سرکاری ٹی وی پر پشتو زبان کے فن و ثقافت کا گلہ گھونٹنے کی اجازت کسی طور نہیں دیں گے، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ موجودہ دور میں فن و ثقافت کا جس طرح گلہ گھونٹا جا رہا ہے تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی ،وفاق پی ٹی وی میں خیبر پختونخوا کا بنیادی حق دے اور ہمارے صوبے کے فنکاروں کو برابری کی بنیاد پر کام کرنے کے مواقع فراہم کرے، اے این پی دور میں فنکاروں کی ہر سطح پر حوصلہ افزائی کی گئی اور جب ہم اقتدار میں آئے تو نشتر ہال کو تالے لگے ہوئے تھے ، جسے ہم نے دہشت گردوں کو شکست دینے کی خاطر کھولا اور ثقافتی سرگرمیوں کا آغاز کیا،ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز میں خیبر پختونخوا کے ناور اور سینئر فنکاروں میں ایوارڈ کی تقسیم کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے تمام فنکاروں میں ایوارڈ تقسیم کئے اور شہنشاہ غزل خیال محمد ، نوشابہ بی بی ، مہ جبین قزلباش ،عجب گل اور شازمہ حلیم کو لائیف ٹائم ایچیومنٹ ایوارڈز دیئے،جبکہ ریڈیو پاکستان کے پہلے پختون ڈائریکٹر اور39کتابوں کے مصنف ممتاز ڈرامہ نگار ،کالم نگار اور صدارتی ایوارڈ یافتہ شاعر لائق زادہ لائق کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ان کی دستار بندی کی گئی، اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ فنکار کسی بھی ملک کے سفیر ہوتے ہیں اور امن کا پیغام پہنچانے میں فنکاروں کا کوئی ثانی نہیں،انہوں نے کہا کہ باچا خان بابا نے ہمیشہ کسب گر کو عزت دی کیونکہ آج ہم انہی کسب گروں کی وجہ سے ایکدوسرے سے مقابل ہیں، میاں افتخار حسین نے کہا کہ خدائی خدمتگار تحریک اس بات کی گواہ ہے کہ باچا خان بابا کے ہمراہ ہمیشہ شعرا موجود ہوتے تھے،انہوں نے کہا کہ ہم نے صوبے میں فن و ثقافت کو زندہ رکھنے کیلئے امریکہ جیسی سپر پاور سے ٹکر لی جس نے ڈکٹیٹر ضیا الحق اور اپنے پیدا کردہ دہشت گردوں کے ساتھ مل کر یہاں فن کی بساط لپیٹ دی تھی،میاں افتخار حسین نے کہا کہ پختونخوا ریڈیو کی بنیاد رکھنے کا اعزاز بھی اے این پی کو حاصل ہے ،انہوں نے تقریب میں شریک فنکاروں سے کہا کہ قوم کو درپیش مشکلات کے حل میں اپنا قومی فریضہ ادا کریں،۔
قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا کہ کلچردنیا بھر میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کا اہم ترین عنصر تسلیم کیا جا رہا ہے، اے این پی نے اپنے دور میں حکومت کے ویڑن کو سمجھتے ہوئے ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے بہت سے اہم اقدامات اْٹھائے ، فنکار برادری ہمارا قومی اثاثہ ہے، ان کو سہولتیں دینا اور ان کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہئے ، انہوں نے مزید کہا کہ فن اور فنکار کی قدر کرنے والی قومیں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں اور، صوبے میں نئے ٹیلنٹ کو فروغ دینے کیلئے ثقافتی سرگرمیوں کا اہتمام کیا جا رہا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ جمہوری اور ترقی پسند معاشروں میں فنکار برادری ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ،اے این پی فنون لطیفہ کے تمام شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد کے مسائل کے حل کے لئے سنجیدہ و کوشاں ہے۔پی ٹی وی پر پشتو کے پروگراموں کے اوقات تبدیل کرنے اور پشتو زبان کا گلا گھونٹنے کی سازش کی گئی ہے جس کے خلاف اسمبلی سمیت تمام فورمز پر آواز اٹھائی جائے گی۔نئے پاکستان میں دور تبدیلی کے دوران میڈیا پر جو قدغن لگائی گئی وہ قابل مذمت ہے اور میڈیا ہاؤسز سے ہزاروں کی تعداد میں ملازمین کی برطرفی حکومت کی کاکردگی پر سوالیہ نشان ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ فنکار برادری کی ہر سطح پر حواصلہ افزائی کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی دادرسی اور امداد کی جائے۔

Facebook Comments