Charwak

ANP Set-up in UAE

 ANP OverSeas  Comments Off on ANP Set-up in UAE
Nov 112016
 

UAE Central Cabinet

Abdullah Khan Utmankhel
+971-50-6449011
President

Malak Rahman Bangash
+971-55-3228181
Chairman

Muhammad Uaman Khattak
General Secretary

Fazal Ghaffar Khan
+971-50-6541268
S.V. President

Kalil ur Rahman Bunneri
Vice President(1)

Nizar Ali Khan Yousafzai
+971-50-5371272
Vice President(2)

Haji Ghareeb Gul
+971-55-4948822
Vice President(3)

Hakeem Khan Bangash
+971-55-6240060
Vice President(4)

Nasib Ur Rehman Toor Ghar
Joint Secretary(1)

Naqibullah Khawreen
Joint Secretary(2)

Fazal Raziq Jadoon
+971-50-6503093
Joint Secretary(3)

Zareen Zada Esapzai
+971-50-5942423
Joint Secretary(4)

Al Ain Unit President
Vice President (5)

Jamil Iqbal Khan
Culture Secretary

Masood Khan Khattak
Finance Secretary

Mian Atif
Information Secretary

 

Dubai Cabinet

Haji Ghareeb Gul
+971-55-4948822
President

Fazal Raziq Jadoon
+971-50-6503093
General Secretary

Izat Mohammed Khan
+971-50-5031600
Vice President

Mohd Shoaib Khpalwak
+971-50-4508394
S.V. President

Afsar Said Yousafzai
+971-50-5751995
Vice President

Asmat Ullah Khan
+971-55-3232441
Vice President

Ismail Utmankhel
+971-50-4765232
Joint Secretary

Fazal Hadi
+971-563638111
Vice President

Shahab Ahmed Afghan
+971-56-1720499
Information Secretary

Haji Munawar Shah
Religious Secretary

Waqas Ahmed Khan
Membership Secretary

Zahir Bahader Khan
+971-50-6780892
Finance Secretary

Sharjah Ajmaan Cabinet

Nizar Ali Khan Yousafzai
+971-50-5371272
President

Javed Iqbal Khan
S.V. President

Zareen Zada Esapzai
+971-50-5942423
General Secretary

Bakht Zameen Khan
Deputy Secretary General

Muhtaram Shah
Vice President

Eng Asfandiar Khan
Vice President

Umair Khan Yousafzai
Information Secretary

Arif Afghan
Finance Secretary

Noor Hameed Gul Utmankhel
Culture Secretary

Haider Khan
Deputy Finance Secretary

Abu Dhabi Cabinet

Yousaf Khan Orakzai
+971-50-1773411
Chairman

Noor Wahid
+971-50-3519947
Deputy Chairman

Hakeem Khan Bangash
+971-55-56240060
President

General Secretary
Shah –e- Rom
+971-50-6677514

S.V Persident
Sharifullah Khattak
+971-50-5842126

Voice president-1
Faiz Muhammad
+971-55-8786286

Voice president-2
Shoaib Khan
+971-52-8755306

Voice president-3
Muhammad Ayaz Wazir
+971-55-4082180

Deputy Gen. Secretary (1)
Afsar Khan Yousafzai
+971-56-4089650

Deputy Gen. Secretary (2)
Nisar Khan
+971-50-4401691

Joint Secretary
Bacha
+971-50-8081400

Finance Secretary
Inayat Ullah
+971-55-2590913

Deputy Finance Secretary
Naeem Adam Khan
+971-50-3830705

Public Relation Secretary
Ishaq Khan
+971-4152829

Culture Secretary
Jan Muhammad
+971-50-7841662

Deputy Culture Secretary
Naveed Khan
+971-52-2655041

Salar 1
Raza Khan
+971-50-8342796

Salar 2
Muhammad Abbas Khan
+971-55-5212982

 

Eastern & Fajita Unit

President: Syed Adil Shah Bacha

Chairman: Haji Afsar Said

Senior vice president: Dr. Abdul Kabeer

Vice President: Alamgir Ali

Gen. Sec: Syed Suhail Afsar

Deputy Gen.Sec. Gul Mohammad

Joint Sec. Hameed Jan Aurakzai

Sec. Info: Anwarul Haq

Education Sec. Muzamil Shah

Sports: Masoom Shah

Finance Sec. Mujeebur Rahman

Sec. Culture: Malak Hidayatullah

Chaman Khan

Enj. Fazal Hameed

لوڈشیڈنگ سے عوام کرب میں مبتلا ہیں ،حکمرانو ں نے چپ سادھ رکھی ہے

 July-2016  Comments Off on لوڈشیڈنگ سے عوام کرب میں مبتلا ہیں ،حکمرانو ں نے چپ سادھ رکھی ہے
Jul 132016
 

