Charwak

ملاکنڈ تھری ہائیڈرو پاور پلانٹ کے کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کیا جائے، سردار حسین بابک

 Nov2017  Comments Off on ملاکنڈ تھری ہائیڈرو پاور پلانٹ کے کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کیا جائے، سردار حسین بابک
Nov 212017
 

ملاکنڈ تھری ہائیڈرو پاور پلانٹ کے کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کیا جائے، سردار حسین بابک

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نجکاری کے عمل کی حوصلہ شکنی کر کے ملاکنڈتھری ہائیڈرو پاور پلانٹ کے کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کیا جائے،اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ 81میگاواٹ بجلی پیدا کرنے والا بجلی گھر ماہانہ20کروڑ روپے آمدن دے رہا ہے جبکہ اب تک صوبے کو 20 ارب سے زائد کا ریونیو دے چکا ہے ، انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے غلط حکمت عملی اور پیڈو کی عدم توجہی کی وجہ سے یہ بجلی گھر ابھی تک اپنا پیداواری ہدف حاصل نہیں کر سکا ،انہوں نے کہا کہ پیڈو ہی کی عدم دلچسپی کے باعث یہ بڑا بجلی گھر محکمہ کی بجائے ٹھیکیدار کے ذریعے چلایا جا رہا ہے جو انتہائی افسوسناک پہلو ہے،اور یہی وجہ ہے کہ پاور پلانٹ کی مشینری کا معیار اور کارکردگی پر برا اثر پڑا ہے، سردار حسین بابک نے کہا کہ ٹھیکیدار پلانٹ کی مناسب دیکھ بھال اور مرمت نہیں کر پا رہا جس کی وجہ سے پیداوار میں اضافے کی بجائے کمی واقع ہو رہی ہے اور اس بڑے بجلی گھر کی سالانہ مرمت پانچ سال کیلئے تقریباً 72کروڑ روپے کا ٹھیکہ دی اگیا ہے تاہم محکمہ اگر خود اس پاور پلانٹ کو چلائے تو50فیصد کم اخراجات سے بہترین پیداواری صلاحیت اور مشینری کی مرمت ہو سکتی ہے ، انہوں نے کہا کہ اس پاور پلانٹ میں 230کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کر کے ان کی پیشہ ورانہ مہارت سے نہ صرف استفادہ کیا جا سکتا ہے بلکہ صوبے میں موجود دیگر اور نئے بننے والے بجلی منصوبوں میں بھی کام لیا جا سکتا ہے،انہوں نے کہا کہ بجلی پیداوار ہمارے صوبے کا بڑا اور مستقل ذریعہ آمدن ہے لیکن بدقسمتی سے حکومت کی عدم دلچسپی کے باعث نہ صرف پیداوار میں کمی آئی ہے بلکہ پلانٹ کی مشینری بری طرح متاثر ہو رہی ہے،انہوں نے کہا کہ حکومت ہوش کے ناخن لے اور نجکاری کے عمل کو ترک کر کے پیڈو کے ذریعے اس پیداواری عمل کو آگے بڑھائے تا کہ آئندہ کیلئے صوبہ اپنے پاؤں پر کھرا ہو سکے اور پیداوار و آمدن میں اضافہ سے صوبہ ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔

اے این پی نے قومی و صوبائی اسمبلی کے مزید حلقوں کیلئے امیدواروں کا اعلان کر دیا

 Nov2017  Comments Off on اے این پی نے قومی و صوبائی اسمبلی کے مزید حلقوں کیلئے امیدواروں کا اعلان کر دیا
Nov 202017
 

