اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان کی جانب سے آرمی چیف کے فیصلے کا خیر مقدم

 April-2016, Latest, Party News, PRs-2016  Comments Off on اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان کی جانب سے آرمی چیف کے فیصلے کا خیر مقدم
Apr 212016
 

مورخہ 21اپریل2016ء بروز جمعرات

اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان کی جانب سے آرمی چیف کے فیصلے کا خیر مقدم
آرمی چیف نے اپنے ادارے سے احتساب کے عمل کا آغاز کر کے اچھی روایت کی بنیاد ڈال دی ہے۔
ملک کے دوسرے ریاستی اداروں کے سربراہان کو بھی آرمی چیف کی تقلید کر کے ادارہ جاتی احتساب کا آغاز کرنا چاہیے۔
دہشتگردی کی طرح کرپشن کے ناسور نے بھی پاکستان کی ساکھ ، ترقی اور استحکام کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سربراہ اسفندیار ولی خان نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی جانب سے فوج میں احتسابی عمل کے عملی آغاز کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس فیصلے کی تائید اور ستائش کی ہے اور تمام ریاستی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اپنے اداروں میں کرپشن کے خلاف عملی اقدامات کریں تاکہ ملک سے اس ناسور کا خاتمہ کیا جا سکے۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ بیان میں اُنہوں نے آرمی چیف کے حالیہ اقدام کو غیر معمولی اور ناگزیر قرار دیتے ہوئے اس کا خیر مقدم کیا ہے کہ اپنے ادارے سے احتسابی عمل کا آغاز سے ایک اچھی روایت ہے اور اس کو جاری رکھنا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ دہشتگردی کی طرح کرپشن نے بھی ملک کیلئے ایک ناسور کی شکل اختیار کی ہوئی ہے اور اس کے باعث نہ صرف یہ کہ ادارہ جاتی اور انتظامی ڈھانچے برباد ہو کر رہ گئے ہیں بلکہ ملک کی ترقی اور استحکام کا عمل بھی بری طرح متاثر ہوتا آیا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ آرمی چیف کے حالیہ فیصلے سے جہاں ایک طرف کرپشن کی حوصلہ شکنی اور خاتمے کا راستہ ہموار ہو گا وہاں ملکی اور عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ ، شہرت اور نیک نامی میں بھی بہتری آئے گی۔ اُنہوں نے مزید کہا ہے کہ اس عمل کو مستقبل میں جاری رہنا چاہیے تاکہ عملی طور پر یہ پیغام دیا جائے کہ کوئی بھی مواخذے سے مبریٰ نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ دوسرے ریاستی اور حکومتی اداروں کے سربراہان کو بھی آرمی چیف کی تقلید کرتے ہوئے اپنے اپنے اداروں میں ایسے افراد کے احتساب کا آغاز کرنا چاہیے جو کہ کرپشن میں ملوث رہے ہیں۔
اے این پی کے سربراہ نے مزید کہا ہے کہ ملک کی نیک نامی ، ترقی اور استحکام کیلئے کرپشن کا خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی مصلحت یا تاخیر سے کام نہیں لینا چاہیے تاکہ اس ناسور سے پاکستان کو چھٹکارا دلایا جائے۔

چھٹا جشن پختونخوا

 Latest, Party News  Comments Off on چھٹا جشن پختونخوا
Apr 182016
 

تابۀ دروغ دروغ ګنړله خو رښتيا بۀ دې کړم
ما درته نۀ وې پښتونخوا چې پښتونخوا بۀ دې کړم
ما څو پېړئ ستا د تصوير په خاکه تېرې کړلې
اوس بۀ دې داسې کړم تصوير چې په خندا بۀ دې کړم
رحمت شاه سائل

چھٹاجشن خیبر پختون خوا. . . . 19اپریل
روخان یوسف زئے
شناخت اپنی ہو یا اپنے خاندان،قبیلے،قوم یا کسی قوم کی اپنی زمین اور وطن کا ہو یہ ایک فطری امرہے کہ وہ قوم اس پرنہ صرف فخرکرتی ہے بلکہ اپنی اس شناخت،پہچان اور نام پر مرمٹنے سے بھی گریز نہیں کرتی، دنیا کی تاریخ میں ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں کہ کسی قوم نے اپنی قومی شناخت اور جغرافیائی حدبندی اور پہچان کے لیے کسی بھی جانی ومالی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔جہاں تک موجودہ خیبرپختون خوا کے تاریخی پس منظر کا تعلق ہے، تو یہ اس خطے کا بہت ہی قدیم نام ہے جس کے بے شمار معتبرتاریخی حوالے اب بھی ہماری تاریخ کے مختلف کتب میں موجود ہیں ،پختون خوا جو خالص پشتو زبان کا نام ہے اور دو کلمو یعنی پختون اور خوا سے مرکب ہے جس کے معنی پختونوں کا علاقہ،طرف، دل،جانب،سینہ ہے،جیسا کہ خوا مے پرے یخہ شوہ(کلیجہ ٹھنڈا ہوگیا) خوا تہ مے راشہ(میرے قریب آو) خوا پہ خوا ناستہ(سنگ بہ سنگ بیٹھنا) وغیرہ وغیرہ،لہذا پختون خوا نام کا ذکر قدیم تاریخ کی بیشتر کتابوں میں ہمیں ملتاہے،قدیم ’’رگ وید‘‘ میں اس خطے اور یہاں آباد قوم کو کبھی پکھتی،کبھی پکتیا، پکتیکا،پکھت،پخت اور بعدازاں پختون کے نام سے یاد کیاگیاہے۔
اس سلسلے میں پختونوں کی مشہور قبیلہ یوسف زئی کے پہلے قائد ملک احمدخان بابا کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے جس وقت 1520ء میں اپنے قبیلے کے لیے الگ ریاست کی بنیاد رکھی تو اس ریاست کا نام یوسفزئی ریاست کے بجائے ’’پختون خوا ‘‘ رکھا اس وقت ان کی قائم کردہ ریاست میں مالاکنڈ،سوات،بونیر ،باجوڑ،صوابی ،مردان اور ہشتنگر کے علاقے شامل تھے،ان کے بعد پشتو ادب کی قدیم کتابوں میں سب سے پہلے معروف مذہبی بزرگ اخون درویزہ بابا(1533ء تا1638ء) نے اپنی مشہور کتاب’’مخزن‘‘ میں کئی جگہوں پر اس خطے کو پختون خوا کے نام سے لکھا اور پکارا ہے یعنی آج سے تقریباً چھ سو چار سال قبل اخون درویزہ بابا نے پختونوں کی سرزمین کو پختون خوا کے نام سے یاد کیاہے،ان کے بعد صاحب سیف قلم خوشحال خان خٹک(1613ء تا1690ء) نے اپنی شاعری میں دوبار پختون خوا کا نام استعمال کیاہے