لوڈشیڈنگ سے عوام کرب میں مبتلا ہیں ،حکمرانو ں نے چپ سادھ رکھی ہے ،سردار حسین بابک
اے این پی دور میں شروع کئے گئے منصوبوں کی تکمیل کے بغیر لوڈ شیڈنگ سے چھٹکارا کسی صورت ممکن نہیں
مرکزی حکومت روزانہ 10ہزار میگا واٹ بجلی سٹم میں لانے کا دعوی کرتے نہیں تھکتی ،
سی پیک میں بجلی کیلئے مختص 35ارب ڈالر سے پختونخوا میں پانی سے بجلی پیدا کر کے لوڈ شیڈنگ سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے شدید گرمی میں بجلی کی ظالمانہ اور نا روا لوڈ شیڈنگ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شدید گرمی میں بد ترین لوڈ شیڈنگ نے عوام کو ذہنی مریض بنا دیا ہے جبکہ مرکزی حکومت روزانہ 10ہزار میگا واٹ بجلی سٹم میں لانے کا دعوی کرتے نہیں تھکتی،اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت زبانی طور پر نئے ڈیمز تعمیر کرنے میں لگی ہے تاہم اگر اے این پی دور کے منصوبوں پر کام مکمل کیا جائے تو لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ ہمیشہ کیلئے حل کیا جا سکتا ہے،انہوں نے کہا کہ دونوں حکومتیں عوام کے ساتھ مذاق کرنے میں مصروف ہیں اور انہیں عوامی مسائل سے کوئی سروکار نہیں ہے ، انہوں نے کہا کہ اگر حکمران سنجیدہ ہوتے اور بجلی بحران پر قابو پانے کیلئے عملی اقدامات کئے جاتے تو سی پیک منصوبے میں 35ارب ڈالر کی خطیر رقم پانی سے سستی اور فوری بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر کام شروع ہو جانا چاہئے تھا،انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں بجلی منصوبوں کیلئے 385ارب روپے رکھے گئے ہیں تاہم خیبر پختونخوا اور فاٹا کو اس میں یکسر نظر انداز کیا گیا ہے،اور یہاں کوئی منصوبہ شامل نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ ملک میں بجلی بحران اور مہنگی بجلی نے ہمارے کاروبار زندگی اور معیشت کو کمزور کر دیا ہے،لیکن حکمران اپنے سیاسی و ذاتی مقاصد کیلئے سرگرم ہیں اور مفاد عامہ و ملکی مفاد کو ظاطر میں نہیں لاتے، صوبائی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ سی پیک منصوبے میں بجلی منصوبوں کیلئے مختص 35ارب ڈالرز کوئلے کی بجائے پانی سے بجلی پیدا کرنے پر لگائی جائے تو اس سے سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے اور عوام کو سستی بجلی فراہم کرنے میں مدد ملے گی،اور اس کے ساتھ ساتھ نئے کارخانے لگائے جا سکتے ہیں جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہو نگے اور معیشت بھی مضبوط ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بجلی کی طلب میں اضافہ اور پیداور میں کمی کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ مرکزی و صوبائی حکومت مل کر اے این پی دور حکومت کے شروع کردہ منصوبوں کی تکمیل یقینی بنائیں اور دونوں کو اس سلسلے میں عملی اقدامات اٹھانے چاہئیں،انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ 35ارب ڈالر کی خطیر رقم سے کوئلہ خرید کر پنجاب میں بجلی پیدا کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے تاہم خیبر پختونخوا کے قدرتی ذرائع سے سستی اور فوری بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ۔

اے این پی کے زیر اہتمام کسٹم ایکٹ کے خلاف آل پارٹیز کانفرنس ، ایکشن کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا

 July-2016  Comments Off on اے این پی کے زیر اہتمام کسٹم ایکٹ کے خلاف آل پارٹیز کانفرنس ، ایکشن کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا
Jul 122016
 

مورخہ : 12.7.2016 بروز منگل

 اے این پی کے زیر اہتمام کسٹم ایکٹ کے خلاف آل پارٹیز کانفرنس ، ایکشن کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔
وفاقی اور صوبائی حکومتیں ٹرخانے اور دروغ گوئی کے روریے پر گامزن ہیں۔
کسٹم ایکٹ کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ واپس نہیں لیا گیا تو احتجاجی تحریک چلائی جائیگی۔ مقررین کا خطاب

