Charwak

پارلیمنٹ کے بدلے اے این پی کے کئی رہنماؤں پر پی ٹی آئی میں شامل ہونے کیلئے دباؤتھا

 August-2018  Comments Off on پارلیمنٹ کے بدلے اے این پی کے کئی رہنماؤں پر پی ٹی آئی میں شامل ہونے کیلئے دباؤتھا
Aug 182018
 

سندھ کونسل سے خطاب

پارلیمنٹ کے بدلے اے این پی کے کئی رہنماؤں پر پی ٹی آئی میں شامل ہونے کیلئے دباؤتھا، اسفندیار ولی خان

سندھ ۔پنجاب،اور بلوچستان کی قیادت کو پارلیمنٹ میں پہنچا کر پشتونوں کو باہر کر دیا گیا۔

عمران خان بیساکھیوں کے سہارے وزیر اعظم بن گیا، ایک بیساکھی بھی ہلی تو وہ وزیر اعظم نہیں رہے گا۔

غیر مستقل مزاج شخص کو ملک پر مسلط کر دیا گیا ،سیاست سے شائستگی کا جنازہ نکالنے والا شخص ملک کیسے چلائے گا۔

فاٹا صوبے میں ضم ہو گیا ، اب شمالی اور جنوبی اضلاع کے پختونوں کی ایک وحدت قائم کریں گے۔

پر امن افغانستان کے بغیر پر امن پاکستان کا خواب دیکھنے والے خواب غفلت میں ہیں۔

سرمایہ کار کراچی سے اپنا سرمایہ منتقل کر چکے ہیں ، کارخانے بند ہیں ،جس کے منفی اثرات کراچی کے پختون مزدوروں پر پڑے۔

الرٹ جاری کرنے والے حفاظت نہیں کر سکتے تق قوم کو واضح پیغام دے دیں، کراچی میں کارکنوں سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ25جولائی کو الیکشن نہیں سلیکشن ہوئی، پارلیمنٹ کے بدلے اے این پی کے کئی رہنماؤں پر پی ٹی آئی میں شامل ہونے کیلئے دباؤ ڈالا گیا لیکن باچا خان کے سپاہی اپنے اسلاف کی قربانیوں کے ساتھ غداری کا سوچ بھی نہیں سکتے،سندھ ۔پنجاب،اور بلوچستان کی قیادت کو پارلیمنٹ میں پہنچا کر پشتونوں کو باہر کر دیا گیا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز کراچی میں اے این پی کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ عمران خان بیساکھیوں کے سہارے وزیر اعظم بن گیا ہے ایک بیساکھی بھی ہل گئی تو وہ وزیر اعظم نہیں رہے گا،انہوں نے کہا کہ غیر مستقل مزاج شخص کو ملک پر مسلط کر دیا گیا ہے ،سیاست سے شائستگی اور روایات کا جنازہ نکالنے والا شخص ملک کیسے چلائے گا، وزرائے اعلیٰ کے ناموں کا فیصلہ تا حال نہیں ہو پا رہا ،اسفندیار ولی خان نے کہا کہ الیکشن والے دن پولنگ کے بعد ایک گھنٹہ صرف دھاندلی کیلئے لیا گیا،انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ سے باہر کرنے والے سیاست سے دور نہیں کر سکتے ، فاٹا انضمام کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اے این پی نے سب سے پہلے فاٹا کے مسئلے پر اے پی سی بلائی جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کو دعوت دی گئی ،انہوں نے کہا کہ ہماری کوششیں رنگ لائیں اور فاٹا صوبے میں ضم ہو گیا لیکن کاوشیں ابھی ختم نہیں ہوئیں اب شمالی اور جنوبی اضلاع کے پختونوں کی ایک وحدت قائم کریں گے اور تمام پختونوں کو ایک پلیٹ فارم پر لائیں گے،انہوں نے واضح کیا کہ پر امن افغانستان کے بغیر پر امن پاکستان کا خواب دیکھنے والے خواب غفلت میں ہیں ، دونوں ملکوں کے درمیان موجود غلط فہمیاں دور کر کے مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جائے ،انہوں نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں ، انہوں نے کہا کہ روس میں افغانستان کے مسئلے کے حل کیلئے کانفرنس بلائی گئی جس میں افغانستان کا کوئی بھی نمائندہ شریک نہیں تھا ، تیں ملک آپس میں بیٹھ کر کسی ایک ملک کی قسمت کا فیصلہ کیسے کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہارون بلور کی شہادت کے بعد پارٹی کارکنوں نے جذباتی انداز میں اعلان جنگ کا کہا لیکن ہم نے حوصلے کا دامن نہیں چھوڑا ،ہمارا مقابلہ نادیدہ قوتوں کے ساتھ ہے ہم اپنے دشمن کو نہیں جانتے لیکن وہ ہمیں جانتا ہے، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ صوابی میں جلسہ کیلئے جاتے ہوئے مجھے الرٹ جاری کیا گیا ،جب سیکورٹی ایجنسیاں حملہ آور کو جانتے ہوئے بھی گرفتار نہیں کر سکتیں تو قوم کو واضح پیغام دے دینا چاہئے کہ وہ اپنی حفاظت کی خوڈ ذمہ دار ہے،اسفندیار ولی خان نے کہا کہ کراچی میں بسنے والے پختون معاشی طور پر مشکلات کا شکار ہیں ، اور امن ناپید ہونے کے باعث سرمایہ کار یہاں سے اپنا سرمایہ منتقل کر چکے ہیں جس کے منفی اثرات کراچی کے پختون مزدوروں پر پڑے،کارکنوں پر زور دیا کہ وہ آپس میں اتحاد و اتفاق کی فضا برقرار رکھیں۔