اے این پی نے قومی و صوبائی اسمبلی کے مزید حلقوں کیلئے امیدواروں کا اعلان کر دیا۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی بورڈ کے چیئرمین امیر حیدر خان ہوتی نے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی 10نشستوں کیلئے ٹکٹ دینے کا اعلان کر دیا ، اس حوالے سے پارلیمانی بورڈ کا اہم اجلاس باچا خان مرکز میں امیر حیدر خان ہوتی کی زیر صدارت منعقد ہوا ، سیکرٹری سردار حسین بابک ، اور بورڈ کے ممبران ایمل ولی خان اور خورشید خٹک نے بھی اجلاس میں شرکت کی ، اجلاس میں متفقہ طور پر این اے33اپر دیر کیلئے ملک عمران کو ٹکٹ دینے کا اعلان کر دیا گیا ، اسی طرح صوبائی اسمبلی کی10نشستوں دیر لوئر پی کے94کیلئے انجینئر مختیار ،پی کے96نعیم جان، پی کے97سے حسین شاہ یوسفزئی،ملاکنڈ پی کے98شفیع اللہ خان ، پی کے99اعجاز علی خان ،صوابی پی کے31گل زمین شاہ خان ، پی کے33 محمد ایاز خان ،پی کے34انجینئر امجد علی خان اور پی کے35 سے محمد اسلام خان جبکہ سوات کے حلقہ پی کے80سے واجد علی خان کو ٹکٹ دینے کا اعلان کر دیا گیا۔

وزیر اعلیٰ تیسری قوت کی وضاحت کریں، اسمبلیاں توڑنے کی باتیں جمہوریت کے خلاف سازش ہیں

 Nov2017  Comments Off on وزیر اعلیٰ تیسری قوت کی وضاحت کریں، اسمبلیاں توڑنے کی باتیں جمہوریت کے خلاف سازش ہیں
Nov 202017
 

20.11.2017

وزیر اعلیٰ تیسری قوت کی وضاحت کریں، اسمبلیاں توڑنے کی باتیں جمہوریت کے خلاف سازش ہیں، امیر حیدر خان ہوتی

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ اسمبلیاں تحلیل کرنے کا مطالبہ کرنے والے پشاور ریپڈ بس منصوبہ سے راہ فرار اختیار کرنا چاہتے ہیں اور وزیر اعلیٰ وضاحت کریں کہ جس تیسری قوت کے حوالے سے انہیں خدشات ہیں وہ تیسری قوت کون ہے، باچا خان مرکز میں سٹی ڈسٹرکٹ کے زیر اہتمام حاجی محمد عدیل کی پہلی برسی کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے کو ملنے والے اختیارات اور شناخت کا سہرا حاجی محمد عدیل کے سر ہے ، انہوں نے مرحوم کی قربانیوں اور ان کی شاندار خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ اٹھارویں ترمیم اور صوبے کے نام و مختلف مقامات کو باچا خان کے نام سے منسوب کرنے کا کریڈٹ حاجی محمد عدیل کو جاتا ہے ،تقریب سے صوبائی سینئر نائب صدر سید عاقل شاہ ،سٹی ڈسٹرکٹ کے صدر ملک غلام مصطفی ،جنرل سیکرٹری سرتاج خان اور مرحوم حاجی محمد عدیل کے فرزند عدنان جلیل نے بھی خطاب کیا، امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ اے این پی کے دور حکومت میں مرحوم کی کاوشوں سے صوبے کو بجلی کے بقایاجات کی مد میں 110ارب روپے ملے جبکہ آج صوبے کے وزیر اعلیٰ صرف10ارب کے حصول کیلئے دھرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ حاجی محمد عدیل کو باچا خان بابا ، ولی خان اور اسفندیار ولی خان کا اعتماد حاصل تھا اور یہ مقام انہیں اپنی قابلیت کی بنیاد پر ملا تھا ،انہوں نے کہا کہ آج نوجوان نسل کو حاجی محمد عدیل کے نقش قدم پر چلنے کی ضرورت ہے، صوبے کی مجموعی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ اسمبلیاں توڑنے کی باتیں جمہوریت کے خلاف سازش ہیں لیکن پاکستان میں جمہوریت کے علاوہ کوئی دوسرا نظام نہیں چل سکتا، انہوں نے کہا کہ امپائر کی انگلی اٹھنے کا انتظار کرنے والے اب تیسری قوت کا راگ الاپ رہے ہیں ، انہوں نے استفسار کیا کہ اگر وزیر اعلیٰ اسمبلیاں توڑ کر قبل از وقت انتخابات چاہتے ہیں تو وہ قوم کو بتائیں کہ آخری چھ ماہ میں شروع کئے جانے والے منصوبے کون مکمل کرے گا،انہوں نے کہا کہ پشاور میٹرو در اصل سیاسی رشوت کی خاطر ساڑھے چار سال تک روکے رکھا گیا ،انہوں نے کہا کہ تمام حکومتیں اپنی مدت پوری کریں اور وقت پر انتخابات کا انعقاد ہی ملک کے مفاد میں ہے ، انہوں نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ الیکشن کے حوالے سے اپنی تیاریاں جاری رکھیں ، ٹکٹوں کی تقسیم سے متعلق امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ اے این پی جمہوری پارٹی ہے اور اس میں سب سے زیادہ کارکنوں کو عزت دی جاتی ہے ، انہوں نے کہا کہ پشاور کے بعض حلقوں کیلئے امیدواروں کا اعلان ماہ دسمبر میں کر دیا جائے گا، جبکہ جنوری کے اوائل میں یہ کام مکمل کر لیا جائے گا ، انہوں نے کہا کہ این اے4میں جس طرح جنات نے ووٹ پول کئے آئندہ الیکشن میں ایسا نہیں ہوگا اور اے این پی بھاری اکثریت سے کامیاب ہو گی ۔