پشاور ( پر یس ریلیز) ملاکنڈ ڈویژن اور کوہستان سے تعلق رکھنے والے مختلف سیاسی ، مذہبی ، سماجی حلقوں اور منتخب ممبران اسمبلی ، ناظمین نے ملاکنڈ ڈویژن میں اعلان کردہ کسٹم ایکٹ کو ایک بار پھر مسترد کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ عوام کو ٹرخانے کی بجائے یہ ظالمانہ فیصلہ واپس لیا جائے اور اگر ایسا نہیں کیا گیا تو اس کے خلاف سیاسی ، عوامی اور سماجی سطح پر احتجاجی تحریک چلائی جائے گی اور نتائج کی ذمہ داری دونوں حکومتوں پر عائد ہوگی۔
یہ فیصلہ چکدرہ میں عوامی نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس کے دوران کیا گیا جس میں منتخب نمائندوں ، ناظمین ، سابق وزراء ، ممبران اسمبلی ، مختلف سیاسی ، مذہبی اور سماجی عہدیداران اور عوامی حلقوں نے بھر پور شرکت کی اور کسٹم ایکٹ کو کلی طور پر مسترد کرتے ہوئے مشترکہ موقف اپنایا گیا کہ اگر حکومتوں نے یہ فیصلہ واپس نہیں لیا تو سیاسی وابستگی سے بالا تر ہو کر عوامی تحریک چلائی جائے گی۔
جن قابل ذکر رہنماؤں نے کانفرنس سے خطاب کیا اُن میں اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک ، حسین شاہ یوسفزئی ، واجد علی خان ، جے یو آئی کے مولانا گل نصیب ، رکن قومی اسمبلی جنید اکبر خان (پی ٹی آئی)، پیپلز پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری ہمایون خان ، قومی وطن پارٹی کے فضل الرحمان خان نونو اور متعدد دیگر شامل تھے۔
مقررین نے الزام لگایا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں کسٹم ایکٹ کی واپسی کے معاملے میں دروغ گوئی اور غلط بیانی سے کام لیتی آ رہی ہیں اور دونوں عوام کو ٹرخانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور عمران خان دونوں اعلان کر چکے ہیں کہ کسٹم ایکٹ کا ظالمانہ اور ناقابل قبول فیصلہ واپس لیا جائے گا اور علاقے کے عوام کی رائے اور مطالبے کا احترام کیا جائیگا مگر کئی ماہ گزرنے کے باوجود یہ فیصلہ واپس نہیں لیا گیا جس کے باعث عوام کا نہ صرف یہ کہ دونوں حکومتوں پر اعتماد اُٹھ چکا ہے بلکہ ان کو مزاحمت پر مجبور بھی کیا جا رہا ہے۔ سیاسی قائدین نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر عوام کو اعتماد میں لیتے ہوئے اپنی پوزیشن واضح کرے ورنہ عوام ان کے محاسبے پر مجبور ہوں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ علاقے کی تمام سیاسی ،مذہبی اور سماجی تنظیمیں اس معاملے پر متحد ہیں اور اگر حکمران ٹرخانے اور دروغ گوئی پر گامزن رہے تو بہت جلد عوامی سطح پر احتجاجی تحریک کا آغاز ہوگا اور اس کے جو بھی نتائج برآمد ہوں گے اس کی ذمہ داری دونوں حکومتوں پر عائد ہوگی۔
کانفرنس میں تمام سیاسی جماعتوں اور سماجی تنظیموں پر مشتمل ایک ایکشن کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے ارکان وزیر اعظم ، وزیر اعلیٰ اور دیگر متعلقہ حکام سے ملاقاتیں کر کے ان کو عوامی مطالبے اور تحفظات سے آگاہ کریں گے اور اگر فیصلہ واپس نہیں لیا گیا تو احتجاجی تحریک کی کال دی جائے گی۔

کسٹم ایکٹ کے خلاف اے این پی کی آل پارٹیز کانفرنس آج ہو گی

 July-2016  Comments Off on کسٹم ایکٹ کے خلاف اے این پی کی آل پارٹیز کانفرنس آج ہو گی
Jul 112016
 