نوره واړه پښتون خوا په ځائې مېشته ده
خو يو زۀ دې زمانې پکښې منصور کړم

نور چې څه د پښتون خوا دي حال ئې دادے
دغو بدو ته بۀ ئې څوک وائي چې سړي دي

پشتو کے کلاسیک شاعر معزاللہ خان مومند (1095ھ تا1167ھ)اپنے زمانے کے مشہور شاعررحمان بابا کی تعریف میں پختون خوا نام کا ذکر اس طرح کرتے ہیں کہ
د تمامې پښتونخوا په شاعرانو
معزالله عبدالرحمن دے منتخب
اسی طرح ایک دوسرے کلاسک شاعر پیرمحمدکاکڑ (1125ھ تا1253ھ) بھی رحمان بابا کی شاعری کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ
لکه شعر دے دده په پښتونخوا کښې
بل به کم وي په دا وخت د افغان شعر
افغانستان کے بانی اور پختونوں کے بہادر بادشاہ اور شاعر احمد شاہ ابدالی کا یہ مشہور شعر تو ہر پختون کو زبانی ازبر ہے کہ
د ډيلي تحت هيروومه چې راياد کړم
دا د خپلې پښتونخوا د غرۀ سرونه
فرانسیسی مشتشرق جیمز ڈاد میسیٹٹر نے پشتو کے مختلف شعراء اور فوک شاعری پر مشتمل جو کتاب 1888ء میں شائع کی ہے اس کتاب کا نام بھی اس نے’’د پختون خوا د شعر ہار وبہار‘‘ رکھا ہے،جس کے بعد بیسویں صدی اور موجودہ اکیسویں صدی میں تو پشتو کے ہر شاعر،ادیب نے اس خطے کو اپنے قدیم اور تاریخی نام سے لکھا اور پکارا ہے،تاہم اس قدیم شناخت اور تاریخی نام کے حصول کا سارا کریڈٹ فخرافغان خان عبدالغفار خان المعرف باچاخان بابا کی خدائی خدمتگار تحریک کے تسلسل موجودہ عوامی نیشنل پارٹی کو جاتاہے،جس نے سب سے پہلے 1988ء میں صوبائی اسمبلی میں پختونخوا کی قرارداد پاس کی بعد میں 1993ء میں بھی قرارداد پاس کروانے میں کامیاب ہوئی اور پھر1997ء میں تیسری بار صوبے کے نام بدلنے اور اسے اپنا قدیم نام پختون خوا کی قرارداد صوبائی اسمبلی سے پاس کی،قومی اسمبلی کے فلور پر اس بات کا کریڈٹ مرحوم محمد افضل خان المعروف خان لالا کو جاتا ہے جنہوں نے پہلی بار 1990ء میں اپنے صوبے کو پختون خوا کے نام سے یاد کیا جس پر قومی اسمبلی میں بڑا ہنگامہ بھی ہوا تاہم خان لالا اپنے موقف پرڈٹے رہے،بہرحال اے این پی کے قائدین نے بڑی سیاسی حکمت عملی،بالغ نظری اور دوراندیشی سے کام لیتے ہوئے اپنے سابق دور حکومت میں 19اپریل2010ء کو 1973ء کے آئین میں اٹھارویں ترمیم کے ذریعے اس وقت کے صدر آصف علی زرداری سے نام کی منظوری لے کر اپنی پختون قوم اور خطے کواپنی قدیم قومی شناخت اور تاریخی نام دینے میں کامیاب ٹھہری اور پوری قوم پر ایک ناقابل فراموش احسان کردیا،اے این پی کے اس عظیم تاریخی کارنامے کے اس کے مخالفین بھی معترف ہیں،اور تاریخ میں اس پارٹی کا ذکرسنہرے حروف سے لکھاجائے گا،یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ پختون خوا یعنی الف کے بعد بعض لوگ اب بھی ہ لکھتے ہیں جو کہ سرار غلط ہے کیوں کہ پختون خوا اور پختون خواہ کے معنی الگ الگ ہیں جو لوگ اب بھی پختون خواہ لکھتے ہیں تو یہ فارسی زبان کی ترکیب بن جاتی ہے جس کا مطلب پختون خوا مانگنا بنتاہے جب کہ بغیر ہ کے یعنی پختون خوا کا مطلب اور معنیٰ پختونوں کی سرزمین اور علاقہ ہے،لہذا گزارش ہے کہ اپنے خطے کو اپنے ہی تاریخی اور درست نام سے لکھا اور پکارا جائے ۔ اس سلسلے میں اے این پی پورے صوبے،پاٹا اور قبائلی ایجنسیوں میں بھرپورجشن منارہی ہے

‪‎PanamaLeaks‬; PM did not take Parliament in to confidence. Asfandyar Wali Khan

 Latest, Party News  Comments Off on ‪‎PanamaLeaks‬; PM did not take Parliament in to confidence. Asfandyar Wali Khan
Apr 132016
 

10-21-2015 8-07-25 PMPeshawar: The country is heading into a political crisis due to the inappropriate response of the PML(N) government to Panama Leaks. Instead of coming clean on the Offshore accounts by going for a credible inquiry, unfortunately the government went for white washing. The so called Inquiry Commission comprising of a retired judge declared by the Prime Minister has been justifiably rejected by all shades of public opinion of the country. The situation was further aggravated when the Prime Minister did not take Parliament of the country into confidence on the issue. ANP is of the considered opinion that allegations arising out of Panama Leaks have put the moral standing of the government under question. The only way out of this situation is the appointment of a fully empowered Judicial Commission led by the Hon’ble Chief Justice of the Supreme Court of Pakistan with a definite timeline. ANP fully supports a transparent, credible and comprehensive investigation of the Panama Leaks and would support the efforts of democratic political parties in this regard. However we will request political forces to show patience, tolerance and restraint until the final results of the investigation process. Democratic political parties also need to vigilantly guard the democratic constitutional system. As per its historical traditions, ANP will oppose any effort aimed at derailment of democratic system.