اے این پی کا صوبے کے آئینی حقوق کے حصول کیلئے پارلیمانی و قومی جرگہ تشکیل دینے کا فیصلہ

 August-2018  Comments Off on اے این پی کا صوبے کے آئینی حقوق کے حصول کیلئے پارلیمانی و قومی جرگہ تشکیل دینے کا فیصلہ
Aug 182018
 

اے این پی کا صوبے کے آئینی حقوق کے حصول کیلئے پارلیمانی و قومی جرگہ تشکیل دینے کا فیصلہ
جرگہ میں صوبے کی پارلیمانی جماعتوں اور پارلیمنٹ سے باہر پارٹیوں کے نمائندوں سمیت تمام مکتبہ فکر کے ماہرین شامل ہونگے۔
سیاحت کا فروغ ،بند کارخانوں کو چالو کرنا ،سی پیک میں صوبے کا حصہ یقینی بناناجرگہ کی ترجیحات میں شامل ہو گا۔
بجلی کا اختیار صوبوں کے پاس ہونا،واپڈا ہیڈ کوارٹر کی اسلام آباد منتقلی اور پشاور تا کراچی موٹر وے کی تعمیر ہدف ہو گا۔
تمباکو کی نقد آور فصل کو دو کمپنیوں کی اجارہ داری سے آزاد کرنابھی صوبے کے آئینی مسائل میں شامل ہونگے ۔
جنوبی اضلاع کی لاکھوں ایکڑ بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنانے کیلئے چشمہ رائٹ بنک کینال کی تعمیر ۔
بجلی کی خالص آمدن کی پوری رقم بروقت ملنا ،صوبے میں بجلی پیداوار کے چھوٹے ڈیم بنانا جدوجہد کا حصہ ہو گا۔
صوبے میں ادغام شدہ نئے قبائلی اضلاع کیلئے اعلان کردہ ترقیاتی پیکج کو بروقت اور صاف و شفاف استعمال کو یقینی بنانا۔
تعلیم کے فروغ کی خاطر یونیورسٹیوں ،میڈیکل کالجز اورپیشہ ور تعلیمی اداروں کے قیام کی ضرورت پر زور دیا جائے گا۔
اٹھارویں ترمیم کو رول بیک کرنے کی کوششوں کی راہ میں رکاوٹ بنیں گے ۔
خیبر پختونخوا کے وسائل ،ضرورت اور پسماندگی کی بنیاد پر تقسیم کو یقینی بناناجرگہ کی کوششوں کا حصہ ہو گا۔
سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں لیکن صوبے کو آئینی حقوق نہ ملنے کی وجہ سے عوام کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ صوبے کے آئینی حقوق کے حصول کیلئے تمام جماعتوں پر مشتمل جرگہ تشکیل دیا جائے گاجس میں صوبائی اسمبلی کے اندر اور باہر موجود تمام جماعتوں کے نمائندے شامل ہونگے،اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پارلیمانی جرگہ صوبے کے آئینی حقوق کے حصول اور مسائل کے حل کیلئے آئینی اور جمہوری جدوجہد کرے گا،انہوں نے کہا کہ بجلی کا اختیار صوبوں کے پاس ہونا،واپڈا ہیڈ کوارٹر اسلام آباد منتقل کرنا ، بجلی کی خالص آمدن کی پوری رقم بروقت ملنا ،صوبے میں