خواتین کو حقوق ملنے سے مثالی معاشرہ کی تشکیل ممکن ہو سکے گی، شازیہ اورنگزیب

 July 2017, Latest, News  Comments Off on خواتین کو حقوق ملنے سے مثالی معاشرہ کی تشکیل ممکن ہو سکے گی، شازیہ اورنگزیب
Jul 212017
 

 خواتین کو حقوق ملنے سے مثالی معاشرہ کی تشکیل ممکن ہو سکے گی، شازیہ اورنگزیب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کی رہنما اور رابطہ عوام مہم کیلئے خواتین کمیٹی کی سربراہ شازیہ اورنگزیب نے کہا ہے کہ خواتین اگر اپنے حقوق کیلئے مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں تو نہ صرف ترقی کی راہیں کھلیں گی بلکہ ایک مثالی معاشرہ کی تشکیل بھی ممکن ہو سکے گی، ان خیالات کا اظہار انہوں نے رابطہ عوام مہم کے سلسلے میں دورہ صوابی کے دوران ضلع ناظم اور اے این پی صوابی کے صدر امیر الرحمان کے دفتر میں ضلعی نائب صدر ڈاکٹر تسلیم کی زیر صدارت منعقدہ خواتین کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اے این پی صوابی کی تمام ضلعی کابینہ نے اجلاس میں شرکت کی، اس موقع پر کمیٹی کی سیکرٹری اور صوبائی جائنٹ سیکرٹری شگفتہ ملک ، ارم فاطمہ، خدیجہ سردار، یاسمین ضیاء سمیت امیر الرحمان خان نے بھی خطاب کیا ‘ انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے ہمیشہ خواتین کو مردوں کے برابر حقوق دیئے ہیں ‘ اور یہی وجہ ہے کہ خواتین نے ہر دو ر میں اے این پی پر بھر پور اعتماد کا اظہار کیا ہے، شگفتہ ملک نے اپنے خطاب میں کہا کہ پختون خواتین نے ہر دور میں مردوں کے شانہ بشانہ جدوجہد کی ہے جو تاریخ کا انمٹ باب ہے، اے این پی نے اپنے دور حکومت میں شہداء کا نذرانہ پیش کرکے قوم کی بچیوں کا مستقبل بچایا اور آج صوبے بھرمیں خواتین اگر آزادی سے اپنی سر گرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں تو یہ انہی شہداء کے خون کے طفیل ہے‘ انہوں نے کہا کہ خواتین کو حقوق دیئے بغیر کوئی بھی جدوجہد کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتی ‘ اس لئے اے این پی تنظیمی سطح پر خواتین کو زیادہ سے زیادہ نمائندگی دیتی ہے ‘ انہوں نے خواتین سے اپیل کی کہ پختون قوم کے بہتر مستقبل کیلئے پارٹی قائد اسفندیار ولی خان اور اے این پی کے ہاتھ مضبوط کریں ۔

عوامی نیشنل پارٹی کی منشور کمیٹی کا اجلاس 26جولائی کو طلب کر لیا گیا

 July 2017, Latest, Party News  Comments Off on عوامی نیشنل پارٹی کی منشور کمیٹی کا اجلاس 26جولائی کو طلب کر لیا گیا
Jul 202017
 

 عوامی نیشنل پارٹی کی منشور کمیٹی کا اجلاس 26جولائی کو طلب کر لیا گیا۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور منشور کمیٹی کے چیئرمین میاں افتخار حسین نے 2018کے انتخابات کیلئے بنائی گئی منشور کمیٹی کا اجلاس 26جولائی2017بروزبدھ دوپہر ایک بجے باچا خان مرکز میں طلب کر لیا ہے جس میں ملک بھر سے منشور کے حوالے سے موصول ہونے والی تجاویز کا جائزہ لیا جائے گا، کمیٹی کے سیکرٹری سردار حسین بابک نے تمام ممبران سے اجلاس میں بروقت شرکت کی اپیل کی ہے۔

اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان کی جانب سے آرمی چیف کے فیصلے کا خیر مقدم

 April-2016, Latest, Party News, PRs-2016  Comments Off on اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان کی جانب سے آرمی چیف کے فیصلے کا خیر مقدم
Apr 212016
 