 

Asfandyar Wali Khan
Central President

آزاد اسلامیہ مدارس کی106 اور انجمن اصلاح الافاغنہ کی 95 ویں سالگرہ کے حوالے سے

 Latest  Comments Off on آزاد اسلامیہ مدارس کی106 اور انجمن اصلاح الافاغنہ کی 95 ویں سالگرہ کے حوالے سے
Apr 082016
 

 سردارحسین بابک،  صوبائی جنرل سیکرٹری اے،این پی پختونخوا

علم وتعلیم کی ضرورت،اہمیت اورافادیت سے کوئی بھی ذی شعورانکارنہیں کرسکتااورآج تو پوری دنیا کی تعمیر وترقی کا انحصاربھی علم وتعلیم پرہے۔ آج قوموں کی اقتصادی، معاشی،سیاسی، ثقافتی اورتہذیبی ترقی کا پیمانہ اور اشاریہ بھی معیاری تعلیم سے ہی ناپاجاتا ہے، جوقوم تعلیم اور جدید علوم کے میدان میں آگے ہوگی وہ زندگی کے دیگرشعبوں میں بھی ترقی کے زینے پرکھڑی ہوگی، مگر تعلیم کا اصل مقصد صرف اس قدر ہے کہ ہم میں علم کے سلسلے میں ذوق سلیم اور اطوار کے سلسلے میں خوبی پیدا ہو۔ ضروری نہیں کہ صرف اسی شخص کوشائستہ یا مہذب یا دوسرے لفظوں میں مثالی طورپر تعلیم یافتہ قرار دیاجائے جو بہت پڑھا لکھا اور بڑا عالم فاضل ہو۔ تعلیم اور تہذیب کا آئینہ تو اسی شخص کو قراردیں گے جو پسند کے قابل چیزوں کو اچھا سمجھے اور ان چیزوں کو ناپسندیدہ سمجھے جو پسند کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ گویا علم کا مذاق صحیح اور علم کی خوش ذوقی یہ جاننے میں ہے کہ کن چیزوں سے محبت کی جائے اور کن سے نفرت کی جائے اس لیے وہی شخص تعلیم یافتہ کہلائے گا جس کی پسند نا پسند ٹھیک ہوں گی۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو آج سے ایک سو چھ سال قبل ہمارے پختون معاشرے میں شائد بہت سے پڑھے لکھے پختون موجود رہے ہوں مگر ان میں اس بات کا احساس نہیں تھا کہ اپنے ساتھ اپنی قوم میں بھی علم و تعلیم کا شعور اجاگر کیاجائے۔ بہت سے خان خوانین، مذہبی علماء اور جاگیردار تھے مگر کسی نے بھی اپنی قوم کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لیے نہ تو اپنی جیب سے ایک پیسہ تک خرچ کیا اور نہ ہی اس سلسلے میں اپنا اخلاقی اور علمی کردار ادا کیا، لہذا اس بات کا کریڈٹ بھی فخرافغان حضرت باچاخان بابا کو جاتا ہے جنہوں نے اس زمانے میں سب سے پہلے یہ بات محسوس کی کہ جب تک کوئی قوم تعلیم یافتہ نہیں ہوگی اس وقت تک ان کی آزادی اور معاشرتی ترقی ناممکن ہے۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے جس وقت اپنے زمانہ طالب علمی میں اپنے ہیڈماسٹر وگرم اور ان کے بھائی ڈاکٹر وگرم کی تعلیم دوستی اور اس سلسلے میں ان کی قربانیاں دیکھیں تو ان دونوں بھائیوں سے اس قدر متاثر ہوئے کہ باچاخان بابا کے دل میں بھی یہ خیال آیا کہ اپنی قوم اور وطن کی خدمت کروں۔ یہ وہ دور تھا کہ پختونوں میں تعلیم سے دوری اور جہالت بہت بڑھ گئی تھی۔ نہ حکومت کی جانب سے پختونوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کا کوئی معقول انتظام تھا اور نہ ہی قوم کے صاحب ثروت افراد میں اس بات کا احساس اور جذبہ تھا کہ اپنی قوم کو جہالت کے ان اندھیروں سے نکالنے کے لیے اپنی مدد آپ کے تحت سکولز کھولے جائیں۔
اگر کسی گاؤں میں پرائمری سکولز تھے بھی تو وہاں بھی ہمارے مولوی حضرات کسی کو جانے نہیں دیتے تھے، مگر باچاخان بابا اپنی قوم پرمرمٹنے والی ہستی تھے وہ قوم کے تمام بچوں کو اپنے ہی بچے سمجھتے تھے لہذا قوم کے بچوں کو علم و تعلیم کی روشنی سے روشناس کرانے کے لیے انہوں 1910ء میں مولوی عبدالعزیز کے ساتھ اتمانزئی چارسدہ میں پہلے مدرسہ کی بنیاد رکھی اور دیگر مدارس کے قیام کے لیے دوسرے علاقوں کا دورہ شروع کردیا اور پختونوں کی توجہ علم وتعلیم کی جانب راغب کردی اور ان کے دلوں میں علم کی ضرورت کا احساس پیدا کردیا۔ اس طرح آہستہ آہستہ صوبے کے دیگر علاقوں میں بھی مدارس قائم کردیے گئے جس کی مخالفت اس وقت کے ملاؤں نے شروع کردی اور پختونوں کو اس پروپیگنڈہ سے گمراہ کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ’’سبق د مدرسې وائی، دپارہ د پیسې وائی، جنت کښې بہ ئې ځائې نۀ وي،پۀ دوزخ کښې بہ غوپې وهي‘‘مگر باچاخان بابا اور ان کے ساتھی اپنے موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہ ہٹے اور آزاد سکولوں کے قیام کا سلسلہ جاری رکھا اور10اپریل 1921ء میں اپنے دوستوں اور ساتھیوں کی مدد سے اتمان زئی میں آزاد سکول کی بنیاد رکھی جس میں قاضی عطااللہ خان، میاں احمد شاہ، عبداللہ شاہ، حاجی عبدالغفارخان، محمد عباس خان، عبدالاکبرخان اکبر، تاج محمد خان اور خادم محمد اکبر ان کے ساتھ رہے۔ان مدارس کے قیام کا اصل مقصد پختونوں میں مروج غلط رسوم ورواج کا خاتمہ، جنگ وجدل اور تشدد سے نفرت اور ان میں اپنی قومیت یعنی اپنی زبان، ثقافت، تاریخ اور اپنی مٹی سے پیار ومحبت کا جذبہ اور احساس پیدا کرنا تھا۔ چونکہ یہ ایک مشکل کام بھی تھا اور اکیلے ایک فرد کے بس کی بات بھی نہیں تھی لہذا اس اصلاحی کام کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھانے کے لیے ایک تنظیم یا انجمن کی ضرورت لازمی تھی۔ چنانچہ باچاخان بابا اور ان کے ساتھیوں نے باہمی مشاورت سے گیارہ اپریل1921ء اصلاح الافاغنہ کے نام سے ایک انجمن کی بنیاد رکھ دی جس کے ممبران میں محمدعباس ، خان، صدر عبدالغفار خان(باچاخان)، حاجی عبدالغفارخان(اتمانزئی)، حاجی محمد اکرم خان(خان مائی)، جمعدارنورمحمد(ترنگزئی)، محمدزرین خان(ترنگزئی) عبدالاکبرخان اکبر(عمرزئی)، غلام محی الدین(تنگی)، فخرقوم میاں صاحب، میاں جعفرشاہ کاکاخیل، فضل کریم(نرئی قلا)، فضل ربی(بدرگہ)، میاں احمدشاہ قاضی خیل، میاں عبداللہ شاہ قاضی خیل، خادم محمداکبر(چارسدہ)، تاج محمدخان(چارسدہ)، مولانا شاہ رسول گڑھی امازئی)، شادمحمد(میرزو) شیربھادر(کوترپانڑ)، جلیل خان، خوشحال خان(باریکاب)، شاہ پسندخان(چارغولئی)، امیرممتازخان،بیرسٹر محمدجان(بنوں)، محمدرمضان(ڈیرہ اسماعیل خان) حکیم عبدالسلام(ہری پور)، میاں صاحب(پکلئی)، قاضی عطااللہ(مردان)، ثمین جان(محب بانڈہ)، علی اصغرخان ایڈووکیٹ(ہزارہ) اورآفندی صاحب(ملاکنڈ) شامل تھے۔ چونکہ ایک تو سکول کے اساتذہ بھی کم تھے اور دوسری طرف ان کی تنخواہیں بھی اتنی نہیں تھیں تو اس کمی کو پورا کرنے کے لیے باچاخان بابا خود بھی لڑکوں کوپڑھایا کرتے تھے۔
کہنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ آج تو ملک کے کونے کونے میں سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کی بھرمار ہے مگر آج سے ایک سو چھ سال قبل پختونوں کے معاشرے میں جو تعلیمی زبوں حالی تھی، جہالت تھی تو اس بات کا کریڈٹ بھی باچاخان اور ان کے خدائی خدمتگاروں کو جاتا ہے کہ انہوں نے ہرقسم کی مشکلات قید وبند کی صعوبتوں، فرنگیوں اور ان کے زرخرید ملاؤں کی جانب سے علم و تعلیم کی سخت مخالفت کے باوجود بھی پختونوں کی اصلاح اور ان میں علم اور تعلیم کا جذبہ اور احساس پیدا کرنے میں ایک تاریخ ساز کردار اداکیا۔ آج کی اے این پی اسی انمجن اصلاح الافاغنہ اور خدائی خدمتگارتحریک کی نئی شکل اور تسلسل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی نے اپنے گذشتہ دور حکمرانی میں تعلیم کے شعبے کو خصوصی اہمیت دیتے ہوئے صوبے میں نو یونیورسٹیوں کا قیام عمل میں لانے کے ساتھ ساتھ 44 کالجز اور سینکڑوں اسکولوں کو اپ گریڈ کیا۔ لہذاہمیں من حیث القوم آج کے دن یہ عہد کرنا ہوگا کہ موجودہ انتہاپسندی، شدت پسندی اور دہشت گردی کومات دینے کے لیے اپنی قوم کے بچوں کو جدید علوم اورانفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں ثابت قدم رکھیں گے اور اے این پی کے جھنڈے تلے اپنے خدائی خدمتگاروں کے ارمانوں کو پورا کر کے دکھائیں گے
میرے ہاتھ میں قلم ہے میرے ذہن میں اُجالا
مجھے کیادبا سکے گا کوئی ظلمتوں کا پالا
مجھے فکر امن عالم تجھے اپنی ذات کا غم
میں طلوع ہورہاہوں توُ غروب ہونے والا

