اے این پی کی اےپی سی میں شرکت

 اسلام آباد، گذشتہ روز وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کی جانب سے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس میں حاجی غلام احمد بلور اور افراسیاب خٹک پر مشتمل وفد نےاے این پی کی نمائندگی کی ۔ کیونکہ پارٹی کے مرکزی عبوری صدر حاجی محمد عدیل لاہور میں اے این پی پنجاب کے صوبائی انتخابات کے حوالے سے مصروف تھے۔

اے پی سی میں اے این پی کی نمائندگی کرتے ہوئے افراسیاب خٹک نے کہا کہ اے این پی نے دہشتگردی کے خلاف سینکڑوں ساتھیوں کی قربانیاں دیں تاکہ فاٹا ، پختونخوا اور پاکستان میں امن قائم ہو سکے۔ بد قسمتی سے فاٹا ایک خون آلود زخم بن کر رہ گیا ہے کیونکہ یہ علاقہ کافی لمبے عرصے تک دہشتگردوں کے قبضے میں رہا۔ فاٹا کے لاکھوں پختون اپنے گھر کھو کر بے گھر ہو گئے ہیں ان کے گھر ، کاروبار اور املاک سب تباہ ہو گئے ہیں اس لیے اب وقت آ چکا ہے کہ فاٹا کے عوام کو بنیادی سیاسی حقوق دئیے جائیں اور ان کی بحالی کیلئے جامع اقدامات کیے جائیں۔ فاٹا کی آئینی حیثیت کا تعین کیا جائے فاٹا کے عوام کو قانون سازی کا اختیار اور عدالتی نظام دیا جائے۔
افراسیاب خٹک نے شمالی وزیرستان کے بے گھر ہونے والے افراد کی دیکھ بھال کے سلسلے میں مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان عدم تعاون پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس سے بے گھر افراد کی پریشانی میں اضافہ ہوا ہے۔ اے این پی نے مشورہ دیا کہ افغانستان اور پاکستان کو کھلے دل سے بات چیت کرکے دونوں جانب پائی جانے والی تشویشوں کو دُور کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے تاکہ ان کے درمیان اعتماد بحال ہو۔ افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعاون کے بغیر دہشتگردی پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔ افغانستان کے ساتھ تعلقات میں جیو سٹریجک کی بجائے جیو اکنامک کو اہمیت دی جائے اور وسطی ایشیاء کے ساتھ اقتصادی تعلق قائم کرنے چاہئیں۔
افراسیاب خٹک نے اے پی سی کی توجہ خطے کے بدلتے حالات کی طرف دلائی اور کہا کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج 2014 میں نکل رہی ہیں ۔ دہشتگردی کے بارے میں چین کی تشویش میں اضافہ ہوا ہے حال ہی میں چین نے افغانستان کیلئے خصوصی نمائندہ مقرر کیا ہے کیونکہ ان کو افغانستان کیلئے خصوصی نمائندہ مقرر کیا ہے کیونکہ ان کو افغانستان میں امن اور استحکام سے گہری دلچسپی ہے جبکہ ایران مغرب سے اپنے تعلقات معمول پر لانے کے ذریعے اپنی سیاسی تنہائی ختم کر رہا ہے۔ ہندوستان میں نئی حکومت مغرب سے اپنے تعلقات بڑھائے گی کیونکہ نریندرہ مودی مغربی سرمائے کیلئے اپنے ملک کے دروازے کھول رہے ہیں ان سب چیزوں کے اپنے اپنے اثرات ہونگے اس لیے پاکستان کو خطے کے بارے میں اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔
عوامی نیشنل پارٹی تاریخی طور پر جمہوری اور آئینی نظام کی حمایت کرتی ہے اور آئندہ بھی کرے گی اور ساتھ ہی یہ اُمید بھی رکھتی ہے کہ حکومت اپنے مخالفین کے ساتھ پائے جانے والے مسائل کو پر امن مذاکرات کے ذریعے حل کرے گی۔ افراسیاب خٹک نے گلگت بلتستسان کے عوام کو بنیادی حقوق دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہاں 2009 میں ہونے والی اصلاحات اب کافی نہیں ہیں ان پر نظر ثانی کرنے کا وقت آگیا ہے۔

Facebook Comments