مورخہ 11جولائی 2016ء بروز پیر

کسٹم ایکٹ کے خلاف اے این پی کی آل پارٹیز کانفرنس آج ہو گی
احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کر دیا جائے گا،اور حکومت کو فیصلہ واپس لینے پر مجبور کیا جائے گا
ملاکنڈ ڈویژن اور کوہستان کے عوام کی قربانیوں کو یکسر فراموش کر دیا گیا ہے۔
مرکزی و صوبائی حکومتیں اب ملاکنڈ ڈویژن اور کوہستان کے عوام کو مزید بے وقوف نہیں بنا سکتیں
ملاکنڈ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے ممبران اسمبلی عوام کے جائز حقوق کے تحفظ کیلئے اے این پی کا ساتھ دیں

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن اور کوہستان میں کسٹم ایکٹ کے فیصلے کی واپسی تک اے این پی احتجاج جاری رکھے گی ، اور مرکزی و صوبائی حکومتوں میں شامل ملاکنڈ ڈویژن کی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے ارکان اپنے علاقے کے عوام کو مزید بے وقوف بنانے کی بجائے ان کے حقوق کے تحفظ کیلئے اے این پی کا ساتھ دیں ، باچا خان مرکز میں مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کسٹم ایکٹ کے خلاف اے این پی نے فشنگ ہٹ چکدرہ میں اے پی سی طلب کی ہے جس میں ضلع ناظمین ، تحصیل ناظمین ،تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کے ضلعی صدور و جنرل سیکرتریز ، تاجر برادری ، کنٹریکٹرز ، سول سوسائٹی صحافتی تنظیموں ، وکلاء اور ڈاکٹر برادری کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے ، انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن اور کوہستان کے عوام سراپا احتجاج ہیں جبکہ مرکزی و صوبائی حکومتیں ایک دوسرے کو مورو الزام ٹہرا کر عوام کو بے وقوف بنا رہی ہیں اور اس مسئلے کے حل کی یقین دہانی نہ مرکزی اور نہ ہی صوبائی حکومت کرا رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی سمجھتی ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن اور کوہستان کے عوام کی قربانیوں کو یکسر فراموش کر دیا گیا ہے ،انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات کے شکار ملاکنڈ ڈویژن اور کوہستان کے عوام مرکزی و صوبائی حکومتوں کے اس گٹھ جوڑ کے خلاف مکمل متفق اور متحد ہیں ،صوبائی جنرل سیکرٹری نے ملاکنڈ ڈویژن اور کوہستان کی پارٹی تنظیموں کو ہدایت کی کہ آج کی اے پی سی کے بعد کسٹم ایکٹ کے خلاف ہر علاقے میں اپنا احتجاج جاری رکھیں ،انہوں نے کہا کہ مرکزی و صوبائی حکومتیں اب ملاکنڈ ڈویژن اور کوہستان کے عوام کو مزید بے وقوف نہیں بنا سکتیں اور اے این پی کا احتجاج کسٹم ایکٹ کے فیصلے کی واپسی تک جاری رہیگا ،انہوں نے کہا کہ اس مقصد کیلئے پہلے ہی سے تمام مکتبہ فکر کے لوگوں کے ساتھ اے این پی رابطے میں ہے، انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے ممبران اسمبلی اخباری بیانات کے ذریعے عوام سے جان چھڑانے کی بجائے ان کے جائز حقوق کے تحفظ کیلئے اے این پی کا ساتھ دیں۔

عوام2018کے الیکشن میں پی ٹی آئی اور ان کے اتحادیوں کا بستر گول کر دیں گے

 July-2016  Comments Off on عوام2018کے الیکشن میں پی ٹی آئی اور ان کے اتحادیوں کا بستر گول کر دیں گے
Jul 112016
 