اکیس(۲۱) مارچ،شاعری کا عالمی دن

 Latest  Comments Off on اکیس(۲۱) مارچ،شاعری کا عالمی دن
Mar 212016
 

 اکیس(۲۱) مارچ،شاعری کا عالمی دن، روخان یوسف زئی کا مضمونPashtopoetry

دا رختیا دی چہ لہ دردہ زبیرگے خیژی
ګنړه څۀ وه د رحمان له شاعرئ

شعر کار د هر فاسق د فاجر نۀ دے
نۀ د هر يوه اوږ سترګي د کنګال
شعر کار يا د سالک يا د مالک دے
د دردمند دے د ولي دے د ابدال
دهغې شاعر دانې اوشه په ژبه
چې د شعر دردانې پلوري په مال

چې دارو پکښې د قام د خوږو نۀ وي
تف په داسې شاعرئ او په هنر شه

اوس به د وخت د زړۀ خبرې کوي
ملګرو مونږ د کار سړے کړو غزل

محبت زما ايمان دے محبت زما کعبه ده
صحافت زما روزګار دے شاعري مې محبوبه ده
چې نړئ د امن کور شي، ورک د ظلم جبر زور شي
زما دغۀ سياست دے زما دغۀ نظريه ده

له زړګي چې وينه وڅڅوم بېت شي
زمانې زما نقصان ته خو خيال اوکړه

قلم ډوب کړه خپله وينه کښې صابره
بې له وينې ښه شعرونه نۀ جوړيږي

پټ وي طوفانونه د شاعر په خاموشئ کښې
مۀ شه پرې غلط چې بس خبرې جوړوي

ادب چاہے کسی بھی زبان کا ہو دراصل مسائل حیات کے اظہار،ترجمان اوررہنما کا نام ہے اوردنیا کے ہرزبان کے ادب کی سب سے قدیم اور بنیادی صنف شاعری ہے،چاہے وہ لوک شاعری ہو،کلاسیکی یاجدید شاعری ہو بنیادی طور پر اپنے سماج کی حقیقتوں کا عکس اور آئینہ ہے،مسائل حیات ہی شاعری کا خام مواد ہوتے ہیں،شاعری کا تانا بانا اسی سے بُنتاہے،لیکن شاعر ان مسائل حیات کو کس طرح اور کس انداز میں شاعری میں ڈھالتاہے دراصل یہ وہ پہلو ہے جس سے شاعری کے درجے اور کسی شاعر کا مقام اور مرتبہ مقررہوتاہے،انسانی خیالات،جذبات واحساسات اور ان کے فنی مظاہرکا براہ راست تعلق زندگی کے عروج وزوال سے ہے،اور جس طرح کسی معاشرے کے ذرائع پیداوارمیں تبدیلی آتی ہے اسی طرح انسانی خیالات بھی بدلتے جاتے ہیں اور اس حقیقت کو صاحب سیف وقلم خوشحال خان خٹک نے آج سے چند صدیاں قبل اپنے ایک شعر میں بیان کیا ہے کہ
چہ ئے عمر د سارویو سرہ تیروی
زیست روزگار د ھغو ھم پہ ھغہ ثیر وی
جس کی زندگی مال مویشیوں کے ساتھ گزری ہو اس طرح اس کا زیست و روزگار بھی ہوگا لہذا خوشحال خان ختک کا مذکورہ شعر اس فلسفیانہ اصول کا طرف دار ہے کہ انسان کا مادی وجود اس کے شعور کا تعین کرتاہے، یعنی ذہن حقیقتوں کا خالق نہیں بلکہ مادی حقائق خود ذہن کی تخلیق کرتے ہیں،اور ان کا وجود انسانی ذہن سے باہرہوتاہے۔ شاعر ادیب کے تخلیقی کارنامے ان حقائق کا عکس ہوتے ہیں جو سماج میں پائے جاتے ہیں،تخلیق کار کے گردوپیش کی دنیا کی امیدیں اس کا حسن اور اس کی بدصورتی اس کی کشمکش اور اس کا سلجھاو اس کے بسنے والوں کی امیدیں اور مایوسیاں خواب اور امنگیں،رنگ و روپ،بہار اور خزان اس کے موضوع بنتے ہیں،ادب حیات انسانی کے سفر کی ایک غیرمرتب تاریخ ہے،جس میں انسان کے داخلی اور خارجی،فکری اور سماجی،سیاسی اور تہذیبی تمام پہلونمایاں ہوکرسامنے آتے ہیں،ادب کی گفتگودراصل انسان کی اپنی گفتگو اور اپنی ہی کہانی ہے، آج اگر ہم اپنے اردگر دیکھیں تو کیا اس حقیقت کو مان لینے میں کوئی کسرباقی رہ گئی ہے کہ ہم آج خوصاً پختون لکھاری فنا اور بقا کے سوال کے روبرو کھڑے ہیں،ہمارے اردگرد تنگ نظری،شدت پسندی،مذہبی منافرت اور دہشت گردی کی آگ لگی ہوئی ہے،ہماری زندگی،ہماری روایات،اقدار،تاریخ اور ہماری ثقافت کو جھلسادینے والی بھسم کردینے والی آگ ہے مگر افسوس کہ اس آگ پر کوئی بھی قوت پانی یا مٹی ڈالنے میں سنجیدہ نظر نہیں آرہی ہے، الٹابعض قوتیں اس آگ کو اور بھی بڑکانے اور پھیلانے کی کوشش کررہی ہیں،ہم کب تک اس بیدردی سے مارے جائیں گے۔ کب تک ہم اس آگ کا ایندھن بنتے جائیں گے؟مانا کہ ادب کا تخلیق کار ہتھیاربندسپاہی نہیں ہے اس کے پاس گولا بارود اور اس کے ہاتھ میں کلاشنکوف نہیں ہے اگر ہیں تو وہ صرف اور ڈرف صرف الفاظ اور اس کی جادوگری ہے،انفرادی حرکت ہے جومل جل کر ایک قابل ذکراجتماعی تحریک میں تبدیل ہوسکتی ہے۔

