تعلیمی اداروں پر سیکورٹی فیس پی ٹی آئی جرمانہ ہے، سینیٹر زاہد خان

 January, PRs-2016  Comments Off on تعلیمی اداروں پر سیکورٹی فیس پی ٹی آئی جرمانہ ہے، سینیٹر زاہد خان
Jan 312016
 

مورخہ 31جنوری 2016ء بروز اتوار
تعلیمی اداروں پر سیکورٹی فیس پی ٹی آئی جرمانہ ہے، سینیٹر زاہد خان
صوبائی حکومت بیرون ملک دوروں پر رقوم خرچ کررہی ہے اور صوبے کے عوام کیلئے فنڈ موجود نہیں
پشاور ( پ ر ) اے این پی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سینیٹر زاہد خان نے خیبر پختون خواہ حکومت کی طرف سے تعلیمی اداروں کی سیکورٹی کے نام پر طلباء سے اضافی فیس وصول کرنے کو پی ٹی آئی جرمانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بجائے تعلیمی اداروں کی حفاطت کویقینی بنانے کی ، حکومت ، طلباء اور والدین کو ذہنی اذیت میں مبتلا کررہی ہے ۔ پی ٹی آئی اور صوبائی حکومت کے ارب پتی رہنما ، وزراء اور ممبران صوبائی اسمبلی بیرون ملک دوروں، عیاشیوں پر رقوم خرچ کررہے ہیں اور صوبے کے عوام کیلئے فنڈ موجود نہیں۔ باچا خان یونیورسٹی کے شہداء اور زخمیوں کے لواحیقین کا کوئی پرسان حال نہیں۔ ان کی مدد کیلئے باچا خان یونیورسٹی میں امدادی فنڈ قائم نہ کرنا صوبائی حکومت کے لئے شرمناک ہے۔

سیاسی نابالغ دوسروں پر الزامات لگانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں، ہارون بشیر بلور

 January, PRs-2016  Comments Off on سیاسی نابالغ دوسروں پر الزامات لگانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں، ہارون بشیر بلور
Jan 312016
 

مورخہ 31جنوری 2016ء بروز اتوار
سیاسی نابالغ دوسروں پر الزامات لگانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں، ہارون بشیر بلور
اے این پی کی قربانیاں تاریخ کا حصہ ہیں جبکہ کپتان اپنے ہسپتال میں دہشت گردوں کا علاج کرتے رہے
ہمارے اکابرین پر الزامات لگانے والے بتائیں پختونوں کے سروں کا سودا اب کتنے میں کیا ہے
شجر کاری مہم میں مصروف8 عوام کی جان و مال کے تحفظ سے غافل ہیں،پی ٹی آئی کی سیاست جھوٹ اور منافقت پر مبنی ہے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات ہارون بشیر بلور نے پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی کی جانب سے اسفندیار ولی خان کے خلاف ہرزہ سرائی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف سیاسی نابالغوں کی جماعت ہے اور دوسروں پر الزامات لگانے سے پہلے انہیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں ہارون بشیر بلور نے کہا کہ اے این پی کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے جبکہ ان کے قائد ہمیشہ طالبان سے نہ صرف دوستی کا حق ادا کرتے رہے یہاں تک کہ اپنے ہسپتال میں دہشت گردوں کو پناہ دے کر ان کا علاج کرتے رہے ، انہوں نے کہا کہ سوات میں قیام امن کیلئے جو قربانیاں اے این پی نے دیں وہ کسی دوسری سیاسی جماعت کے بس کی بات نہیں ، صوبائی ترجمان نے کہا کہ اے این پی اور اس کے قائدین پر الزامات لگانے والے اپنی تین سالہ حکومت کا جائزہ لیں اور قوم کو بتائیں کہ اب پختونوں کے سروں کا سودا کتنے میں کیا ہے ، کیونکہ انٹیلی جنس اداروں کی پیشگی اطلاع کے باوجود صوبے کی سیکورٹی پر کوئی توجہ نہیں دی گئی جس کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ، انہوں نے کہا شجرکاری مہم سے زیادہ عوام کی جان و مال کا تحفظ ہے جس میں تحریک انصاف مکمل ناکام ہو چکی ہے اور اب عوام انہیں ووٹ دینے پر پچھتا رہے ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف نے نئے پاکستان اور تبدیلی کا جو نعرہ لگایا وہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے کافی ہے ،انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی سیاست جھوٹ اور منافقت پر مبنی ہے جبکہ اس جماعت نے عوام کے مینڈیٹ کی توہین کی ہے ،انہوں نے کہا کہ اے این پی کی تعلیم ، صحت ،روزگار اور صوبہ کے حقوق کے حوالے سے کارکردگی اپنی مثال آپ ہے،اور یہی وجہ ہے کہ آج عوام صوبائی حکومت کی کارکردگی سے متنفر ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اے این پی کے کارکن عدم تشدد کے فلسفے پر کاربند ہیں تاہم اسے ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے اور پی ٹی آئی کے رہنما ہمارے اکابرین کے خلاف الزامات لگانے سے گریز کریں،

