سرکاری چھتری تلے اغوا اور پولیس گردی کے واقعات ملکی تشخص پر سوالیہ نشان ہیں، ایمل ولی خان

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے پنجاب کے پروفیسر عمار علی جان کے گھر پر پولیس گردی اور سینئر صحافی رضوان رضی کے مبینہ اغوا کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں سرکاری چھتری تلے اغوا اور پولیس گردی کے تسلسل سے جاری واقعات نے ملکی تشخص پر سوالیہ نشان گھڑے کر دیئے ہیں اور بادی انظر میں شہری خود کو ڈاکوؤں کی بجائے پولیس کے ہاتھوں غیر محفوظ ہو چکے ہیں، سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ملک ’’بنانا ریپبلک‘‘ بن چکا ہے اور پولیس و سیکورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں اغوا و قتل کے واقعات نے صورتحال کو مزید سنگین کر دیا ہے، انہوں نے کہا کہ ریاست اتنی کمزور ہو چکی ہے کہ ایک نڈر صحافی کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے ڈر اور خوف میں مبتلا ہے،ایمل ولی خان نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا کہ ہزاروں شہریوں کا قاتل آج بھی سرکاری مہمان خانے کی زینت بنا ہوا ہے جبکہ سچ اور حق کا ساتھ دینے والے صحافیوں کو بیڑیاں ڈالی جا رہی ہیں، انہوں نے کہا کہ پروفیسر عمار علی جان کے گھر پر علی الصبح ڈاکوؤں کی طرح پولیس کی یلغار کر کے کیا پیغام دیا جا رہا ہے؟ انہوں نے استفسار کیا کہ اگر پولیس نے ایف آئی آر درج کی ہے تو پھر صبح تک کاروائی کیلئے انتظار کیوں نہیں کیا اور کس کے اشارے پر تاریکی میں ڈاکوؤں کے روپ میں پروفیسر کے گھر پر دھاوا بولا گیا؟انہوں نے سینئر صحافی رضوان رضی کے مبینہ اغواء کی بھی مذمت کی اور کہا کہ ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں،اور دکھائی ایسا دے رہا ہے کہ حکمران غیر سیاسی پولیس اور سیکورٹی اہلکاروں کے سامنے بے بس ہو چکے ہیں ، ایمل ولی خان نے کہا کہ اظہار رائے کی آزادی ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور ہم صحافی برادری کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، انہوں نے کہا کہ ملک میں سول مارشل لاء نافذ ہے اور حق و سچ کی گواہی دینے والوں کو منظر عام سے ہٹایا جا رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ عام آدمی سمیت تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو اغوا اور قتل کے واقعات نہ رکے تو ملک کی سلامتی داؤ پر لگ سکتی ہے ، انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات دسمبر1971کی تاریخ دہرانے کی جانب اشارہ کر رہے ہیں ،ایمل خان نے حکومت اور مقتدر قوتوں سے مطالبہ کیا کہ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کرنے کی بجائے ان کی زندگیاں چھیننے کی پالیسی ترک کی جائے۔

Facebook Comments