بجلی پیداوار کے چھوٹے ڈیم بنانا،گیس خیبر پختونخوا کی پیداوار ہونے کے ناطے صوبے کے تمام اضلاع کو ترجیحی بنیادوں پر پہنچانا ،جنوبی اضلاع کی لاکھوں ایکڑ بنجر زمینوں کو چشمہ رائٹ بنک کینال کی تعمیر کے ذریعے قابل کاشت بنانا،پشاور سے کراچی تک موٹر وے کی تعمیر ،صوبے کی نقد آور فصل تمباکو کو دو کمپنیوں کی اجارہ داری سے آزاد کرنا،خیبر پختونخوا کے وسائل کی ضرورت اور پسماندگی کی بنیاد پر تقسیم کو یقینی بنانا،صوبے کے بند کارخانوں کو چالو کرنا ،سی پیک میں صوبے کا حصہ یقینی بنانا،صوبے میں ادغام شدہ نئے قبائلی اضلاع کیلئے اعلان کردہ ترقیاتی پیکج کو بروقت اور صاف و شفاف استعمال کو یقینی بنانا،بجلی منافع کے بقایاجات کیلئے سیاسی و قانونی جنگ لڑنا،سیاحت کو فروغ دینا ،صوبے میں تعلیم کے فروغ کی خاطر یونیورسٹیوں کا قیام ، میڈیکل کالجز اورپیشہ ور تعلیمی اداروں کے قیام کی ضرورت پر زور دینا،اٹھارویں ترمیم کو رول بیک کرنے کیلئے کی جانے والی کوششوں کی راہ مسدود کرنا اور صوبے کے دیگر آئینی حقوق اور بنیادی مسائل کیلئے مشترکہ جدوجہد کرنا اس قومی و پارلیمانی جرگہ کا ہدف اور مقصد ہو گا، سردار بابک نے کہا کہ اس مقصد کیلئے اسمبلیوں سے باہر جماعتوں سے بھی رابطہ کیا جائے گا اور جرگہ میں تمام مکتبہ فکر کے افراد کو شامل کیا جائے گا،انہوں نے کہا کہ دہشت گردی نے صوبے کی معیشت کو تباہ کر دیا ہے ، مہنگائی، بے روزگاری نے لوگوں کو ذہنی مریض بنا دیا ہے ، انہوں نے کہا کہ ہمارا صوبہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے ،افرادی قوت وافر تعداد میں موجود ہے ،سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں لیکن صوبے کو آئینی حقوق نہ ملنے کی وجہ سے عوام کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے،انہوں نے توقع ظاہر کی کہ صوبے کے تمام مسائل کے حل کیلئے اسمبلیوں کے اندر اور باہر جمہوری اور آئینی جدوجہد جاری رکھی جائے گی جبکہ قومی اسمبلی و سینیٹ میں بھی صوبے کے نمائندوں سے اس سلسلے میں تعاون طلب کیا جائے گا،اور ان کو مسائل کے حل کیلئے کوششوں میں ساتھ ملایا جائے گا۔

ناروا لوڈشیڈنگ کا راج، اے این پی نے خیبر پختونخوا اسمبلی میں قرارداد جمع کرا دی

 August-2018  Comments Off on ناروا لوڈشیڈنگ کا راج، اے این پی نے خیبر پختونخوا اسمبلی میں قرارداد جمع کرا دی
Aug 172018
 