پٹرول کی قیمتوں میں نام نہاد کمی کرپشن کی بدترین مثال ہے ، سردار حسین بابک

 January, PRs-2016  Comments Off on پٹرول کی قیمتوں میں نام نہاد کمی کرپشن کی بدترین مثال ہے ، سردار حسین بابک
Jan 312016
 

مورخہ 31جنوری 2016ء بروز اتوار
پٹرول کی قیمتوں میں نام نہاد کمی کرپشن کی بدترین مثال ہے ، سردار حسین بابک
قوم کی دولت سے 20روپے فی لٹر خریدا جانے والا پٹرول عوام پر 71روپے میں فروخت کرنا نا انصافی ہے
تیل کی قیمتوں کی مد میں کھربوں روپے کما کر مرکزی حکومت اپنی شاہ خرچیوں پر خرچ کر رہی ہے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے پٹرول کی قیمتوں میں5روپے فی لٹر کی کمی کو مسترد کرتے ہوئے اسے عوام کے ساتھ بھونڈا مذاق قراردیا ہے اور مرکزی حکومت سے فیصلے پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا ہے، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ قوم کی دولت سے 20روپے فی لٹر خریدا جانے والا پٹرول عوام پر 71روپے میں فروخت کرنا نا انصافی اور کرپشن کی بد ترین مثال ہے ، انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کا فائدہ عام کو نہیں دیا جارہا جبکہ مرکزی حکومت اپنی شاہ خرچیوں کیلئے ہر طرف سے قومی دولت دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہی ہے ، سردار حسین بابک نے کہا کہ قیمتوں میں کمی کا ڈھونگ رچا کر عوام کو بے وقوف بنایا جا رہا ہے اور حکومت پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس سے کھربوں روپے کما کر اپنی عیاشیوں پر خرچ کر رہی ہے ، انہوں نے قیمتوں میں حالیہ کمی کو مسترد کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کا فائدہ پوری طرح عوام کو منتقل کیا جائے ،انہوں نے اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ اوگرا کی جانب سے قیمتوں میں 21فیصد تک کمی کی سفارش کی گئی تھی تاہم حکومت نے اسے پش پشت ڈال کرصرف 5روپے کمی کی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اوگرا کی اپنی کوئی حیثیت نہیں ،صوبائی جنرل سیکر ٹری نے کہا کہ ملکی ترقی کیلئے دیانتدار قیادت کی ضرورت ہے اور جب تک حکمران عوام کے مسائل حل کرنے میں دلچسپی نہیں لیں گے ملک ترقی نہیں کر سکتا ، انہوں نے کہا کہ ملک کی تمام اقتصادی پالیسیاں آئی ایم ایف کی اشارے پر بن رہی ہیں اورمرکز میں جب بھی نواز شریف کی حکومت آئی تو مہنگائی کے طوفان نے جنم لیا اور عوام کو بنیادی ضروریات سے محروم کر دیا گیا انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے تیل کی قیمتوں میں کمی کے ثمرات عوام تک پہنچائے،

حکومتی قرضوں میں اضافہ ملک کو دیوالیہ کرنے کی سازش ہے ، امیر حیدر خان ہوتی

 January, PRs-2016  Comments Off on حکومتی قرضوں میں اضافہ ملک کو دیوالیہ کرنے کی سازش ہے ، امیر حیدر خان ہوتی
Jan 312016
 

