کارخانو مارکیٹ میں نام نہاد ٹیکسوں کی وصولی حکمرانوں کو بھاری پڑے گی،سردار حسین بابک

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے خیبر پختونخوا کے بڑے تجارتی مرکز کارخانو مارکیٹ میں تاجروں کو ٹیکسوں کے نام پر ہراساں کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کاروباری طبقے کو سہولیات کی فراہمی کی بجائے ان کا روزگار بند کرنے سے گریز کرے ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ آئے روز مارکیٹوں پر چھاپے مار کر تاجروں کو ہراساں کرنا کون سی تبدیلی کے زمرے میں آتا ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے نئے ٹیکسوں کے نفاذ، موجودہ ٹیکسوں میں اضافہ اور بی آ ر ٹی جیسے غیر ضروری منصوبے کی وجہ سے پشاور کے باسیوں کا روزگار تقریباً ختم کر کے رکھ دیا ہے اور عوام اب دو وقت کی روٹی کو بھی ترس گئے ہیں ، سردار حسین بابک نے کہا کہ حکمران ہوش کے ناخن لیں اور کاروباری طبقے کو بلا واسطہ صوبے سے نکلنے پر مجبور نہ کریں ،انہوں نے استفسار کیا کہ حکومت کارخانو مارکیٹ میں آئے روز زبردستی کاروباری سرگرمیاں بند کر کے کیا پیغام دینا چاہتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی وجہ سے تباہ حال صوبے میں تجارتی اور کاروباری سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں اور اب اس پر حکمرانوں کے ظلم و ستم نے عام تاجر کو بھی اپنے مستقبل بارے سوچنے پر مجبور کر دیا ہے، صوبائی جنرل سیکرٹری نے مزید کہا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ اور ممکنہ نئے منی بجٹ کے بعد کاروباری طبقہ ذہنی کرب میں مبتلا ہے لہٰذا حکومت کاروباری سعبے کی حوصلہ افزائی کی بجائے ان کی سرگرمیاں ختم کرنے سے گریز کرے۔

Facebook Comments