Charwak

عوامی نیشنل پارٹی نے فاٹا میں کی گئی مردم شماری مسترد کر دی

 Sept 2017  Comments Off on عوامی نیشنل پارٹی نے فاٹا میں کی گئی مردم شماری مسترد کر دی
Sep 192017
 

پریس بریفنگ

عوامی نیشنل پارٹی نے فاٹا میں کی گئی مردم شماری مسترد کر دی۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی نے فاٹا میں کی جانے والی مردم شماری کو یکسر مسترد کرتے ہوئے تمام قبائلی علاقوں میں از سر نو مردم شماری کا مطالبہ کیا ہے ، باچا خان مرکز میں اے این پی کی مرکزی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا کو پریس بریفنگ دیتے ہوئے پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا کہ مرکزی حکومت وضاحت کرے گزشتہ مردم شماری کے بعد آج تک وزیرستان کی آبادی بڑھنے کی بجائے کم کیسے ہو گئی مردم شماری نئے سرے سے کرا کے قبائلی عوام کو این ایف سی ایوارڈ میں ان کا جائز حصہ دیا جائے ، انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام پاکستان کا حصہ ہیں لیکن ان پر آج تک انگریز کا کالا قانون ایف سی آر لاگو ہے،ملکی تجارت میں قبائلی عوام کی70فیصد شرکت ہے اور وہ ٹیکس بھی حکومت پاکستان کو دیتے ہیں لیکن بنیادی حقوق سے ان کی محرومی کسی کو دکھائی نہیں دیتی،انہوں نے کہا کہ اے این پی نے اس حوالے سے کامیاب اے پی سی منعقد کی تاہم یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ چترال سے بولان تک پختونوں کی وحدت کے نعرے لگانے والے فاٹا کے معاملے پر کیوں مخالفت کر رہے ہیں،اے این پی انگریز کی کھینچی گئی لکیر مٹا کے پختونوں کو ایک یونٹ پر متحد کرے گی، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ سی پیک کے حوالے سے وزیر اعلیٰ کے بیان سے ہمارے خدشات درست ثابت ہوئے اوراب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ خیبر پختونخوا کو سی پیک سے مکمل طور پر باہر کر دیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ سی پیک اور فاٹا پر نفرت اور بد گمانیاں پیدا ہونے سے نقصان ملک کا ہو گا ، انہوں نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے مطالبہ کیا کہ نواز شریف نے پختونوں کے ساتھ سی پیک اور فاٹا کے حوالے سے جو وعدے کئے ان پر فوری عمل درآمد کیا جائے ، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کا امن ایک دوسرے سے مشروط ہے اور مترقی افغانستان کے بغیر مترقی پاکستان کا تصور ممکن نہیں،دونوں ملکوں کے درمیان بداعتمادی دور کر کے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا جائے ،انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اشرف غنی کی جانب سے مذاکرات کے عندیہ کے باوجود حکومت پاکستان نے اس پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا اور انتہائی اہم ایشو پر حکمرانوں کی خاموشی از خود ایک سوالیہ نشان ہے ، انہوں نے کہا کہ ملک کی پالیسیاں ناکم ہو چکی ہیں اور داخلہ و خارجہ پالیسیاں ری وزٹ کرنے کی ضرورت ہے،انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اپنے چار میں سے تین ہمسایوں کے ساتھ تعلقات خراب ہیں اور اب تو چین کا بھی موڈ بدلا دکھائی دے رہا ہے جس کے بعد نئی سمت کا تعین کرنا لازمی ہو چکا ہے کیونکہ ٹرمپ کی پالیسی پاکستان اور افغانستان کیلئے تباہ کن ہو گی ، ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قومی حکومت کی تشکیل اور انتخابات کے التوا کی افواہوں سے نقصان ہو گا ،اور قوم اب مزید کسی مارشل لاء کی متحمل نہیں ہو سکتی،انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ با اختیار ہو تو ملک میں مارشل لاء کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ،ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شدت پسندی میں ملوث تنظیمیں اپنے گناہ قبول کر کے توبہ کریں اور سیاسی دھارے میں شامل ہونا چاہیں تو تو کوئی مضائقہ نہیں البتہ خفیہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہونی چاہئے، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ مسلم لیگ ن اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی پر گامزن ہے اور اس پالیسی سے سب سے زیادہ نقصان مسلم لیگ اور نواز شریف کو ہی ہوگا ،اے این پی نے نواز لیگ تک پیغام پہنچا دیا تھا کہ اداروں سے ٹکراؤ ملکی مفاد میں نہیں اور ملکی و بین الاقوامی صورتحال کے پیش نظر ملک اور جمہوریت کے مفاد میں قومی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کی فضا از حد ضروری ہے،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کپتان کی ناجربہ کاری نے صوبے کا حالت بگاڑ دی اور تمام محکمے زبوں ھالی کا شکار ہیں ، انہوں نے کہا کہ صحت کے بعد تعلیم کے محکمہ بھی آخری سانسیں لے رہا ہے جبکہ پی ٹی آئی نے صوبے کو تجربہ گاہ سمجھتے ہوئے خیبر پختونخوا کے محکموں کو اپنے چہیتوں کو نوازنے کیلئے استعمال کیا ، انہوں نے کہا کہملک میں عدم برداشت کی مادہ سرایت کر چکا ہے جو خطرے کی گھنٹی ہے کسی بھی معاشرے میں جب برداشت ختم ہو جائے تو یہ اس ملک کے زوال کی جانب پہلی کڑی ہوتی ہے ، قبل ازیں اے این پی کی مرکزی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ این اے 4کے ضمنی الیکشن پر گہری نظر ہے اور یہ الیکشن آئندہ عام انٹخابات کیلئے راہ متعین کرے گا۔