مورخہ 31جنوری 2016ء بروز اتوار
حکومتی قرضوں میں اضافہ ملک کو دیوالیہ کرنے کی سازش ہے ، امیر حیدر خان ہوتی
حکومت اپنی عیاشیوں اور مالیاتی خسارہ پورا کرنے کیلئے قرضوں پر انحصار کر رہی ہے ،
قرضوں کی مالیت 20ہزار ارب روپے سے تجاوز کر گئی ہے،ہر شہری ایک لاکھ15ہزار روپے کا مقروض ہے
کشکول توڑنے کے دعویداروں نے ملک کو کشکول تک ہی محدود کر دیا، ملک دیوالیہ ہونے کے قریب ہے
غریب ملک کے کھرب پتی حکمران عوام مسائل پر توجہ دینے کی بجائے تجوریاں بھرنے میں مصروف ہیں
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے سٹیٹ بنک کی طرف سے جاری کی گئی رپورٹ پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 27ماہ کے دوران حکومتی قرضوں میں ساڑھے چار ہزار ارب روپے کا اضافہ ہو چکا ہے اور اس کے نتیجے میں اب ہر شہری ایک لاکھ15ہزار روپے کا مقروض ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی عیاشیوں اور مالیاتی خسارہ پورا کرنے کیلئے قرضوں پر انحصار کر رہی ہے جس کے باعث قرضوں کی مالیت 20ہزار ارب روپے سے بھی تجاوز کر گئی ہے ، انہوں نے کہا کہ کشکول توڑنے کے دعویداروں نے ملک کی معیشت کا بیڑا غرق کر کے رکھ دیا ہے جبکہ غریب عوام دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں انہوں نے گزشتہ دنوں بعض اخبارات میں شائع ہونے والی اس پورٹ کا بھی ذکر کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ملک میں کروڑوں لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ملک وسائل سے مالا مال ہے تاہم یہ چور حکمرانوں کی عیاشیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا ، انہوں نے کہا کہ حکومت قرضوں کی اصل رقم سے ڈیڑھ گنا زائد سود ادا کر رہی ہے اور نواز شریف کے موجودہ دور میں قرضوں کی مالیت میں 4368ارب روپے کا اضافہ ہو چکا ہے ، صوبائی صدر نے کہا کہ مرکزی حکومت جس انداز سے قرضے لے رہی ہے اس کا براہ راست اثر غریب عوام پر پڑ رہا ہے اور اب ملک کا ہر شہری مزید 24ہزار روپے کا مقروض ہو چکا ہے جو قوم کیلئے لمحہ فکریہ ہے ، انہوں نے کہا کہ حکومت قرضوں کی حد محدود رکھنے کیلئے 2005میں متعارف کرائے گئے فسکل رسپانسبیلٹی اینڈ ڈیبٹ لمیٹیشن ایکٹ کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہے جو اب ناقابل برداشت ہو چکا ہے ، انہوں نے کہا کہ حکمران اپنی عیاشیوں کو محدود کریں اور قوم کی دولت لوٹنے کی بجائے عوام کے مسائل کے حل پر اپنی توجہ مرکوز کریں جس کیلئے عوام نے انہیں مینڈیٹ دیا ہے، امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ زیر گردش کرنسی میں بے پناہ اضافہ ملکی معیشت کیلئے تباہ کن ہے اور اگر حکمرانوں نے اس پر فوری توجہ نہ دی تو ملک دیوالیہ ہو جائیگا جس کی تمام ذمہ داری مرکزی حکومت پر عائد ہو گی،

نام نہاد تحقیقاتی کمیٹی کو حکومتی نااہلی کا ملبہ باچا خان یونیورسٹی کی انتظامیہ پر گرانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ زاہد خان

 January, PRs-2016  Comments Off on نام نہاد تحقیقاتی کمیٹی کو حکومتی نااہلی کا ملبہ باچا خان یونیورسٹی کی انتظامیہ پر گرانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ زاہد خان
Jan 302016
 