مورخہ 21اپریل2016ء بروز جمعرات

اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان کی جانب سے آرمی چیف کے فیصلے کا خیر مقدم
آرمی چیف نے اپنے ادارے سے احتساب کے عمل کا آغاز کر کے اچھی روایت کی بنیاد ڈال دی ہے۔
ملک کے دوسرے ریاستی اداروں کے سربراہان کو بھی آرمی چیف کی تقلید کر کے ادارہ جاتی احتساب کا آغاز کرنا چاہیے۔
دہشتگردی کی طرح کرپشن کے ناسور نے بھی پاکستان کی ساکھ ، ترقی اور استحکام کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سربراہ اسفندیار ولی خان نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی جانب سے فوج میں احتسابی عمل کے عملی آغاز کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس فیصلے کی تائید اور ستائش کی ہے اور تمام ریاستی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اپنے اداروں میں کرپشن کے خلاف عملی اقدامات کریں تاکہ ملک سے اس ناسور کا خاتمہ کیا جا سکے۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ بیان میں اُنہوں نے آرمی چیف کے حالیہ اقدام کو غیر معمولی اور ناگزیر قرار دیتے ہوئے اس کا خیر مقدم کیا ہے کہ اپنے ادارے سے احتسابی عمل کا آغاز سے ایک اچھی روایت ہے اور اس کو جاری رکھنا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ دہشتگردی کی طرح کرپشن نے بھی ملک کیلئے ایک ناسور کی شکل اختیار کی ہوئی ہے اور اس کے باعث نہ صرف یہ کہ ادارہ جاتی اور انتظامی ڈھانچے برباد ہو کر رہ گئے ہیں بلکہ ملک کی ترقی اور استحکام کا عمل بھی بری طرح متاثر ہوتا آیا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ آرمی چیف کے حالیہ فیصلے سے جہاں ایک طرف کرپشن کی حوصلہ شکنی اور خاتمے کا راستہ ہموار ہو گا وہاں ملکی اور عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ ، شہرت اور نیک نامی میں بھی بہتری آئے گی۔ اُنہوں نے مزید کہا ہے کہ اس عمل کو مستقبل میں جاری رہنا چاہیے تاکہ عملی طور پر یہ پیغام دیا جائے کہ کوئی بھی مواخذے سے مبریٰ نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ دوسرے ریاستی اور حکومتی اداروں کے سربراہان کو بھی آرمی چیف کی تقلید کرتے ہوئے اپنے اپنے اداروں میں ایسے افراد کے احتساب کا آغاز کرنا چاہیے جو کہ کرپشن میں ملوث رہے ہیں۔
اے این پی کے سربراہ نے مزید کہا ہے کہ ملک کی نیک نامی ، ترقی اور استحکام کیلئے کرپشن کا خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی مصلحت یا تاخیر سے کام نہیں لینا چاہیے تاکہ اس ناسور سے پاکستان کو چھٹکارا دلایا جائے۔

چھٹا جشن پختونخوا

 Latest, Party News  Comments Off on چھٹا جشن پختونخوا
Apr 182016
 

تابۀ دروغ دروغ ګنړله خو رښتيا بۀ دې کړم
ما درته نۀ وې پښتونخوا چې پښتونخوا بۀ دې کړم
ما څو پېړئ ستا د تصوير په خاکه تېرې کړلې
اوس بۀ دې داسې کړم تصوير چې په خندا بۀ دې کړم
رحمت شاه سائل