ہم تاریخ کے بدترین اور بہت ہی نازک موڑ پر کھڑے ہیں۔ ہم نے اسی مٹی پر آنکھ کھولی ہے یہیں ہمارا مرنا اور جیناہے،یہیں ہماری موجودہ اور آنے والی نسلوں کو جیناہے توکیا ہم پر اپنی اس دھرتی،اپنی قوم اور اپنی زبان کوئی ادبی اور علمی قرض نہیں بنتا؟ اور کیا اس جنگ میں ہم پر امن کی خاطر قلمی جہاد فرض نہیں ہے؟،ہمارے عہدکا اصل تماشہ اور اصل المیہ تعصب،تنگ نظری، رجعت پرستی ،مذہبی انتہاپسندی،شدت پسندی اور دہشت گردی ہے اور یہ موجودہ تمام امراض ہمارے معاشرے میں الفاظ ہی کے ذریعے سے تقاریر سے،کتب و رسائل سے اور اب انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے پھیلتے جارہے ہیں۔ ادب اور فن اگر ان تمام امراض پرحملہ آور ہوسکتاہے تو وہ ان امراض کی ادبی طرز میں تنقید اور مخالفت کے ذریعے، حسن اور سچائی کی سربلندی کے ذریعے انسان دوستی،روشن خیالی اور امن کے فروغ کے ذریعے۔دوستوفسکی نے کہا تھا کہ’’حسن دنیاکو تباہی سے بچاسکتاہے‘‘اور اس وقت ہم جس تباہی اور بربادی سے دوچار ہیں اس سے مزید بچنے کے لیے امن سے زیادہ اور حسن کیا ہوسکتا ہے؟

خواتین کے حقوق کا عالمی دن

 Latest  Comments Off on خواتین کے حقوق کا عالمی دن
Mar 032016
 

SardarHussainBabakخواتین کے حقوق کے عالمی دن آٹھ مارچ کی مناسبت سے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈرسردارحسین  بابک کا مضمون

گزشتہ دور حکومت میں بطور صوبائی وزیر تعلیم کے جو کچھ میں جانااور جو کچھ محسوس کیا اپنے ان احساسات کا اظہار آج کے دن کے حوالے سے اپنی قوم کے تمام افراد بالخصوص خواتین کی خدمت میں عرض کرنا اپنا قومی اور اخلاقی فرض سمجھتا ہوں۔ اس حقیقت پر دنیا کے تمام ماہرین تعلیم متفق ہیں کہ تعلیم کا پہلا اور مرکزی کردار انسانوں میں اپنی مٹی،قوم،زبان،ثقافت سے پیار اور اجتماعی شعور پیدا کرنا ہے، جس کے لیے ایک ایسی تعلیم اور تعلیمی نصاب ہو جو حقیقی معنوں میں مکمل ہو۔ اور مکمل ہونے سے میری مراد یہ کہ تعلیم ہرقسم تعصب اور طبقاتی امتیازات سے بالکل پاک ہو،کیوں کہ جس قوم کے نصاب تعلیم میں صنف، جغرافیہ،نسل،طبقہ اور زبان جیسے تعصبات داخل ہوں تو ظاہر ہے کہ اسے ہم غیرجانبدار اور مکمل تعلیم نہیں کہہ سکتے۔ نظریاتی طور پر جاننے اور سیکھنے کا سارا عمل اس بات پر دارومدار رکھتا ہے کہ ہر فرد کو اپنے منصب اور اپنے فرائض کا شعور ہو۔ اس طرح ہر فرد، معاشرے کے لیے ایک مفید اور ذہنی طور پر کشادہ وحدت کا کام کرتا ہے۔ جب تعلیم افراد کو متحرک کرنے کی بجائے جامد اور ان کا دائرہ کار بڑھانے کی بجائے محدود کر دیتی ہے اس وقت تمام وسائل، محنت اور نظریات کارآمد اور مفید ہونے کی بجائے غیر موثر اور بے معنی ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اسی لیے تعلیم ایک اہم ذمہ داری ہے اور ایک حساس معاملہ ہے، جہاں تک عورتوں کی تعلیم کا مسئلہ ہے تو اس جانب سب سے پہلے عملی طور پر قدم اٹھانے والی شخصیت بھی ہمارے قومی محسن اور فخرافغان باچاخان ہیں جنہوں نے اس زمانے میں عورتوں کی تعلیم کے حوالے سے اپنی قوم میں شعور بیدار کرنے کی بھرپور مہم اپنی ادارت میں چلانے والے رسالے’’پختون‘‘ کے ذریعے چلائی۔ بابا ئے امن باچاخان کو اس بات کا ادراک تھا کہ جب تک ہم اپنی قوم کی خواتین کو تعلیم کے زیورسے آراستہ نہیں کریں گے اس وقت تک ہماری معاشرتی،علمی اور قومی ترقی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