مورخہ11جولائی2016ء بروز پیر

عوام2018کے الیکشن میں پی ٹی آئی اور ان کے اتحادیوں کا بستر گول کر دیں گے، میاں افتخار حسین
مرکزی اورصوبائی حکومت نہ جانے پختونوں کو کس جرم کی سزا دے رہی ہیں،
مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کا خیبرپختون خوا کے غریب عوام کے مسائل سے کوئی سرورکار نہیں
تبدیلی والوں کے دور میں ترقی کا پہیہ رک گیاہے اورتین سال گزرنے کے باوجود کوئی نیا منصوبہ شروع نہیں کیاگیا
عوام جان چکے ہیں کہ تبدیلی کے نام پر ان کے ساتھ مذاق اور دھوکہ کیا جا چکا ہے، صالح خانہ میں شمولیتی تقریب سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ صوبے کے عوام جان چکے ہیں کہ تبدیلی کے نام پر ان کے ساتھ مذاق اور دھوکہ کیا جا چکا ہے اورصوبائی حکومت کو پشتونوں کے مسائل کے حل اور ان کی نمائندگی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے صالح خانہ چھپری نوشہرہ میں ایک شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پرانور بیگ خان نے اپنے دیگر ساتھیوں اور خاندان اور رشتہ داروں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کر دیا ،میاں افتخار حسین نے پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارکباد دیتے ہوئے اپنے خطاب میں مزیدکہا کہ 2018 کا الیکشن پی ٹی آئی اور ان کے حکومتی اتحادیوں کے عوامی محاسبے کا سال ثابت ہو گا اور صوبے کے نوجوان اور عوام تبدیلی کے دعویداروں کو بنی گالہ تک محدود کر کے دم لیں گے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی اورصوبائی حکومت نہ جانے پختونوں کو کس جرم کی سزا دے رہی ہیں تبدیلی کے دعویداروں نے روزگار کے متلاشی نوجوانوں کو تین سال بعد چوہے مارنے پر لگادیاہے اگر یہ تبدیلی ہے تو ایسی تبدیلی کو پختون نہیں مانتے اور 2018ء وعدوں کو ایفا نہ کرنے والوں کا خیبرپختون خوا سے بوریابستر گول کردیں گے، انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کا خیبرپختون خوا کے غریب عوام کے مسائل سے کوئی سرورکار نہیں اور مسلسل پختونوں کو نظر انداز کرنے کی پالیسی اختیارکررکھی ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ سب کچھ اس لئے کیاجارہاہے کہ یہ دونوں جماعتیں پختون دھرتی کو اپنے گھر نہیں مانتے بلکہ وہ کرایہ دار ہیں اورکرایہ داروں کو پرائے گھر کی فکر نہیں ہوتی یہ ہماری دھرتی ہے اور اس کی خدمت ہم کریں گے،انہوں نے کہاکہ اے این پی کے دور حکومت میں ہرطرف ترقی کا دوردورہ تھا تبدیلی والوں کے دور میں ترقی کا پہیہ رک گیاہے اورتین سال گزرنے کے باوجود کوئی نیا منصوبہ شروع نہیں کیاگیا بلکہ ہمارے ترقیاتی منصوبوں پر اپنے نام کی تختیاں لگارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ عوام اپنے ساتھ کی جانے والی زیادتیوں کا بدلہ چکا دیں اور آنے والے الیکشن میں طالبان کے حمایتیوں کو بری طرح مسترد کر دیں گے۔

سیاحوں کی مشکلات دور کرنے کے وعدے ایفا نہ ہو سکے، ہارون بشیر بلور

 July-2016  Comments Off on سیاحوں کی مشکلات دور کرنے کے وعدے ایفا نہ ہو سکے، ہارون بشیر بلور
Jul 112016
 

مورخہ : 11.7.2016 بروز پیر

سیاحوں کی مشکلات دور کرنے کے وعدے ایفا نہ ہو سکے، ہارون بشیر بلور
عید الفطر کے موقع پر تفریح کیلئے جانے والے سینکڑوں سیاح پانی اور پٹرول جیسی ضروریات سے محروم رہے ۔
ٹریفک بندش کے باعث گھنٹوں روڈ بلاک رہے تاہم ایسے موقع پر انتظامیہ کہیں نظر نہیں آئی۔