عمران خان چور دروازے سے اقتدار چاہتے ہیں، اسمبلیاں توڑنے کا مطالبہ سازش کا حصہ ہے

 Nov2017  Comments Off on عمران خان چور دروازے سے اقتدار چاہتے ہیں، اسمبلیاں توڑنے کا مطالبہ سازش کا حصہ ہے
Nov 182017
 

عمران خان چور دروازے سے اقتدار چاہتے ہیں، اسمبلیاں توڑنے کا مطالبہ سازش کا حصہ ہے،میاں افتخار حسین
 
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ عمران خان چور دروازے سے اقتدار میں آنے کی مذموم کوشش کبھی کامیاب نہیں ہوگی ، وزیر اعلیٰ کی طرف سے اسمبلیاں توڑنے کا مطالبہ اپنی حکومت کی ناکامی پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش ہے ، سوشل میڈیا پارٹی کی طرف سے قبل از وقت انتخابات کی باتیں صوبے کو نئی حلقہ بندیوں کی صورت میں ملنے والی 5اضافی نشستوں کے خلاف سازش کا حصہ ہیں ، پی ٹی آئی پرانی حلقہ بندیوں پر انتخاب چاہتی ہے لیکن ان کی خواہش سے صوبے کو نقصان ہو گا، ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے ترخہ اکبر پورہ میں ایک بڑے شمولیتی اجتماع عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر پی ٹی آئی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں سمیت سینکڑوں کارکنوں نے اپنے خاندانوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ، میاں افتخار حسین نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارکباد پیش کی ،اپنے خطاب میں میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ ملک میں جمہوریت ڈی ریل کرنے والوں میں عمران خان سرفہرست ہے لیکن انہیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ اگر ملک میں جمہوریت کو نقصان ہوا تو ڈوبتی ناؤ میں صرف کپتان ہی ڈوبیں گے، انہوں نے کہا کہ جموریت کا تقاضا ہے کہ تمام حکومتیں اپنی معیاد پوری کریں ہم نے تحفظات کے باوجود صوبے میں پی ٹی آئی کا مینڈیٹ تسلیم کیا لہٰذا مسلم لیگ کو بھی اپنی مدت پوری کرنی چاہئے ، انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں پاکستان کو جمہوریت کی بقا کی اشد ضرورت ہے اور اسے ناکام بنانے والے ملک کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے ، ملکی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عدالت نے جس طرح نواز شریف کو نا اہل کیا اور ان کی پارٹی نے ترمیم کے ذریعے نواز شریف کو پارٹی صدر منتخب کیا اس اقدام سے اداروں کے درمیان ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہوئی انہوں نے کہا کہ کچھ جماعتیں انتخابات کا التوا بھی چاہتی ہیں ، الیکشن لیٹ ہوئے تو قومی حکومت یا ٹیکنو کریٹ حکومت بنائی جائے گی جس کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں انہوں نے کہا کہ انتخابات کا التواء ملک کیلئے نقصان دہ ہوگا،تمام حکومتوں کو اپنی مقررہ مدت پوری کرنی چاہئے اور اپنے وقت پر الیکشن کا انعقاد ہی ملک و قوم کے مفاد میں ہے،انہوں نے کہا کہ نواز شریف صبر وتحمل کا مظاہرہ کریں ،اور اداروں کے درمیان ٹکراؤ کی پالیسی سے گریز کریں،اداروں کے درمیان ٹکراؤ سے نقصان صرف ملک کو ہو گا۔میاں افتخار حسین نے بین الاقوامی صورتحال کے تناظر میں دیرپا قیام امن کیلئے مذاکرات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے اور خطے کے تمام ممالک اپنے مسائل باہمی افہام و تفہیم کے ساتھ حل کریں، انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بد اعتمادی کی فضاء کے خاتمے کیلئے مذاکرات بہترین آپشن ہیں اور افہام و تفہیم سے ہی مسائل حل کئے جا سکتے ہیں ، دہشت گردی کیخلاف جنگ ہماری آئندہ نسلوں کی بقاء کی جنگ ہے جسے ہر قیمت پر جیتنا ہے اور اس کے سوا کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ موجودہ حالات میں امن پسند قوتیں اس مخصوص صورتحال کا ادراک کریں ورنہ بے توجہی تیسری عالمی جنگ کا باعث بن سکتی ہے ، انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان اپنی پالیسیاں سپر پاورز کی بجائے قومی مفاد میں بنائیں ، فاٹا کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فاٹا اصلاحات پر عملدرآمد کی بازگشت کے بعد پھر سے خاموشی چھا گئی ہے جس سے قبائلی عوام میں سخت مایوسی اور بے چینی نے جنم لیا ہے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی قبائلی عوام کے حق کیلئے جائز مظالبے سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور صرف انضام ہی واحد راستہ ہے جس سے قبائلی عوام کو حق خود ارادیت بہتر انداز میں دیا جا سکتا ہے،صوبے کی مجموعی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا مالیاتی اداروں کے پاس گروی ہے اور صوبے کے معاملات چلانے کیلئے حکومت کے پاس کچھ بھی نہیں ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ساڑھے چار سال تک میٹرو کو جنگلہ بس کہنے والے آج اسی منصوبے کو سیاسی رشوت کے استعمال کیلئے استعمال کرنے میں لگ گئے ہیں ، حکومتی خزانہ لوٹ کر بیرونی دنیا سے جو قرضہ لیا گیا ہے اسے چکانے کیلئے آنے والی حکومتوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنے پڑے گا، انہوں نے کہا کہ اے این پی عوام کی نمائندہ جماعت ہے اور آئے روز ہونے والی شمولیتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ لوگ اب تبدیلی کی ہوا سے متنفر ہو چکے ہیں انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ الیکشن کیلئے بھرپور تیاریوں کا آغاز کریں