جیسا کہ انہوں نے فرمایا ہے کہ’’ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ عورت ہماری غلامی کے لیے پیدا کی گئی ہے،لیکن یہ بات بلکل غلط ہے،جیسا کہ ہماری قوم بہت سے معاملات میں ایرانی اور ہندو تہذیب کے زیر اثرہے اسی طرح یہ خیال بھی ہم میں ہندوں کے ساتھ ایک جگہ بودباش سے پیدا ہواہے ورنہ اسلام میں یہ بلکل نہیں ہے۔خدا نے اس دنیا کے نظام کو چلانے کے لیے عورت اور مرد کو پیدا کیاہے،جس طرح عورت کو مرد کی ضرورت ہے ویسے مرد کو عورت کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ دنیا میں دو بہترین دوست اور ساتھی ہیں،کسی قوم اور ملک کی ترقی اور تنزلی عورتوں کی قابلیت اور لیاقت پر ہی موقوف ہے۔ اے میری بہنوں اور بیٹیوں حقیقت تو یہ ہے کہ اسلام نے عورتوں اور مردوں کو ایک جیسے حقوق دیے ہیں،مگر عورتوں کی کم علمی بے کسی اور مظلومیت سے مردوں نے ناجائز فائدے اٹھائے ہیں۔آپ کو اپنے حقوق کے حصول کے لیے خود ہی کوششیں کرنی پڑیں گی،اور اگر آپ میں سے کوئی اس خدمت کے لیے تیار ہو تو میں ان کی ہرقسم مدد کرنے کے لیے کمربستہ ہوں۔تاہم یہ یاد رکھیں کہ کوئی بھی دوسرے کے پاوں پر کھڑا نہیں ہوسکتا اور نہ ہی کچھ کرسکتاہے،جو کچھ بھی کرنا ہے تو آپ خود ہی کروگے ۔دنیا میں ایسا کوئی کام نہیں جسے انسان چاہے اور وہ ہونا پائے ہمت،جرات اور کمرباندھنے کی ضرورت ہے۔

میں اپنی قوم کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے لڑکوں سے زیادہ ضروری ہماری بیٹیوں کی تعلیم ہے،کیوں کہ بچے کی تربیت اور مدرسہ ماں کی گود ہے۔ میں اپنی قوم کے مشران سے اپیل کرتا ہوں کہ عورتوں کی حالت پر بھی رحم اور توجہ دیں انہیں اس پستی سے نکلنا چاہیئے،کیوں کہ ان کی پستی ہماری پستی ہے‘‘۔کہنے کا اصل مدعا یہ ہے کہ باچاخان بابا نے اس وقت بھی یہ ضرورت شدت کیساتھ محسوس کی تھی کہ پختون عورتوں کو معاشرے کا فعال اور متحرک حصہ بنایا جائے تاکہ معاشی اور معاشرتی ترقی کے تمام عوامل اپنی قوت کے ساتھ تعمیر و تہذیب میں شامل کیے جا سکیں۔لہذا حالات چاہے کچھ بھی ہوں تاہم ہمیں اپنے معاشرے کے آدھے جیتے جاگتے حصے کو بے خبر اور جاہل نہیں رکھنا چاہئے ۔اگرچہ یہ صورت حال ابھی تک واضح نہیں کہ عورتوں کو معاشرے کا ایک فعال اور مساوی طور پر متحرک فرد بنانے کے لیے اسے کن خطوط پر تعلیم دی جائے۔ معاشرے کی تعمیر اور ترقی میں عورتوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کا شعور بھی موجود ہے۔ لیکن اس کو عملی طور مفید ثابت کرنے کے لیے معاشرتی منشاء کی ضرورت ہے، معاشرہ فرد کو کس منصب پر دیکھنا چاہتا ہے اور اس سے کس طرح کے فرائض کی توقع کرتا ہے؟ یہ معروضی زاویہ نظر ابھی تک تعلیم کے اصول اور حصول پر اثر انداز نہیں ہو سکا ہے۔
عورتوں کی تعلیم، اس کے مناسبات اور متعلقات کا جائزہ لینے کے لیے اس ماحول پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہو جاتا ہے کیوں کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ ماحول فکر کا حصہ رہا ہے اور اسی سے معاشرتی منشاء کی ساخت و پرواخت ہوتی رہی ہے۔ یہ تصور تو ہمارے عام یقین کا حصہ ہے کہ عورتیں مردوں کے مقابلے میں کمزور ہیں اور اس لیے وہ مردوں کے مقابلے میں کم تر بھی ہیں ان کی پرورش اور تربیت کی ذمہ داریاں انہیں ایثار اور قربانی ہی سکھاتی ہیں۔ اسی لئے عورت کا منصب گھر اور اس کے مناسبات سے متعین کر دیا گیا اس کا فرض خدمت اور اطاعت ٹھہرا، جب کہ مردوں کے لیے خدمت کروانا اور اطاعت گزار رکھنا مخصوص سمجھا جانے لگا۔ زندگی شراکت کا نام ہے لیکن یہاں شراکت کی بجائے الگ الگ دائرہ کار مصروف رہنا زندگی کی تعبیر کر دیا گیا ایک طرف نسوانیت آئیڈیل ٹھہرائی گئی لیکن دوسری طرف معاشرے کی بہت سی سطحوں پر انسانیت کا حق بھی اسے نہیں دیا گیا، وہ حق جو اسے مذہب اور اخلاق کے حوالے سے پیدائشی طور پر میسر ہے، بقول ہمارے قوم پرست شاعر روخان یوسفزئی کہ
خزہ د ھر سڑی د ژوند حصہ دہ
خو پہ میراث کے ئے حصہ نشتہ دے
آبادی کے اس تشویش ناک اضافہ پر قابو پانے کے لیے عورت کے شعور کو بیدار کرنا اور اس کو اپنی معاشی اور معاشرتی ضرورتوں سے آگاہ کرنا صرف تعلیم ہی کے ذریعہ ممکن ہے۔ جب تک تعلیم اسے یہ اطلاع اور اعتماد مہیا نہ کرے کہ معاشرے میں اس کے منصب کا اعتبار اس کے متحرک، فعال، حساس اور باخبر فرد ہونے پر ہے اس وقت تک وہ اپنی شخصیت کو ان ہی روایتی تصورات کے حوالے سے پہچانتی رہے گی جو معاشرتی کلچر اور روایات میں حکم کا درجہ پا چکے ہیں، تھوڑی دیر کو اگر خود کو یوں فریب دے دیا جائے کہ زندگی کے مسئلوں کو سلجھانے اور معاشرتی منشاء میں صحت مند تبدیلی لانے کے لیے عورت کی شرکت ہر گز ضروری نہیں ہے تو کیا آبادی کے اضافہ کے سوال پر بھی ہم یہ فرض کر سکتے ہیں کہ عورت کو وقت کی مناسبت اور حالات کی مطابقت سے تعلیم دیئے بغیر ہم افلاس،انتہاپسندی،شدت پسندی،دہشت گردی اور بے چارگی سے اپنے آپ کو قومی اور اجتماعی طور پر محفوظ رکھ سکیں گے؟

