حقوق چھینے گئے تو 1940کی قرارداد کی روشنی میں نئے عمرانی معاہدے کی بات کریں گے، حاجی غلام احمد بلور

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے قائمقام صدر حاجی غلام احمد بلور نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اے این پی صدارتی نظام کے سخت خلاف ہے اور اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کیلئے کی جانے والی مذموم کوششوں کے خلاف مزاحمت کی جائے گی،اجمل خٹک کی نویں برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان کو مسند اقتدار تک اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کیلئے لایا گیا اور جب لولی لنگڑی بیساکھیوں پر کھڑی حکومت اس میں ناکام نظر آئی تو ملک میں صدارتی نظام کی صدا بلند کی جا رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ صدارتی نظام شاید مخصوص مفادات کیلئے بہتر ہو تاہم ملک کیلئے یہ زہر قاتل ہے،صدارتی نظام پنجاب کو پاکستان تصور کرنے کے سلسلے کی ایک کڑی ہے،پارلیمانی نظام میں وزیر اعظم پنجاب کا ہی آتا ہے جس کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جا سکتی ہے جبکہ صدارتی نظام میں ایسا کرنا ممکن نہیں ہو تا اور یہی وجہ ہے کہ مخصوص مفادات کیلئے یہ بازگشت زیر گردش ہے،انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم اے این پی کا کارنامہ ہے پھر بھی ہمیں وہ سب کچھ نہیں ملا جو ہمیں انگریز دے کر گیا تھاجس کے ہم غلام تھے، دور غلامی میں تعلیم ،صحت،بجلی اور تمام معدنیات پر ہمارے صوبے کا کنٹرول تھا لیکن ون یونٹ بنانے کے بعد تمام سہولیات ہم سے چھین لی گئیں ، حاجی غلام احمد بلور نے مزید کہا کہ بجلی اور گیس ہمارے صوبے کی پیداوار ہے لیکن بدقسمتی سے وفاق اس پر اس پر قابض ہے جس کی وجہ سے ہمارے صوبے کے عوام کو ان کا حق نہیں دیا جا رہا ، انہوں نے کہا کہ موجودہ وقت میں چھوٹے صوبوں سے قومی اسمبلی تک پہنچنے والے پی ٹی آئی کے ارکان کا امتحان ہے ،دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنے صوبائی حقوق کیلئے آواز بلند کریں گے یا پھر اقتدار اور مفادات کی خاطر عوام کے حقوق کا سودا کر لیں گے ،انہوں نے کہا کہ حکومت اور اس کے پس پشت قوتیں اٹھارویں ترمیم کے خلاف سازشوں سے باز رہیں بصورت دیگر چھوٹے صوبے باہم اتفاق سے 1940 کی قرارداد پاکستان کو سامنے رکھتے ہوئے ایک نئے عمرانی معاہدے کی بات کریں گے۔اس موقع پر مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین اور صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے بھی خطاب کیا۔

Facebook Comments