینے لگے۔ وزیرستان میں ہر جگہ انگریزوں کے خلاف آگ لگ گئی تھی۔ فقیر صاحب نے وزیرستان کے تمام قبائل وزیر، محسود، دوڑ اور بیٹنی میں اتحاد قائم کیا جو قتل مقابلے کے سبب ہمیشہ آپس میں برسرپیکار رہتے تھے ۔افغان قبائل بھی جہاد میں فقیر صاحب کے ساتھ شریک ہوتے تھے فقیرصاحب نے 22 تاریخ ماہ صفر کو جہاد کی بیعت شروع بمقام نطاسی وادی ٹوچی کے پار شروع کی وہ ابھی جہاد کی تیاری کر رہے تھے کہ انگریزوں نے پیش قدمی شروع کر دی۔ 6 رمضان المبارک کو تلپکان قبرستان کے پاس شدید جنگ ہوئی اس موقع پر قبائلی شکر نے پتھر کی گولیاں اپنی رائفلوں میں استعمال کیں جو فوجی زخمیوں کے بدن سے نکالی گئیں اور فوج کا کافی جانی نقصان ہوا اور فوج کا اسلحہ اور سامان طوری خیل کے مجاہدین کے ہاتھ آیا۔ فقیر ایپی نے ایک مجلس شوریٰ قائم کی تھی جس کے سامنے تمام منصوبے اور ضروری مسائل پیش ہوتے اور گرما گرم بحث ہوتی تھی۔ صرف اہم مسائل فقیر صاحب کو پیش کئے جاتے تھے وہ مختصر الفاظ میں اپنا فیصلہ سنا دیتے جس پر سبب عمل کرتے تھے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے رہبرتحریک خان عبدالولی خان فقیر ایپی کے بارے میں اپنی کتاب’’حقائق مقدس ہوتے ہیں‘‘ میں لکھتے ہیں کہ’’ جس وقت جرمن یورپ میں مصیبت کھڑی کرنے کی کوشش کررہاتھا تو حکومت برطانیہ نے افغان حکومت کو سختی سے کہا کہ اپنے علاقے سے تمام جرمنوں کو باہرنکالے اور اس دباو کو اور بھی قومی اور برقرار رکھنے کے لیے شامی پیر کو قبائلی علاقوں روانہ کردیا ان کا مشن یہ کہ شاہی خاندان کے خلاف نفرت اور تعصب پیداکیاجائے اور وہاں بے قراری پیدا کی جائے۔ جس وقت ان کا مقصد پورا ہوگیا تو شامی پیر کو وانا کیمپ لایا گیا اور انہیں 25000پونڈ دیے گئے۔ اس سودا کی وجہ سے سیکرٹری ہندوستان لندن میں بہت متاثر ہوئے اور یہ سودا انہیں بہت اچھا لگا تو وائسرائے ہند کولکھا کہ یہی فارمولا فقیر کے لیے بھی استعمال کیاجائے۔ تو وائسرائے ہند نے 14جولائی 1938ء کو لکھا کہ” میرے ساتھ یہ خوف لاحق ہے میں یقین کرتا ہوں کہ پیرشامی والا فارمولا فقیر ایپی پر تطبیق نہیں ہوسکتا اس کا سرے سے ہی امکان نہیں ہے۔ کیوں کہ فقیر ایپی نہ صرف ہمارے سخت مخالف ہیں بلکہ لالچ سے بھی مکمل آزاد ہیں دولت کے بل بوتے پر اس مذہبی رہنماء کو خریدنا ناممکن ہے ” یہ بڑا انسان اور مجاہد مسلمان اور قوم پرست زندگی کی آخری سانس تک اپنے نظریات پر قائم رہے بعد میں بیماری اور پیرانہ سالی کے باعث اپنے مرکز گورویک میں رہائش پزیر تھے مگر اس بڑے اور کھرے پختون کو نہ فیرنگیوں نے نہ پاکستانی حکمرانوں نے اور نہ ہی افغانستان کے حکمرانوں نے خرید نہیں سکا،اور نہ ہی ہم انہیں بھلاسکتے ہیں،انہوں نے اپنی سادہ زندگی گزارنے پر صبر کیا تھا اس لیے ساری عمر آرام سے گزاری دیگر بابو(مشران) کی طرح مغلوں،فرینگیوں اور پاکستانی حکمرانوں کے حلوہ کے تال کے لیے مجبور نہیں ہوئے جس کا دشمن فرنگی بھی اعتراف کرتا ہے،کہ حاجی صاحب بکنے والے نہیں ہیں۔جو شامی پیر کی طرح بک جائیں ان کا بڑاپن یہی تھا کہ انہوں نے اپنی جان اور جہان کو اچھی طرح پہچانا تھا،اپنی حیثت کے مطابق زندگی گزارتا تھا،پیرروخان اورملاپاوندہ کے بعد وزیرستان کی مٹی پر جنم لینے والی یہ بڑی شخصیت 16اپریل 1960کو اس دارفانی سے کوچ کرگئے ان کی وفات پر تمام پختون اور سامراج مخالف لوگ سخت رنجیدہ ہوئے پوری دنیا کے ریڈیو سٹیشنوں سے ان کی وفات کی خبر نشر ہوئی اور بیشتر اخبارات نے اداریے لکھے چوں کہ حاجی صاحب لاولد تھے تو ان کی وصیت کے مطابق ان کے بھتیجے نیازعلی خان کو’’مشر‘‘ کی پگڑی پہنائی گئی اور امیرکاخطاب دیا گیا۔

سرباز انقلابی شاعرعاصی ہشتنگرے

 Personalities  Comments Off on سرباز انقلابی شاعرعاصی ہشتنگرے
Mar 302016
 

پشتو زبان کے معروف قوم پرست اور انقلابی شاعر،ادیب اور صحافی عاصی ہشتنگرے کی آج انسیویں برسی ہے
تحریر:  روخان یوسف زئے

بيا کړي ګردان د خوږ وطن او اسلام
پخپله دوئ قيصه سنګينه چېړي
زمونږ په وينو پړسېدلي غټان
په ننګيالو کښې تودۀ وينه چېړي

زېرے واورئ د بابا د ننګ ملګرو
نن کشتئ مو د غېرت مقام ته رسي
د خوشحال د غېرتي وېنې سرو څاڅکو
قافله مو د پښتو مرام ته رسي

یہ اس شاعر کے اشعار ہیں جنہوں نے اپنے لڑکپن سے لے کر مرتے دم مرتے دم تک اپنی مٹی اورپختون قوم کے حقوق کے لیے ادب،سیاست اورصحافت کے محاذ پرجنگ لڑی اس امید کے ساتھ کہ ایک نہ ایک دن ان کی قوم اپنے حقوق حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔ مگرآج پختونوں کی سرزمین پرجوآگ اورخون کا ایک نیاکھیل کھیلا جارہا ہے یہ وہ کھیل ہے جس کی پیشگوئی لوند خوڑ مردان سے تعلق رکھنے والے محمدعلی جان المعروف عاصی ہشتنگرے نے آج سے پچاس سال قبل اپنی شاعری کے ذریعے کی تھی۔ مگر افسوس کہ ہماری قوم نے اپنے اس قوم پرست شاعر کو وہ اہمیت نہیں دی جس کے وہ زندگی میں حقدار اور مستحق تھے۔

