جمہوریت یرغمال ہو چکی ہے، خواتین اپنے حقوق کیلئے درست پلیٹ فارم کا انتخاب کریں، میاں افتخار حسین


پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ملک میں جمہوریت یرغمال ہو چکی ہے اور نام نہاد جمہوریت کی آڑ میں سول مارشل لاء نافذ ہے، خواتین کو اپنے حقوق کے حصول کیلئے بہتر پلیٹ فارم کا انتخاب کرنا ہو گا،ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد کے ایک نجی ہوٹل میں منعقدہ خواتین کی معاشرے میں شراکت داری کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،اس موقع پر پنجاب کے صدر منظور احمد اور دیگر رہنما بھی موجود تھے ، میاں فتخار حسین نے کہا کہ خواتین کے حقوق کیلئے کی جانے والی جدوجہد خوش آئند ہے تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر کوئی ٹھوس اقدامات نظر نہیں آ رہے ،انہوں نے کہا کہ خواتین کے حقوق کے حوالے سے باچا خان رول ماڈل تھے جنہوں نے اپنی سو سالہ تاریخ میں ہمیشہ خواتین کو برابری کی سطح پر حقوق دینے کی بات کی، یہاں تک کہ اے این پی میں بنیادی یونٹ سے لے کر مرکز تک اور اسمبلیوں و سینیٹ میں خواتین ارکان کو بنیادی حصہ دیا جاتا ہے،انہوں نے کہا کہ باچا خان نے اپنے سکولوں میں جہاں اپنے بیٹوں کو داخل کیا وہاں اپنی بیٹی کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کیلئے سکول بھیجا،اس کے ساتھ ساتھ وراثت میں بھی پورا حق دیا،انہوں نے کہا کہ پاکستان بنتے وقت صوبے میں ہماری حکومت تھی جسے ختم کرنے کیلئے ہر ممکن سازشیں کی گئیں اور پاکستان کی سالگرہ سے دو روز قبل سانحہ بابڑہ میں مردوں کے ساتھ خواتین اور بچوں کے خون کی ندیاں بہا دی گئیں ،میاں افتخار حسین نے کہا کہ بیگم نسیم ولی خان خواتین کے حوالے سے سر فہرست ہے جو قومی اسمبلی کی دو نشستوں پر انتخاب لڑ کر باقاعدہ منتخب ہوئیں،انہوں نے ولی خان کے حوالے سے بھی ذکر کیا اور کہا کہ ایوب خان کی ڈکٹیٹر شپ کے خلاف ولی خان نے فاطمہ جناح کا ساتھ دیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اے این پی نے ہمیشہ خواتین کے ہاتھ مضبوط کرنے کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھیں ،انہوں نے کہا کہ آج ملک میں جمہوریت یرغمال ہو چکی ہے لیکن جمہوریت کی بقا کیلئے شہید بے نظیر بھٹو اور بیگم کلثوم نواز نے بیش بہا قربانیاں دیں انہی کی بدولت ملک میں جمہوریت قائم ہے،انہوں نے کہا کہ اس بات میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ پاکستان میں خواتین کو ہر میدان میں پذیرائی مل سکتی ہے تاہم انہیں اپنے لئے درست پلیٹ فارم کا انتخاب کرنا ہو گا، میاں افتخار حسین نے کہا کہ آج خواتین جن پلیٹ فارمز سے حقوق کی جدوجہد کر رہی ہیں وہ خواتین کے حق میں مخلص ہی نہیں،لہٰذا درست سمت کا تعیم اولیں ترجیح ہونی چاہئے ، انہوں نے کہا کہ ہارون بلور کی بیوہ ثمر ہارون بلور نے الیکشن میں کامیابی حاصل کر کے ثابت کیا کہ عوام خواتین کو آگے لانے میں مخلص ہیں بعض قوتیں انہیں مسدود کرنے پر تلی ہوئی ہیں،انہوں نے کہا کہ خواتین کو اپنے حقوق کیلئے باچا خان کی تحریک کا بغور مطالعہ کرتے ہوئے خود میدان میں نکلنا ہو گا،مرکزی جنرل سیکرٹری نے مزید کہا کہ معاشرتی ترقی کیلئے مرو خواتین کو برابری کی بنیاد پر حق دینا ضروری ہے،انہوں نے کہا کہ ماضی میں ڈکٹیٹر جیا الحق کے دور میں ڈالروں کے عوض ہم پر جنگ مسلط کی گئی اور اس کے نتیجے میں وجود میں آنے والی دہشت گردی نے ہمیں پتھروں کے زمانے میں دھکیل دیا،اسی دور میں بچیوں کے تعلیمی ادارے بھی تباہ کئے گئے اور ان کے گھروں سے نکلنے پر پابندی لگائی گئی ، اے این پی نے جوانمردی سے اس دہشت گردی کا مقابلہ کیا اور خواتین کو تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر کے میدان میں واپس لائے، انہوں نے کہا کہ کوئی بھی معاشرہ خواتین کو برابری کی بنیاد پر حقوق دیئے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔

Facebook Comments