فاٹا کا صوبے میں انضمام ہی پختونوں کے اتحاد کی اصل کنجی ہے، میاں افتخار حسین

 فاٹا کا صوبے میں انضمام ہی پختونوں کے اتحاد کی اصل کنجی ہے، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ پختونوں کا اصل اتحاد فاٹا کے صوبے میں انضمام میں ہی مضمر ہے جبکہ ایف سی آر انگریز کی باقیات ہیں اور انگریز سے آزادی حاصل کرنے کے بعد اس کالے قانون کا خاتمہ ضروری ہے ، عسکری قیادت ، مرکزی و صوبائی حکومتیں ، قبائلی عوام اور ان کے نمائندے اور تمام پختون قوم اگر فاٹا کے صوبے میں انضمام کے حق میں ہیں تو پھر تاخیر کا کوئی جواز نہیں بنتا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی ہوٹل میں فاٹا اصلاحات میں تاخیر کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے این پی روز اول سے ہی قبائل کے صوبے کے انضمام کے حق میں ہے اور اے این پی 90ء کی دہائی میں صوبائی اسمبلی میں قرارداد پیش کر چکی ہے، تاہم اس وقت کے چند قبائلی مشران کی وجہ سے اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا جبکہ آج حالات یکسر مختلف ہیں اور تمام سٹیک ہولڈرز فاٹا کے صوبے میں انضمام کے حق میں ہیں جو کام ہم 90کی دہائی میں کرنا چاہتے تھے وہی آج سب کا مطالبہ ہے ، انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے اس پر عمل درآمد کی نوید سنائی گئی تاہم پانامہ کے شور میں یہ اہم ایشو دب گیا تاہم اگر مرکزی حکومت موجودہ وقت میں فاٹا اصلاحات پر عمل درآمد کرے اور آئینی ترمیم کے ذریعے اس کا اعلان کر دے تو تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا،انہوں نے کہا کہ یہ وقت اس کام کیلئے انتہائی موزوں ہے اور کوئی نہیں جانتا کل پھر موقع ملے نہ ملے۔انہوں نے کہا کہ انگریز سے آزادی کے باوجود ان کی کھینچی گئی لکیریں تاحال پختونوں کے درمیان موجود ہیں اور ہم ان تمام لکیروں کو متانے کیلئے ہمہ وقت جدوجہد جاری رکھیں گے ، فاٹا اور بلوچستان کے پختونوں کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے،انہوں نے کہا کہ ہم پوائنٹ سکورنگ نہیں کرنا چاہتے بلکہ قبائلی عوام کو ان کے جائز حقوق دلانے کی جدوجہد میں شریک ہیں،لہٰذا قبائلی عوام کو صوبے میں ایک بڑے اور خصوصی پیکج کے ساتھ ضم کیا جائے تاکہ انہیں این ایف سی ایوارڈ میں حصہ اور اسمبلیوں میں نمائندگی مل سکے،اور اسکے ساتھ ساتھ ترقیاتی فنڈز کیلئے صوبائی سطح پر پیکج دیا جائے،انہوں نے مردم شماری میں صوبے اور فاٹا کی آبادی کم ظاہر کرنے پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ مرکزی حکومت نے صرف اس لئے یہ گیم کھیلی تاکہ پختونوں اور قبائلیوں کو وسائل کی تقسیم زیادہ نہ ہو سکے ، انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں بھی ٹرائبل کا حصہ مرکز کے پاس ہے جو صوبے میں انضمام کے بعد ہی قبائلی عوام تک پہنچ سکے گا،میاں افتخار حسین نے کہا کہ پختونوں کی یک جہتی اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے اتحاد کی باتیں کرنے والے نام نہاد لیڈر اپنے صوبے کے عوام کو متحد ہونے نہیں دے رہے ، انہوں نے کہا کہ فاٹا کے صوبے میں انضمام کی مخالفت کرنے والے پختونوں کی یک جہتی اور قبائلی عوام کے ساتھ مخلص نہیں ہو سکتے ،اختیارات کی تقسیم کے حوالے سے میاں افتخار حسین نے کہا کہ گورنر مرکزی حکومت کے نمائندے ہیں لہٰذا فاٹا کے انضمام کے بعد تمام اختیارات صوبے کے پاس ہونے چاہئیں ورنہ حالات سدھار کی بجائے تباہی کی جانب جائیں گے،انہوں نے کہا کہ اے این پی اس عظیم کاوش میں قبائلی عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے،اور جب بھی یہ اہم مسئلہ حل ہوا اس کے بعد ہم بلوچستان کے پختون عوام کے درمیان کھینچی گئی لکیروں کو مٹانے کیلئے ہراول دستے کا کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ سپریم ہے تو اس کے فیصلوں پر عمل درآمد نہ ہونا افسوسناک ہے ، انہوں نے واضح کیا کہ اے این پی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے آئندہ ماہ 14ستمبر کو اس حوالے سے اے پی سی بھی طلب کی ہے جس میں تمام سیاسی جماعتوں کو دعوت دی جائے گی اور فاٹا اصلاحات بارے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔

Facebook Comments