نام نہاد تحقیقاتی کمیٹی کو حکومتی نااہلی کا ملبہ باچا خان یونیورسٹی کی انتظامیہ پر گرانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ زاہد خان
اُصولی طور پر کمیٹی بذات خود قابل محاسبہ ہے کیونکہ یہ انتظامیہ کا حصہ ہے۔ اس کی تحقیقات کو کلی طور پر مسترد کرتے ہیں۔
پیشگی اطلاعات اور خطرات کے پس منظر میں یونیورسٹی کو تحفظ فراہم کرنا حکومتی اداروں کی ذمہ داری تھی۔
معاملے کی آزادہ تحقیقات کیلئے اے پی ایس اور چارسدہ کے سانحات کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔
پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد خان نے باچا خان یونیورسٹی پر کیے گئے حملے کی جوڈیشل انکوائری کے مطالبے کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے معاملے کی تحقیقات کیلئے ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں جو کمیٹی قائم کی ہے اس سے غیر جانبدارانہ کردار کی اس لیے توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ انتطامیہ کا حصہ ہے اور اُصولی طور پر اس کمیٹی کے ارکان خود قابل محاسبہ ہیں۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ بیان کے مطابق زاہد خان نے کمیشن کے قیام تحقیقات اور کارکردگی پرشدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے کلی طور پر مسترد کر دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اے پی ایس اور باچا خان یونیورسٹی کے سانحات کا جوڈیشل کمیشن کے ذریعے تحقیقات کی جائیں تاکہ ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے اور والدین ، متاثرین کے مطالبے کی بنیاد پر ان کی داد رسی بھی ہو۔
اُنہوں نے کہا کہ باچا خان یونیورسٹی کے حملے کی تحقیقات کیلئے جو کمیٹی قائم کی گئی ہے وہ انتظامیہ کا حصہ ہے اور اُصولی طور پر اس کے خلاف بھی تحقیقات ہونی چاہئیں کیونکہ یہ کمیٹی ان افراد پر مشتمل ہے جو کہ انتظامی طور پر براہ راست اس سانحے کے ذمہ داران میں آتے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ لگ یہ رہا ہے کہ کمیٹی ایک منطم منصوبے کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حکومت کی نا اہلی کا ملبہ یونیورسٹی انتطامیہ پر ڈالنے پر تلی ہوئی ہے۔ حالانکہ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ پیشگی اطلاعات اور خطرات کے پس منظر میں یونیورسٹی سمیت تمام تعلیمی اداروں کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری تھی۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی یونیورسٹی انتظامیہ کو مورود الزام ٹھہرانے کی ہر کوشش کی بھرپور مزاحمت کرے گی اور نام و نہاد تحقیقات کے نام پر حکومتی نا اہلی اور غفلت کا ملبہ کسی اور پر گرانے نہیں دے گی۔ اُنہوں نے اپنے بیان میں کمیٹی کو ایک بار پھر مسترد کرتے ہوئے اس پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری کی احکامات جاری کیے جائیں۔

باچا خان کا کردار اور قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔یونس خان بونیری

 January, PRs-2016  Comments Off on باچا خان کا کردار اور قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔یونس خان بونیری
Jan 292016
 