مادری زبانوں کے عالمی دن کے حوالے سے روخان یوسفزئی کی خصوصی تحریر

 Latest  Comments Off on مادری زبانوں کے عالمی دن کے حوالے سے روخان یوسفزئی کی خصوصی تحریر
Feb 212016
 

مادری زبانوں کے عالمی دن کے حوالے سے روخان یوسفزئی کی خصوصی تحریرMotherDay1

ہم آج ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں علوم و فنون اور تہذیب و ثقافت کا بیش بہا اور گراں قدر سرمایہ موجود ہے مگر جس طرح کہا جاتا ہے کہ اصل ہنر یہ نہیں کہ آپ ڈھیر ساری دولت پیدا کریں بل کہ یہ ہے کہ اس دولت کی حفاظت ، اس میں اضافہ اور پھر اسے اچھے مقاصد کے لیے استعمال کرنا سب سے بڑا کمال ہے،آج قوموں کی ترقی کا پیمانہ اوراشاریہ تبدیل ہوچکا ہے کسی قوم کی ترقی اب اس بات میں مضمرہے کہ وہ عالمی تہذیب وثقافت میں کس قدراضافہ کرتی ہے، ہمارے ہاں تہذیب، ثقافت اور تاریخی نوادرات کے ہزاروں لاکھوں قیمتی نمونے ہیں مگر بدقسمتی کہیے یا ہماری غفلت اورجہالت کہ ہم اپنے اس ورثے کو آنے والی نسلوں کو اس طرح منتقل نہیں کر پا رہے ہیں جیسا کہ دنیا کی دیگر اقوام کر رہی ہیں ہم وہ لوگ ہیں کہ اپنے ان قیمتی نوادرات کو اپنے ہاتھوں تباہ و برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں، کچھ ہمارا اپنا قصور اور کچھ ملک کی زمام حکومت عموماً ان لوگوں کے ہاتھ میں چلی آرہی ہے جو نہ صرف اپنے ماضی اور تاریخ سے بے خبر ہیں بل کہ انہیں اپنی ہر روایت اور قدر سے فرسودگی اور ماضی پرستی کی بو آتی ہے جس کے باعث انہیں اپنی روایات اور اپنے تاریخی ورثے کی قدر و قیمت کا احساس ہے اور نہ ہی وہ اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ خود ہی اپنے ہاتھوں کس گنج بے بہا کو برباد کر رہے ہیں ،،ہم دیکھ رہے ہیں کہ دور جدید کے لوگوں کا رویہ اپنے ماضی کے بارے میں ہتک آمیز اور نفرت آمیز ہوتا جارہا ہے نئی نسل اپنے حال کو تو بڑے احترام کی نظر سے دیکھتی ہے مگر اپنے ماضی کو اپنے آباؤ اجداد کی جہالت اور ناسمجھی کا نام دیتی ہے اور یہ بھول جاتی ہے کہ جو قوم اپنے ماضی پر سنگ زنی کرتی ہے حال اسے تمانچے سے مار دیتا ہے۔

اس سلسلے میں زبان کا مسئلہ جوپوری دنیا میں ایک علمی مسئلہ سمجھاجاتا ہے مگرہمارے ہاں اس علمی مسئلے کوبھی چند’’یارلوگ‘‘سیاسی رنگ دینے میں لگے ہوئے ہیں اوراپنے ذاتی مفادات کے حصول کی خاطراجتماعی مفادات کوپس پشت ڈالنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں2009ء میں جب خیبرپختون خواکے سینئروزیرشہید بشیراحمدبلور نے اسمبلی کے فلورپراردوزبان کوقومی نہیں بل کہ رابطے کی زبان کہا،تو ان کی اس تلخ حقیقت کے خلاف کئی’’یارلوگوں‘‘ نے آسمان سرپراٹھالیا تھا اوراس سلسلے میں اردوکی حمایت سے زیادہ اپنی ذاتی مخالفت اورسیاسی عنادپراترآئیں اوروہ بھی کچھ اس اندازمیں کہ شہید بشیراحمد بلورسے سرعام کوئی بہت بڑا گناہ سرزد ہوا ہو، اگراردو کورابطے کی زبان کے نام سے موسوم کرناواقعی گناہ کبیرہ ہے توشہیدبشیربلورسے پہلے یہ گناہ ملک کے کئی نامی گرامی قوم پرست، ترقی پسند سیاست دان،ادیب،ماہرلسانیات اوردانشور بارہا کرچکے ہیں اوروہ بھی صرف زبانی طورپرنہیں بل کہ تقریری اور تحریری طورپر جس کا ریکارڈ اورثبوت مختلف کتابوں،رسائل اوراخبارات کی شکل میں اب بھی وافرمقدارمیں موجود ہے، مگرکسی کی بات کو رد وقبول کرنا اوراپنی بات کوسچ ثابت کرنے کا اصل طریقہ دلائل وبراہین ہیں، جوکہ بحث مباحثے اورعلمی موضوعات کا ایک علمی اوردانشورانہ طریقہ ہے کسی پر اپنی مرضی کا ’’لیبل‘‘ چسپاں کرنامعلومات کی کمی اور علم کی کم زوری کی دلیل ہوتی ہے، اس میں شک نہیں کہ اردوایک بڑی اوروسیع زبان ہے جوکئی زبانوں کے الفاظ کے اشتراک سے وجودمیں آئی ہے اور اپنی کم عمری کے باوجود اس نے بہت زیادہ ترقی کی ہے کیوں کہ اسے دیگرزبانوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ سرکاری توجہ اورسرپرستی حاصل رہی اس کے برعکس یہاں بولی جانے والی ہزاروں سالہ قدیم مادری زبانوں کے ساتھ ہمیشہ غیرمساوی اورغیرامتیازی سلوک روا رکھا گیا،نام کی حدتک تواردوکوقومی زبان کہاجاتا ہے مگر جب بات کام کی آتی ہے توپھر’’اللہ اللہ خیرسلا‘‘۔