چھٹاجشن خیبر پختون خوا. . . . 19اپریل
روخان یوسف زئے
شناخت اپنی ہو یا اپنے خاندان،قبیلے،قوم یا کسی قوم کی اپنی زمین اور وطن کا ہو یہ ایک فطری امرہے کہ وہ قوم اس پرنہ صرف فخرکرتی ہے بلکہ اپنی اس شناخت،پہچان اور نام پر مرمٹنے سے بھی گریز نہیں کرتی، دنیا کی تاریخ میں ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں کہ کسی قوم نے اپنی قومی شناخت اور جغرافیائی حدبندی اور پہچان کے لیے کسی بھی جانی ومالی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔جہاں تک موجودہ خیبرپختون خوا کے تاریخی پس منظر کا تعلق ہے، تو یہ اس خطے کا بہت ہی قدیم نام ہے جس کے بے شمار معتبرتاریخی حوالے اب بھی ہماری تاریخ کے مختلف کتب میں موجود ہیں ،پختون خوا جو خالص پشتو زبان کا نام ہے اور دو کلمو یعنی پختون اور خوا سے مرکب ہے جس کے معنی پختونوں کا علاقہ،طرف، دل،جانب،سینہ ہے،جیسا کہ خوا مے پرے یخہ شوہ(کلیجہ ٹھنڈا ہوگیا) خوا تہ مے راشہ(میرے قریب آو) خوا پہ خوا ناستہ(سنگ بہ سنگ بیٹھنا) وغیرہ وغیرہ،لہذا پختون خوا نام کا ذکر قدیم تاریخ کی بیشتر کتابوں میں ہمیں ملتاہے،قدیم ’’رگ وید‘‘ میں اس خطے اور یہاں آباد قوم کو کبھی پکھتی،کبھی پکتیا، پکتیکا،پکھت،پخت اور بعدازاں پختون کے نام سے یاد کیاگیاہے۔
اس سلسلے میں پختونوں کی مشہور قبیلہ یوسف زئی کے پہلے قائد ملک احمدخان بابا کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے جس وقت 1520ء میں اپنے قبیلے کے لیے الگ ریاست کی بنیاد رکھی تو اس ریاست کا نام یوسفزئی ریاست کے بجائے ’’پختون خوا ‘‘ رکھا اس وقت ان کی قائم کردہ ریاست میں مالاکنڈ،سوات،بونیر ،باجوڑ،صوابی ،مردان اور ہشتنگر کے علاقے شامل تھے،ان کے بعد پشتو ادب کی قدیم کتابوں میں سب سے پہلے معروف مذہبی بزرگ اخون درویزہ بابا(1533ء تا1638ء) نے اپنی مشہور کتاب’’مخزن‘‘ میں کئی جگہوں پر اس خطے کو پختون خوا کے نام سے لکھا اور پکارا ہے یعنی آج سے تقریباً چھ سو چار سال قبل اخون درویزہ بابا نے پختونوں کی سرزمین کو پختون خوا کے نام سے یاد کیاہے،ان کے بعد صاحب سیف قلم خوشحال خان خٹک(1613ء تا1690ء) نے اپنی شاعری میں دوبار پختون خوا کا نام استعمال کیاہے

