Charwak

اے این پی کی منشور کمیٹی کا اجلاس ، انتخابی منشور کیلئے موصول تجاویز کا جائزہ

 July 2017  Comments Off on اے این پی کی منشور کمیٹی کا اجلاس ، انتخابی منشور کیلئے موصول تجاویز کا جائزہ
Jul 262017
 

 اے این پی کی منشور کمیٹی کا اجلاس ، انتخابی منشور کیلئے موصول تجاویز کا جائزہ

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کی منشور کمیٹی کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین میاں افتخار حسین کی زیر صدارت باچا خان مرکز میں منعقد ہوا ، اجلاس میں 2018کے الیکشن کیلئے ملک بھر سے موصول ہونے والی تجاویز کا جائزہ لیا گیا ، اس موقع پر منشور کمیٹی کے سیکرٹری سردار حسین بابک ، بشریٰ گوہر ، افراسیاب خٹک اور صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان بھی موجود تھے، اجلاس میں تمام مکتبہ فکر کے لوگوں ، تمام صوبوں اور پارٹی کی ذیلی تنظیموں کی جانب سے انتخابی منشور کی تیاری کیلئے بھیجی گئی سفارشات اور تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، کمیٹی چیئرمین میاں افتخار حسین نے اس اہم کاوش اور دلچسپی پر تمام افراد اور تنظیموں کا شکریہ ادا کیا اور انہیں شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا،انہوں نے کہا کہ کمیٹی موصول شدہ تجاویز کی سکروٹنی کرے گی اور اس دوران مزید تجاویز کا بھی خیر مقدم کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ کمیٹی کا آئندہ اجلاس اب 7اگست2017کو دن 11بجے باچا خان مرکز میں منعقد ہوگا اور اس حوالے سے مزید آنے والی تجاویز کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

 سراج الحق بنگلہ دیش میں دفن اپنے غدار اور بے نام لاشوں کی فکر کریں، سردار حسین بابک

 July 2017  Comments Off on  سراج الحق بنگلہ دیش میں دفن اپنے غدار اور بے نام لاشوں کی فکر کریں، سردار حسین بابک
Jul 252017
 

 سراج الحق بنگلہ دیش میں دفن اپنے غدار اور بے نام لاشوں کی فکر کریں، سردار حسین بابک

