حیات آباد واقعہ کالعدم تنظیموں کو حکومتی سپورٹ کا نتیجہ ہے، ایمل ولی خان

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ صوبے میں دہشت گردی ختم نہیں ہوئی دہشت گردوں کی نرسری کو 57کروڑ روپے دے کر عارضی طور پر خاموش کیا گیا تھا اور حیات آباد کا واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے،اپنے مذمتی بیان میں انہوں نے واقعے میں اہلکار کی شہادت پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ حیات آباد جیسے پوش ایریا میں انتہائی خطرناک دہشت گردوں کی موجودگی اور ان سے حکومت کی بے خبری بلا شبہ حکومت کے کردار پر سوالیہ نشان ہے اور دکھائی ایسے دے رہا ہے کہ حکمرانوں نے جان بوجھ کر اس سے پہلو تہی اختیار کئے رکھی جس سے علاقے کے رہائشی معصوم لوگوں کی زندگیاں بھی داؤ پر لگی رہیں، ایمل ولی خان نے کہا کہ اسمبلی کے اندر بیٹھے حکومتی ممبران میں سے بیشتر کالعدم تنظیموں کو سپورت کر رہے ہیں ،اے این پی بار ہا اس بات کی نشاندہی کر چکی ہے کہ موجودہ حکمران دہشت گردوں کے ساتھی ہیں،انہوں نے کہا کہ پنجاب میں موجود کالعدم تنظیموں کی پناہ گاہوں و سہولت کاروں کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائی کی جائے تو خیبر پختونخوا قبایلی علاقوں سمیت ملک بھر سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے ، انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کو مذاق بنا کر رکھ دیا گیا ہے اگر اس متفقہ دستاویز پر من و عن عمل درآمد کیا جاتا تو آج حالات یکسر تبدیل ہوتے ، لیکن ہماری بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا جس کے باعث دہشت گرد منظم ہو رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ ملک میں دیرپاامن کے قیام کیلئے ملک کی خارجہ و داخلہ پالیسیاں تبدیل کرنا ہونگی ، انہوں نے کہا کہ ملک کی پالیسیاں ناکام ہو چکی ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ انہیں ری وزٹ کر کے درست سمت کا تعین کیا جائے، انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کا فائدہ دہشت گردوں کو ہو رہا ہے اور صورت حال بہتر نہ بنائی گئی تو بڑی تباہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ایمل ولی خان نے حیات آباد واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ نے صوبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے تاہم دہشت گردی اور بد امنی کے حوالے سے اے این پی کا مؤقف بالکل واضح ہے، حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے اور اس مقصد کیلئے نیشنل ایکشن پلان کے تمام 20نکات پر من و عن عمل کیا جائے ۔

 

Facebook Comments
Translate »