ناروا لوڈشیڈنگ کا راج، اے این پی نے خیبر پختونخوا اسمبلی میں قرارداد جمع کرا دی
مرکزی حکومت سے لوڈشیڈنگ ،کم وولٹیج اور بجلی کے نرخوں جیسے اہم مسائل حل کرنے کا مطالبہ۔
قرارداد اے این پی کے پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے جمع کرائی ۔
پانی سے سستی بجلی پیدا ہونے کے باجود گھنٹوں لوڈشیڈنگ سے عوام ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔
عوام خود چندے اکٹھے کر کے آئے روز خراب ٹرانسفارمرز کی مرمت کرا رہے ہیں۔
اکثر فیڈر اور گرڈ سٹیشن اوور لوڈ ہو چکے ہیں ،نئے فیڈر اور گرڈ سٹیشن بنانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی نے صوبے میں ناروا لوڈشیڈنگ ،کم وولٹیج اور آسمان سے باتیں کرتے بجلی کے نرخوں کے خلاف خیبر پختونخوا اسمبلی میں قرارداد جمع کرادی ہے جس میں مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ جیسے اہم مسائل فوری طور پر حل کرنے کی طرف توجہ دی جائے،قرارداد اے این پی کے پارلیمانی لیڈر اور صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے جمع کرائی ، قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ ہمارے صوبے میں پانی سے سستی بجلی پیدا کی جارہی ہے اس کے باجود گھنٹوں لوڈشیڈنگ اور کم وولٹیج نے عوام کو ذہنی اذیت سے دوچار کر رکھا ہے اور عوام بجلی کے بھاری بھر کم بل ادا کرنے کے قابل نہیں رہے،سردار بابک نے کہا کہ صوبے میں بوسیدہ ٹرانسمشن لائنوں کی فوری تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے کیونکہ غریب عوام خود چندے اکٹھے کر کے آئے روز خراب ٹرانسفارمرز کی مرمت کرا رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ ہمارا صوبہ پانی سے5500میگاواٹ سستی بجلی پیدا کرنے کے باوجود اس کے استعمال سے محروم ہے اور عوام بجلی کیلئے ترس گئے ہیں،شدید گرمی میں 18گھنٹے سے زائد لوڈشیڈنگ سے انسانی زندگیاں داؤ پر لگی ہیں ،انہوں نے کہا کہ بغیر ریڈنگ کے ماہانہ ہزاروں روپے کے بل بھجوائے جا رہے ہیں، سردار حسین بابک نے کہا کہ صوبے کی 50سالہ بوسیدہ ٹرانسمیشن لائنوں کی دوبارہ بحالی اور مرمت ناگزیر ہو چکی ہے اور صوبے کے اکثر فیڈر اور گرڈ سٹیشن اوور لوڈ ہو چکے ہیں لہٰذا نئے فیڈر اور گرڈ سٹیشن بنانے کے سوا کوئی چارہ نہیں،انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت صوبے کے عوام کے دیرینہ مسئلہ فوری طور پر حل کرے اور عوام کو ریلیف پہنچانے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے۔

غزنی واقعات پر سرکاری وضاحت سے دھول چھٹتی دکھائی دے رہی ہے

 August-2018  Comments Off on غزنی واقعات پر سرکاری وضاحت سے دھول چھٹتی دکھائی دے رہی ہے
Aug 172018
 

 