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی جانب سے باچا خان بابا کے خلاف ہرزہ سرائی کی مذمت کرتے ہوئے غم و غصہ کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ سراج الحق بنگلہ دیش میں دفن اپنے ان غداروں اور لاوارثوں کا پتہ کریں جنہیں ان کی ملک سے غداری پر پھانسیاں دی گئی ہیں اور ان کے بے نام لاشے وہیں پر دفن ہیں جن کا کوئی پوچھنے والا نہیں ، انہوں نے کہا کہ اے این پی کے کارکن اپنے اسلاف کے خلاف بدگوئی کرنے والوں کی زبان کھینچنے کی طاقت رکھتے ہیں لیکن باچا خان بابا کے سپاہی عدم تشدد کے پیروکار ہیں،سراج الحق کے بیان پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ساری زندگی عوام کے دلوں پر نہیں بلکہ سہاروں کی بنیاد پر سیاست کی ہے اور زندگی بھر دہشت اور وحشت کی وکالت کرنے والی جماعت کبھی عوام میں مقبول نہیں رہی پانچ سال تک الیکشن کا بائیکاٹ کرنے کے باوجود ایک ضلع تک محدود جماعت اسلامی کی اتنی اوقات نہیں کہ وہ باچا خان بابا کے خلاف نا زیبا زبان استعمال کرے، انہوں نے کہا کہ تنگ نظری اور انتہا پسند ا نہ سوچ نے اس جماعت کو محدود سے محدودتر کر دیا ہے، انہوں نے کہا کہ امریکی ڈالروں پر جہاد کرنے والے اور دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے والے دنیا کے ایک ایسے عظیم رہنما کے خلاف بات کر رہے ہیں جس نے دنیا بھر کے لوگوں کو ان کے حقوق کے تحفظ کا شعور دیا ، انہوں نے کہا کہ روس اور امریکہ کی جنگ میں امریکی ایما پر جہاد فی سبیل اللہ کا نعرہ لگانے والی جماعت کون سے اسلام کی جنگ لڑ رہی ہے ،سردار حسین بابک نے کہا کہ حالیہ واقعات میں خیبر بنک سکینڈل میں جماعت اسلامی کے وزیر پر کرپشن کا الزام ہے اور یہ الزام خیبر بنک کے ایم ڈی کی جانب سے لگایا گیا ہے ،انہوں نے کہا جن کا اپنا دامن داغدار ہے وہ کسی دوسرے کے خلاف منہ کھولنے کی جرأت نہیں کر سکتے ، خیبر لیکس کا معاملہ آج زبان زد عام ہے اور وہ دن دور نہیں جب قوم کو اس کرپٹ اور دہشت گردی کو سپورٹ کرنے والی جماعت کی حقیقت معلوم ہو جائے گی ، انہوں نے کہا کہ اسلام کے نام پر سیاست کرنے والی جماعت نے اس خطے میں شدت پسندی کو تقویت دی ہے اور اس کے برعکس عوامی نیشنل پارٹی نے اپنے سروں کے نذرانے دے کر دہشت گردی کی نہ صرف مخالفت کی ہے بلکہ ملک وقوم کی خاطر کھلے عام اس کے خلاف مزاحمت بھی کی ہے ، انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پاکستان کو دولخت کرنے الشمس اور البدر جیسی تنظیمیں پیدا کرنے اور بنگلہ دیش بنوانے میں اہم کردار ادا کیا اور جب بنگلہ دیش میں ان کے رہنماؤں کو پھانسیاں دی گئیں تو مفاد پرستوں نے اپنی آنکھیں بند کر رکھی تھیں، انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں تختہ دار پر چڑھائے جانے والے اپنے ملک کے ساتھ غداری کے مرتکب ہوئے تھے ، دہشت گردی عروج پر تھی تو دہشتگردوں نے مذاکرات کیلئے جن لیڈروں کے نام لئے ان میں جماعت اسلامی سر فہرست تھی۔انہوں نے کہا کہ اس جماعت کا اپنا گریبان تار تار ہے ،انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی عوام کی سب سے ناپسندیدہ جماعت ہے، انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کو دوسروں کو برا بھلا کہہ کر اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کی بجائے اپنی سیاست پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔

پنجاب میں آپریشن کے بغیر دہشتگردی کا خاتمہ ممکن نہیں،میاں افتخار حسین

 July 2017  Comments Off on پنجاب میں آپریشن کے بغیر دہشتگردی کا خاتمہ ممکن نہیں،میاں افتخار حسین
Jul 252017
 