Death anniversary in Karachi

قوم کو جہالت کے اندھیروں سے نکالنے اور غلامی کی زنجیروں سے آزاد کرنے کے لیے باچا خان کا کردار اور قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔یونس خان بونیری
ؑ ؑ ؑ عظیم ہستیاں مرنے کے بعد بھی زندہ رہتی ہیں حضرت باچا خان اور خان عبدالولی خان کا فلسفہ آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہے ۔
تمام تر مصائب ،جبر اور ظلم کے باوجود عوامی نیشنل پارٹی میدان عمل میں ہے
ملک میں جمہوریت کے قیام،قانون کی بالادستی اور دہشت گردی و انتہاء پسندی کے خاتمے کے لیے عوامی نیشنل پارٹی نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں
ملک و خطے کے موجودہ حالات کو دیکھ کر آج سے تین دہائیاں قبل ہمارے عظیم اسلاف کے بیانات کو یاد کیا جارہا ہے۔
شہر میں دہشت گردوں کے خلاف بھر پور آپریشن کا مطالبہ سے پہلے ہم نے کیا تھا اور آج بھی عوامی نیشنل پارٹی کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کی بھر پور حمایت کرتی ہے۔ اے این پی کے صوبائی جنرل سیکریٹری کا باچا خان مرکز میں پارٹی قائدین کی برسی کی تقریب سے خطاب
کراچی۔29جنوری 2016،
ؑ عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے جنرل سیکریٹری یونس کان بونیری نے کہا ہے کہ حضرت باچا خان ایک عظیم مدبر ،مصلح قوم،جنگ آزادی کے ایک عظیم ہیرو تھے وہ ملک کی واحد شخصیت ہیں جن کی برسی کی تقاریب پاک و ہند اور افغانستان میں منعقد ہورہی ہیں جنگ آزادی کی تحریک سے لیکر آج تک ان جیسی عظیم ہستی دوبارہ اس ملک میں پیدا نہیں ہوئی ہے قوم کو جہالت کے اندھیروں سے نکالنے اور غلامی کی زنجیروں سے آزاد کرنے کے لیے باچا خان کا کردار اور قربانیاں ناقابل فراموش ہیں عظیم ہستیاں مرنے کے بعد بھی زندہ رہتی ہیں حضرت باچا خان اور خان عبدالولی کا فلسفہ آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہے ان کی سوچ وفکر ہماری رہنمائی کررہی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز میں ضلع غربی کے تحت پارٹی اکابرین فخر افغان باچا خان اور قائد جمہوریت خان عبدالولی خان کی برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے مذید کہا کہ تمام تر مصائب ،جبر اور ظلم کے باوجود عوامی نیشنل پارٹی میدان عمل میں ہے ملک میں جمہوریت کے قیام،قانون کی بالادستی اور دہشت گردی و انتہاء پسندی کے خاتمے کے لیے عوامی نیشنل پارٹی نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں ملک و خطے کے موجودہ حالات کو دیکھ کر آج سے تین دہائیاں قبل ہمارے عظیم اسلاف کے بیانات کو یاد کیا جارہا ہے ،انہوں نے مذید کہا کہ شہر میں دہشت گردوں کے خلاف بھر پور آپریشن کا مطالبہ سے پہلے ہم نے کیا تھا اور آج بھی عوامی نیشنل پارٹی کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کی بھر پور حمایت کرتی ہے اس موقع پر صوبائی نائب صدر حاجی اورنگزیب بونیری ،سیکریٹری اطلاعات حمید اللہ خٹک،مرکزی رہنماء رانا گل آفریدی اور ضلعی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین عثمان غنی نے بھی خطاب کیا ۔

پارٹی وفد کا دورہ افغانستان، باچا خان کے مزار پر حاضری دی

 January, PRs-2016  Comments Off on پارٹی وفد کا دورہ افغانستان، باچا خان کے مزار پر حاضری دی
Jan 292016
 

Jalalabad

مورخہ : 29.1.2016 بروز جمعہ

چارسدہ میں باچا خان کے نام سے یونیورسٹی کو دہشتگردی کا نشانہ بننے پر افغان حکومت اور عوام کو بہت تشویش اور افسوس ہے۔ ڈاکٹر اشرف غنی
بعض قوتیں چاہتی ہیں کہ انتہا پسندی کے ذریعے پشتونوں کو علم ، شعور اور ترقی سے دور رکھا جائے تاہم اب حالات بدل گئے ہیں۔
پندرہ سال پہلے کے افغانستان اور آج کے افغانستان میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ جلال آباد میں باچا خان کی برسی پر منعقدہ اجتماع کے موقع پر خصوصی پیغام
اے این پی امن ، تعلیم کے لیے تمام تر رکاوٹوں کے باوجود اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔ اجتماع سے ارباب محمد طاہر اور سنگین خان ایڈوکیٹ کا خطاب