نوره واړه پښتون خوا په ځائې مېشته ده
خو يو زۀ دې زمانې پکښې منصور کړم

نور چې څه د پښتون خوا دي حال ئې دادے
دغو بدو ته بۀ ئې څوک وائي چې سړي دي

پشتو کے کلاسیک شاعر معزاللہ خان مومند (1095ھ تا1167ھ)اپنے زمانے کے مشہور شاعررحمان بابا کی تعریف میں پختون خوا نام کا ذکر اس طرح کرتے ہیں کہ
د تمامې پښتونخوا په شاعرانو
معزالله عبدالرحمن دے منتخب
اسی طرح ایک دوسرے کلاسک شاعر پیرمحمدکاکڑ (1125ھ تا1253ھ) بھی رحمان بابا کی شاعری کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ
لکه شعر دے دده په پښتونخوا کښې
بل به کم وي په دا وخت د افغان شعر
افغانستان کے بانی اور پختونوں کے بہادر بادشاہ اور شاعر احمد شاہ ابدالی کا یہ مشہور شعر تو ہر پختون کو زبانی ازبر ہے کہ
د ډيلي تحت هيروومه چې راياد کړم
دا د خپلې پښتونخوا د غرۀ سرونه
فرانسیسی مشتشرق جیمز ڈاد میسیٹٹر نے پشتو کے مختلف شعراء اور فوک شاعری پر مشتمل جو کتاب 1888ء میں شائع کی ہے اس کتاب کا نام بھی اس نے’’د پختون خوا د شعر ہار وبہار‘‘ رکھا ہے،جس کے بعد بیسویں صدی اور موجودہ اکیسویں صدی میں تو پشتو کے ہر شاعر،ادیب نے اس خطے کو اپنے قدیم اور تاریخی نام سے لکھا اور پکارا ہے،تاہم اس قدیم شناخت اور تاریخی نام کے حصول کا سارا کریڈٹ فخرافغان خان عبدالغفار خان المعرف باچاخان بابا کی خدائی خدمتگار تحریک کے تسلسل موجودہ عوامی نیشنل پارٹی کو جاتاہے،جس نے سب سے پہلے 1988ء میں صوبائی اسمبلی میں پختونخوا کی قرارداد پاس کی بعد میں 1993ء میں بھی قرارداد پاس کروانے میں کامیاب ہوئی اور پھر1997ء میں تیسری بار صوبے کے نام بدلنے اور اسے اپنا قدیم نام پختون خوا کی قرارداد صوبائی اسمبلی سے پاس کی،قومی اسمبلی کے فلور پر اس بات کا کریڈٹ مرحوم محمد افضل خان المعروف خان لالا کو جاتا ہے جنہوں نے پہلی بار 1990ء میں اپنے صوبے کو پختون خوا کے نام سے یاد کیا جس پر قومی اسمبلی میں بڑا ہنگامہ بھی ہوا تاہم خان لالا اپنے موقف پرڈٹے رہے،بہرحال اے این پی کے قائدین نے بڑی سیاسی حکمت عملی،بالغ نظری اور دوراندیشی سے کام لیتے ہوئے اپنے سابق دور حکومت میں 19اپریل2010ء کو 1973ء کے آئین میں اٹھارویں ترمیم کے ذریعے اس وقت کے صدر آصف علی زرداری سے نام کی منظوری لے کر اپنی پختون قوم اور خطے کواپنی قدیم قومی شناخت اور تاریخی نام دینے میں کامیاب ٹھہری اور پوری قوم پر ایک ناقابل فراموش احسان کردیا،اے این پی کے اس عظیم تاریخی کارنامے کے اس کے مخالفین بھی معترف ہیں،اور تاریخ میں اس پارٹی کا ذکرسنہرے حروف سے لکھاجائے گا،یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ پختون خوا یعنی الف کے بعد بعض لوگ اب بھی ہ لکھتے ہیں جو کہ سرار غلط ہے کیوں کہ پختون خوا اور پختون خواہ کے معنی الگ الگ ہیں جو لوگ اب بھی پختون خواہ لکھتے ہیں تو یہ فارسی زبان کی ترکیب بن جاتی ہے جس کا مطلب پختون خوا مانگنا بنتاہے جب کہ بغیر ہ کے یعنی پختون خوا کا مطلب اور معنیٰ پختونوں کی سرزمین اور علاقہ ہے،لہذا گزارش ہے کہ اپنے خطے کو اپنے ہی تاریخی اور درست نام سے لکھا اور پکارا جائے ۔ اس سلسلے میں اے این پی پورے صوبے،پاٹا اور قبائلی ایجنسیوں میں بھرپورجشن منارہی ہے

‪‎PanamaLeaks‬; PM did not take Parliament in to confidence. Asfandyar Wali Khan

 Latest, Party News  Comments Off on ‪‎PanamaLeaks‬; PM did not take Parliament in to confidence. Asfandyar Wali Khan
Apr 132016
 

10-21-2015 8-07-25 PMPeshawar: The country is heading into a political crisis due to the inappropriate response of the PML(N) government to Panama Leaks. Instead of coming clean on the Offshore accounts by going for a credible inquiry, unfortunately the government went for white washing. The so called Inquiry Commission comprising of a retired judge declared by the Prime Minister has been justifiably rejected by all shades of public opinion of the country. The situation was further aggravated when the Prime Minister did not take Parliament of the country into confidence on the issue. ANP is of the considered opinion that allegations arising out of Panama Leaks have put the moral standing of the government under question. The only way out of this situation is the appointment of a fully empowered Judicial Commission led by the Hon’ble Chief Justice of the Supreme Court of Pakistan with a definite timeline. ANP fully supports a transparent, credible and comprehensive investigation of the Panama Leaks and would support the efforts of democratic political parties in this regard. However we will request political forces to show patience, tolerance and restraint until the final results of the investigation process. Democratic political parties also need to vigilantly guard the democratic constitutional system. As per its historical traditions, ANP will oppose any effort aimed at derailment of democratic system.

 

Asfandyar Wali Khan
Central President

آزاد اسلامیہ مدارس کی106 اور انجمن اصلاح الافاغنہ کی 95 ویں سالگرہ کے حوالے سے

 Latest  Comments Off on آزاد اسلامیہ مدارس کی106 اور انجمن اصلاح الافاغنہ کی 95 ویں سالگرہ کے حوالے سے
Apr 082016
 