 دہشتگردوں کے استاد پنجابی ہیں، پنجاب میں آپریشن کے بغیر دہشتگردی کا خاتمہ ممکن نہیں،میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے مرکزی جنرل سیکرٹری ، سابق وزیر اطلاعات اور راشد شہید فاؤنڈیشن کے چیئرمین میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے استاد پنجابی ہیں اور جب تک پنجاب میں ان کے مضبوط ٹھکانے اور اڈے ختم نہیں کئے جاتے دہشتگردی کا خاتمہ ممکن نہیں، راشد شہید نے وطن کیلئے جام شہادت نوش کیا اور اُن کی شہادت کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائیگا ، افتخار خان کی رہائش گاہ پر شہید راشد حسین کی ساتویں برسی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر میرے دس بیٹے بھی ہوتے تو میں اس دھرتی پر امن کے قیام کیلئے قربان کر دیتا،برسی کی تقریب میں علاقے کی معززین نے سخت گرمی کے باوجودکثیر تعداد میں شرکت کی ،شہید میاں راشد حسین کی روح کے ایصال ثواب کے لیے ختم قرآن پاک کا اہتمام بھی کیا گیا اور بعد میں اُن کے درجات کی بلندی کیلئے خصوصی طور پر اجتماعی دُعا کی گئی۔ برسی تقریب کے شرکاء نے اُن کی شہادت پر روشنی ڈالی۔اپنے خطاب میں میاں افتخار حسین نے مزیدکہا کہ دہشت گردی کے اس پر خار راستے میں لاکھوں شہداء کا خون بہہ چکا ہے اور میں خود اس درد سے گزر چکا ہوں اور مجھے علم ہے کہ ایسے موقع پر شہداء کی یاد کتنی تکلیف دہ ہوتی ہے ،
میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ لاہور جیسے بڑے شہر میں دہشت گردی سوالیہ نشان ہے ،جس کا جواب صرف ھکومت دے سکتی ہے ،انہوں نے کہا کہ ہم نے بار ہا نیپ پر عمل درآمد کا کہا لیکن ہماری بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا اور نقصان ملک میں بسنے والے شہریوں کو ہوا ، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی جہاں کہیں بھی ہو ہم اس کے خلاف ہیں، ہم نے کئی بار اس بات کا اظہار کیا کہ وزیر ستان آپریشن کے نتیجے میں عارضی امن قائم ہوا ہے تاہم اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دائمی امن کے قیام کیلئے نیشنل ایکشن پلان کے تمام 20نکات پر عمل کرنا ہو گا ،انہوں نے کہا کہ ’’ نیپ‘‘ پر عمل درآمد میں وقفے اور بریک لگانے سے نتائج حاصل نہیں کئے جا سکتے اور اس میں تاخیر کے باعث دہشت گرد دوبارہ منظم ہوئے اور افغانستان اور پاکستان کے دونوں جانب حملے کر رہے ہیں، دہشت گرد ی کے خاتمے کیلئے پنجاب میں کالعدم تنظیموں کے خلاف کاروائی کا آغاز کیا جائے ورنہ دائمی امن کا خواب خواب ہی رہ جائے گا۔انہوں نے کابل میں ہونے والے بم دھماکے کی بھی شدید مذمت کی اور کہا کہ شہید ہونے والوں کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں، میاں افتخار حسین نے کہا کہ دہشت گردی کو شکست دینے کیلئے دونوں ملکوں کو دوستانہ تعلقات کو فروغ دینا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات میں یہ بات طے پائی تھی کہ دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ کاروائی کی جانی چاہئے اب یہ دونوں ممالک کا امتحان ہے کہ وہ اس پر کس طرح عمل درآمد یقینی بناتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں کو اپنی پالیسیاں سپر پاور کی بجائے قومی مفاد میں بنانی چاہئیں۔
میاں افتخار حسین ؂ نے کہا کہ گزشتہ صوبائی حکومت میں بحیثیت وزیر اطلاعات میرے فعال کردار کی وجہ سے دہشتگردوں نے میرے بیٹے کو شہید کر دیا تھا جس پر اکثر لوگوں نے مجھ سے ایک ہی سوال کئی بار کیا تھا کہ آپ کا تو یہی اکلوتا بیٹا تھا اور ان کو بھی دہشتگردوں نے شہید کر دیا ہے اور میرا ہمیشہ یہی جواب ہوتا تھا کہ شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے ۔ یہ توصرف میرا ایک بیٹا تھا جس کو دہشتگردوں نے شہید کر دیا اگر میرے دس بیٹے بھی ہوتے تو اس دھرتی پر امن کے قیام کیلئے قربان کر دیتا۔انہوں نے کہا کہ میں باچا خان بابا کا پیروکار ہوں اور میں اس بات پر فخر کرتا ہوں کہ میں دھرتی پر امن کے قیام کیلئے شہید ہو جاؤں ۔ 
اُنہوں نے کہا کہ راشد شہید فاؤنڈیشن سیاست سے بالا تر ہو کر لوگوں کی خدمت کر رہا ہے۔قوم کے تمام بیٹے میرے اپنے بیٹے ہیں اور میں راشد شہید فاؤنڈیشن کے ذریعے ان تمام بچوں کی تعلیم و تربیت کیلئے تیار ہوں۔ اُنہوں نے کہا کہ راشد شہید فاؤنڈیشن مستقبل قریب میں تعلیم اور صحت کے حوالے سے ایسے پروجیکٹ شروع کر رہے ہیں جس میں غریب طلبہ اور طالبات کی بنیادی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے مختلف سکولوں میں کمپیوٹر لیب مہیا کیے اور صحت کی بنیادی ضروریات کے حوالے سے کئی اقدامات کئے اور آئندہ بھی راشد شہید فاؤنڈیشن ایسے پروجیکٹس کیلئے پیش پیش رہے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ فاؤنڈیشن کو مزید فعال بنانے کیلئے بھرپور کوششیں کی جائیں گی۔آخر میں انہوں نے کہا کہ میں بلا رنگ و نسل ،انسانیت کی خدمت کیلئے میدان میں ہوں اور راشد شہید فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام بننے والے اکیڈمی میں دہشتگردی کا شکار ہونے والوں کے بچے ، غریب ، یتیم اور معذور بچوں کو داخلہ دیا جائے گا، انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جب تک زندگی ساتھ دے گی انسانیت کی خدمت کے جذبے کے ساتھ اپنے تئیں ہر ممکن کوششیں جاری رکھوں گا۔