عاصی ہشتنگرے نے اپنی انقلابی شاعری، عملی جدوجہد اورصحافت کے میدان سے وقت کی ہرجابر اور ظالم قوتوں کوللکارا اور اپنی قوم میں انقلابی شعوراجاگرکیا، یہ ان جیسے نظریاتی کارکنوں،لکھاریوں اوردانشوروں کی قربانیوں اور جدوجہدکا نتیجہ ہے کہ آج پختون قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی کو ملک میں سب سے بڑی پختون قوم پرست جماعت ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ پختون قوم کی یہ سب سے بڑی بدقسمتی ہے کہ ان کا اجتماعی حافظہ بہت کم زور ہے اورجلدہی اپنے اسلاف اورمحسنوں کوبھلادیتی ہے۔ ہونا تویہ چاہیئے تھا کہ آج ہم اپنے معروف قوم پرست اور ترقی پسند شاعر، ادیب اور صحافی عاصی ہشتنگرے کی یاد میں کوئی سیمینار منعقد کرتے تاکہ نئی نسل کوپتہ چلتا کہ ان کے حقیقی حریت پسند اورمحسن کون کون سے لکھاری اور دانشور تھے؟ بہرحال پھر بھی اے این پی کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے اپنے قافلے کے انقلابی شاعر اور ادیب کویاد کیا۔

عاصی ہشتنگرے جنہوں نے زندگی بھر سخت نامساعد حالات میں بھی باچاخان اور خان عبدالولی خان کا ساتھ نہیں چھوڑا اورمرتے دم تک اپنے نظریات پر قائم رہے مگر ان کی شاعری اورمضامین پرمبنی جو غیرمطبوعہ مسودات پڑی ہیں وہ بھی طباعت کی راہ تک رہی ہیں۔

عاصی ہشتنگرے زمانہ طالب علمی سے خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان کی تحریک ’’خدائی خدمتگار‘‘ سے متاثر ہو کر اس کے کارکن بن گئے تھے۔انہوں نے اس دور میں ادب کے میدان میں قدم رکھا جس وقت غیرجمہوری اور پختون دشمن قوتوں کے خلاف اجمل خٹک، قلندرمومند اورمیرمہدی شاہ باچاجیسے لکھاری اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ دوسرے نوجوان شاعروں ادیبوں کی طرح عاصی ہشتنگرے بھی باچاخان اور ولی خان سے بڑے متاثر ہوئے اور ان کے پیروکار بنے۔ ان کی انقلابی نظموں اور غزلوں کو دیکھ کراجمل خٹک جیسی شخصیت نے انہیں’’ سرباز انقلابی شاعر‘‘ کا نام دیا تھا۔ وہ وقتاً فوقتاً مختلف اخبارات اور رسائل میں اپنی قوم میں آزادی کا جذبہ بیدار کرنے کیلئے انقلابی نظمیں بھی شائع کرتے تھے۔ اپنے انقلابی نظریات اور تیز سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے کئی بار سخت مشکلات سے بھی گزرے۔ کئی سالوں تک افغانستان میں بھی رہے۔

انہوں نے بطور صحافی بے شمار اخبارات و جرائد میں کام کیا اور پشتو روزنامہ وحدت کے ایڈیٹر بھی رہے۔ ان کی شاعری کا ایک ہی مجموعہ’’تودہ وینہ‘‘ پہلی بار 1975ء میں افغانستان میں چھپا اور پھر وہی مجموعہ چند سال قبل شائع ہواہے جس کا مقدمہ پشتو کے معروف قوم پرست شاعر وادیب م،ر شفق نے لکھاہے۔ پختون قوم کے حقوق کیلئے آخری دم تک ادبی، سیاسی اور صحافتی میدان میں لڑنے والے، پشتو زبان کے منفرد لب و لہجے کے انقلابی شاعر و ادیب نے زندگی کے آخری ایام بڑی کسم پرسی میں گزارے اور31مارچ1997ء کو یہ قوم پرست، وطن دوست اور بشر دوست انسان بے بسی کے عالم میں ابدی نیند سو گئے،

رنگ اور نور کے شاعر غنی خان کی بیسویں برسی

 Personalities  Comments Off on رنگ اور نور کے شاعر غنی خان کی بیسویں برسی
Mar 102016
 

GhaniKhan2رنگ اور نور کے شاعر غنی خان کی بیسویں برسی

تحریر : رو خان یوسف زئے

کہا جاتا ہے کہ زندگی سے خظ اٹھانے کے لیے سب سے زیادہ موزوں ترین شخص وہ ہے جس میں جذبے کی گرمی ہو، بے باک ہو اور جسے کسی چیز کا خوف نہ ہو اس کے علاوہ انسان کی پختہ خوبیاں تین بتائی جاتی ہے جس میں دانش، رحم دلی اور جرات شامل ہے اگر مذکورہ’’موزوں ترین شخص‘‘ میں ان تین خوبیوں کے علاوہ اور بھی کئی خوبیاں شامل ہو جائیں تو پھر اس شخص کو ہم صرف عام ’’موزوں ترین‘‘ شخص نہیں بلکہ اسے پھر نابغہ، مفکر، دانشور اور فلسفی کا نام اور مقام دے سکتے ہیں۔
پشتو زبان کے بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر، ادیب، دانشور، مصور، مجسمہ ساز، فلسفی اور سیاست دان غنی خان ایک ایسی شخصیت اور ہستی کا نام ہے جو بے شمار خوبیوں کے مالک تھے اور زندگی سے جس طرح انہوں نے حظ اٹھایا ہے اس سے ان کے جاننے اور پڑھنے والے اچھی طرح واقف ہیں۔غنی خان کو پختونوں کی اکثریت’’ لیونے فلسفی‘‘ (دیوانہ فلسفی) رنگ و نور، روشنی اور سائے کے شاعر کے نام سے جانتی ہے۔ غنی خان بیک وقت کئی خوبیوں کے مالک تھے اور ہر خوبی کو جہاں انہوں اپنی شاعری میں سمویا ہے وہاں برش اورچینٹی کے ذریعے مصوری اور مجسمہ سازی میں بھی کمال کر کے دکھایا ہے۔ خان عبدالغنی خان خدائی خدمت گار تحریک کے بانی فخرافغان باچاخان کے سب سے بڑے صاحبزادے تھے جو1914ء کو اتمان زئی چارسدہ میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم انہوں نے اپنے گاؤں کے آزاد سکول سے حاصل کی جس کی بنیاد ان کے والد باچاخان نے 1928ء میں رکھی تھی اور اپنے دونوں بیٹوں غنی خان اور خان عبدالولی خان کو بھی اسی سکول میں داخل کیا تھا۔ سکول ہاسٹل میں انہیں صبح صرف ایک پیالی چائے ملتی تھی اس لیے غنی خان رات کو کھانا کھانے کے دوران روٹی کے چند ٹکڑے چھپا کر صبح چائے کے ساتھ کھالیتے تھے۔ اس وقت ان کے سکول میں کرسیاں یا بینچ نہیں ہوا کرتا تھا اور طلباء چٹائی پر بیٹھ کر سبق پڑھتے تھے۔ شام کو جب وہ چٹائیاں اٹھاتے تھے تو اس کے نیچے بے شمار بچھو پڑے ہوئے ملتے تھے ان کے سکول میں کوئی بیت الخلا بھی نہیں تھا اور طلباء رفع حاجت کے لیے کھیتوں میں جایا کرتھے تھے۔ اس طرح کے ماحول اور سکول میں چارسدہ کے مشہور خان خان عبدالغفار خان کے صاحبزادوں غنی خان اور ولی خان نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ تعلیم حاصل کرنے کے سلسلے میں غنی خان مہاتما گاندھی اور جواہر لعل نہرو کے ہاں’’برلاہاوس‘‘میں بھی کئی سال تک رہ چکے تھے۔ اور وہ گاندھی جی کے بڑے متعقد اور ان کے کردار اور اخلاق سے بے حد متاثر رہے۔ اس وقت وہاں غنی خان ایک شوگرمل میں بطور انجئنیر کام کرتے تھے اور شادی بھی وہاں حیدرآباد دکن کے ایک بہت بڑے نواب کی صاحبزادی روشن نامی لڑکی سے کی جس سے غنی خان کا صرف ایک بیٹا فریدون پیدا ہوا تھا جو شادی کے چند سال بعد نوجوانی میں اپنے ایک کسان کے ہاتھوں حادثاتی موت چل بسے۔ غنی خان گھڑ سواری کے علاوہ شکار کھیلنے کے بھی بہت شوقین تھے۔ شادی کے بعد جب ایک دن وہ ہرن کا شکار کرکے گھر لے آئے تو ان کی اہلیہ روشن بیگم نے انہیں کہا کہ آپ جیسا حساس آدمی بھی ان معصوم جانوروں کو گولی سے مارتا ہے؟ جس کے بعد غنی خان نے شکار کرنا چھوڑ دیا اور مرتے دم تک پھر کبھی شکار کا نام نہیں لیا۔ Continue reading »