پنجاب کو پاکستان تصور کرنے کا تاثر ختم ہو نا چاہئے،اسفندیار ولی خان 

 Nov2017  Comments Off on پنجاب کو پاکستان تصور کرنے کا تاثر ختم ہو نا چاہئے،اسفندیار ولی خان 
Nov 182017
 

اتمانزئی جلسہ

پنجاب کو پاکستان تصور کرنے کا تاثر ختم ہو نا چاہئے،کپتان نے گالی کی سیاست کو فروغ دیا،اسفندیار ولی خان 

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ پنجاب کو پاکستان اور پاکستان کو پنجاب تصور کرنے کا تاثر ختم ہو نا چاہئے ،خاقان عباسی فاٹا ، پختونخوا سندھ اور بلوچستان کے بھی وزیر اعظم ہیں، سی پیک اور فاٹا پر ہمارے ساتھ کئے گئے وعدے پورے نہیں کئے گئے اور مغربی اکنامک کوریڈور کے نام پر ہمیں صرف ایک سڑک دی جا رہی ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کے18اتمانزئی چارسدہ میں ایک بڑے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،اے این پی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے بھی کنونشن سے خطاب کیا جبکہ صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان سمیت تمام صوبائی و مرکزی قائدین اس موقع پر موجود تھے ، اسفندیار ولی خان نے عمران خان کے مطالبے اور ان کی طرز سیاست کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کرکٹر نے ساری حدیں پار کرکے سیاست سے شائستگی ختم کردی ہے اور گالیوں کی سیاست کو پروان چڑھایا ہے ،انہوں نے کہا کہ جس پارٹی کا سربراہ سیاست کی الف ب نہیں جانتا وہ اپنے کارکنوں کو کیا سبق دے گا ، تمام سیاسی رہنماؤں کو گالیاں دینے والا کپتان ملکی سیاست میں ایک افسوسناک اضافہ ہے، انہوں نے کہا کہ صوبے میں کرپشن عروج پر ہے اور جو وزیر کسی پر الزام لگائے اسے پارٹی سے فارغ کر دیا جاتا ہے ، عائشہ گلالئی کے بعد اب داور کنڈی کو بھی پارٹی سے فارغ کر دیا گیا اگر کپتان سچا ہے تو اپنا موبائیل تحقیقات کیلئے پیش کر دے،انہوں نے کہا کہ باقی لوگوں میں وراثت میں جائیدادیں اور بینک بیلنس جبکہ ہم سرخ پوش کارکنوں کوباچا خان کا نظریہ ورثے میں ملتا ہے، انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال انتہائی نازک ہے ماضی میں جب باچا خان اور ولی خان نے کہا کہ یہ جہاد نہیں فساد ہے تو ان پر طرح طرح کے الزامات لگائے گئے جبکہ آج پوری دنیا ان کی باتوں کی تقلید کر رہی ہے اور آپریشن رد الفساد کے بعد تو اس بات کو سب سے زیادہ تقویت ملی،فاٹا کا ذکر کرتے ہوئے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ فاٹا کو فی الفور صوبے میں ضم کیا جائے اور