باچا خان ایئرپورٹ کے نام کی تبدیلی حکومتی تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گی، ایمل ولی خان

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے بعض اخبارات میں صوبے کی سیاسی شخصیات کے ناموں سے منسوب عمارات کا نام تبدیل کرنے کا اعلان کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسی کسی بھی کوشش کے خلاف مزاحمت کی جائے گی ،اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ باچا خان انٹر نیشنل ایئرپورٹ کا نام تبدیل کرنے کی کوشش حکومت کو مہنگی پڑ سکتی ہے اور اے این پی اس ناپاک جسارت کے خلاف حکومتی ایوانوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دے گی، ایمل ولی خان نے کہا کہ ایئرپورٹ کے نام کی تبدیلی حکومتی تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گی، حکومت کے پاس کرنے کیلئے کوئی کام باقی نہیں اور اس قسم کے متنازعہ بیانات سے اپنی نا اہلی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ ملکی سالمیت کو بد ترین خطرات لاحق ہیں ،آج نہ گھروں میں بجلی ہے اور نہ ہی گیس ہے ، نا اہل حکومت سینکڑوں ارب روپے کا نقصان کر چکی ہے،انہوں نے مزید کہا کہ جو حکومت خود این آر او کے ذریعے مسلط کی گئی اسے سیاسی شخصیات کے ناموں سے منسوب عمارات کا نام تبدیل کرنے کا حق نہیں ہے، اگر ایسی کوئی بھی سازش ہوئی تو ہمارے ہاتھ گریبانوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ اے این پی کی عدم تشدد کی پالیسی کو کمزوری سمجھنے والے ہوش کے ناخن لیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو گنگارام ہسپتال یا لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے نام پر کوئی اعتراض نہیں اور نہ دیال سنگھ کالج کے نام سے انہیں کوئی تکلیف ہے، بے شمار انگریزوں سکھوں اور ہندوؤں کے نام پر بنی حکومتی عمارتوں سڑکوں اور چوراہوں کی حکومت کو کوئی فکر نہیں،انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کو صرف اور صرف اس خطے کے عظیم پختون رہنما “باچا خان ” کے نام کی تبدیلی کی فکر کھائے جارہی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان لوگوں کی رگوں میں کس حد تک پختون دشمنی دوڑ رہی ہے،باچا خان امن کی علامت ہیں اور ان کے نام کے ساتھ چھیڑ چھاڑکرنا امن دشمنوں کو یہ پیغام ہوگا کہ ریاست حکومتی سطح پر پاکستان میں دہشتگردی،فرقہ واریت اور مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دینا چاہتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو گنگارام ہسپتال یا لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے نام پر کوئی اعتراض نہیں اور نہ دیال سنگھ کالج کے نام سے انہیں کوئی تکلیف ہے، بے شمار انگریزوں سکھوں اور ہندوؤں کے نام پر بنی حکومتی عمارتوں سڑکوں اور چوراہوں کی حکومت کو کوئی فکر نہیں،انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کو صرف اور صرف اس خطے کے عظیم پختون رہنما “باچا خان ” کے نام کی تبدیلی کی فکر کھائے جارہی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان لوگوں کی رگوں میں کس حد تک پختون دشمنی دوڑ رہی ہے،باچا خان امن کی علامت ہیں اور ان کے نام کے ساتھ چھیڑ چھاڑکرنا امن دشمنوں کو یہ پیغام ہوگا کہ ریاست حکومتی سطح پر پاکستان میں دہشتگردی،فرقہ واریت اور مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دینا چاہتی ہے۔

Facebook Comments