کارکن الیکشن کی تیاری کریں ، مستقبل اے این پی کا ہے، میاں افتخار حسین 

 Sept 2017  Comments Off on کارکن الیکشن کی تیاری کریں ، مستقبل اے این پی کا ہے، میاں افتخار حسین 
Sep 182017
 

کارکن الیکشن کی تیاری کریں ، مستقبل اے این پی کا ہے، میاں افتخار حسین 

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ نواز شریف اور عمران خان پختونوں سے مخلص نہیں اور دونوں کے درمیان جنگ صرف تخت اسلام آباد کیلئے ہے، کپتان نے پنجاب کے ووٹ بنک کیلئے پختونوں کے حقوق کو پس پشت ڈال کر صوبے کو نظر انداز کر دیا ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے این اے 4کے ضمنی الیکشن کے سلسلے میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،اس موقع پر سینئر رہنما عبدالطیف آفریدی ایڈوکیٹ، ارباب محمد طاہر خان خلیل اور ارباب مجیب الرحمان سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا، انہوں نے مزید کہا کہ اب پی ٹی آئی اپنی ناقص کارکردگی کی بنیاد پر عوام میں اپنی مقبولیت کھو چکی ہے اور عوام جان گئے ہیں کہ ان کے حقوق کا تحفظ اے این پی کے بغیر کوئی جماعت نہیں کر سکتی ،انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ اور پی ٹی آئی کا گٹھ جوڑ صرف پختونوں کے حقوق پر سودے بازی کیلئے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ این اے 4اے این پی کا گڑھ ہے اور ہمیشہ کی طرح اس بار بھی اے این پی اس حلقے سے بھرپور کامیابی حاصل کرے گی ، انہوں نے کہا کہ پختون قوم اب بیدار ہو چکی ہے اور اپنے حقوق کیلئے اسفندیار ولی خان کی قیادت میں سرخ جھنڈے تلے متحد ہو چکی ہے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی واحد جماعت ہے جس کا مقصد حصول اقتدار نہیں بلکہ عوامی خدمت ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ پی ٹی آئی والے اے این پی پر الزامات لگانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں ، اور قوم کو بتائیں کہ انہوں نے چار سال میں کون سا تیر مارا ہے ، تبدیلی کے نام پر آنے والے صوبے کا پرانا نظام بھی لے ڈوبے اور نیا نظام بھی نہ دے سکے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ صوبے میں کرپشن مافیا کا راج ہے اور آئے روز میڈیا میں ان کی کرپشن کہانیاں قوم کے سامنے آ رہی ہیں،صوبہ شہر نا پُرسان میں تبدیل ہو چکا ہے ، خزانہ لوٹ لیا گیا ہے اور بیرونی دنیا سے اتنے قرضے لئے گئے ہیں کہ اب انہیں چکانے کیلئے آنے والی حکومتوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا،انہوں نے کہا کہ کپتان کشکول توڑنے کے وعدے کرتے رہے لیکن اب چار سال میں کشکول اتنا گھمایا کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی، انہوں نے مزید کہا کہ احتساب کمیشن صرف سیاسی مخالفین کی پگڑیاں اچھالنے کیلئے بنایا گیا اوراب حکمران اے این پی کی مقبولیت میں اضافے سے بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، مرکزی سیکرٹری جنرل نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ آئندہ الیکشن کیلئے اپنی بھرپور تیاریاں جاری رکھیں اور آنے والا دور ایک بار پھر اے این پی کا ہو گا۔

