سیاسی قیادت متحد ہو جائے، مسلط حکمرانوں کو سیاسی شہید نہیں بننے دیں گے، اسفندیار ولی خان

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ حکومت کو اپنی مدت پوری کرنی چاہئے اور اپوزیشن مسلط حکمرانوں کو سیاسی شہید نہیں بننے دے گی ، حکومت کا قبلہ درست کرنے کیلئے تمام سیاسی قیادت کو یکجا ہونے کی ضرورت ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے سعودی شہر ریاض میں پارٹی کے سابق مرکزی صدر گل زمین سید کی یاد میں تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،اس موقع پر انہوں نے مرحوم کی پارٹی خدمات پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ گل زمین سید مرحوم اے این پی کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے تھے اور ان کی وفات سے پیدا ہونے والا خلا شاید ہی پُر ہو سکے گا، اس موقع پر انہوں نے اے این پی سعودی عرب کے نو منتخب صدر ڈاکٹر مزمل شاہ اور ان کی نئی کابینہ سے حلف لیا، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے چالیس برس تک لاکھوں شہریوں اور خصوصاً پختونوں کا خون بہنے کے بعد ملک آج بھی ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک معمولی سی غلطی کے بھیانک نتائج سامنے آئیں گے، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ حقیقت تسلیم کئے بغیر غلطیوں سے سبق نہیں سیکھا جا سکتا لیکن حکمران ماضی کی غلطیاں دہرانے کے موڈ میں ہیں ، انہوں نے کہا کہ گزشتہ الیکشن میں جو کھیل کھیلا گیا وہ پوری قوم کے سامنے ہے جس کے نتیجے میں ایک مخصوص شخص کو 22کروڑ عوام پر مسلط کر دیا گیا ، انہوں نے کہا کہ مسلط وزیر اعظم آج تک اپوزیشن کے خول سے باہر نہیں نکلے اور احتساب کا وہی گھسا پٹا نعرہ آج بھی لگایا جا رہا ہے جو اب انتقام کی صورت اختیار کر گیا ہے ، انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ تمام کرپٹ مافیا سیاسی جماعتوں سے نکال کر تحریک انصاف کی زینت بنا لیا گیا جبکہ سیاسی مخالفین کو انتقامی کاروائی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ، مرکزی صدر نے کہا کہ عوام کو پانچ مرغیوں کا فارمولہ دے کر ’’باجی‘‘ خود سلائی مشینوں سے ارب پتی بن گئیں لیکن احتسابی ادارے صرف جرمانوں پر اکتفا کئے بیٹھے ہیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ علیمہ خان کی بے نامی جائیدادوں کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنائی جائے ،انہوں نے کہا کہ جو شخص خود غیر قانونی گھر میں رہتا ہے وہ خیبر تا کراچی غریب عوام کو تجاوزات کے نام پر بے روزگار کر رہا ہے ، انہوں نے تعجب کا اظہار کیا کہ اسلام میں بیوی سے حق مہر لینے کا تصور نہیں لیکن مدینہ جیسی ریاست بنانے والے کپتان کو حق مہر میں بنی گالہ کا گھر مل گیا ،انہوں نے کہا کہ ملک تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہا ہے اور ملکی معیشت گھٹنوں کے بل گر چکی ہے، ماضی کی حکومتوں نے جتنا قرضہ لیا ،عمران نیازی نے صرف چھ ماہ میں اس کا دو گنا قرض وصول کر لیا جس کا براہ راست اثر عوام پر پڑ رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اب متوسط طبقہ باقی نہیں رہا ، امیر امیر تر جبکہ غریب غریب تر ہو چکا ہے انہوں نے واضح کیا کہ غریب اور متوسط طبقات مل جائیں تو انقلاب کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا اور پاکستان اسی جانب رواں دواں ہے،اسفندیار ولی خان نے کہا کہ ایک سال میں تین منی بجٹ پیش کئے جا چکے ہیں جنہیں ریلیف کا نام دیا گیا لیکن بجلی کی قیمتیں بڑھا کر ساری کسر پوری کر دی گئی، انہوں نے کہا کہ پُرکشش نعروں سے ملک نہیں چلائے جا سکتے، غریب عوام کا جینا دشوار ہو چکا ہے ،لیکن کپتان یوٹرن کو لیڈر کی علامت بنائے بیٹھا ہے حالانکہ یوٹرن لینے والاقوم کی رہنمائی کرنے کا اہل نہیں ہو سکتا، انہوں نے چیلنج کیا کہ مجھ پر دبئی اور ملائشیا میں جائیدادیں بنانے کا الزام لگانے والے ثابت کریں تو میں آدھی جائیدادیں ڈیم فنڈ میں دے دوں گا، ، افغانستان اور خطے کی مجموعی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے اکابرین چالیس برس قبل جو پیشگوئیاں کرتے رہے آج وہ تمام سچ ثابت ہو رہی ہیں لیکن بدقسمتی سے اس وقت ان پر کئی الزامات لگائے گئے،انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے اور ملک کی خارجہ و داخلہ پالیسیاں دوسرا بنگلہ دیش بنانے کیلئے کافی ہیں،انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ موجودہ دور میں تعلیم کے ذریعے نئی نسل کو تاریخ مسخ کر کے پیش کی جا رہی ہے جس کا خمیازہ آنے والی نسلیں بھگتیں گی،اسفندیار ولی خان نے کہا کہ حکومت اور مقتدر ادارے نازک صورتحال کا ادراک کریں ،ہم امن کے خواہاں ہیں اور پاکستان ہمسایہ ممالک سے دشمنیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا ،انہوں نے کہا کہ تین ہمسایہ ممالک کے ساتھ خراب تعلقات کے بعد ترقی و امن کا خواب احمقانہ ہے ، انہوں نے واضح کیا کہ مترقی افغانستان کے بغیر پاکستان کا امن کسی صورت بحال نہیں ہو گا دونوں ملکوں کا امن ایک دوسرے سے مشروط ہے،انہوں نے کہا کہ کرتار پور راہداری جیسا رویہ پختونوں کی سرحد پر نہ اپنایا گیا توخدشات میں اضافہ ہو گا، پنجاب بڑا بھائی ضرور ہے لیکن چھوٹے بھائی کے حقوق غصب کرنے سے نفرتیں بڑھتی ہیں،انہوں نے کہا کہ اسلام آباد نے سندھ پر کنٹرول حاصل کرنے کی جو روش اختیار کی ہے اس سے ملک کو نقصان ہو گا، قبائلی اضلاع کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ انضمام کے بعد مسلسل خاموشی ہے اور مزید کوئی کام نہیں کیا جا رہا ، قبائلی عوام ایف سی آر کے بعد نئے نظام کی راہ تک رہے ہیں جبکہ اس کے برعکس حکومت نے صوبائی حکومت کے اختیارات گورنر کے سپرد کر کے قبائلی اضلاع کو وفاق کے کنٹرول میں دے دیا ہے،انہوں نے خبردار کیا کہ قوموں کے ساتھ ریاستی مذاق کے بھیانک نتائج نکلیں گے۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کی غیر سنجیدگی کا نقصان ملک کو ہو گا اور عمران سے درست سمت میں جانے کی توقع رکھنا عبث ہے،انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اتحاد حکومت گرانے کا حصہ نہیں بنے گا ، حکومت کو اپنی مدت پوری کرنی چاہئے اپوزیشن حکمرانوں کو سیاسی شہید بننے کا موقع نہیں دے گی۔

Facebook Comments