اسفندیار ولی خان کی لاہور دھماکے کی مذمت

 July 2017  Comments Off on اسفندیار ولی خان کی لاہور دھماکے کی مذمت
Jul 242017
 

 اسفندیار ولی خان کی لاہور دھماکے کی مذمت

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے لاہور دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے بے گناہ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ، اپنے ایک مذمتی بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی اور امن کو یقینی بنانے کیلئے تمام دہشتگرد تنظیموں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیوں کی اشد ضرورت ہے اور کوئی بھی مفاہمت یا تعطل دہشتگردوں کی قوت اور صلاحیت میں اضافے کی وجہ بن سکتا ہے۔ اگر پنجاب میں مفاہمت کی بجائے آپریشن کرائے گئے ہوتے تو نہ صرف یہ کہ لاہور حملے سے بچ جاتا بلکہ ملک سے دہشتگردوں کا خاتمہ بھی یقینی ہو جاتا ، انہوں نے کہا کہ حالیہ بم دھماکے دہشت گردوں کی کمر توڑنے کے دعوؤں پر سوالیہ نشان ہیں، انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر ملک بھر میں کہیں بھی عمل درآمد نہیں ہوا جس کی وجہ سے قوم جنازے اٹھا رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی بار ہا 20نکاتی متفقہ دستاویز پر من و عن عمل درآمد کا مطالبہ کرتی رہی لیکن حکومت اسے سنجیدہ لینے کیلئے کسی صورت تیار نہیں ۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب دہشتگرد تنظیموں کا گڑھ رہا ہے اور ان کا خاتمہ کیے بغیر امن و امان کی بحالی اور دہشتگردی کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ حکومت اور بعض قوتوں نے وقتی فائدے اور خطرہ ٹالنے کیلئے پنجاب میں مصلحت سے کام لیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پنجاب میں دہشتگردوں پر ہاتھ ڈالنے سے گریز کیا گیا اور وہ ریاستی کارروائیوں سے محفوظ رہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر نیشنل ایکشن پلان پر بلاامتیاز عمل کیا جاتا اور مصلحت سے کام نہیں لیا جاتا تو صورتحال کافی بہتر ہوتی۔ اُنہوں نے کہا کہ کرسی بچانے سے زیادہ اہم یہ ہے کہ پاکستان کی سلامتی اور مستقبل کی فکر کی جائے تاکہ ہر قیمت پر دہشتگردی کا خاتمہ ممکن بنایا جاسکے،انہوں نے سانحے میں شہید ہونے والوں کیلئے مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی، اور پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔

صوبے میں بیشتر پرائمری سکولوں کی بندش ۔عوامی نیشنل پارٹی نے تحریک التواء جمع کرادی

 July 2017  Comments Off on صوبے میں بیشتر پرائمری سکولوں کی بندش ۔عوامی نیشنل پارٹی نے تحریک التواء جمع کرادی
Jul 242017
 

صوبے میں بیشتر پرائمری سکولوں کی بندش ۔عوامی نیشنل پارٹی نے تحریک التواء جمع کرادی