منفرد لب ولہجے کے غزل گو سیف الرحمان سلیم 

 Personalities  Comments Off on منفرد لب ولہجے کے غزل گو سیف الرحمان سلیم 
Mar 072016
 

SaifurRehmanSaleem

د وړو وړو خدايانو دې بنده کړم
لویه خدایه زۀ بۀ چا چا ته سجده کړم؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دې بې کچه اضطراب کې څۀ سکون رالۀ پېدا کړئ
مېکدې پله څوک ورشئ لږ ژوندون رالۀ پېدا کړئ
د جمات استاذ عرب دے په مکتب کښې دهلی وال دے
يو استاذ راته پيدا کړئ خو پښتون راته پېدا کړئ

پشتو زبان کے معروف ترقی پسند اور قوم پرست شاعرسیف الرحمان سلیم نویں برسی

تحریر،رو خان یوسف زئے

سیف الرحمان سلیم پشتو زبان کے معروف ترقی پسند اور قوم پرست شاعر تھے،ان کے چاہنے والے پاکستان کے علاوہ وہ افغانستان میں بھی ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔ ان کی شاعری کی بنیاد سماجی حقیقت نگاری، رومانویت اور وطن پرستی کے سہہ جہتی راستوں پر استوار ہے۔ سیف الرحمان سلیم کی غزل اپنے اندر قدیم اور جدید اقدار اور روایات کے تمام مثبت رجحانات سمیٹے ہوئے حقیقت نگاری اور سچائی کی ایک ایسی توانا آواز ہے جو اپنے پڑھنے والوں کو سلاتی نہیں بل کہ بیدار اور متحرک کرتی ہے۔

سیف الرحمان سلیم یکم اپریل 1929ء کو پشاور کے قریب گاؤں گلوزئی میں سید جلال شاہ کے ہاں پیدا ہوئے۔ دو بہنوں اور پانچ بھائیوں میں وہ دوسرے نمبر پر تھے۔ ابتدائی پرائمری تعلیم اپنے گاؤں کے سکول سے حاصل کی جب کہ مڈل تک گاؤں کے قریب پخہ غلام کے سکول میں پڑھتے رہے اور میٹرک گورنمنٹ ہائی سکول نمبر ون سے کیا۔ ان کے والد انہیں گاؤں کے دوسرے لڑکوں کے ساتھ کھیلنے کودنے نہیں دیتے تھے۔  وہ اپنے بچوں کو صرف لکھائی پڑھائی تک محدود رکھنا چاہتے تھے اس لیے سکول سے آتے ہی وہ اپنے بچوں کو گھر میں محصور کردیتے اور باہر کے دروازے کو کنڈی لگادیتے لیکن سیف الرحمان سلیم اپنی آزاد فطرت کے ہاتھوں مجبور ہوکر دیوار پھلانگ کر نکل جانے میں کامیاب ہوجاتے تھے اور محلے کے دیگر بچوں کے ساتھ گلی ڈنڈا اور دیگر روایتی کھیل کھیلنے میں جت جاتے۔ وہ جتنی بھی شرارتیں کیا کرتے تھے ان کی والدہ ان پر پردہ ڈال لیتی تھیں اور اس طرح والد کے ہاتھوں مار کھانے سے بچ جایا کرتے تھے۔