ٹکٹ کیلئے درخواستیں جمع کرانے کی تاریخ میں30ستمبر تک توسیع کر دی گئی 

 Sept 2017  Comments Off on ٹکٹ کیلئے درخواستیں جمع کرانے کی تاریخ میں30ستمبر تک توسیع کر دی گئی 
Sep 182017
 

ٹکٹ کیلئے درخواستیں جمع کرانے کی تاریخ میں30ستمبر تک توسیع کر دی گئی 

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اور پارلیمانی بورڈ کے چیئرمین امیر حیدر خان ہوتی نے آئندہ انتخابات کیلئے درخواستوں کی وصولی کیلئے مقرر کردہ تاریخ میں 30ستمبر تک توسیع کر دی ہے، امیر حیدر خان ہوتی نے پارٹی کے ساتھیوں کے اصرار اور ان کی غیر متوقع دلچسپی کی وجہ سے درخواستوں کی وصولی کی تاریخ میں توسیع کی ہے ۔یاد رہے اس سے قبل آخری تاریخ 15ستمبر مقرر کی گئی تھی ۔

 پارٹی مخالف سرگرمیوں پر ارباب نجیب اللہ کی پارٹی رکنیت ختم کر دی گئی

 Sept 2017  Comments Off on  پارٹی مخالف سرگرمیوں پر ارباب نجیب اللہ کی پارٹی رکنیت ختم کر دی گئی
Sep 182017
 

 پارٹی مخالف سرگرمیوں پر ارباب نجیب اللہ کی پارٹی رکنیت ختم کر دی گئی

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے پارٹی مخالف سرگرمیوں ، پارٹی کو نقصان پہنچانے اورنظم و ضبط کی خلاف ورزی کرنے کی پاداش میں پشاور سے تعلق رکھنے والے ارباب نجیب اللہ کی بنیادی رکنیت ختم کر دی ہے، رکنیت کے خاتمے کے بعد اب ارباب نجیب اللہ پارٹی کے رکن نہیں رہے ہیں۔

امن کی کنجی سپرپاور کے پاس نہیں ، پاکستان اور افغانستان کے درمیان چین ضامن کا کردار ادا کرے، اسفندیار ولی خان

 Sept 2017  Comments Off on امن کی کنجی سپرپاور کے پاس نہیں ، پاکستان اور افغانستان کے درمیان چین ضامن کا کردار ادا کرے، اسفندیار ولی خان
Sep 182017
 