غزنی واقعات پر سرکاری وضاحت سے دھول چھٹتی دکھائی دے رہی ہے، میاں افتخار حسین 
سوشل میڈیا پر تاحال واقعات کو ہوا دی جا رہی ہے ، مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔
واقعات میں حقیقت ملکی مفادات کے خلاف اور جھوٹ نفرتیں پیدا کرنے کی سازش ہے ۔
سرکاری سطح پر خاموشی نے خدشات اور تحفظات کو جنم دیا ، حقائق سامنے لائے جائیں ۔
پاکستان و افغانستان کے درمیان بہتر اور مثبت تعلقات خطے میں پائیدار امن کیلئے لازم ہیں۔
سوشل میڈیا پر تاحال معاملے کو ہوا دی جا رہی ہے،ملک کا امیج خراب کرنے والے عناصر کی نشاندہی ضروری ہے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے غزنی کے واقعات پر دفتر خارجہ کی جانب سے وضاحت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر تاحال اس ھوالے سے جو پیغامات چل رہے ہیں ان کی مذید تحقیقات بھی ہونی چاہئے،اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی لاشیں پاکستان لا کر دفنانے کی نشاندہی اور اس بارے استفسار ہمارا حق تھا اس سے قوم میں خدشات اور تحفظات جنم لے رہے تھے جبکہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر خاموشی نے بھی کئی سوالات کو جنم دیا ، انہوں نے کہا کہ وضاحت کے بعد دھول چھٹتی نظر آ رہی ہے تاہم اگر اس قسم کے واقعات میں اگر کوئی حقیقت ہے تویہ انتہائی قابل افسوس ہے اور ملک کے مفادات کے خلاف ہے اور اگر یہ جھوٹ ہے تو ایسے عناصر کی نشاندہی بھی ضروری ہے جو دونوں ملکوں کے درمیانغلط فہمیاں اور نفرت پیدا کرنے کی مذموم کوشش میں مصروف ہیں اور کون سے عناصر ایسی ویڈیوز کے ذریعے ملک کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں، میاں افتخار حسین نے کہا کہ حقائق تاحال سامنے نہیں آئے اس قسم کے واقعات کی روک تھام انتہائی ضروری ہے اور پاکستان و افغانستان کے درمیان بہتر اور مثبت تعلقات خطے میں پائیدار امن کیلئے لازم ہیں،انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان مزید غلط فہمیوں سے قیام امن کیلئے کی جانے والی کوششوں کو نقصان پہنچے گا جبکہ دیگر ممالک بھی ان غلط فہمیوں کا فائدہ اٹھا کر اپنے مقاصد کیلئے استعمال کر سکتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنا ہوں گے اور صرف اسی صورت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے ، انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان مل کر دہشت گردی کے خلاف لائحہ عمل اپنائیں،میاں افتخار حسین نے کہا کہ پاکستان کا وقار کسی صورت داؤ پر نہیں لگنا چاہئے ،انہوں نے کہا کہ دہچت گردی دنیا کے کسی بھی خطے میں ہو ہم اس کی مذمت کرتے ہیں اور متذکرہ بالا واقعات سے بیرونی دنیا میں ملک کا امیج خراب کرنے کی کوشش تھی ،انہوں نے اس حوالے سے مزید تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ قوم کو اصل حقائق سے آگاہ کیا جائے۔

تین بار عدالتی بنچ کا ٹوٹنا فوری اور جلد انصاف کے دعوؤں کی نفی ہے، زاہد خان

 August-2018  Comments Off on تین بار عدالتی بنچ کا ٹوٹنا فوری اور جلد انصاف کے دعوؤں کی نفی ہے، زاہد خان
Aug 172018
 

تین بار عدالتی بنچ کا ٹوٹنا فوری اور جلد انصاف کے دعوؤں کی نفی ہے، زاہد خان

قانون سے کوئی بھی شخص بالاتر نہیں،عمران خان نااہلی کیس مکمل کر کے اس کا واضح فیصلہ آنا چاہئے تھا ۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان زاہد خان نے عمران خان نااہلی کیس سے متعلق عدالتی بنچ ٹوٹنے پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کیس مکمل کر کے اس کا واضح فیصلہ آنا چاہئے تھا ،عدالتی بنچ کا ٹوٹنا فوری اور جلد انصاف کے دعوؤں کی نفی ہے ، انہوں نے کہا کہ قانون سے کوئی بھی شخص بالاتر نہیں اور ہر شہری پر ملک کا قانون لاگو ہوتا ہے ، انہوں نے کہا کہ ملک میں بالا دست با اثر اور مظلوم و بے سہاروں کے لئے قانون کے الگ الگ پیمانے ہیں جنہیں فوری طور پرختم ہونا چاہئے اور آزاد عدلیہ کا جو تاثر قائم تھا اب بھی اسے برقرار رہنا چاہئے ،زاہد خان نے کہا کہ اس حوالے سے جلد از جلد بنچ قائم کر کے فیصلہ سنایا جائے ،انہوں نے کہا کہ صرف ایک کیس سے متعلق تین بار عدالتی بنچ کا ٹوٹنا سوالیہ نشان ہے ۔