بقول سیف الرحمان سلیم کے کہ وہ تیسری جماعت میں تھے کہ انہیں اپنے استاد حمداللہ جو میاں گجر کے رہنے والے اور بڑے قوم پرست اور وطن دوست آدمی تھے، پہلی بار اپنے ساتھ فلم دکھانے لے گئے تھے وہ اب اپنے اس استاد کا ذکر بڑے احترام سے کیا کرتے تھے جو ان کے گاؤں کے حجرے میں رہتے تھے اور رات کو گراموفون بجاتے تھے۔ سلیم گراموفون کے اردگرد چکر لگاتے اور دیکھتے کہ گانے والا اس میں کہاں چھپا ہے۔ کتابوں اوررسالوں سے دلچسپی اس وقت اور بڑھی جب ان کے بڑے بھائی عزیزالرحمان انہیں مختلف کتابیں اور رسالے لا کر دیتے جس سے سلیم کی ادبی ذوق کی تسکین ہوتی تھی۔ چوں کہ ان کے والد خدائی خدمتگار تحریک کے ایک فعال رکن تھے اس لیے جس وقت 1937ء میں مہاتما گاندھی ایبٹ آباد آئے تھے تو سلیم بھی اپنے والد کے ہمراہ گئے تھے اور گاندھی جی کو قریب سے دیکھا اور سنا تھا بعد میں اپنے خالو جو ہندوستان کے شہر پونا میں اپنے ذاتی کاروبار کے سلسلے میں مقیم تھے، سلیم بھی تقسیم ہند سے پہلے وہاں گئے تھے اور 6 سال تک رہے جہاں انہیں مولاناابوالکلام آزاد، گاندھی جی اور پنڈت جواہر لال نہرو کو قریب سے دیکھنے اور سننے کا موقع ملا۔
جس وقت گاندھی جی آغا خان پیلس میں نظر بند تھے تو سلیم انہیں دیکھنے روزانہ وہاں جایا کرتے تھے اس کے علاوہ ہندوستان کے معروف ترقی پسند اور قوم پرست شاعروں اور ادیبوں کے ساتھ بھی کئی نشستوں میں شرکت کی جن میں کرشن چندر، سعادت حسن منٹو جیسے بلند پایہ ادیبوں کے نام قابل ذکر ہیں۔ سیف الرحمان سلیم آٹھویں جماعت کے بعد فیروز سنز میں بطور سیلز مین رہے اس کے علاوہ نیم سرکاری ادارہ ’’خزانہ‘‘ میں بھی اسسٹنٹ کیشئر رہ چکے تھے، یہاں ان کے ساتھ مسعود انور شفقی اور محسن احسان جیسے معروف شعراء بھی ملازمت کیا کرتے تھے۔ ویسے تو شعروشاعری کے ساتھ بچپن سے ہی لگاؤ تھا۔ فوک قصے کہانیاں اور رومانوی داستانیں پڑھتے تھے بعد میں خود شعر لکھنا شروع کردیا۔ 1951ء میں باقاعدہ شاعری شروع کردی۔ ہندوستان کے شہر پونا میں چھ سال تک رہنے اور وہاں کے معروف ترقی پسند شاعروں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کا اثر تھا کہ خود بھی ترقی پسندی کی جانب مائل ہوگئے۔ کارل مارکس کانام سنتے سنتے اور مختلف کتابوں میں ان کا حوالہ پڑھتے پڑھتے جب پہلی بار ان کی کتاب خریدی اور پڑھنے بیٹھ گئے تو کچھ پلے نہ پڑا مگر پھر بھی کارل مارکس کو پڑھنے میں وہ ایک لطف محسوس کیا کرتے تھے۔ ان کی ادبی اور سیاسی سوچ کو جلا بخشنے میں معروف ترقی پسند شاعر، ادیب اور دانشور کاکاجی صنوبر حسین مومند، فارغ بخاری، رضاہمدانی، افضل بنگش کے علاوہ دوست محمد خان کامل، اجمل خٹک اور حمزہ شنواری، قلندرمومند کی دوستی اور تعلق کا بھی بڑا ہاتھ رہا ہے چند سال ریڈیو پاکستان پشاور میں سکرپٹ رائٹر بھی رہے ہیں لیکن ذوالفقارعلی بھٹو کے دور میں مرحوم مولانا کوثر نیازی جو اس وقت وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات تھے ان کے کہنے پر ریڈیو سے فارغ کردیے گئے ان پر پختونستان کا ایجنٹ اور ترجمان ہونے کا الزام لگایا گیا۔ بعد میں ضیاء الحق کے دور میں سیف الرحمان سلیم نے وفاقی محتسب کو ایک خط بھی لکھ کر بھیجا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ مجھے اس وجہ سے نوکری سے نکالا گیا تھا کہ میں پختونستان کا ایجنٹ اور ترجمان ہوں برائے مہربانی مجھے بتایا جائے کہ پختونستان کہاں پر واقع ہے تاکہ وہاں جاکر آباد ہوجاؤں۔
وہ ایک سال تک افغانستان کے شہر ’’مکرویان‘‘میں بھی رہ چکے تھے، بیوی اور بچے بھی ساتھ لے گئے تھے تاکہ ان کے بچے سیاسی اور طبقاتی شعور حاصل کرسکیں۔ ان کے تین بچے ہیں جن میں ایک بیٹی اور دو بیٹے ہیں۔ سلیم بطور صحافی روزنامہ ’’شھباز‘‘ اور ’’جھاد‘‘ میں بھی کام کرچکے تھے۔ وہ پشتو کی معروف ترقی پسند تنظیم’’اولسی ادبی جرگہ‘‘ کے بانی ارکان میں سے تھے۔ انجمن ترقی پسند مصنفین کے ایک فعال رکن رہے۔ 1986ء کو کراچی میں انجمن ترقی پسند مصنفین کی گولڈن جوبلی میں بھی شرکت کی تھی جہاں سید سبط حسن سے بھی طویل ملاقات اور گپ شپ کا موقع ملا۔ اردو کے شاعروں اور ادیبوں میں ابراہیم جلیس کے ساتھ گہری دوستی رہی۔ لڑکپن سے سگریٹ نوشی کی لت پڑھ چکی تھی۔ ان کی شادی پھوپی زاد سے ہوئی تھی۔ انہیں ایک بار اپنی بیوی نے کہا تھا کہ آپ کے ہاتھ میں سگریٹ بہت اچھا لگتا ہے۔ اس دن سے سگریٹ ترک کرنے کا ارادہ ہی چھوڑ دیا۔ اگرچہ بعد میں بیوی نے کئی بارانہیں سگریٹ نوشی ترک کرنے کو کہا لیکن وہ یہی جواب دیتے کہ آپ ہی نے تو کہا تھا کہ آپ کے ہاتھ میں سگریٹ اچھا لگتا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ ہمیشہ آپ کی نظروں میں اچھا لگوں۔
اپنی زندگی کے ناقابل فراموش واقعات میں وہ بارہ اگست 1948ء کو رونما ہونے والے ’’بابڑہ‘‘ کے واقعے کا ذکر کرتے وقت آبدیدہ ہوجاتے تھے اس کے علاوہ اپنی بیگم کی وفات کا غم بھی مرتے دم تک سینے سے لگائے ہوئے تھے اور اس کے ذکر پر بھی سلیم کی آنکھوں میں آنسو امڈ آتے آتے تھے۔ سلیم سیاسی شخصیات میں گاندھی جی، مولاناابولکلام آزاد، پنڈت جواہر لال نہرو،باچا خان اور کاکاجی صنوبر حسین کے کردار سے بے حد متاثر تھے۔ ان کے پسندیدہ گلوکاروں میں سہگل، محمد رفیع جب کہ اداکاروں میں اشوک کمار، کانن بالا اور پرتھوی راج تھے ۔ جوانی میں اپنی خوبصورتی کی وجہ سے لڑکیاں ان پر مر مٹنے کو تیار تھیں۔ زندگی کو ایک خاص ترتیب سے گزارنے کے قائل نہیں تھے۔ پابندی جس شکل میں بھی ہو اس کے سخت خلاف تھے اور بے ترتیبی کو بھی ایک اصول کا نام دیتے تھے۔ سیف الرحمان سلیم ایک خاموش طبع اور نرم خو انسان تھے، بہت کم بولتے تھے مگر تول تول کے بولتے تھے اپنی نفاست پسندی اور منکسرالمزاجی کی وجہ سے انہیں پشتو کے معروف شاعر اور ادیب سلیم راز نے ’’چنبیلی جیسا آدمی‘‘ کا لقب دے رکھا تھا۔ ان کی شاعری کا ایک مجموعہ’’سندریز شفقونہ‘‘ کے نام سے 1987ء میں افغانستان میں چھپا اور بہت زیادہ شہرت پائی ہے۔ پشتو کے تمام نام ور نقاد اس بات پر متفق ہیں کہ سلیم کا سیاسی نقطہ نظر ایک اخلاقی قدر بن کر ان کی پوری شاعری کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہیں اور انہوں نے ایک سچے اور مخلص انقلابی شاعر کی طرح انقلاب کے نعرے کو نغمگی عطاء کی ہے۔ حسن میں انقلاب اور انقلاب میں حسن سیف الرحمان سلیم کی شاعری کا اصل نچوڑ اور پیغام ہے ان کی غزل کو رومان اور حقیقت کا سنگم کہا جاتا ہے ان کی ذات اور فن میں کوئی تضاد نہیں اس لیے وہ یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گے۔
میرے ہی خدو خال ہیں میرے تمام حرف
میں نے کیا خود اپنا تماشہ کتاب میں
پشتو زبان کے یہ شہزادہ غزل گو 8 مارچ 2007 ء کو اس دار فانی سے کوچ کرگئے

ارباب سکندرخان خلیل

 Personalities  Comments Off on ارباب سکندرخان خلیل
Mar 042016
 

6363941343_8b4858c686_bمڑہ ھغہ چہ نہ ئے نوم نہ ئے نشان وی
تل تر تلہ بہ خہ نوم پائی خاغلی

معروف قرم پرست رہنما ادیب ،دانشور اور سابق گورنر ارباب سکندرخان خلیل کی34 ویں برسی کے موقع پرخصوصی تحریر

روخان یوسف زئی

ارباب سکندر خان خلیل شہیدارباب سعادت خان کے ہاں 21مارچ 1912ء کو پشاور کے علاقہ برتہکال میں پیدا ہوئے تھے اور 7مارچ 1982ء کو ایک بنیادپرست کے ہاتھوں شہید ہوئے ۔انہوں نے چھ عد کتابیں بھی لکھی ہیں جن میں ’’گللونہ او ازغی‘‘، قوم او قومیت‘‘، فلسفہ زڑہ او نوے‘‘، داقتصادیاتو خلاصہ، ‘‘اوسنئی فلسفہ‘‘ ، ژور فکرونہ‘‘ اور انگریزی زبان میںother side of the picture کے نام شامل ہیں۔ 1970ء کے انتخابات میں جب موجودہ خیبر پختون خوا اور صوبہ بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی(نیپ) کی حکومتیں وجود میں آئیں تو ارباب سکندرخان خلیل کو اپنی پارٹی نے گورنر نامزد کردیا وہ 30 اپریل 1972ء تا 15فروری 1973 ء تک گورنر رہے تاآنکہ اس وقت کے وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو نے دونوں صوبوں میں نیپ کی حکومتیں ختم کردیں اور اسی سال حیدر آباد سازش کیس میں گرفتار ہوئے اور 1979ء میں رہا کردیے گئے۔
1930ء میں قصہ خوانی بازار میں خدائی خدمتگاروں پر فرنگی سامراج نے خدائی خدمتگاروں کے جلوس پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں سینکڑوں خدائی خدمتگار اس موقع پرشہید ہوئے اور بے شمار خدائی خدمتگاروں کو گرفتار کرکے جیل میں بند کردییے گئے جن میں ارباب سکندرخان خلیل کے والد ارباب سعادت خان خلیل بھی شامل تھے جنہیں ہری پور جیل میں بند کردیا گیا اور ان پر اتنے ظلم ڈھائے گئے جس کے نتیجے میں وہ تپ دق کے مریض بن گئے۔ جیل میں فرنگی جیلر نے انہیں علاج معالجے اور ادویات کی پشکش کی تاہم ارباب سعادت خان نے جواب میں کہا کہ مجھے اپنے علاج سے زیادہ اپنی قوم کی آزادی عزیز ہے ، دینا چاہتے ہو تو ہماری قوم کو آزادی دو اور اس حالت میں وہ مرآہن 21 دسمبر 1932ء کو جیل ہی میں وفات پاگئے ۔ اس وقت ارباب سکندرخان خلیل کی عمر بیس سال تھی۔
انہوں نے لڑکپن سے ہی یاست کے میدان میں عملی قدم رکھا اور اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے رہے۔جس کی پاداش میں وہ دو مرتبہ گرفتار ہوئے اور ان کا تعلیمی سلسلہ روک گیا۔بعد میں سیشن کورٹ میں ٹائپسٹ اور ریکارڈ کیپر بھرتی ہوگئے اور اپنا تعلیمی سلسلہ بھی جاری رکھا۔انہوں نے پرائیوٹ طور پر ایف اے اور بی اے کیاجس کے بعد علی گڑھ یونیورسٹی سے1947ء میں ایل ایل بی کا امتحان بھی پاس کیا۔