مرکزی کونسل اجلاس

امن کی کنجی سپرپاور کے پاس نہیں ، پاکستان اور افغانستان کے درمیان چین ضامن کا کردار ادا کرے، اسفندیار ولی خان
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بداعتمادی کی فضاء سے خطے کی صورتحال دگرگوں ہے اور چین کو دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات میں ضامن کا کردار ادا کرنا چاہئے ،اے این پی ایک عرصہ سے خارجہ و داخلہ پالیسیوں کو ری وزٹ کرنے کا مطالبہ کرتی آئی ہے لیکن حکومت کی جانب سے مکمل خاموشی کے باعث خطے کے تین ممالک کے ساتھ پاکستان کو تعلقات میں کشیدگی کا سامنا ہے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز میں پارٹی کی مرکزی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،انہوں نے کہا کہ ملک کی پالیسیوں کو درست سمت میں لے جانے کیلئے جلد از جلد کام کرنا ہوگا ، ٹرمپ کی پالیسی پاکستان اور افغانستان دونوں کیلئے تباہ کن ہے،انہوں نے کہا کہ ماسکو میں پاکستان، چین اور روس مل کر افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے سے غلط فہمیاں پیدا ہوئیں جبکہ افغانستان کا کوئی نمائندہ اس میں شریک نہیں تھا، دونوں ممالک کے درمیان موجود صرف بد اعتمادی اور غلط فہمیاں دور کرنے کی ضرورت ہے ،اور اس مقصد کیلئے چین کو صرف سہولت کار نہیں بلکہ ضامن کا کردار ادا کرنا چاہئے اور جو بھی فیصلہ ہو دونوں ملک اسے ماننے کے پابند ہوں ،انہوں نے کہا کہ دہشت گردی نے پورے خطے کو کشت وخون کی آگ میں جھونک دیا ،البتہ سانحہ اے پی ایس کے بعد ایک متفقہ 20نکاتی دستاویز سامنے آئی لیکن بد قسمتی سے اسے مصلحت کی بھینٹ چڑھایا گیا اور مرکزی حکومت نے اس حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دہشت گرد پھر سے منظم ہونے لگے ،ملک کی سیاسی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اے این پی عدالتی فیصلہ سے قبل نواز شریف کے استعفے کے حق میں نہیں تھی اور ہم نے عدالتی فیصلے کے بعد مسلم لیگ ن والوں سے کہا تھا کہ محاذ آرائی کا ماحول نہ بنائیں اس سے ملک کو نقصان ہو گا سیاسی میں مائنس ون فارمولہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا، وزیر اعظم شاہد خاقان فاٹا اور سی پیک کے حوالے سے نواز شریف کے پختونوں کے ساتھ وعدے ایفا کریں اور انہیں جلد از جلد عمل جامہ پہنائیں ،اسفندیار ولی خان نے کہا کہ ایک وعدہ نواز شریف ولی خان بابا کے ساتھ کر کے مکر گئے تو ان کا ٹھکانہ جدہ بنا ، اور اب پختونوں کے ساتھ وعدوں سے انحراف کیا تو انہیں کہیں بھی جگہ نہیں مل رہی ،انہوں نے کہا کہ اے این پی 9اکتوبر کو ہونے والے فاٹا اصلاحات کیلئے ہونے والے لانگ مارچ اور مظاہرے میں بھرپور شرکت کرے گی اور ان کی جدوجہد میں شانہ بشانہ کھڑی رہے گی،صوبے کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے انہوں نے کہا کہصحت کے شعبہ کی حالت دگرگوں ہے جبکہ تعلیمکا محکمہ بھی وینٹی لیٹر پر ہے ، صوبے میں تبدیلی تو آئی لیکن اس کا رخ الٹی جانب تھا ، ہسپتالوں کی حالت زار صحت کے انصاف پر سولیہ نشان تھا جبکہ ڈینگی نے آ کر حکومتی کارکردگی کا پول سرے سے ہی کھول کر رکھ دیا ،تعلیم کا شعبہ زوال پذیر ہے اور گزشتہ میٹرک کے نتائج تشویشناک حد تک خراب رہے چار سال میں حکومت نے تمام شعبوں کا حلیہ بگاڑ دیا ہے ،انہوں نے کہا کہ اے این پی کے پارلیمانی بورڈ کو ٹکٹ کیلئے درخواستیں موصول ہو رہی ہیں ،اور اس سال کے آخر تک امیدواروں کا اعلان کر دیا جائے گا ، تاہم پارٹی کسی بھی امدوار کو ٹکٹ جاری کرے باقی تمام کارکنوں کو اس سے تعاون کرچا ہو گا ، اے این پی نظریاتی پارٹی ہے اور اقتدار کا حصول کارکنوں کا مقصد نہیں ہونا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ آئندہ الیکشن میں کامیابی کے بعد عوام کی خدمت کا سلسلہ دوبارہ شروع کریں گے۔

