پختونوں کا آئے روز قتل عام ریاست کے کردار پر سوالیہ نشان ہے، اے این پی

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام پشتو زبان کے معروف قوم پرست ،ترقی پسند و رہنما اور خدائی خدمتگار،شاعر،ادیب،محقق،نقاد،صحافی اور پشاور پریس کلب کے بانی صدر قلندر مومند کی سولہویں برسی باچا خان مرکز میں عقیدت و احترام سے منائی گئی ،جس میں ان کی زندگی اور ادبی وصحافتی خدمات پر روشنی ڈالی گئی ، تقریب کی صدارت اے این پی کے مرکزی سینئر نائب صدر حاجی غلام احمد بلور نے کی ، جبکہ پشتو کے معروف نقاد سلیم راز تقریب کے مہمان خصوصی تھے، پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین اور منتظم باچا خان مرکز انجینئر اعجاز یوسفزئی سمیت نامور ادباء نے اپنے خطابات اور مقالوں کے ذریعے خدائی خدمتگار اور باچا خان کے سچے پیروکار قلندر مومند کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا، حاجی غلام احمد بلور اور میاں افتخار حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ عالمی ضمیر کو جگانے میں خدائی خدمتگاروں کا کردار ازل سے مثالی رہا ہے اور انہوں نے جانوں کے نذرانے پیش کر کے قوم میں شعور اجاگر کیا ، انہوں نے کہا کہ اب شعراء ادبا اور نقادوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ آپس میں اتفاق و اتحاد کا مظاہرہ کریں اور اپنی سوچ و فکرکے ذریعے پختوبنوں کو درپیش مسائل تمام فورمز پر اجاگر کریں ، مقررین نے کہا کہ قلندر مومند جیسی شخصیات کی خدمات کے باعث تاریخ زندہ ہے،انہوں نے موجودہ دور میں پختونوں کو درپیش مصائب کا خصوصی ذکر کیا اور کہا کہ آج ہمیں جس طرح آئے روز قتل کیا جا رہا ہے وہ ریاست کے کردار پر سوالیہ نشان ہے، انہوں نے نقیب اللہ محسود، طاہر داوڑ اور گزشتہ روز قتل کئے جانے پروفیسر ارمان لونی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان تمام واقعات کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے ،انہوں نے ارمان لونی کے قتل پر میڈیا کی خاموشی پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ساہیوال واقعے پر ہم بھی غمزدہ ہیں تاہم جس طرح دیگر واقعات کو کور کیا جاتا رہا ہے ارمان کے معاملے پر امتیازی رویہ اپنا یا گیا،پارٹی قائدین نے کہا کہ پختونوں کو اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے ورنہ اسی طرح انسانیت کا قتل عام جاری رہے گا،انہوں نے قلندر مومند کو خصوصی طور پر اس بات پر بھی خراج عقیدت پیش کیا کہ انہوں نے سب سے پہلے وقت کے حکمران کے سامنے صوبوں کی بحالی اور یونٹ کے خاتمے کی بات کی تھی ۔

Facebook Comments