ان کی شادی ارباب فتح محمد خان کی صاحبزادی سے ہوئی ۔ جوانی میں فٹ بال کے مانے ہوئے کھلاڑی تھے۔ پشاور ہلال کلب کے بہترین فاروڈ تھے۔ ارباب صاحب کو جب گورنرشپ سے برطرف کیا گیا تو بقول خان عبدالولی خان ’’جس وقت ارباب صاحب کی برطرفی کا حکم نامہ آیا تو ارباب صاحب گورنر ہاوس سے سیدھے وزیراعلیٰ مفتی محمود کے گھر چلے گئے ۔ برطرفی کے حکم نامے کے بعد گورنر ہاو س میں سرکار کے پیسوں پر بننے والی چائے پینا بھی گورا نہیں کی اور ناشتہ کرنے کے لیے مفتی محمود صاحب کے گھر آئے۔ بعد میں ان کے خاندان کے افراد آئے تو ان کا ایک چھوٹا سا سوٹ کیس گھر لے آئے۔

اس درویش صفت انسان کو اچھی طر ح معلوم تھا کہ’’پرائی چارپائی آدھی رات کی ہوتی ہے‘‘ ۔ ارباب سکندرخان خلیل شہید آج ہم جسمانی طور پر موجود نہیں ہیں تاہم ان کی جدوجہد اور افکار آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہیں،بقول شاعر،
ہم روح سفر ہیں ہمیں ناموں سے نہ پہچان
کل اور کسی نام سے آجائیں گے ہم لوگ

خوشحال خان خٹک

 Personalities  Comments Off on خوشحال خان خٹک
Feb 182016
 

khushhal khanدرست پختون لہ قندھارہ تر اٹکہ

سرہ یو د ننگ پہ کار پٹ او اشکار
کہ توقیق د اتفاق پختانہ مومی
زوڑ خوشحال بہ دوبارہ شی پہ دا زوان

پشتو زبان کے نام ور شاعر،ادیب،مورخ، فلسفی، حکیم،دانش ور،شکاری، جنگجو اور سردار خوش حال خان خٹک کی تین سو ستائیس ویں برسی

تحریر،روخان یوسف زئی

نیلی شکاری آنکھیں، جنگجو ناک، چہرے پر دانشورانہ جھریاں، سر پر لمبے لمبے شاعرانہ بال، لمبی لمبی فلسفیانہ داڑھی، گال پر کالا تل جو انسانی نفسیات پر عبور رکھنے کی واضح علامت ہے، مضبوط توانا جسم اور دراز قدوقامت کے مالک، نابغہ روزگار شخصیت، پشتو زبان کے عظیم قوم پرست اور وطن پرست شاعر، ادیب، سردار، فلسفی، سیاست دان، ماہر نفسیات، شکاری، حکیم اور جنگجو خوشحال خان خٹک مغل شہنشاہ نورالدین جہانگیر کے دور حکومت میں1022ھ بمطابق مئی1613ء کو خٹک قبیلے کے سردارشہبازخان کے ہاں اکوڑہ خٹک(نوشہرہ)میں پیدا ہوئے،چھ سال کے تھے کہ انہیں ایک دن گھر کی خادمائیں اپنے ساتھ دریائے کابل میں سرائے اکوڑہ کی گھاٹ پر لے گئیں، وہ خود تو کپڑے اور برتن دھونے میں مصروف ہوگئیں جب کہ ننھا خوشحال خان دریا کے کنارے نہانے لگا کہ اس دوران پانی کا زوردار ریلا آیا اور اسے اپنے ساتھ بہا لے گیا۔ان خادماؤں میں ’’دولتئی‘‘ نامی خادمہ کی نظر خوشحال کے بالوں میں بندھے ریشم کے تاروں پر پڑی جو سطح آب پر تیرتے چلے جارہے تھے دولتئی نے ریشم کا گچہ سمجھ کر جوں ہی اسے پکڑ کر زور سے کھینچا تو اس کے منہ سے ایک آہ نکلی کیوں کہ اس گچے کے ساتھ وہ خوشحال خان کو بھی پانی سے باہر نکال لائی تھی۔ دولتئی چلانے لگی، دوسری نوکرانیاں بھی یہ چیخ وپکار سن کر آپہنچیں، خان زادے کو بے ہوش دیکھ کر سب کو اپنی جان کی پڑگئی، خان زادے کا پیٹ دریا کے پانی سے اتنا بھر چکا تھا کہ اس کے منہ سے پانی بہہ رہا تھا، نوکرانیوں نے جلدی اسے گڑھے پر پیٹ کے بل ڈال دیا تاکہ اس کے پیٹ میں بھرا پانی باہر نکل سکے۔تھوڑی دیر بعد خان زادے کو ہوش آیا،اس واقع کے دوسال بعد خوشحال خان خٹک کے ساتھ ایک اور واقعہ بھی پیش آیا، ایک دن وہ سخت گرمی کے موسم میں اپنے محلے کے لڑکوں کے ساتھ ایک چھپر کے نیچے کھیل رہے تھے کہ اس دوران زور کی آندھی آئی اور چھپر پر پڑی چٹائی کو جس پر کچھ بھاری پھتر پڑے ہوئے تھے، آندھی لے اڑی، ان پھتروں میں سے ایک پھتر خوشحال خان پر آگرا اور بالوں کی مانگ کے برابر ان کی پیشانی کو چیر ڈالا جس سے بے ہوش ہوکر زمین پرگر پڑے اور کئی دنوں تک مرہم پٹی کرنے کے بعد ان کا زخم ٹھیک ہوا۔