عوامی نیشنل پارٹی جمہوریت پریقین رکھتی ہیں، تمام فیصلے جمہوری انداز سے ہوتے ہیں، میاں افتخار حسین

 Sept 2017  Comments Off on عوامی نیشنل پارٹی جمہوریت پریقین رکھتی ہیں، تمام فیصلے جمہوری انداز سے ہوتے ہیں، میاں افتخار حسین
Sep 172017
 

مرکزی کابینہ کا اجلاس

عوامی نیشنل پارٹی جمہوریت پریقین رکھتی ہیں، تمام فیصلے جمہوری انداز سے ہوتے ہیں، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا کہ مرکزی کابینہ اجلاس میں اہم فیصلوں پر مشاورت کی گئی،مرکزی کونسل اور ورکنگ کمیٹی کے اجلاسوں میں جو بھی متفقہ فیصلے ہونگے اس پرمیڈیا کو بریفنگ دی جائے گی، ملکی و بین الاقوامی صورتحال پر سیر حاصل گفتگو اور بحث کے ساتھ ساتھ پارٹی کے ممبران کی تجاویز اور نکتہ نظر جاننا انتہائی ضروری ہے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارٹی کی مرکزی کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی کابینہ اجلاس مرکزی کونسل اور ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کے لیے تیاریوں کا ایک سلسلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ عوامی نیشنل پارٹی کی ایک بہترین روایت ہے جو کہ اسفندیار ولی خان کی سربارہی میں منعقد ہوا، اسی طرح باچا خان اور ولی خان کے دور میں بھی ہوتا تھا جس میں مرکزی کونسل اور ورکنگ کمیٹی کے اجلاسوں کے لیے تیاری ہوتی تھی اور ملک بھر کے مسائل اور ان کے حل کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں بہت اہم فیصلوں پر مشاورت کی گئی، جس میں خارجہ و داخلہ پالیسیوں کے ساتھ ساتھ دوسرے اہم ایشو بھی سامنے لائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی ایک ڈیموکریٹ پارٹی ہے اور ہم جمہوریت پریقین رکھتے ہیں، اس لیے پارٹی کے جتنے بھی اہم فیصلے ہوتے ہیں وہ جمہوری انداز سے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باچا خان مرکز میں 18ستمبر پر ہونے والی مرکزی کونسل اور19ستمبر پر ہونے والی ورکنگ کمیٹی کے اجلاسوں میں جو بھی متفقہ فیصلے ہونگے اس پراسی دن اجلاس کے بعد مرکزی صدر اسفندیار ولی خان میڈیا کو بریفنگ دیں گے اور عمل درآمد کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے انتہائی مناسب وقت پر اجلاس طلب کئے ہیں اور ان حالات میں ملکی و بین الاقوامی صورتحال پر سیر حاصل گفتگو اور بحث کے ساتھ ساتھ پارٹی کے أئینی اداروں کے ممبران کی تجاویز اور نکتہ نظر جاننا انتہائی ضروری ہے ، انہوں نے کہا کہ تمام ارکان اپنی بروقت شرکت یقینی بنائیں۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ فاٹا کے حوالے سے اے این پی کا اے پی سی کامیاب رہا اور اس کے بہت سے مثبت نتائج سامنے آئینگے۔ انہوں نے کہا کہ اے پی سی میں ان وہ لوگ بھی موجود تھے جو فاٹا کا صوبے میں انضمام کے مخالف ہیں اور اے پی سی نے ایک ڈیبیٹ کی شکل اختیار کی، جس سے یہ اندازہ ہوا کہ زیادہ لوگ فاٹا کے انضمام کے حامی ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ جلد سے جلد فاٹا خیبر پختونخوا میں ضم ہوجائے۔ این اے 4ضمنی الیکشن کے حوالے سے میاں افتخار حسین نے کہا کہ این اے 4اے این پی کا ہمیشہ سے گڑھ رہا ہے اور اس بار الیکشن میں کامیابی حاصل کر کے حلقے کے عوام کی محرومیوں کو دور کریں گے ،انہوں نے کہا کہ خوشدل خان ایک بہترین کنڈیڈیٹ ہے، وہ پی کے 10سے جیتا ہے اور ایسے وقت میں قوم کا ساتھ دیا جب خوشدل خان ٹارگٹ تھا اور کسی کو بھی یقین نہیں تھا کہ وہ بچ جائے گا لیکن اس نے عوام کی خاطر اپنی جان کی پروہ کیے بغیر ان کے لیے نکلا اور ان کی محرومیوں کو دور کرنے کی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔انہوں نے کہا کہ اس دور میں صرف اے این پی ہی مقابلہ کر سکتا ہے،ملک کے اندرونی اور بیرونی حالات ایسے ہیں جس میں عوام صرف اے این پی کو ہی بہترین آپشن سمجھتے ہیں۔

