کراچی کا ضلع غربی، اے این پی کیلئے کربلا بنادیا گیا ہے

Mian Iftikhar Hussain, ANP Gen. Sec. addressing to a press conference after presiding over a high level consultative meeting with ANP Sindh during his short visit to Karachi.

Mian Iftikhar Hussain, ANP Gen. Sec. addressing to a press conference after presiding over a high level consultative meeting with ANP Sindh during his short visit to Karachi.

اے این پی سندھ کے مشاورتی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کے بعد پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین کا مردان ہاوس میں پریس کانفرنس سے خطاب

کراچی کا ضلع غربی یہ پورے پاکستان میں واحد بد قسمت ضلع ہے جہاں عوامی نیشنل پارٹی کے دو ضلعی صدور، ایک نائب صدر، ایک جنرل سیکریٹری کو شہید کیا جاچکا ہے

اسی ضلع غربی سے تعلق رکھنے والے پارٹی کے سابقہ صوبائی جنرل سیکریٹری بشیر جان کو دو بار بم حملوں کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی

گزشتہ جمعہ کی صبح اس بد قسمت ضلع کے جواں سال جنرل سیکریٹری پر قاتلانہ حملہ کیا گیا

گزشتہ چھ سالوں میں اس ضلع میں ہمارے پچاس سے زائد رہنماؤں کو شہید کیا جاچکا ہے، بیس سے زائد بم حملے ہوچکے ہیں

کراچی؍عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکریٹری میاں افتخار حسین نے اے این پی کے صوبائی مشاورتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد مردان ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتےہوئے کہا ہے کہ کراچی شہر بد امنی کی طویل تاریخ رکھتا ہے ماضی کے مختلف ادوار میں مختلف صورتوں میں یہ شہر بد امنی کا شکار رہا ہے اسّی کی دہائی کے لسانی فسادات سے لیکرآج تک شہر بد امنی کی آماجگاہ رہا ہے۔ چند برس پہلے اسے دو سیاسی جماعتوں کے باہمی تنازع کا سبب بتایا گیا، آج کل شہر میں فرقہ ورانہ اور مذہبی انتہاء پسندوں کے نام پر ٹارگٹ کلنگ کی جارہی ہے اورایک ہی علاقے میں دو مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نشانہ بناکر ایک واقعے کو دوسرے واقعے کا ردّعمل ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی اور دوسری جانب مذہبی انتہاء پسندوں کی جانب سے کاروائیاں مسلسل جاری ہیں۔

ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شہر کی بد امنی کا کوئی بنفشری ہے جس کو کراچی کے امن وامان کی خراب صورت حال پسند ہے ۔ کراچی کے ضلع غربی کو عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں و کارکنان کا کربلا بنادیا گیا ہے یہ پورے پاکستان میں واحد بد قسمت ضلع ہے جہاں عوامی نیشنل پارٹی کے دو ضلعی صدور،ایک جنرل سیکریٹری کو شہید کیا جاچکا ہے۔ اسی ضلع سے تعلق رکھنے والے ہمارے سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے ممبر کو شہید کیا گیا۔ اسی ضلع کے نائب صدر کو اتحاد ٹاؤن میں ان کے اسکول کی تقسیم انعامات کی تقریب کے دوران شہید کیا گیا، اسی ضلع غربی سے تعلق رکھنے والے پارٹی کے سابقہ صوبائی جنرل سیکریٹری بشیر جان کو دو بار بم حملوں کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی اور گزشتہ جمعہ کی صبح اس بد قسمت ضلع کے جواں سال جنرل سیکریٹری پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔

 گزشتہ چھ سالوں میں اس ضلع میں ہمارے پچاس سے زائد رہنماؤں کو شہید کیا جاچکا ہے، بیس سے زائد بم حملے ہوچکے ہیں ،کئی برس بعد گزشتہ ماہ 16 نومبر کو اس ضلع کی تنظیم نے باچا خان مرکز میں ورکرزکنونشن کا  انعقاد کیا تو اس گناہ عظیم کی پاداش میں پہلے ضلعی صدر ڈاکٹر ضیاء الدین کو شہید اور پھر جنرل سیکریٹری مراد خان کو قاتلانہ حملے میں شدید زخمی کیا گیا۔ لاتعداد حملوں اور فون پر مسلسل دھمکیوں کے بعد ضلع غربی کے کئی سرکردہ رہنماء شہر و ملک چھوڑ چکے ہیں یہ تمام واقعات کسی قبائلی علاقے میں نہیں بلکہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے ایک ضلع میں ریاستی اداروں کی آنکھوں کے سامنے ہوئے ہیں۔