پشاور ( پریس ریلیز) افغانستان کے صدر ڈاکٹراشرف غنی نے کہا ہے کہ عظیم پشتون رہنما باچا خان نے پشتونوں میں تعلیم کے فروغ ، منفی رسومات کے خاتمے ، امن کے قیام اور عدم تشدد کی پرچار کیلئے جدوجہد کرکے خطے کی تاریخ میں انمٹ نقوش چھوڑ رکھے ہیں۔ تاہم یہ بات قابل افسوس ہے کہ چارسدہ میں ان کے نام سے منسوب یونیورسٹی کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا اور کوشش کی جارہی ہے کہ پشتونوں کو علم اور امن سے محروم رکھا جائے تاہم اب حالات بہت بدل گئے ہیں اور دہشتگردی یا انتہا پسندی کے ذریعے خطے کے عوام کو مزید جاہل اور پسماندہ نہیں رکھا جا سکتا۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے صوبہ ننگرہار کے دارلحکومت جلال آباد میں باچا خان کی 28 ویں برسی کی مناسبت سے ان کے مزار پر نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے نمائندہ وفد کے دورہ کے موقع پر منعقدہ اجتماع سے اپنے ایک تحریری پیغام کے دوران کیا جو کہ ننگر ہار کے گورنر سلیم خان کندوزی نے پڑھ کر سنایا۔ اجتماع سے گورنر کے علاوہ اے این پی کے مرکزی سیکرٹری مالیات ارباب محمد طاہر خان خلیل ، این وائی او کے صوبائی صدر سنگین خان ایڈوکیٹ ، ببرک میاں خیل ، اُستاد محمد انور سلطانی اور لال بادشاہ ازمون نے بھی خطاب کیا۔
افغان صدر نے اپنے پیغام میں باچا خان بابا کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ خطے کی سیاست ، انگریزوں سے آزادی اور افغان معاشرے کے اصلاح کی جدوجہد میں باچا خان بابا نے بے شمار صعوبتیں برداشت کیں تاہم وہ کئی دہائیوں تک اپنے نظریات کے ذریعے منظر عام پر چھائے رہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کو ایک عظیم رہبر کی حیثیت حاصل ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ باچا خان بابانے تعلیم کے فروغ اور عدم تشدد کی پرچار کیلئے سکول قائم کیے۔ وہ بری رسومات کے خاتمے کیلئے عوام کے حجروں پر گئے اور عملی اقدامات کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ تعلیم ، شعور اور اجتماعی ترقی کے بغیر قوموں کی تشکیل ممکن نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اب حالات بہت بدل گئے ہیں۔ پندرہ سال قبل کے افغانستان اور آج کے افغانستان میں بہت نمایاں فرق ہے۔ اس وقت لاکھوں بچے اور بچیاں تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں جن میں ایک ملین سے زیادہ طالبات بھی شامل ہیں ۔ ہم اپنی سرزمین پر اندھیروں کو پھر سے پھیلنے نہیں دینگے۔
اُنہوں نے کہا کہ باچا خان یونیورسٹی چارسدہ پر کرائے گئے حملے نے افغان عوام کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور ہمیں اس بات کا بہت افسوس ہے کہ جس شخصیت نے خطے میں تعلیم اور امن کے قیام کیلئے بے پناہ قربانیاں دیں ان کے نام سے منسوب ادارے کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا۔ افغان صدر نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ امن کے قیام ، رواداری کے فروغ اورپڑوسیوں کیساتھ اچھے تعلقات کیلئے باچا خان کی تعلیمات اور نظریات سے استفادہ حاصل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ افغانستان اس عظیم ہستی کی تعلیمات کی روشنی میں امن ، ترقی اور استحکام کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا اور ہماری کوشش ہوگی کہ خطے سے انتہا پسندی کا خاتمہ کیا جائے۔
برسی کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ارباب طاہر خان خلیل اور سنگین خان ایڈوکیٹ نے افغان حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ باچا خان بابا اور ولی خان بابا کے پیروکار ان کے مشن اور نظریات کے ذریعے امن کے قیام اور تعلیم کے فروغ کے لیے تمام تر رکاوٹوں اور مشکلات کے باوجود اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اُنہوں نے نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے وفد کے شاندار استقبال اور مہمان نوازی پر افغان حکومت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے پشتونوں کو ایک جیسے مسائل اور چیلینجز کا سامنا ہے اور ان سے نمٹنے کیلیے مشترکہ کوششوں کو آگے بڑھایا جائے گا تاکہ اپنے مقاصد کی حصول کو ممکن بنایا جاسکے۔ اُنہوں نے کہا کہ افغان پالیسی کے بارے میں اے این پی کا موقف حقائق پر مبنی اور واضح ہے اور اس مقصد کیلئے اے این پی بہت سی قربانیاں بھی دیتی آئی ہے ۔