حلقہ این اے120ضمنی انتخابات، اے این پی امیدوار بیگم کلثوم نواز کے حق میں دستبردار

 Sept 2017  Comments Off on حلقہ این اے120ضمنی انتخابات، اے این پی امیدوار بیگم کلثوم نواز کے حق میں دستبردار
Sep 162017
 

حلقہ این اے120ضمنی انتخابات، اے این پی امیدوار بیگم کلثوم نواز کے حق میں دستبردار
پشاور ( پ ر ) حلقہ این اے120ضمنی انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار امیربہادر خان ہوتی نے مسلم لیگ (ن) کے بیگم کلثوم نواز کے حق میں دستبردار ہونے کا اعلان کردیا، تفصیلات کے مطابق آج لاہور میں عوامی نیشنل پارٹی کے وفد نے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں سے ملاقات کی جس میں حلقہ این اے120 کے ضمنی انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار امیر بہادر خان ہوتی نے مسلم لیگ(ن) کے امیدوار بیگم کلثوم نواز کے حق میں دستبردار ہونے کا اعلان کیا، عوامی نیشنل پارٹی کی طرف سے صوبائی صدر منظور خان ، امیر بہادرخان ہوتی اور رانا زاہد نے لاہورمیں مریم نواز سے ملاقات کی، اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پرویز رشید،دانیال عزیز،مریم اورنگزیب،تہمینہ دولتانہ، خواجہ عمران نذیر،پرویز ملک او سینیٹر عباس افریدی بھی موجود تھے، عوامی نیشنل پارٹی کے وفد نے پنجاب میں پختونوں کے فارم (ب)، ڈومیسائل، پاسپورٹ اور پکڑ دھکڑ کے مسائل حل کرنے کی شرط پر اتحاد کا مطالبہ کیا گیا جس پر مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کی طرف سے تمام مسائل کی حل کی یقین دہانی کرادی گئی، اے این پی وفد کی طرف سے پنجاب میں پختون کمپلینٹ سیل بنانے کا بھی مطالبہ کیا گیا جس پر مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے رضامندی ظاہر کی،اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر منظور خان نے بتایا کہ اے این پی پنجاب میں پختونوں کے مسائل حل کرنے کیلئے سنجیدہ کوششیں کررہی ہے اور آج خوشی ہے کہ پاکستان کی حکمران پارٹی پختونوں کو درپیش مسائل حل کرنے کیلئے رضامند ہوگئے، صوبائی صدر منظور خان نے بتایا کہ اے این پی اور مسلم لیگ کا یہ اتحاد صرف ضمنی الیکشن تک محدود ہوگا اور ائیندہ عام الیکشن میں عوامی نیشنل پارٹی پورے پنجاب سے اپنے امیدوار میدان میں لائے گی، ملاقات کے دوران پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز نے کلثوم نواز کے حق میں دستبردار ہونے پر اے این پی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اے این پی نے جمہوریت کیلئے بے مثال قربانیاں دیں جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