پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کی ہٹ دھرمی صدارتی الیکشن میں ناکامی کا باعث بنی

پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کی ہٹ دھرمی صدارتی الیکشن میں ناکامی کا باعث بنی، میاں افتخار حسین

اپوزیشن کو ایک پیج پر لانے کی کوششوں میں مجھے بھی سیکورٹی تھریٹ ملے ، ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں۔

مولانا سمیع الحق کے قاتلوں کا آج تک پتہ نہ چل سکا ، طاہر داوڑ کا قتل بھی سرد خانے کی نذر ہو چکا ہے۔

بہت خون بہہ چکا ،ہے، امن مذاکرات کے حوالے سے تمام سٹیک ہولڈرز کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہئے۔

بے خبر وزیر اعظم کو ڈالر مہنگا ہونے کی خبر سوشل میڈیا سے ملی، آئی ایم ایف کی شرائط تسلیم نہیں کیں تو ڈالر کو پر کیسے لگ گئے؟

پختونوں کے درمیان باڑ لگانے کی بجائے کرتار پور راہداری جیسا فارمولہ اپنایا جائے، پبی میں رکنیت سازی مہم کے موقع پر اجلاس سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ صدارتی الیکشن میں متحدہ اپوزیشن کامیاب ہو سکتی تھی لیکن پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کی مصلحتیں اتحاد کی راہ میں رکاوٹ بن گئیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے کہا کہ پی کے65پبی میں رکنیت سازی مہم کے افتتاح کے موقع پر پارٹی ذمہ داروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،میاں افتخار حسین نے اپنا رکنیت فارم پر کر کے مہم کا آغاز کیا اور پارٹی کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ رکنیت سازی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں ، انہوں نے امید ظاہر کی کہ منظم انداز میں مقررہ وقت پر فارم سازی مکمل کر لی جائے گی،اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو متحد کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا تاہم اپوزیشن کو ایک پیج پر لانے کی کوششوں میں مجھے بھی سیکورٹی تھریٹ دیئے گئے،جن کو واضح مقصد یہ تھا کہ سٹیبلشمنٹ اپنی قائم کردہ حکومت کی راہ میں کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کرنا چاہتی تھی،انہوں نے کہا کہ ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ،مولانا سمیع الحق کے قاتلوں کا آج تک پتہ نہ چل سکا جبکہ طاہر داوڑ کا قتل بھی سرد خانے کی نذر ہو چکا ہے،انہوں نے کہا کہ عمران خان کو ٹرمپ کا خط در اصل کھلی دھمکی ہے اور اب امریکہ افغان جنگ کے معاملے میں فائنل راؤنڈ میں ہے ، انہوں نے کہا کہ بہت خون بہہ چکا ہے اور اب مستقبل میں امن مذاکرات کے حوالے سے تمام سٹیک ہولڈرز کو اپنا بھرپور اور مثبت کردار ادا کرنا چاہئے ، میاں افتخار حسین نے واضح کیا کہ امن میں امریکہ، پاکستان ، افغانستان اور چین کا مفاد ہے ،انہوں نے کہا کہ عمران خان بے اختیار وزیر اعظم ہیں اور اپنے طور وہ کچھ بھی نہیں کر سکتے ،وہ کیسا وزیر اعظم ہو گا جسے ڈالر مہنگا ہونے کی خبر سوشل میڈیا سے پتہ چلے،اگر آئی ایم ایف کی شرائط تسلیم نہیں کیں تو ڈالر کو پر کیسے لگ گئے، کرتار پور راہداری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہم پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے خواہاں ہیں البتہ یہی رویہ پختونوں کی سرحد پر بھی اپنا یا جائے جہاں باڑ لگا کر دوریاں پیدا کی جا رہی ہیں ، انہوں نے کہا کہ کرتارپور کا کریڈت عمران خان کو نہیں جاتا کیونکہ اس سے قبل نواز شریف اور شہید بے نظیر بھٹو بھی اس حوالے سے کوششیں کر چکے تھے لیکن اس وقت فوج اس حق میں نہیں تھی،انہوں نے کہا کہ حکومت سو دن میں ناکام ہو چکی ہے اور عمران خان بھی قبل از وقت انتخابات کی بات کر کے اپنی ناکامی کا اعتراف کر چکے ہیں،میاں افتخار حسین نے کہا کہ ملکی معیشت سو دن میں بھینسوں، انڈوں اور مرغیوں سے آ گے نہیں بڑھ سکی۔

Facebook Comments