ہمیں ماہرین علم بشریات کی اس تاریخی حقیقت کو بھی مدنظررکھنا ہوگا کہ کسی زبان کوایک قوم کی زبان قراردینے سے پہلے ہمیں قوم کی تعریف اورتعارفMotherTongueDay واضح کرنا چاہیئے کیوں کہ قوم کے بغیرزبان،ثقافت اورتاریخ کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتااورقوم کی مختصرتعریف یہ بتائی جاتی ہے کہ اس کا ایک مشترکہ زبان، تاریخ ،ثقافت،زمین اورمشترکہ قومی کردار اور نفسیات ہو،اگرہم اس تعریف کی روشنی میں ملک میں بولی جانے والی زبانوں کا جائزہ لیں توبات واضح ہوجائے گی کہ کون،کون سی زبانیں قومی زبانوں کی تعریف پرپوری اترتی ہیں؟مانا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے اردوکوقومی زبان کا درجہ دینا اوریہاں بسنے والے کوایک قوم کا نام دیا تھا اورساتھ یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان ایک جمہوری،فلاحی مملکت ہوگی اوریہاں بسنے والی تمام قومیتوں اوراقلیتوں کومساوی حقوق دیے جائیں گے اورکسی بھی قوم یا زبان کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیاجائے گا مگر ان کی وفات کے بعد اس ملک کے نقشے کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟ ہم بڑے فخر کے ساتھ’’ پاکستانی قوم‘‘ اور’’پاکستانی کلچر‘‘کے ناموں کی گردان کرتے رہتے ہیں، مگراس تلخ تاریخی حقیقت کونظراندازکررکھا ہے کہ مشرقی پاکستان ہم سے کس بات پر الگ ہوگیا؟ کیا ہم آج اس ملک کوقائداعظم کا بنایا ہوا ’’مکمل پاکستان‘‘ کانام دے سکتے ہیں؟ کیا بانی پاکستان کی ان باتوں کوہمارے کسی حکم ران نے اب تک عملی جامہ پہنانے کی مخلصانہ کوشش کی ہے؟ ہم اس حقیقت سے بھی انکارنہیں کرسکتے، کہ 73کے متفقہ آئین میں اردوکوقومی زبان کا درجہ دینے کی شق شامل ہے اورساتھ یہ بھی درج ہے کہ پندرہ سال بعداردوہماری سرکاری اوردفتری زبان ہوگی مگراتنے سال گزرنے کے باوجودآئین کی اس شق پر کس نے کتنا عمل کیا اوراس آئین کے ساتھ کیسا سلوک کیا گیا؟اس کے علاوہ اسی آئین میں صوبائی خودمحتاری کی شق بھی شامل ہے اورساتھ صوبوں کواس بات کا اختیاربھی دیا گیا ہے کہ وہ اگرچاہے تواپنے اپنے صوبے میں اپنی مادری زبان کو سرکاری اورتعلیمی زبان کادرجہ بھی دے سکتے ہیں،توکیاآئین کی اس شق پرابھی تک کوئی عمل درآمدہوا ہے؟ اوراگرکوئی صوبہ اسے عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرتا ہے تواس کے خلاف مخالفت کا طوفان کیوں کھڑا کیاجاتا ہے ؟اس بارے میں ہمارے ’’عاشقان زبان‘‘ نے کیوں چپ سادھ لی ہے؟ اگراردوکوواقعی اس ملک کی بڑی زبان کا درجہ دینا ہوتوسب سے پہلے ہمیں یہاں بسنے والی تمام قومیتوں کومساوی حقوق دینے ہوں گے،ان کی زبانوں اورثقافتوں کوپروان چڑھانا ہوگا ان کی معاشی،قومی،لسانی اورثقافتی احساس محرومیوں کا خاتمہ کرنا ہوگا ان کی ماں بولیوں کواوران کی ثقافت کوصدق دل سے اپنانا ہوگا۔

زبان چاہے کوئی بھی ہو اسے تقدس کی نگاہ سے دیکھنا ہوگا،کیوں کہ ہرانسان کواپنی زبان پیاری ہوتی ہے زبان کے مسئلے پرہمیں تعصب اورنفرت کا رویہ ترک کرنا ہوگا تب ہم ایک پاکستانی قوم اورپاکستانی کلچرکا دعویٰ کرسکیں گے،پاکستان میں بولی جانے والی تمام بڑی زبانیں قومی اور پاکستانی زبانیں ہیں اوریہاں جتنی بھی ثقافتیں پائی جاتی ہیں انہی کی ملاپ اوراشتراک سے پاکستانی کلچرعبارت ہے اس لیے ہمیں ان زبانوں اورثقافتوں کی ترقی اورترویج کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھانے ہوں گے ان زبانوں کو ذریعہ معاش کی زبانوں کا درجہ دینا ہوگا تب رابطے کی زبان اردوترقی کرے گی ،اس کے ساتھ لوگوں کا پیاربڑے گا،تب کہیں جاکرہم ایک پاکستانی قوم،پاکستانی کلچر کی شکل میں دنیا کے سامنے سرخروکھڑے ہوسکتے ہیں،عوامی نیشنل پارٹی اردوکورابطے کی زبان اس وجہ سے نہیں کہتی کہ وہ اس زبان سے تعصب برتتی ہے یا اس کے احترام اورتقدس سے منکرہے ، البتہ اردوکورابطے کی زبان کانام دے کر اے این پی اس حقیقت کا پردہ چاک کررہی ہے کہ؟ ہم اب تک ایک قوم کیوں نہیں بن سکیں ؟ ہمیں وہ تاریخی اور سیاسی اسباب ووجوہات تلاش کرنا ہوں گی، پاکستان دنیا کا واحدملک ہے جہاں صرف آئین میں لکھنے کی حد تک یہاں کی زبانوں اور ثقافتوں کویکساں ترقی دینے کی شق شامل ہے مگر عملاً ہر حکومت اس کے خلاف اقدامات اٹھاتی رہی،یعنی
ہیں کواکب کچھ نظرآتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ یہ بازیگرکھلا