میں تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں سے سوال کرتا ہوں کہ ان تمام واقعات کے پیچھے کونسی قوّت ملوث ہے ان تمام واقعات کا ماسٹر مائند کون ہے ؟ اور آج تک کیوں کسی ذمہ دار کو گرفتار نہیں کیا گیا ؟ رہنماؤں کو ملنے والی دھمکیوں کی اطلاعات اور موبائل نمبرز کی تفصیلات قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ارباب اختیار کو دیتے رہے ہیں مگرہمیں ہر اطلاع کا انجام شہادت اور مذید حملوں کی صورت ملا ہے ۔ان حالات میں کوئی ذی شعور انسان یہ تسلیم نہیں کرسکتا کہ یہ دہشت گرد عناصر ریاستی اداروں سے پوشیدہ ہیں۔

میرے رہنماؤں و کارکنان کے قاتل نامعلوم نہیں ہیں، تمام اداروں سے پرزور مطالبہ کرتا ہوں کہ ہمیں ہمارا قصور بتایا جائے ، مجھے یہ بتایا جائے کہ کیوں قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا جارہا ؟ میں یہ برملا کہتا ہوں کہ بحیثیت سیاسی جماعت صرف اور صرف ہم نشانے پر ہیں ہمارے علاوہ کسی جماعت کو اس طریقے سے نشانہ نہیں بنایا گیا ہے مرکزی وصوبائی حکومت اور تمام ریاستی اداروں سے اپیل کرتا ہوں کہ میرے رہنماؤں و کارکنان کا خون ناحق بہانے والوں کو گرفتار کرکے ان کے چہروں سے نقاب ہٹاکر ان کے چہرے پوری دنیا کو دکھائے جائیں۔ رہنماؤں و کارکنان پر مسلسل حملوں پر پاکستان مسلم لیگ (ن)کی مرکزی حکومت کی بے حسی انتہائی افسوس ناک ہے۔  وفاقی حکومت اور ان کے وزراء کی ذمہ داریاں صرف اور صرف پریس کانفرنسز کرنا رہ گیا ہے جان و مال کا تحفظ دینے کے بجائے وفاقی حکومت سیاسی پوائنٹ اسکورنگ میں مصروف ہے۔

جو کچھ پاکستان پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ ساتھ کررہی ہے ایسا طرزعمل کو ئی دشمن بھی کسی کے ساتھ نہیں کرتا،ہمیں کہنا پڑ رہا ہے کہ کراچی میں کیا ہورہا ہے صوبائی حکومت کو اس سے کوئی سروکار نہیں،کیا صوبائی حکومت یہ چاہتی ہے کہ ہم بھی وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے ڈی چوک کی طرح مستقل دھرنا د ے کر بیٹھ جائیں؟شاہراہوں کوبلاک اور شہر کو بند کردیں؟ہم جمہوری لوگ ہیں پیپلز پارٹی کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں مگر اپنے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کے اوّلین فرائض میں شامل ہوتا ہے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت اپنا بنیادی فرض نبھانے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے ،بحیثیت سیاسی جماعت ہم نے متعددبار صوبائی حکومت سے مذاکرات کیے مگر عملی اقدامات سے قطعی عاری یقین دہانیوں کے سوا ہمیں کچھ ملا،نہ رہنماؤں کو تحفظ ملا نہ ہی ہمارے قاتل گرفتار ہوئے، سندھ حکومت مکمل طور پر خواب غفلت میں مبتلا ہے ،سندھ حکومت صلاحیت سے قطعی عاری ہے ان کے پاس عملی اقدامات کے بجائے مختلف انواع و اقسام کی زبانی تسلیاں موجود ہیں۔

آج کی پریس کانفرس میں ایک مرتبہ پھر یہ بتاتا چلوں کہ ہم آج بھی مظلوم ہیں حملے برداشت کررہے ہیں دہشت گردوں کا ہر وار ہمارا عزم و حوصلہ بلند کررہا ہے گزشتہ ہفتہ ہم نے لیاری جیسے پُر خطر علاقے میں یونین کونسل کی سطح پر چاربڑے عوامی اجتماعات کیے ہیں تمام تر ظلم جبر کے باوجود ہمیں پہلے سے بڑھ کر اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں گے مرکزی پارٹی کسی طور سندھ کے کارکنان کو تنہاء نہیں چھوڑے گی ۔امن پسند لوگ ہیں ہمیں دیوار سے نا لگایا جائے ، اور اگر رہنماؤں پر حملوں کے سلسلہ جاری رہا تو اپنے تحفظ کے لیے ہم ہرا قدم اٹھانے میں حق بجانب ہوں گے اور حالات کی تمام تر ذمہ داری مرکزی و صوبائی حکومت پر عائد ہوگی،اس موقع پر صوبائی جنرل سیکریٹری یونس بونیری ،صوبائی قائم مقام صدر سلیم جدون اور مرکزی کمیٹی کے ممبر سید حنیف شاہ بھی موجود تھے

Facebook Comments