کالاباغ ڈیم پر عدالتی مداخلت سےمنصوبوں کا اتفاق بلڈوز ہو سکتا ہے، میاں افتخار حسین

کالاباغ ڈیم پر عدالتی مداخلت سے منصوبوں کا اتفاق بلڈوز ہو سکتا ہے، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الحسن کے گھر پر فائرنگ اور حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اے این پی دہشت گردی اور ٹارگٹڈ حملوں کی ہمیشہ سے مخالف رہی ہے ،جس ملک میں عدالت عظمیٰ کے جج محفوظ نہ ہوں وہاں شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کیسے ہوسکتا ہے ؟ ان خیالات کا اظہار انہوں نے رات گئے یو سی ڈاگ اسماعیل خیل میں تنظیمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ اب جج صاحبان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عام شہریوں کو انصاف کی فراہمی کیلئے ملک بھر کی عدالتوں میں پڑے لاکھوں کیسز نمٹائیں اور ان معاملات میں خود کو نہ الجھائیں جو ان کا کام نہیں ، سیاسی مسائل کے حل کیلئے پارلیمنٹ موجود ہے کیونکہ سیاسی مسائل میں الجھنے سے عدالتوں کی اپنی حیثیت متنازعہ ہونے کے ساتھ ساتھ اسے دھچکا بھی لگ سکتا ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ملک کے تمام اداروں کی توقیر برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ عدالت ان مسائل کو نہ چھیڑے جو پارلیمنٹ کا کام ہے ، انہوں نے کہا کہ کالاباغ ڈیم اب سیاسی نہیں بلکہ انسانی مسئلہ بن چکا ہے ملک کے چاروں صوبے اس پر متفق نہیں ہیں جبکہ ماضی میں جسٹس ناصر الملک بھی اس کیس کو اس لئے مسترد کر چکے ہیں کیونکہ یہ پارلیمنٹ کا کام ہے ،ملک کی تمام صوبائی اسمبلیوں ، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اس اہم ایشو پر ماضی میں بہت بحث ہو چکی ہے اور سب نے متفقہ طور پر اسے مسترد کر دیا ہے لہٰذا اب اس مسئلے کو اٹھانے کا کوئی جواز نہیں بنتا ،انہوں نے کہا کہ پختونوں کے جائز مسائل کے حل کیلئے اے این پی نے ہمیشہ ہر فورم پر جنگ لڑی ہے اور حالیہ درپیش مسائل سے متعلق تمام مطالبات تسلیم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے ،میاں افتخار حسین نے کہا کہ فاٹا سے متعلق عدالتی دائرہ اختیار بڑھانے کا بل منظور ہونے کے بعد حکومت جلد از جلد انضمام کا اعلان کرے اور آئندہ الیکشن میں فاٹا کو صوبائی اسمبلیوں سمیت آئینی ترمیم کر کے صوبائی کابینہ میں بھی نمائندگی دے،انہوں نے کہا کہ آئی ڈی پیز کی واپسی ،ان کے تباہ حال سکول و گھروں کی تعمیر ،مائنز کی صفائی، چیک پوسٹوں کے خاتمے اور دیگر مسائل کیلئے اے این پی بار ہا آواز اٹھاتی رہی ہے جو فی الفور حل طلب ہیں،18ویں ترمیم کے ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبوں کے حقوق چھینے کی پالیسی ملک کے مفاد میں نہیں ماضی میں ایسی ہی پالیسی سے ملک دولخت ہوچکا ہے لہٰذا حکومت ہوش کے ناخن لے اور اس اہم قومی ایشو کو چھیڑنے اور 18ویں ترمیم کے خاتمے کا خواب دیکھنا چھوڑ دے،انہوں نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مغربی اکنامک کوریڈور کی تعمیر میں لیت و لعل سے احساس محرومی اور حکومت کے خلاف بد اعتمادی بڑھتی جا رہی ہے، چینی سفیر سے ملاقات میں مغربی اکنامک کوریڈور بنانے کی یقین دہانی کرائی گئی تاہم حکومت اس معاملے میں سنجیدہ نظر نہیں آ رہی جو پختونوں کے معاشی قتل کے مترادف ہے،انہوں نے کہا کہ عوام صوبائی حکومت کی ناقص اور غیر سنجیدہ پالیسیوں سے متنفر ہو چکے ہیں اور ان کی جانب سے اے این پی کو پذیرائی مل رہی ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ دیگر سیاسی جماعتیں دولت کی چمک کے بل بوتے پر زندہ ہیں جبکہ اے این پی کا کُل قیمتی سرمایہ اس کی مضبوط اور فعال تنظیمیں ہیں ، انہوں نے کارکنوں و عہدیداروں پر زور دیا کہ آئندہ الیکشن کے حوالے سے تنظیموں کو مزید فعال کرنے کیلئے دن رات محنت کریں ، انہوں نے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب اے این پی عوام کے بھرپور تعاون سے صوبے میں ایک بار پھر حکومت بنائے گی اور اولیں ترجیح کے طور پر صوبے و پختونوں کے تمام مسائل کے حل پر توجہ مرکوز رکھے گی۔

Facebook Comments