خوشحال خان نے اپنے زمانے کی رائج ابتدائی تعلیم اپنے گھر اور مسجد کے اساتذہ سے حاصل کی مگر پڑھائی سے زیادہ ان کی توجہ شکار کھیلنے کی جانب رہی کیوں کہ ان کے گھر اور حجرے میں ہر طرف نیزوں، تیر وکمان، برچھوں،تیزدھارچھریوں، تلواروں اور بندوقوں کے انبار لگے رہتے تھے، ان کے خاندان کے تمام افراد کے دو بڑے مشاغل تھے، ایک شکار کھیلنا اور دوسرا جنگ وجدل میں مصروف رہنا، یہی وجہ تھی کہ خوشحال خان کو بچپن ہی سے شکار کھیلنے کا چسکا پڑگیا تھا، وہ خود اعتراف کرتے ہیں کہ’’پورے جہاں کی تعلیم اور تحصیل میری ہوتی، اگر میں شکار کے شغل میں مبتلا نہ رہتا‘‘ بچپن میں چھوٹے چھوٹے پرندوں اور جوانی میں ہرنیوں، خرگوشوں کا شکار کھیلتے تھے، انہیں باز پالنے کا اتنا شوق تھا کہ ’’بازنامہ‘‘ کے نام سے ایک پوری منظوم کتاب بھی لکھی ہے، ہزاروں اشعار پر مشتمل کلیات اور نثر کی متعدد کتابیں ان کی ذہنی صلاحیتوں، وسعت مطالعہ، دنیا کے مختلف علوم اور مضامین پر ان کی کامل دسترس کی گواہی دیتی ہیں،ان کی پہلی شادی اٹھارہ سال کی عمر میں جولائی1631ء کو ہوئی، بعد میں کئی شادیاں کیں، پرتعیش زندگی اور ان کے گھر اچھی، اچھی خوب صورت دلہنوں کی آمد کا ذکران کے کلام میں بکثرت ملتا ہے، پہلی شادی سے چند دن پہلے وہ معیادی بخار(ٹائیفائڈ) میں مبتلا ہوگیے، اردگرد کے بڑے بڑے طبیبوں سے ان کا علاج کرایا گیا مگر افاقہ نہیں ہوا جس کی وجہ سے وہ اپنے سسر کے ہاں اپنی شادی کی تقریب میں بھی شریک نہیں ہوسکے اور ان کی دلہن کو ان کی دادی قزیفہ بی بی لے کر آئیں۔ معیادی بخار کی وجہ سے دن بہ دن ان کی حالت غیر ہوتی جارہی تھی ان کی والدہ بی بی یانہ اپنے دیگر رشتہ دار خواتین سمیت ان کے سرہانے بیٹھی ہوئی تھی اس دوران گاؤں کی کسی ادھیڑ عمر عورت نے ان کی والدہ کو مشورہ دیا کہ خوشحال خان کی بیماری کی اصل وجہ ان کے پسینے کا رک جانا ہے لہذا ان پر ایک بھاری لحاف ڈال کر مضبوطی سے پکڑنا چاہئیے تاکہ ان کے وجود سے پسینہ نکل آئے اس عورت کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے خوشحال خان کے سر پاؤں کے دونوں طرف گھر کی خواتین لحاف ڈال کر بیٹھ گئیں اور ان کے پورے جسم کو لحاف میں مضبوطی کے ساتھ ڈھانپ دیا گیا جس کی وجہ سے خوش حال خان کا دم گھٹنے لگا انہوں نے اپنے تیءں بہت ہاتھ پاؤں مارے کہ کسی طرح اس لحاف سے چھٹکارا پاسکیں مگر ناکام ہوکر بے ہوش ہوگیے، ان کی والدہ نے ان کے سر سے تھوڑا سالحاف سرکایا اور اپنے بیٹے کو بے دم پڑا ہوا پایا تو ان پر غشی کے دورے پڑنے لگے، گھر میں موجود مردوخواتین نے رونا شروع کردیا ایک شور وغوغا مچ گیا اور خوش حال کی موت کی خبر گاؤں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ اس دوران ان کے سرہانے بیٹھی ہوئی ایک رشتہ دار خاتون نے دیکھا کہ ان کے نتھنوں سے معمولی سی سانس نکل رہی ہے، اس نے سب کو پکارا کہ خوشحال مرا نہیں زندہ ہے، جلدی سے قریبی طبیب کو بلایا گیا اس نے دوا پلائی اور اس طرح آہستہ آہستہ خوش حال خان میں دم آتا گیا، سترہ دنوں کے بعد انہیں ہوش آیا، اپنے رشتہ داروں کو پہچانا اور اپنی دلہن کو دیکھا جو ان کے سامنے گم صم بیٹھی ہوئی تھی۔ شادی کے دوسال بعد بیس سال کی عمر میں باقاعدہ شاعری شروع کی۔ اس دوران انہیں قدرت نے پہلی اولاد اکبر خان کی صورت میں عطا کی مگر وہ سات دنوں کے بعد فوت ہوگیا اس کے بعد اشرف خان ہجری پیدا ہوئے جن کا شمار بھی پشتو کے چوٹی کے شعراء میں ہوتا ہے۔

خوشحال خان کے گھوڑے نام ’’سیلئی‘‘(آندھی) تھا،اس زمانے کے معروضی حالات اور شرائط میں بیش تر زندگی اپنی ہی قوم کے سب سے بڑے قبیلے یوسف زئی سے جنگیں لڑیں تاہم بعد میں ان پر مغل حکم رانوں کا دوغلہ پن اشکارہ ہوگیا اپنے والد شہبازخان کی وفات کے بعد قبیلے کی رسم کے مطابق خوشحال خان سردار چنے گیے، اس وقت ان کی عمر 28 سال تھی انہیں1627ء میں باقاعدہ ایک شاہی فرمان کے ذریعے شہنشاہ شہاب الدین شاہ جہان کی طرف سے بھی سرداری اور منصب داری عطا کی گئی وہ حضرت شیخ رحم کار المعروف کاکا صاحب کے پکے مرید تھے اور جب پختونوں کے مشہور ولی اللہ کاکاصاحب 1653ء کو وفات پاگئے تو خوشحال خان ان کی نماز جنازہ میں شرکت اور کندھا دینے کی سعادت بھی حاصل کرچکے تھے
خوشحال خان خٹک نے اپنی زندگی میں سو سے زیادہ لڑائیوں میں حصہ لیا، مغل حکم رانوں کوخوش کرنے کے لیے زیادہ تر اپنے ہی لوگوں کے خلاف لڑے انہوں نے خود اس بات کا اعتراف یوں کیا ہے ’’میرا خیال تھا کہ مغلوں کی نوکری میں اتنا سرمایہ دار بن جاؤں گا کہ اپنے گھوڑے کے لیے سونے کی رکابیں اور چاندنی کے نعل بناڈالوں گا مگر اب میں اس پیرانہ سالی میں ایک ایسا پختون بن گیا ہوں کہ مغلوں کے خلاف کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دوں گا‘‘۔ خوش حال خان پشتو کے واحد صاف گو اور صاحب گفتار وکردار کے شاعر ہیں جنہوں نے جو کچھ کیا اس کا برملا اظہار کیا، اس طرح جو کچھ کہا وہ کرکے دکھایا۔

جس وقت اورنگ زیب عالم گیر نے سید میر خوافی المخاطب امیر خان کوکابل کاصوبہ دار مقرر کیا تو اس نے خوش حال خان کو نشانہ بناتے ہوئے بڑے زمینداروں پر ناجائز ٹیکس لگانے کا حکم نامہ جاری کردیا جس سے خوش حال خان نے انکار کرڈالا۔ بعد میں ان سے مشورہ طلب کرنے کے بہانے امیرخان نے انہیں پشاور آنے کی دعوت دی۔ جنوری کے مہینے میں1664ء کو جمعہ کے دن خوش حال پشاور پہنچ گیے مگر تین دن انتظار کرنے کے باوجود امیرخان نے انہیں اپنے دربارطلب نہیں کیا اور سپاہیوں نے انہیں گھیرے میں لے کر گرفتار کرکے ان کے پاؤں میں پانچ سیر وزنی بیڑیاں ڈال دیں، انہیں دومہینوں تک پشاور میں قید رکھا گیا، بعد میں ان سے پچاس ہزارروپے تاوان کا مطالبہ کیا گیا جسے خوش حال نے مسترد کردیا، امیرخان نے انہیں ہندوستان لے جانے کا حکم جاری کردیا، گرفتاری کے بعد ان کاخاندان اکوڑہ خٹک سے’’ہنگال‘‘ نامی جگہ منتقل ہوگیا۔