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان ہارون بشیر بلور نے عید الفطر کے موقع پر سوات سمیت دیگر علاقوں کو جانے والے سیاحوں کو درپیش شدید مشکلات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ سال بھی اس سلسلے میں صوبائی حکومت کی طرف سے کئے جانے والے وعدے پھر ایفا نہیں ہو سکے ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ عید الفطر کے موقع پرسوات بحرین اور کالام میں تفریح کیلئے جانے والے سینکڑوں سیاح وہاں پانی اور پٹرول جیسی ضروریات سے محروم رہے جس کی وجہ سے لاکھوں کی تعداد میں شہری متاثر ہوئے جبکہ چیئر لفٹ کی خرابی کے باعث کئی جانیں بھی ضائع ہوئیں،انہوں نے کہا کہ ٹریفک کی روانی کا کوئی مناسب انتظام نہیں تھا جس کی وجہ سے کئی کئی گھنٹوں ٹریفک بلاک رہی تاہم اس موقع پر انتظامیہ غائب رہی، جبکہ اعلیٰ افسران کے فون بھی بند ہیں۔ اُنہوں نے کہا اے این پی کے صوبائی ترجمان نے کہا کہ وہاں پر پھنسے سیاحوں کو اشیائے خوردونوش مہنگے داموں خریدنا پڑ رہی ہیں جبکہ ہوٹلوں کے کرائے بھی آسمان سے باتیں کر رہے ہیں اور اکثر ہوٹلوں میں کمرے فل ہوجانے سے بیشتر سیاح فٹ پاتھوں پر راتیں گزارنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی تین سالہ ناقص کارکردگی سے صوبے کے عوام بری طرح مایوس ہو گئے ہیں اور ان پر یہ حقیقت واضح ہو گئی ہے کہ تبدیلی اور ترقی کے دعوؤں میں کوئی صداقت نہیں تھی۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے صوبے کے آئینی حقوق پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ بیڈ گورننس ، نااہلی ، بدانتظامی اور اقرباء پروری نے صوبے کی مشکلات میں بدترین اضافے کا راستہ ہموارکر دیا ہے اور عوام کے مسائل میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔

صوبائی حکومت 900 ٹیچنگ اسسٹنٹ کی فوری بحالی کے احکامات جاری کرے۔ ایمل ولی خان

 July-2016  Comments Off on صوبائی حکومت 900 ٹیچنگ اسسٹنٹ کی فوری بحالی کے احکامات جاری کرے۔ ایمل ولی خان
Jul 112016
 

مورخہ : 11.7.2016 بروز پیر

صوبائی حکومت 900 ٹیچنگ اسسٹنٹ کی فوری بحالی کے احکامات جاری کرے۔ ایمل ولی خان
حکمرانوں کو ذمہ داری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے ،صوبے کے کالجوں میں اساتذہ کی کمی ہے۔
صوبے میں اعلیٰ تعلیم کی کثیر تعداد میں نوجوانوں کو مواقع فراہم کرنا اے این پی دور حکومت کا کارنامہ ہے۔

پشاور (پریس ریلیز) اے این پی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت 900 ٹیچنگ اسسٹنٹ کی فوری بحالی کے احکامات جاری کرے۔اپنے ایک بیان میں اُنہوں نے کہا کہ صوبے کے 900 ٹیچنگ اسسٹنٹ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ایٹا ٹیسٹ پاس کر چکے ہیں اور اُن کی مستقلی کیلئے صوبائی اسمبلی نے متفقہ قرارداد بھی پاس کی ہے اور اعلیٰ تعلیم کی سٹینڈنگ کمیٹی نے بھی حکومت کو ان کی مستقلی کی سفارش کر دی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے کے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان کئی ماہ سے اپنی مستقلی کیلئے ہڑتالوں پر ہیں اور حکومتی ذمہ داروں کی طرف سے کئی بار یقین دہانیاں کرائی گئی ہیں لیکن تاحال صوبے کے نوجوان اپنے جائز مطالبات کیلئے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو ذمہ داری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے کیونکہ صوبے کے کالجوں میں اساتذہ کی کمی ہے۔ لہٰذا کمی پوری کرنے اور 900 نوجوانوں کے روزگار کی مستقلی کے احکامات فوری طور پر انتہائی اہم اور ضروری ہیں تاکہ وہ ذہنی سکون کیساتھ اپنا تدریسی عمل جاری رکھ سکیں۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے میں اعلیٰ تعلیم کی کثیر تعداد میں نوجوانوں کو مواقع فراہم کرنا اے این پی دور حکومت کا کارنامہ ہے۔ لہٰذا موجودہ حکومت وقت ضائع کیے بغیر تعلیم کے فروغ اور معیاری تعلیم کو یقینی بنانے کیلئے زبانی جمع خرچ سے نکل کر عملی اقدامات کا آغاز کرے۔
اُنہوں نے صوبائی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ برائے نام تعلیمی ایمر جنسی لگا کر صوبائی حکومت ایک طرف تعلیم کے بجٹ میں کمی اور دوسری طرف ذہن سازوں یعنی اساتذہ کی بے تکریمی کر کے اختیارات کے ناجائز استعمال کی مرتکب ہو رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور حکومت میں اساتذہ کو معاشرے میں منفرد مقام دلوا کر ثابت کر دیا تھا کہ اے این پی کی سیاست تعلیم دوست ہے اور تعلیم کے فروغ کو اپنا نصب العین سمجھتی ہے۔