MNAs 2018

 MNAs  Comments Off on MNAs 2018
Aug 172018
 

1- Amir Haider Khan Hoti

Provincial President of ANP Pakhtunkhwa based in Mardan

پاکستان افغانستان میں ہونے والے واقعات کی تحقیقات میں مدد دے

 August-2018  Comments Off on پاکستان افغانستان میں ہونے والے واقعات کی تحقیقات میں مدد دے
Aug 162018
 

پاکستان افغانستان میں ہونے والے واقعات کی تحقیقات میں مدد دے، میاں افتخارحسین
کابل اور غزنی کے واقعات سے خود پاکستان کا امیج داوپر لگ چکا ہے، حکومت واقعات کی مذمت کرے۔
سوشل میڈیا پروائرل تصاویر پر قومی میڈیا کی خاموشی معنی خیز ہے۔
افغانستان سے دہشت گردوں کی لاشیں پاکستان میں کون لاکر دفنا رہا ہے۔
پاکستان کی حکومت قوم کو اعتماد میں لے اور اپنی پوزیشن واضح کرکے پاک افغان تعلقات کو بچائے۔
دہشت گردی کی اس لہر میں معصوم طلباء وطالبات کی شہادت نیگ شگون ہرگز نہیں ہے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ کابل میں ہونے والے انوکھے اور اندوہناک واقعے سے ایک دنیا سوچ میں پڑگئی ہے کہ آگے جاکر اس خطے میں دہشت گردی کی نئی لہر کیا شکل اختیار کرنے والی ہے۔ مذکورہ واقعہ میں اسکول کے طلباء وطالبات کو جس بے دردی سے شکار بنادیا گیا، اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے، کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان سرکاری طور پر کابل اور غزنی میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات پربھی اپنی پوزیشن واضح کرکے قوم کو اعتماد میں لے اور ان واقعات کی پرزور مذمت کرینے کے ساتھ ساتھ ن واقعات کی تحقیقات میں افغان حکومت سے تعاون کرنے کیلئے اپنے ہاتھ بڑھائے تاکہ اس نازک وقت میں پاک افغان تعلقات کو خراب ہونے سے بچایا جاسکے اور بین الاقوامی دنیا میں پاکستان کو بدنام کرنے کی کوششوں کی روک تھام ممکن ہو۔

میاں افتخارحسین کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر سرحدپار ہلاک ہونے والوں کی تصاویر اور تعداد شئیر کی جارہی ہیں جنہیں پاکستان لاکر دفنایا جارہا ہے مگر پاکستان کی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا اس بارے میں خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے اور اس عمل کے نتیجے میں ریاست پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ بری طرح مجروح ہورہی ہے اور مختلف قسم کے سوالات اٹھ رہے ہیں کہ یہ دہشت گرد کس طرح افغانستان گئے اور دہشت گردی کے واقعات میں کاونٹر اٹیک کے نتیجے میں ہلاکت کے بعد انہیں کیسے پاکستان کی سرزمین پر واپس لانے دیا گیا؟ میاں افتخارحسین نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پاک افغان مفاہمت پروان چڑھے اور اس کیلئے ضروری ہے کہ ان واقعات کی بابت پاکستان افغان حکومت کے ساتھ تحقیقات میں مکمل تعاون کرے کہ پاکستانی شہری کیونکر افغان سرزمین پر لڑنے گئیں اور ان کی لاشیں کس نے واپس آنے دیں؟

انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کا مقصد یہی تھا کہ خطے میں دہشت گردی کا قلع قمع کیا جاسکے مگر شائد مذکورہ پلان کی ترجیحات بدل گئیں۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ دنیا میں پختونوں کا خون پانی کی طرح بہایا جارہا ہے اور اس کی روک تھام کیلئے کوئی سنجیدہ اقدامات نظر نہیں آرہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ پختون اپن حالت پر خود رحم کریں اور اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی موجودہ حالت پر غور کریں ۔