 سردارحسین بابک،  صوبائی جنرل سیکرٹری اے،این پی پختونخوا

علم وتعلیم کی ضرورت،اہمیت اورافادیت سے کوئی بھی ذی شعورانکارنہیں کرسکتااورآج تو پوری دنیا کی تعمیر وترقی کا انحصاربھی علم وتعلیم پرہے۔ آج قوموں کی اقتصادی، معاشی،سیاسی، ثقافتی اورتہذیبی ترقی کا پیمانہ اور اشاریہ بھی معیاری تعلیم سے ہی ناپاجاتا ہے، جوقوم تعلیم اور جدید علوم کے میدان میں آگے ہوگی وہ زندگی کے دیگرشعبوں میں بھی ترقی کے زینے پرکھڑی ہوگی، مگر تعلیم کا اصل مقصد صرف اس قدر ہے کہ ہم میں علم کے سلسلے میں ذوق سلیم اور اطوار کے سلسلے میں خوبی پیدا ہو۔ ضروری نہیں کہ صرف اسی شخص کوشائستہ یا مہذب یا دوسرے لفظوں میں مثالی طورپر تعلیم یافتہ قرار دیاجائے جو بہت پڑھا لکھا اور بڑا عالم فاضل ہو۔ تعلیم اور تہذیب کا آئینہ تو اسی شخص کو قراردیں گے جو پسند کے قابل چیزوں کو اچھا سمجھے اور ان چیزوں کو ناپسندیدہ سمجھے جو پسند کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ گویا علم کا مذاق صحیح اور علم کی خوش ذوقی یہ جاننے میں ہے کہ کن چیزوں سے محبت کی جائے اور کن سے نفرت کی جائے اس لیے وہی شخص تعلیم یافتہ کہلائے گا جس کی پسند نا پسند ٹھیک ہوں گی۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو آج سے ایک سو چھ سال قبل ہمارے پختون معاشرے میں شائد بہت سے پڑھے لکھے پختون موجود رہے ہوں مگر ان میں اس بات کا احساس نہیں تھا کہ اپنے ساتھ اپنی قوم میں بھی علم و تعلیم کا شعور اجاگر کیاجائے۔ بہت سے خان خوانین، مذہبی علماء اور جاگیردار تھے مگر کسی نے بھی اپنی قوم کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لیے نہ تو اپنی جیب سے ایک پیسہ تک خرچ کیا اور نہ ہی اس سلسلے میں اپنا اخلاقی اور علمی کردار ادا کیا، لہذا اس بات کا کریڈٹ بھی فخرافغان حضرت باچاخان بابا کو جاتا ہے جنہوں نے اس زمانے میں سب سے پہلے یہ بات محسوس کی کہ جب تک کوئی قوم تعلیم یافتہ نہیں ہوگی اس وقت تک ان کی آزادی اور معاشرتی ترقی ناممکن ہے۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے جس وقت اپنے زمانہ طالب علمی میں اپنے ہیڈماسٹر وگرم اور ان کے بھائی ڈاکٹر وگرم کی تعلیم دوستی اور اس سلسلے میں ان کی قربانیاں دیکھیں تو ان دونوں بھائیوں سے اس قدر متاثر ہوئے کہ باچاخان بابا کے دل میں بھی یہ خیال آیا کہ اپنی قوم اور وطن کی خدمت کروں۔ یہ وہ دور تھا کہ پختونوں میں تعلیم سے دوری اور جہالت بہت بڑھ گئی تھی۔ نہ حکومت کی جانب سے پختونوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کا کوئی معقول انتظام تھا اور نہ ہی قوم کے صاحب ثروت افراد میں اس بات کا احساس اور جذبہ تھا کہ اپنی قوم کو جہالت کے ان اندھیروں سے نکالنے کے لیے اپنی مدد آپ کے تحت سکولز کھولے جائیں۔
اگر کسی گاؤں میں پرائمری سکولز تھے بھی تو وہاں بھی ہمارے مولوی حضرات کسی کو جانے نہیں دیتے تھے، مگر باچاخان بابا اپنی قوم پرمرمٹنے والی ہستی تھے وہ قوم کے تمام بچوں کو اپنے ہی بچے سمجھتے تھے لہذا قوم کے بچوں کو علم و تعلیم کی روشنی سے روشناس کرانے کے لیے انہوں 1910ء میں مولوی عبدالعزیز کے ساتھ اتمانزئی چارسدہ میں پہلے مدرسہ کی بنیاد رکھی اور دیگر مدارس کے قیام کے لیے دوسرے علاقوں کا دورہ شروع کردیا اور پختونوں کی توجہ علم وتعلیم کی جانب راغب کردی اور ان کے دلوں میں علم کی ضرورت کا احساس پیدا کردیا۔ اس طرح آہستہ آہستہ صوبے کے دیگر علاقوں میں بھی مدارس قائم کردیے گئے جس کی مخالفت اس وقت کے ملاؤں نے شروع کردی اور پختونوں کو اس پروپیگنڈہ سے گمراہ کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ’’سبق د مدرسې وائی، دپارہ د پیسې وائی، جنت کښې بہ ئې ځائې نۀ وي،پۀ دوزخ کښې بہ غوپې وهي‘‘مگر باچاخان بابا اور ان کے ساتھی اپنے موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہ ہٹے اور آزاد سکولوں کے قیام کا سلسلہ جاری رکھا اور10اپریل 1921ء میں اپنے دوستوں اور ساتھیوں کی مدد سے اتمان زئی میں آزاد سکول کی بنیاد رکھی جس میں قاضی عطااللہ خان، میاں احمد شاہ، عبداللہ شاہ، حاجی عبدالغفارخان، محمد عباس خان، عبدالاکبرخان اکبر، تاج محمد خان اور خادم محمد اکبر ان کے ساتھ رہے۔ان مدارس کے قیام کا اصل مقصد پختونوں میں مروج غلط رسوم ورواج کا خاتمہ، جنگ وجدل اور تشدد سے نفرت اور ان میں اپنی قومیت یعنی اپنی زبان، ثقافت، تاریخ اور اپنی مٹی سے پیار ومحبت کا جذبہ اور احساس پیدا کرنا تھا۔ چونکہ یہ ایک مشکل کام بھی تھا اور اکیلے ایک فرد کے بس کی بات بھی نہیں تھی لہذا اس اصلاحی کام کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھانے کے لیے ایک تنظیم یا انجمن کی ضرورت لازمی تھی۔ چنانچہ باچاخان بابا اور ان کے ساتھیوں نے باہمی مشاورت سے گیارہ اپریل1921ء اصلاح الافاغنہ کے نام سے ایک انجمن کی بنیاد رکھ دی جس کے ممبران میں محمدعباس ، خان، صدر عبدالغفار خان(باچاخان)، حاجی عبدالغفارخان(اتمانزئی)، حاجی محمد اکرم خان(خان مائی)، جمعدارنورمحمد(ترنگزئی)، محمدزرین خان(ترنگزئی) عبدالاکبرخان اکبر(عمرزئی)، غلام محی الدین(تنگی)، فخرقوم میاں صاحب، میاں جعفرشاہ کاکاخیل، فضل کریم(نرئی قلا)، فضل ربی(بدرگہ)، میاں احمدشاہ قاضی خیل، میاں عبداللہ شاہ قاضی خیل، خادم محمداکبر(چارسدہ)، تاج محمدخان(چارسدہ)، مولانا شاہ رسول گڑھی امازئی)، شادمحمد(میرزو) شیربھادر(کوترپانڑ)، جلیل خان، خوشحال خان(باریکاب)، شاہ پسندخان(چارغولئی)، امیرممتازخان،بیرسٹر محمدجان(بنوں)، محمدرمضان(ڈیرہ اسماعیل خان) حکیم عبدالسلام(ہری پور)، میاں صاحب(پکلئی)، قاضی عطااللہ(مردان)، ثمین جان(محب بانڈہ)، علی اصغرخان ایڈووکیٹ(ہزارہ) اورآفندی صاحب(ملاکنڈ) شامل تھے۔ چونکہ ایک تو سکول کے اساتذہ بھی کم تھے اور دوسری طرف ان کی تنخواہیں بھی اتنی نہیں تھیں تو اس کمی کو پورا کرنے کے لیے باچاخان بابا خود بھی لڑکوں کوپڑھایا کرتے تھے۔
کہنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ آج تو ملک کے کونے کونے میں سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کی بھرمار ہے مگر آج سے ایک سو چھ سال قبل پختونوں کے معاشرے میں جو تعلیمی زبوں حالی تھی، جہالت تھی تو اس بات کا کریڈٹ بھی باچاخان اور ان کے خدائی خدمتگاروں کو جاتا ہے کہ انہوں نے ہرقسم کی مشکلات قید وبند کی صعوبتوں، فرنگیوں اور ان کے زرخرید ملاؤں کی جانب سے علم و تعلیم کی سخت مخالفت کے باوجود بھی پختونوں کی اصلاح اور ان میں علم اور تعلیم کا جذبہ اور احساس پیدا کرنے میں ایک تاریخ ساز کردار اداکیا۔ آج کی اے این پی اسی انمجن اصلاح الافاغنہ اور خدائی خدمتگارتحریک کی نئی شکل اور تسلسل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی نے اپنے گذشتہ دور حکمرانی میں تعلیم کے شعبے کو خصوصی اہمیت دیتے ہوئے صوبے میں نو یونیورسٹیوں کا قیام عمل میں لانے کے ساتھ ساتھ 44 کالجز اور سینکڑوں اسکولوں کو اپ گریڈ کیا۔ لہذاہمیں من حیث القوم آج کے دن یہ عہد کرنا ہوگا کہ موجودہ انتہاپسندی، شدت پسندی اور دہشت گردی کومات دینے کے لیے اپنی قوم کے بچوں کو جدید علوم اورانفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں ثابت قدم رکھیں گے اور اے این پی کے جھنڈے تلے اپنے خدائی خدمتگاروں کے ارمانوں کو پورا کر کے دکھائیں گے
میرے ہاتھ میں قلم ہے میرے ذہن میں اُجالا
مجھے کیادبا سکے گا کوئی ظلمتوں کا پالا
مجھے فکر امن عالم تجھے اپنی ذات کا غم
میں طلوع ہورہاہوں توُ غروب ہونے والا

