صدارتی نظام کے خلاف ہیں ،اٹھارویں ترمیم رول بیک نہیں کرنے دیں گے، ایمل ولی خان

 عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ صدارتی نظام کے خلاف ہیں اور اٹھارویں ترمیم رول بیک کرنے کی سازش ناکام بنائیں گے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز پشاور میں صوبائی کابینہ کے پہلے تعارفی اجلاس کی صدارت کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،کابینہ کے تمام ممبران بھی اس موقع پر موجود تھے ،ایمل ولی خان نے تمام ممبران صوبائی کونسل کا شکریہ ادا کیا اور مرکزی و صوبائی الیکشن کمیشن سمیت ضلعی اور یوسیز الیکشن کمیٹیوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ مقررہ وقت میں تاریخی ممبر سازی و تنظیم سازی پر وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں، انہوں نے کہا کہ پارٹی میں سزا و جزا کا عمل شروع کریں گے اور پارٹی ڈسپلن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،انہوں نے تمام اضلاع میں ناراض پارٹی کارکنوں اور خدائی خدمتگاروں کو منانے اور انہیں ساتھ لے کر چلنے کیلئے کمیٹیاں تشکیل دینے کا اعلان کیا ، قبائلی اضلاع کے حوالے سے انہوں نے تفصیلی گفتگو کی اور کہا کہ نئے اضلاع پیچیدہ مسائل سے دوچار ہیں ایف سی آر کا کالا قانون ختم ہو گیا لیکن بدقسمتی سے وہاں کے عوام کسی نئے نظام سے تاحال محروم ہیں ،ججز صاحبان قبائل میں پورے سیٹ اپ کے خواہاں ہیں لیکن حکومت اس میں سنجیدہ نہیں حکومت اور عدلیہ مل کر قبائلی اضلاع میں شہری علاقوں کی طرز پر عدالتی نظام لے کر آئیں،انہوں نے کہا کہ غیر ضروری چیک پوسٹوں سے عوام ذہنی کرب میں مبتلا ہیں اور مائنز کی موجودگی سے انسانی زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں ، انہوں نے تمام غیر ضروری چیک پوسٹوں اور مائنز کی صفائی کا مطالبہ کیا ،ایمل ولی خان نے کہا کہ نویں این ایف سی ایوارڈ کا اجراء کیا جائے اور اس میں قبائلی اضلاع کیلئے خاطر خواہ حصہ مختص کیا جائے تاکہ وہاں ہونے والی تباہ کاریوں کا ازالہ کیا جا سکے ، انہوں نے وزیر اعظم کے50لاکھ گھروں کی تعمیر کے اعلان کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان میں ترجیحی بنیادوں پر قبائلی اضلاع میں تباہ ہونے والے گھر اور املاک کی تعمیر یقینی بنائی جائے، انہوں نے کہا کہ لیوی اہلکاروں کو سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ دیا جائے ، ایمل خان نے ایک بار کہا کہ اٹھارویں ترمیم کو شب و روز حکمرانوں سے خطرہ ہے ، اے این پی نے پختونوں کے حقوق کی خاطر صوبائی خودمختاری حاصل کی جس کا سہرا اسفندیار ولی خان اور اس وقت کے صدر آصف علی زرداری کے سر ہے لیکن اب بعض عناصر کو اٹھارویں ترمیم ہضم نہیں ہو رہی اور وہ اس کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں،کٹھ پتلی حکمران اپنے آقاؤں کے اشارے کے منتظر ہیں لیکن اس سازش میں وہ کسی صورت کامیاب نہیں ہو گے، انہوں نے کہا کہ ملک کی اصل قوت عوام ہیں اور عوامی مینڈیٹ کے بغیر مسلط کئے جانے والے حکمران کسی کیلئے بھی قابل قبول نہیں ہیں،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ احتساب کے نام پر سیاستدانوں کو بلیک میل کیا جا رہا ہے ،نیب کا دفتر سیاسی سرگرمیوں کا مرکز اور حکمرانوں کے اشاروں پر لوگوں کو بدنام کرنے والا ادارہ بن چکا ہے،انہوں نے کہا کہ بچوں کے پیمپرز کی رسیدیں ڈھونڈنے والا نیب خیبر پختونخوا میں اربوں کی کرپشن پر اندھے پن کا مظاہرہ کر رہا ہے ،انہوں نے کہا کہ احتساب بلا امتیاز اور شفاف ہونا چاہئے اور اس کا آغاز اے این پی کی قیادت سے کیا جائے ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ بی آر ٹی سے متعلق حکومت کی تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ منظر عام پر لا کر قوم کو حقیقت سے آگاہ کیا جائے ، گزشتہ6سال کے دوران خیبر پختونخوا میں ہونے والی کرپشن اور اس میں ملوث بڑے مگر مچھوں پر ہاتھ ڈالا جائے اور حکومت نے جتنے قرضے حاصل کئے ان کی تفصیل قوم کے سامنے لائی جائے،انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں سمیت دیگر اداروں کا بھی احتساب کیا جائے ،اگر ملک کے 20فیصد بجٹ کا احتساب ہو سکتا ہے تو پہلے80فیصد بجٹ والوں کا احتساب بھی ضروری ہے،مہنگائی کے حوالے سے ایمل ولی خان نے کہا کہ پٹرول گیس سمیت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا الزام سابق حکومتوں پر ڈال کر جان نہیں چھڑائی جا سکتی ، انہوں نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں عوام خوشحال تھے لیکن ایماندار لوگوں کی حکومت میں ملک دیوالیہ ہو چکا ہے،اور عوام کو دو کی بجائے ایک روٹی کا مشورہ دے رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ ملک کی ابتر صورتحال کی ذمہ دار در اصل کٹھ پتلیوں کو قوم پر مسلط کرنے والی قوتیں ہیں، بلور خاندان کے ساتھ غلط فہمیوں کی تردید کرتے ہوئے ایمل خان نے کہا کہ ولی باغ اور بلور خاندان کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور ان کی رفاقت کے بغیر ایک قدم نہیں لے سکتے ، ایک اور سوال کے جواب میں ایمل خان نے کہا کہ قبائلی عوام کو درپیش تمام مسائل کے حل کیلئے جو بھی سیاسی جماعت یا تحریک آواز اتھائے گی ہم اس کے ساتھ کھڑے ہونگے۔

Facebook Comments
Translate »