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی نے صوبے میں بیشتر پرائمری سکولوں کی بندش کے خلاف صوبائی اسمبلی میں تحریک التواء جمع کرادی ،اے این پی کے پارلیمانی لیڈر اور صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے تحریک التواء جمع کرائی ، تحریک میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومت نے صوبے کے طول و عرض میں طلباء کی کم تعداد والے سکولوں کو بند کر دیا ہے جو تعلیم دشمنی کے مترادف ہے،انہوں نے کہا کہ اگر آبادی کو مد نظر رکھا جائے تو صوبے میں پہلے سے سکولوں کی تعداد انتہائی کم ہے تاہم ایسی صورتحال میں حکومت کی تعلیم دشمن پالیسی نہ صرف حیران کن بلکہ افسوسناک ہے ، انہوں نے کہا کہ انرولمنٹ میں اضافے اور سکولوں سے باہر رہنے والے بچوں اور بچیوں کو سکولوں میں لانے کیلئے سکولوں کو بند کرنا چاہئے یا ان کی تعداد میں اضافہ ہونا چاہئے؟۔ انہوں نے کہا کہ عالمی اداروں کی غیر جانبدارانہ رپورٹس کے مطابق سکول نہ جانے والے بچوں اور بچیوں کی تعداد لاکھوں میں بتائی جا رہی ہے اور ان تمام بچوں کو علم کی روشنی سے منور کرنے کیلئے موجودہ سکولوں کی حالت زار بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ نئے سکولوں کی تعمیر بھی اشد ضروری ہے،تحریک میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومت نے طلباء کی کم تعداد کو بنیاد بنا کر جن سکولوں کو بند کر دیا ہے ان پر سرکاری خزانے سے کروڑوں و اربوں روپے خرچ ہو چکے ہیں،انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی یہ پالیسی واپس لے اور بچوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد کو سکولوں میں لانے کیلئے والدین و کمیونٹی کو مزید متحرک کرے ،تاکہ وہ اپنے بچوں اور بچیوں کو سکول میں داخل کرائیں اور ساتھ ساتھ اس سلسلے میں حکومتی و معاشرتی سطح پر منظم اور تسلسل کے ساتھ مہم بھی چلانے کی ضرورت ہے،انہوں نے کہا کہ حکومت غیر ضروری اور غیر ذمہ دارانہ روش ترک کر کے مسئلے کے حل کیلئے اقدامات اٹھائے۔

صوبائی کونسل میں نئے ممبران کی شمولیت کا نوٹیفیکیشن

 July 2017  Comments Off on صوبائی کونسل میں نئے ممبران کی شمولیت کا نوٹیفیکیشن
Jul 242017
 

* محمد زاہد،ارسلان ، اسحاق خٹک اور طارق خٹک اے این پی کی صوبائی کونسل کے ممبران نامزد کر دیئے گئے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے پی کے 4سے ارسلان خان ، مردان سے محمد زاہد خان ایڈوکیٹ جبکہ نوشہرہ سے پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والے اسحاق خٹک اور طارق خٹک کو صوبائی کونسل کا ممبر نامزد کر دیا ہے ، اس سلسلے میں پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے تمام ممبران کی نامزدگی کا نوٹی فیکیشن اے این پی سیکرٹریٹ باچا خان مرکز سے جاری کر دیا ہے۔

عدالتی فیصلے پر پیشگوئیوں سے کیا پیغام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے؟

 July 2017  Comments Off on عدالتی فیصلے پر پیشگوئیوں سے کیا پیغام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے؟
Jul 232017
 

khatak

صبر و تحمل کے ساتھ انتظار کیا جائے ،عدالتی فیصلے پر پیشگوئیوں سے کیا پیغام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے؟،میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ’’ کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے ‘‘ پانامہ کیس کی سماعت مکمل ہو چکی ہے اور فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے تاہم کسی میں بھی صبو تحمل کا عنصر نظر نہیں آ رہا اور اب میڈیا پر فیصلے کے حوالے سے پیشگوئیاں شروع کر دی گئی ہیں،پانچ روز فریقین کے دلائل میں گزر گئے اور بعد ازاں روزانہ گھنٹوں میڈیا پر تبصروں نے عوام کو ذہنی طور پر مفلوج کر دیا ہے، ، اس ملک میں پانامہ کے حلاوہ بھی کئی مسائل حل طلب ہیں جنہیں یکسر نظر انداز کردیا گیا ہے ، فاٹا کا صوبے میں انضمام اور ایف سی آر کا خاتمہ عصری دور کا تقاضا ہے ،مرکزی حکومت ہٹ دھرمی چھوڑ کر اس اہم ایشو کو حل کرے اور قبائلی عوام میں پائی جانے والی احساس محرومی کا خاتمہ کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کے 6بہادر کلے اور خٹک باغ میں ایک بڑے شمولیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اے این پی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے جلسہ میں خصوصی طور پر شرکت کی ۔اس موقع پراسحاق خٹک اور سابق ایم پی اے و صوبائی وزیر طارق خٹک نے پریس کانفرنس کے دوران اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ،امیر حیدر خان ہوتی اور میاں افتخار حسین نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو مبارکباد پیش کی اور انہیں سرخ ٹوپیاں پہنائیں

Continue reading »