آئندہ الیکشن میں انہیں صوبائی اسمبلی میں نمائندگی بھی دی جائے ، انہوں نے تجویز پیش کی کہ ایک ایسی ترمیم بھی لائی جائے جس کے ذریعے صوبائی کابینہ میں فاٹا کے صوبائی وزراء کی تعداد کا تعین ہو ،انہوں نے کہا کہ قبائل کو صوبے کا حصہ بنا کر حقیقت میں انہیں یہ احساس دلایا جائے کہ وہ ہمارے بھائی ہیں،انہوں نے مطالبہ کیا کہ فاٹا کو انضمام کے ساتھ ساتھدائرہ اختیار پشاور ہائیکورٹ تک بڑھایاجائے ،کیونکہ اسلام آباد ہائیکورٹ تک دائرہ اختیار کسی کیلئے بھی قابل قبول نہیں انہوں نے کہا کہ فاٹا کو خیبرپختونخوا میں شامل کرنے کے بعد شمالی اور جنوبی پشتونوں کی ایک ملی وحدت بنائیں گے جس کے بعد ہماری آبادی پنجاب سے زیادہ ہوگی اور ہم ترقی کریں گے ، فاٹا انضمام کی مخالفت کرنے والے صرف دو پشتون رہنماء ہیں جن کے پاس کوئی دلیل اور کوئی منطق نہیں ایک رہنماء انضمام کو امریکی ایجنڈا کہتا ہے اور پھر انضمام کی حامی جماعت کے ساتھ ایم ایم اے کی بحالی چاہتا ہے اور دوسرا سیاسی رہنماء جو پشتونوں کی وحدت کے نعرے لگاتا تھا آج جب پشتونوں کے درمیان لکیریں مٹ رہی ہیں تو یہ ان کی مخالفت کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک مذہبی اور دوسری قوم پرست جماعت کے رہنما نجانے کیسے انگریز کی کھینچی گئی لکیر کے وارث بن بیٹھے ہیں ،انہوں نے شاہد خاقان عباسی سے درخواست کی سابق وزیراعظم نواز شریف نے سی پیک منصوبے میں ہمارے ساتھ جو وعدے کئے ان کی پاسداری کیلئے اقدامات کریں،ہمیں سی پیک میں صرف ایک سڑک دی جا رہی ہے حالانکہ یہ دہشت گردی سے متاثرہ پختونوں کی ترقی کا منصوبہ مکمل پیکج کی شکل میں ہے ، بین الاقوامی صورتحال کے حوالے سے انہوں نے دیرپا قیام امن کیلئے مذاکرات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے اور خطے کے تمام ممالک اپنے مسائل باہمی افہام و تفہیم کے ساتھ حل کریں، پاکستان اور افغانستان کے درمیان بد اعتمادی کی فضاء کے خاتمے کیلئے مذاکرات بہترین آپشن ہیں اور افہام و تفہیم سے ہی مسائل حل کئے جا سکتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان اپنے مسائل باہم مذاکرات کے ذریعے حل کریں اور بد اعتمادی کی فضا کے خاتمے کیلئے مل جل کر کام کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ تمام پختونوں کی کامیابی کا راز آپس کے اتحاد و اتفاق میں مضمر ہے لہٰذا تمام پختون اے این پی کے سرخ جھنڈے تلے متحد ہو جائین انہوں نے کارکنوں سے کہا کہ وہ الیکشن کیلئے تیاری کریں کیونکہ مستقبل اے این پی کا ہے۔

