جنگ خطے کے مفاد میں نہیں،پاکستان اور افغانستان اپنے مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کریں

 جنگ خطے کے مفاد میں نہیں،پاکستان اور افغانستان اپنے مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کریں، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ اے این پی ہمیشہ سے جنگوں کی مخالف رہی ہے اور خطے کو درپیش مسائل کے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی خواہاں ہے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز میں اے این پی دیر لوئر کے صدر حسین شاہ یوسفزئی کی قیادت میں آنے والے وفد کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کی سر زمین کیلئے تین بڑی قوتیں نبرو آزما ہیں،اور ان سپر پاورز کے درمیان مفادات کی رسہ کسی کے نتیجے میں تیسری عالمی جنگ چھڑ سکتی ہے، انہوں نے کہا کہ امریکی پالیسی سے مشکلات تو بڑھیں گی تاہم اس بار غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ، ماضی میں شروع ہونے والی جنگ میں 40سال تک پختونوں کو جنگ کا ایندھن بنایا گیا اور ایک سازش کے تحت آج تک پختونوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ باچا خان اور ولی خان بابا نے ہمیشہ اس جنگ میں کودنے کی مخالفت کی لیکن ان پر الزامات لگائے گئے تاہم آج تمام سیاسی جماعتیں اے این پی کے مؤقف کی تائید کرتی ہیں ، اور یہ ایشو ہر زبان پر ہے کہ پرائی جنگ اپنے گھر لانے کے خطرناک نتائج سامنے آئے ،انہوں نے کہا کہ جب تک پاکستان اور افغانستان اپنی خارجہ و داخلہ پالیسیاں سپر پاور کی بجائے قومی مفاد میں نہ بنائیں تب تک دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں،انہوں نے کہا کہ اے این پی روز اوّل سے پاکستان کے لئے ایک آزاد خارجہ کی حامی رہی ہے ،انہوں نے کہا کہ تمام پڑوسی ممالک بالخصوص افغانستان کے ساتھ اعتماد بحال کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے دونوں ملک مل کر فیصلہ کن اقدامات اٹھائیں،اور اپنے تمام مسائل افہام و تفہیم کے ساتھ مل بیٹھ کر حل کریں،ملکی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو پختونوں کے ساتھ دغا بازی اور فریب کی سزا ملی تاہم غلط فیصلے نے انہیں زندہ شہید کا درجہ دے دیا ، انہوں نے کہا کہ ہم نواز شریف کے حامی نہیں اسی لئے تحفظات کے باوجود عدالتی فیصلہ قبول کیا ، انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور عمران خان پختونوں کے حقوق غصب کرنے میں ایک ہی پیج پر ہیں، پختونوں کے حقوق کا سودا کرنے والے وزارت عظمیٰ کیلئے پنجاب کی سیاست میں مصروف ہیں ، صوبائی حکومت کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تعلیم۔ صحت ،زراعت اور اسی طرح تمام دیگر محکمے زبوں حالی کا شکار ہیں جبکہ وزیر اعلیٰ خود کو ہارس ٹریڈنگ کا ماہر ثابت کرنے کیلئے کوششوں میں مگن ہیں، انہوں نے کہا کہ خزانہ خالی ہو چکا ہے اور ملازمین کو تبنخواہوں کی ادائیگی کیلئے ملازمین کے ہی پنشن اور جی پی فنڈ سے قرضہ لیا جا رہا ہے جو اس صوبے کی بدقسمتی ہے ، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت صرف سوشل میڈیا پر زندہ ہے اور آنے والے الیکشن میں پختون اسفندیار ولی خان کی قیادت میں سرخ جھنڈے تلے متحد ہو کر امپورٹڈ حکمرانوں کا بوریا بستر گول کر دیں گے،میاں افتخار حسین نے سراج الحق کی جانب سے اسفندیار ولی خان کے خلاف ہرزہ سرائی کی بھی مذمت کی اور کہا کہ جماعت اسلامی کے امیر خود اور ان کی جماعت غداری کا سرٹیفیکیٹ لے چکی ہے بنگلہ دیش میں ہونے والی پھانسیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ جماعت ازل سے ہی غداروں پر مشتمل تھی ، انہوں نے کہا کہ ڈالروں کے خاطر جہاد کے نام پر پختونوں کا قتل عام کرانے والوں کو پختونوں کے رہبر اسفندیار ولی کے خلاف زبان استعمال کرنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ روس اور امریکہ کی جنگ میں امریکی ایما پر جہاد فی سبیل اللہ کا نعرہ لگانے والی جماعت کون سے اسلام کی جنگ لڑ رہی ہے ، حالیہ واقعات میں خیبر بنک سکینڈل میں جماعت اسلامی کے وزیر پر کرپشن کا الزام ہے اور یہ الزام خیبر بنک کے ایم ڈی کی جانب سے لگایا گیا ہے ،انہوں نے کہا جن کا اپنا دامن داغدار ہے وہ کسی دوسرے کے خلاف منہ کھولنے کی جرأت نہیں کر سکتے ، خیبر لیکس کا معاملہ آج زبان زد عام ہے اور وہ دن دور نہیں جب قوم کو اس کرپٹ اور دہشت گردی کو سپورٹ کرنے والی جماعت کی حقیقت معلوم ہو جائے گی ، انہوں نے کہا کہ اسلام کے نام پر سیاست کرنے والی جماعت نے اس خطے میں شدت پسندی کو تقویت دی ہے اور اس کے برعکس عوامی نیشنل پارٹی نے اپنے سروں کے نذرانے دے کر دہشت گردی کی نہ صرف مخالفت کی ہے بلکہ ملک وقوم کی خاطر کھلے عام اس کے خلاف مزاحمت بھی کی ہے ، انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پاکستان کو دولخت کرنے الشمس اور البدر جیسی تنظیمیں پیدا کرنے اور بنگلہ دیش بنوانے میں اہم کردار ادا کیا اور جب بنگلہ دیش میں ان کے رہنماؤں کو پھانسیاں دی گئیں تو مفاد پرستوں نے اپنی آنکھیں بند کر رکھی تھیں، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی عروج پر تھی تو دہشتگردوں نے مذاکرات کیلئے جن لیڈروں کے نام لئے ان میں جماعت اسلامی سر فہرست تھی۔انہوں نے کہا کہ اس جماعت کا اپنا گریبان تار تاراور عوام کی سب سے ناپسندیدہ جماعت ہے، انہوں نے کہا کہ کارکن آپس میں اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کریں آئندہ سال الیکشن میں اے این پی ان تمام پختون دشمن قوتوں کا صفایا کر دے گی۔

Facebook Comments