اکیس(۲۱) مارچ،شاعری کا عالمی دن

 Latest  Comments Off on اکیس(۲۱) مارچ،شاعری کا عالمی دن
Mar 212016
 

 اکیس(۲۱) مارچ،شاعری کا عالمی دن، روخان یوسف زئی کا مضمونPashtopoetry

دا رختیا دی چہ لہ دردہ زبیرگے خیژی
ګنړه څۀ وه د رحمان له شاعرئ

شعر کار د هر فاسق د فاجر نۀ دے
نۀ د هر يوه اوږ سترګي د کنګال
شعر کار يا د سالک يا د مالک دے
د دردمند دے د ولي دے د ابدال
دهغې شاعر دانې اوشه په ژبه
چې د شعر دردانې پلوري په مال

چې دارو پکښې د قام د خوږو نۀ وي
تف په داسې شاعرئ او په هنر شه

اوس به د وخت د زړۀ خبرې کوي
ملګرو مونږ د کار سړے کړو غزل

محبت زما ايمان دے محبت زما کعبه ده
صحافت زما روزګار دے شاعري مې محبوبه ده
چې نړئ د امن کور شي، ورک د ظلم جبر زور شي
زما دغۀ سياست دے زما دغۀ نظريه ده

له زړګي چې وينه وڅڅوم بېت شي
زمانې زما نقصان ته خو خيال اوکړه

قلم ډوب کړه خپله وينه کښې صابره
بې له وينې ښه شعرونه نۀ جوړيږي

پټ وي طوفانونه د شاعر په خاموشئ کښې
مۀ شه پرې غلط چې بس خبرې جوړوي

ادب چاہے کسی بھی زبان کا ہو دراصل مسائل حیات کے اظہار،ترجمان اوررہنما کا نام ہے اوردنیا کے ہرزبان کے ادب کی سب سے قدیم اور بنیادی صنف شاعری ہے،چاہے وہ لوک شاعری ہو،کلاسیکی یاجدید شاعری ہو بنیادی طور پر اپنے سماج کی حقیقتوں کا عکس اور آئینہ ہے،مسائل حیات ہی شاعری کا خام مواد ہوتے ہیں،شاعری کا تانا بانا اسی سے بُنتاہے،لیکن شاعر ان مسائل حیات کو کس طرح اور کس انداز میں شاعری میں ڈھالتاہے دراصل یہ وہ پہلو ہے جس سے شاعری کے درجے اور کسی شاعر کا مقام اور مرتبہ مقررہوتاہے،انسانی خیالات،جذبات واحساسات اور ان کے فنی مظاہرکا براہ راست تعلق زندگی کے عروج وزوال سے ہے،اور جس طرح کسی معاشرے کے ذرائع پیداوارمیں تبدیلی آتی ہے اسی طرح انسانی خیالات بھی بدلتے جاتے ہیں اور اس حقیقت کو صاحب سیف وقلم خوشحال خان خٹک نے آج سے چند صدیاں قبل اپنے ایک شعر میں بیان کیا ہے کہ
چہ ئے عمر د سارویو سرہ تیروی
زیست روزگار د ھغو ھم پہ ھغہ ثیر وی
جس کی زندگی مال مویشیوں کے ساتھ گزری ہو اس طرح اس کا زیست و روزگار بھی ہوگا لہذا خوشحال خان ختک کا مذکورہ شعر اس فلسفیانہ اصول کا طرف دار ہے کہ انسان کا مادی وجود اس کے شعور کا تعین کرتاہے، یعنی ذہن حقیقتوں کا خالق نہیں بلکہ مادی حقائق خود ذہن کی تخلیق کرتے ہیں،اور ان کا وجود انسانی ذہن سے باہرہوتاہے۔ شاعر ادیب کے تخلیقی کارنامے ان حقائق کا عکس ہوتے ہیں جو سماج میں پائے جاتے ہیں،تخلیق کار کے گردوپیش کی دنیا کی امیدیں اس کا حسن اور اس کی بدصورتی اس کی کشمکش اور اس کا سلجھاو اس کے بسنے والوں کی امیدیں اور مایوسیاں خواب اور امنگیں،رنگ و روپ،بہار اور خزان اس کے موضوع بنتے ہیں،ادب حیات انسانی کے سفر کی ایک غیرمرتب تاریخ ہے،جس میں انسان کے داخلی اور خارجی،فکری اور سماجی،سیاسی اور تہذیبی تمام پہلونمایاں ہوکرسامنے آتے ہیں،ادب کی گفتگودراصل انسان کی اپنی گفتگو اور اپنی ہی کہانی ہے، آج اگر ہم اپنے اردگر دیکھیں تو کیا اس حقیقت کو مان لینے میں کوئی کسرباقی رہ گئی ہے کہ ہم آج خوصاً پختون لکھاری فنا اور بقا کے سوال کے روبرو کھڑے ہیں،ہمارے اردگرد تنگ نظری،شدت پسندی،مذہبی منافرت اور دہشت گردی کی آگ لگی ہوئی ہے،ہماری زندگی،ہماری روایات،اقدار،تاریخ اور ہماری ثقافت کو جھلسادینے والی بھسم کردینے والی آگ ہے مگر افسوس کہ اس آگ پر کوئی بھی قوت پانی یا مٹی ڈالنے میں سنجیدہ نظر نہیں آرہی ہے، الٹابعض قوتیں اس آگ کو اور بھی بڑکانے اور پھیلانے کی کوشش کررہی ہیں،ہم کب تک اس بیدردی سے مارے جائیں گے۔ کب تک ہم اس آگ کا ایندھن بنتے جائیں گے؟مانا کہ ادب کا تخلیق کار ہتھیاربندسپاہی نہیں ہے اس کے پاس گولا بارود اور اس کے ہاتھ میں کلاشنکوف نہیں ہے اگر ہیں تو وہ صرف اور ڈرف صرف الفاظ اور اس کی جادوگری ہے،انفرادی حرکت ہے جومل جل کر ایک قابل ذکراجتماعی تحریک میں تبدیل ہوسکتی ہے۔

ہم تاریخ کے بدترین اور بہت ہی نازک موڑ پر کھڑے ہیں۔ ہم نے اسی مٹی پر آنکھ کھولی ہے یہیں ہمارا مرنا اور جیناہے،یہیں ہماری موجودہ اور آنے والی نسلوں کو جیناہے توکیا ہم پر اپنی اس دھرتی،اپنی قوم اور اپنی زبان کوئی ادبی اور علمی قرض نہیں بنتا؟ اور کیا اس جنگ میں ہم پر امن کی خاطر قلمی جہاد فرض نہیں ہے؟،ہمارے عہدکا اصل تماشہ اور اصل المیہ تعصب،تنگ نظری، رجعت پرستی ،مذہبی انتہاپسندی،شدت پسندی اور دہشت گردی ہے اور یہ موجودہ تمام امراض ہمارے معاشرے میں الفاظ ہی کے ذریعے سے تقاریر سے،کتب و رسائل سے اور اب انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے پھیلتے جارہے ہیں۔ ادب اور فن اگر ان تمام امراض پرحملہ آور ہوسکتاہے تو وہ ان امراض کی ادبی طرز میں تنقید اور مخالفت کے ذریعے، حسن اور سچائی کی سربلندی کے ذریعے انسان دوستی،روشن خیالی اور امن کے فروغ کے ذریعے۔دوستوفسکی نے کہا تھا کہ’’حسن دنیاکو تباہی سے بچاسکتاہے‘‘اور اس وقت ہم جس تباہی اور بربادی سے دوچار ہیں اس سے مزید بچنے کے لیے امن سے زیادہ اور حسن کیا ہوسکتا ہے؟