حکومتیں اپنی مدت پوری کریں، انتخابات کا التواء ملک کیلئے نقصان دہ ہوگا

 Nov2017  Comments Off on حکومتیں اپنی مدت پوری کریں، انتخابات کا التواء ملک کیلئے نقصان دہ ہوگا
Nov 152017
 

حکومتیں اپنی مدت پوری کریں، انتخابات کا التواء ملک کیلئے نقصان دہ ہوگا، سردار حسین بابک

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے عمران خان کے قبل از وقت انتخابات کے مطالبے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کپتان نے ہمیشہ صوبے کے حقوق غصب کرنے کی بات کی ہے اور آج بھی جب صوبے کو نئی حلقہ بندیوں کے ذریعے 5اضافی سیٹیں ملنے کی امید پیدا ہوئی ہے تو عمران خان اسے بھی سبوتاژ کرنے کے درپے ہیں ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ قبل از وقت انتخابات کی باتیں صوبے کو نئی حلقہ بندیوں کی صورت میں ملنے والی 5اضافی نشستوں کے خلاف سازش کا حصہ ہیں ، پی ٹی آئی پرانی حلقہ بندیوں پر انتخاب چاہتی ہے لیکن ان کی خواہش سے صوبے کو نقصان ہو گا، انہوں نے کہا کہ آئندہ الیکشن کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتیں چہ میگوئیوں میں مصروف ہیں اور اب تو پیپلز پارٹی نے بھی پینترا بدل دیا ہے ، جبکہ کچھ جماعتیں انتخابات کا التوا بھی چاہتی ہیں ، انہوں نے کہا کہ الیکشن لیٹ ہوئے تو اس کے نتیجے میں بننے والی قومی حکومت یا ٹیکنو کریٹ حکومت کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں انہوں نے کہا کہ انتخابات کا التواء ملک کیلئے نقصان دہ ہوگا،تمام حکومتوں کو اپنی مقررہ مدت پوری کرنی چاہئے اور اپنے وقت پر الیکشن کا انعقاد ہی ملک و قوم کے مفاد میں ہے،انہوں نے کہا کہ نواز شریف صبر وتحمل کا مظاہرہ کریں ،اور اداروں کے درمیان ٹکراؤ کی پالیسی سے گریز کریں،اداروں کے درمیان ٹکراؤ سے نقصان صرف ملک کو ہو گا،انہوں نے کہا کہ صوبے کے حکمران اپنے ہی صوبے کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں اور عمران خان وزارت عظمی تک جلد از جلد پہنچنے کی خواہش میں آئین تک کو روندنے پر تُلے ہوئے ہیں،سردار بابک نے کہا کہ ملک کسی غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا ، جمہوریت کی بقاء کیلئے سب کو مدبرانہ سوچ اپنانا ہو گی ، انہوں نے کہا کہ اے این پی نے ہمیشہ جمہوریت کی بقا کیلئے قربانی دی ہے اور کبھی کسی غیر آئینی قوت کے سامنے سر نہیں جھکایا اور اب بھی ہم جمہوریت کے ساتھ ہیں جمہوریت ڈی ریل ہوئی تو ملک و قوم دونوں کو نقصان ہوگا، انہوں نے کہا کہ ہم نے ہزار تحفظات کے باوجود جمہوریت کی بقاء کیلئے خیبر پختونخوا حکومت کا مینڈیٹ تسلیم کیا لہٰذا خیبر پختونخوا سمیت منتخب ہونے والی حکومتوں کو اپنی مدت پوری کرنی چاہئے ،انہوں نے کہا کہ عمران خان کے ہاتھ میں وزارت عظمی کی لکیر ہی نہیں ہے ، انہوں نے کہا کہ سیاستدان صورتحال کا ادراک کریں اور غیرضروری خواہشات کی تکمیل کیلئے آئین کو پاؤں تلے روندنے سے باز رہیں ۔

قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ سازش ہے جسے ہم ناکام بنائیں گے

 Nov2017  Comments Off on قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ سازش ہے جسے ہم ناکام بنائیں گے
Nov 142017
 

چمن جلسہ

چمن (پ ر )عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے عمران خان کے مطالبے اور ان کی طرز سیاست کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کرکٹر نے ساری حدیں پار کرکے سیاست سے شائستگی ختم کردی ہے اور گالیوں کی سیاست کو پروان چڑھایا ہے ، باقی لوگوں میں وراثت میں جائیدادیں اور بینک بیلنس جبکہ ہم سرخ پوش کارکنوں کو نظریہ ورثے میں ملتا ہے فاٹا کو خیبرپشتونخوا میں شامل کرنے کے بعد پشتونوں کی ایک ملی وحدت بنائیں گے جس میں ہماری ا?بادی پنجاب سے زیادہ ہوگی اور ہم ترقی کریں گے ، فاٹا انضمام کی مخالفت کرنے والے صرف دو پشتون رہنماء ہیں جن کے پاس کوئی دلیل اور کوئی منطق نہیں ایک رہنماء انضمام کو امریکی ایجنڈا کہتا ہے اور پھر انضمام کی حامی جماعت کے ساتھ ایم ایم اے کی بحالی چاہتا ہے اور دوسرا سیاسی رہنماء جو پشتونوں کی وحدت کے نعرے لگاتا تھا آج جب پشتونوں کے درمیان لکیریں مٹ رہی ہیں تو یہ ان کی مخالفت کررہے ہیں۔سابق وزیراعظم نواز شریف نے سی پیک منصوبے میں ہمارے ساتھ جو وعدے کئے ان کی پاسداری نہیں کی ان کے پشتون اتحادی اس پر خاموش ہیں۔ہمیں اپنی منزل معلوم ہے اور اس کا راستہ فخر افغان باچاخان نے بتادیا ہے۔ وہ پیر کو چمن کے ہائی سکول گراؤنڈ میں شہید حاجی جیلانی خان اچکزئی کی ساتویں برسی کے موقع پر منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے۔ جلسہ عام سے اے این پی کے صوبائی صدر اصغرخان اچکزئی ، پارلیمانی لیڈر انجینئر زمرک خان اچکزئی ، صوبائی جنرل سیکرٹری حاجی نظام الدین کاکڑ ، ضلع قلعہ عبداللہ کے صدر اسد خان اچکزئی ،تحصیل صدر گل باران افغان ، ڈاکٹر صوفی اکبر کاکڑ نے بھی خطاب کیا۔ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے اسفندیا رولی خان نے شہید جیلانی خان اچکزئی کو ان کی ساتویں برسی پر بھرپور خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید جیلانی خان نے اس وطن کی خاطر قربانی دی اور ہمیں اپنے ان شہداء پر فخر ہے ہمیں اپنی منزل معلوم ہے اور اس کا راستہ فخر افغان باچاخان نے بتایا ہے ہمارا یہ جو سرخ جھنڈا ہے اس کا رنگ ویسے سرخ نہیں ہے بلکہ یہ قصہ خوانی ، بنوں ،ٹکراور بابڑہ سمیت ان تمام پشتون شہداء کے خون سے بنا ہے جو پشتون وطن کے لئے قربانیاں دیں اور شہید ہوئے۔ان میں سب سے بڑھ کر اور ظلم کیا ہوسکتا ہے کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والے اس ملک میں جمعہ نماز کے لئے جانے والوں پر گولیاں برسائی گئیں اور چھ سو لوگوں کو شہید کردیاگیا ہمیں فخر ہے کہ شہداء کی قربانیاں وسیاست اور باچاخان کی فکر و ان کا نظریہ ہمیں ورثے میں ملا ہے۔دوسرے لوگوں کو وراثت میں جائیدادیں اور بینک بیلنس ملتا ہے جبکہ ہمارے سرخ پوش پشتون قوم پرست کارکنوں کو نظریہ ، فکر اورباچاخان کا فلسفہ ورثے میں ملتا ہے،

Continue reading »