خوش حال خان منزل بہ منزل سفر کرتے ہوئے1664ء کولاہور اور وہاں سے دہلی لے جائے گیے جہاں سخت بیماری کی حالت میں ایک سال تک قید کاٹنے کے بعد قلعہ رنتھنبور منتقل کردیے گیے۔ مجموعی طور پروہ اڑھائی سال تک پشاور، دہلی اور رنتھنبور میں قید رہے۔ قید کے دوران انہوں نے متعدد غزلیات، قصائد، رباعیات اور قطعات اپنی کتاب’’فراق نامہ‘‘ کی شکل میں لکھے ہیں۔ قید کے دوران ان کے خاندان کو قبیلہ یوسف زئی نے اپنے علاقے مردان کے نواح میں پناہ دے کر آباد کردیا، یہی وجہ تھی کہ1668ء میں اپنی رہائی کے بعد خوشحال خان قبیلہ یوسف زئی کی تعریف میں رطب السان ہوگیے اور اسے اپنا محسن اور مربی تسلیم کرلیا۔ جس وقت صوبے کے گورنر اور خوش حال خان کے دوست مہابت خان نے علاقہ یوسف زئی مردان میں1669ء کو ’’ لنگرکوٹ‘‘ قلعے کی تعمیر کا ارادہ ظاہر کیا تو خوش حال خان نے مہابت خان کی سخت مخالفت کرکے یوسف زئی قبیلے کا ساتھ دیا اور مرتے دم تک اسی قبیلے کے ہم درد اور بہی خواہ رہے، ہندوستان، کابل، کشمیر، سندھ، پنجاب، بدخشاں اوربنگال کے علاوہ کوئی بھی ایسا قابل ذکر شہر اور علاقہ نہیں جہاں کا دورہ انہوں نے نہیں کیا۔ انہوں نے ہر قبیلے اور علاقے کے رسم و رواج، ان کی زبان اور معاشرتی زندگی پر اپنا تبصرہ بھی پیش کیا ہے۔ انہوں نے اس وقت سوات کے ایک مشہور ملامیاں نور کے ساتھ مذہبی مسائل پر درخت کے نیچے مناظرہ بھی کیا جس کا تفصیلی ذکر انہوں نے اپنی کتاب ’’سوات نامہ‘‘ میں کیا ہے، مغل حکم رانوں کے خلاف خوش حال خان کابھر پور ساتھ دینے والے دوستوں میں ایمل خان مومند اور دریاخان آفریدی بطورخاص قابل ذکر ہیں جو خود بھی اپنے اپنے قبیلے کے سردار اور مغل حکم رانوں کے سخت خلاف تھے۔

ان کا آخری دور حیات مصائب وتکالیف، طرح طرح کی آزمائشوں اور امتحانات میں گزرا، مغل حکم رانوں اور اپنے ہی خاندان کے چند افراد کی ریشہ دوانیوں اور سازشوں سے تنگ آکر قبیلہ آفریدی کے علاقہ’’ڈنبرہ‘‘ میں پناہ لے لی جہاں کچھ عرصہ رہنے کے بعد قلم وتلوار کے دھنی سنسنی خیز اور حیرت انگیز کامیابیوں کے بعد 78 سال کی عمر میں 20 فروری1689ء کو ’’ڈنبرہ‘‘ میں وفات پاگیے۔ ان کی میت ان کی وصیت کے مطابق سرائے اکوڑہ (موجودہ اکوڑہ خٹک) سے چند میل کے فاصلے پرآبادی سے دور ایک پہاڑ کے کونے میں دفن کردی گئی۔ علامہ اقبال نے خوش حال خان کی اس وصیت کو اپنی زبان میں یوں پیش کیا ہے
محبت مجھے ان جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جوڈالتے ہیں کمند
اڑاکرنہ لائیں جہاں بادکو
مغل شاہ سواروں کی گرد سمند
اس طرح بہ زبان فارسی بھی علامہ اقبال نے خوش حال خان کو ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے
خوش سروداں شاعر افغان شناس
ہر چہ بیند بازگویدے ہراس
آں حکیم ملت افغانیاں
آں طبیب علت افغانیاں
راز قوے دیدوبے باکانہ گفت
حرف حق بازوخئی رندانہ گفت
خوش حال خان کے ہاں60 بیٹے اور31 بیٹیاں پیدا ہوئیں تھیں،اور وہ تقریباً 52 کتابوں کے مصنف رہے۔

بابائے غزل امیرحمزہ شینواری

 Personalities  Comments Off on بابائے غزل امیرحمزہ شینواری
Feb 172016
 
hamza baba (1)
تل بہ پہ لار د میڑنو سرہ زم
یمہ پختون د پختنو سرہ زم
حمزہ سفر کہ دحجاز وی نو ھم
زہ د پختون د قافلو سرہ زمپہ پردئی ژبہ خبرے پختون نہ کا
بے لیلا بلا سودا خو مجنون نہ کا
اول خپلہ ژبہ پستہ نورے ژبے
بے بنیادہ عمارت خو سمون نہ کا
بابا ئے جدید پشتو غزل امیر حمزہ خان شنواری کی بائیسویں برسی پرروخان یوسفزئی کی خصوصی تحریر

بابائے غزل، رئیس المتغزلین، اور فخر خیبر،معروف قوم پرست شاعر، ادیب، صوفی، مفکر،مترجم، ناول نگار، ڈرامہ نگار، سفرنامہ نگار اور افسانہ نگار امیر حمزہ خان شینواری1907ء کو ستمبر کے مہینے میں درہ خیبر کے ایک پس ماندہ علاقے لنڈی کوتل میں ملک باز میر خان کے ہاں پیدا ہوئے۔ 1913ء میں اپنے گاؤں کے پرائمری سکول میں داخل کردیے گئے۔ وہ پڑھائی سے جی چراتے اور اکثر اوقات سکول سے غیر حاضر رہتے تھے۔ ان کی عمر تین برس سے بھی کم تھی جب ان کی والدہ انتقال کرگئیں۔ والدہ کی وفات کے بعد ان کی تربیت ان کی سوتیلی ماں نے اس انداز میں کی کہ حمزہ شنواری کو کبھی بھی یتیم ہونے کا احساس نہیں ہونے دیا۔ سکول سے مسلسل غیر حاضر رہنے کی وجہ سے انہیں والد اسلامیہ کالجیٹ سکول پشاور لے آئے تاکہ یہاں بورڈنگ میں رہنے کی وجہ سے وہ سکول سے بھاگ نہ سکے۔ 1918ء میں وہ دوسری جماعت میں داخل کردیے گئے۔

اس زمانے میں علامہ عنایت اللہ خان المشرقی (خاکسار تحریک کے بانی) اسلامیہ کالجیٹ سکول کے پرنسپل ہوا کرتے تھے جن سے حمزہ شنواری کی کچھ زیادہ جان پہچان نہ تھی، بعد میں جس وقت حمزہ شنواری 1938ء میں ریکارڈنگ کے سلسلے میں دہلی گئے اور خاکسارہوٹل میں رہائش کے دوران علامہ مشرقی سے ان کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے حمزہ شینواری سے کہا کہ ’’دیکھو جی یہ عبدالغفار خان(باچا خان) آپ لوگوں کو ہندو بنانا چاہتے ہیں اور تم لوگ اندھوں کی طرح ان کے اشاروں پر چل رہے ہو‘‘۔ حمزہ شنواری نے جواب دیا کہ ’’جناب اگر ہندوستان کے دوسرے رہنماء ہمیں کچھ اور بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں ان کے بارے میں بھی کوئی علم نہیں ہے، باچاخان تو پانچ وقت کے نمازی اور ایک کھرے پختون اور مسلمان ہیں‘‘۔
علامہ مشرقی نے جب ان سے صوبے میں مضبوط سیاسی جماعت کے بارے میں پوچھا تو حمزہ شینواری نے کہاکہ صوبے میں تو ایک ہی پارٹی ہے جس کا نام’’ انڈین نیشنل کانگرس‘‘ ہے۔ اس کے سوا دوسری جماعتوں کی حیثیت برساتی مینڈکوں کی ہے۔
حمزہ شنواری موسیقی کے اس قدر دلدادہ تھے کہ خود بھی ایک اچھے اور مانے ہوئے رباب نواز تھے، نویں جماعت پاس کرنے کے بعد سکول کو خیربادhamza baba (2) کہہ گئے اور 1924ء میں طورخم کے مقام پر پاسپورٹ کلرک بھرتی ہوئے۔ اس کے علاوہ قبائلی پولیٹیکل نظام میں بھی بطور کلرک رہ چکے تھے اس دوران ان کی شادی بھی کرادی گئی۔ 1926ء میں جب خیبر ریلوے پر کام شروع ہوا اور ان کے والد کو بھی اس میں ٹھیکہ ملا تو اپنے والد کے منشیوں کے ساتھ حساب کتاب میں معاونت کیا کرتے تھے، بعد میں ریلوے میں ملازمت بھی اختیار کی، چھ ماہ تک بطور گارڈ ڈیوٹی دی مگر کچھ دنوں کے بعد ارباب محمد ذکریا خان کی سفارش پر ٹی ٹی اے مقرر کردیے گئے۔ حمزہ شنواری اپنی سیمابی فطرت کی وجہ سے دیر تک ایک جگہ ملازمت نہیں کرسکتے تھے۔
محکمہ ریلوے سے مستعفی ہوکر اپنے ایک دوست میر عالم کے ہمراہ فلموں میں کام کرنے کی غرض سے بمبئی اور دہلی تک گئے، وہاں ایک مہینے تک رہے مگر کسی فلم کمپنی میں کام نہیں ملا۔ بعد میں انہیں اپنے بھائی احمد آباد کے راستے اجمیر شریف لے گئے اور خواجہ معین الدین چشتی کے مزار پر حاضری دی جہاں ان پر ایک عجیب قسم کی کیفیت طاری ہوگئی۔ یہیں سے ان کے اندر کے صوفی نے انگڑائیاں لیں، 1930ء کو فلمی دنیا میں داخل ہونے کے لیے راولپنڈی بھی گئے تھے اور وہاں پنجاب فلم کمپنی کے ڈائریکٹر ہری رام سیٹھی سے ملے، اور ایک خاموش فلم میں قافلے کے محافظ کا کرداربھی اداکیا، جس وقت واپس گاؤں آئے تو ان کے والد وفات پاچکے تھے۔ ان کے والد کی فاتحہ کے لیے آئی ایک روحانی شخصیت سید عبدالستار شاہ عرف بادشاہ جان سے اتنے متاثر ہوئے کہ ان کے مرید بن گئے اور 1938ء میں ان کے ہاتھ بیعت کی اور اپنے مرشد کی ہدایت پراردو کے بجائے اپنی مادری زبان پشتو میں لکھنا شروع کردیا۔
سن1937ء میں تصوف کے موضوع پر پہلی کتاب ’’تجلیات محمدیہ‘‘ لکھی۔ 1938ء میں ان پر الحاد کا دورہ آیا جو پانچ سال تک رہا، دسمبر1941ء میں دوبارہ بمبئی چلے گئے اور رفیق غزنوی کے کہنے پر پہلی پشتو فلم’’لیلیٰ مجنوں‘‘ کے لیے گیت اور مکالمے لکھے، حمزہ شنواری اس وقت ہفت روزہ اخبارات میں اکثر ’’پارس‘‘ کا مطالعہ کیا کرتے تھے جس کے ایڈیٹر کرم چند اور نائب مدیر سیوک رام باقر ہوا کرتے تھے، اس اخبار میں ان کے افسانے اور مضامین بھی شائع ہوتے تھے۔
سن1939ء میں بننے والی ادبی تنظیم بزم ادب پشتو کے نائب صدر جب کہ 1951ء میں پشتو کی معروف ترقی پسند ادبی تنظیم ’’اولسی ادبی جرگہ‘‘ کے صدرBachaKhanHamzaBaba بھی رہے، وہ پاکستان رائٹرز گلڈ سابق صوبہ سرحد کے اولین سیکرٹری جنرل بھی رہ چکے تھے، بحثیت مترجم انہوں نے رحمان بابا کی 204 غزلوں کا منظوم اردو ترجمہ اور علامہ اقبال کے جاوید نامہ اور ارمغان حجازکا بھی پشتو میں منظوم ترجمہ کیا ہے، 1935ء میں جب پشاور سیکرٹریٹ کے اندر آل انڈیا ریڈیو کی شاخ قائم ہوئی اور جس کے انچارج محمد اسلم خٹک مقرر ہوئے تو اس کے لیے حمزہ شینواری نے پہلی بار ’’زمیندار‘‘کے نام سے ایک ڈرامہ لکھا، اس کے بعد قیام پاکستان سے پہلے اور بعد میں انہوں پشاور ریڈیو کے لیے سینکڑوں ڈرامے، فیچرز اور تقریریں لکھیں، انہیں1940ء میں منقعدہ ایک مشاعرے میں پشتو زبان کے معروف شاعر اور ادیب سمندر خان سمندر نے پشتو غزل کے بادشاہ کے خطاب سے نوازا۔
حمزہ بابا کی ایک انفرادیت یہ بھی رہی کہ ساری عمر اپنے قومی اور سادہ قبائلی لباس میں ملبوس رہے۔ وہ 35 کتابوں کے مصنف تھے، جن میں تصوف، شاعری، نفسیات،ثقافت اور ادب کے موضوع پر لکھی گئی کتابیں شامل ہیں۔ ان کا لکھا ہوا ناول ’’نوے چپے‘‘ (نئی موجیں) چودہ ابواب پر مشتمل مشہور ناول ہے جس کا مرکزی خیال پختون اتحاد پر مبنی ہے، ناول کا خاکہ 1947ء میں زیور طبع سے آراستہ ہوا لیکن ایوب خان کے دور حکومت میں اس پر پابندی عائد کردی گئی۔ ناول میں مذہب، سیاست، قومیت اور ادب جیسے بین الاقوامی مسائل کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ ان کے لکھے ہوئے ریڈیائی ڈراموں میں ’’ ژرندہ گڑے‘‘ (پن چکی چلانے والا) بے حد مشہور ڈرامہ ہے جس کی متعدد زبانوں میں تراجم ہوئے ہیں۔’’ژرندے گڑے‘‘ کے قصے میں پختون معاشرے کی بھر پور عکاسی کی گئی ہے۔
سیاسی شخصیات میں وہ باچاخان کو ایک بہترین مصلح، محب وطن اور عظیم قومی رہنماء کے طور پر پسند کرتے تھے اور ان پر لگائے گئے الزامات کی پر زور الفاظ میں مخالفت کیا کرتے تھے۔ انہوں نے باچا خان کی وفات پر ایک فکر انگیز اور تاریخی مرثیہ بھی لکھاہے،حمزہ شینواری نے پشتو میں مکتوب نگاری کی صنف میں بھی گراں قدر اضافہ کیا ہے۔ ان کے بیشتر اشعار ضرب المثل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، وہ انگریزی روزنامہ ’’خیبر میل‘‘ کے پشتو صحفے کے انچارج بھی رہے اور اس کے لیے روزانہ مختلف معاشرتی اور ادبی موضوعات پر’’ ژور فکرونہ‘‘ (گہری سوچیں) کے نام سے کالم بھی
لکھتے رہے۔ بابائے جدید پشتو غزل امیرحمزہ خان شنواری 87 سال کی عمر میں 18 فروری 1994ء کو خالق حقیقی سے جاملے

وائی اغیارچہ د دوزخ ژبہ دہ
زہ بہ جنت تہ د پختو سرہ زم