پوائنٹ سکورنگ سے قطع نظر ادویات فروشوں پر حکومتی ظلم کے خلاف کھڑے ہونگے

 پوائنٹ سکورنگ سے قطع نظر ادویات فروشوں پر حکومتی ظلم کے خلاف کھڑے ہونگے۔میاں افتخار حسین
ایکسپائری ڈیٹ قریب آتے ہی حکومت نے کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ کے روزگار پر وار کر دیا۔
وزیر اعلیٰ کے ایگزیکٹو آرڈر سے 28ہزار افراد کو بے روزگار کرنے کا پلان بنایا گیا ۔
فارماسسٹ کے لائسنس برائے فروخت ہیں ، ایک نیا کاروبار میدان میں آ جائے گا۔
تجربہ کار افراد کو راستے سے ہٹانے اور اپنے چہیتوں کو نوازنے کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ۔
پختونوں نے حکومت پر جس اعتماد کا اظہار کیا پانچ سال تک اسے ٹھیس پہنچائی گئی۔
 صوبے کے تمام شعبے زبوں حالی کا شکار ہیں، پشاور کے عوام کو کس جرم کی سزا دی گئی ؟
کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ ایسوسی ایشن پبی کے ہڑتالی مظاہرین اور رابطہ عوام مہم کے دوران عوام سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ایکسپائری ڈیٹ کے قریب آتے ہی حکومت نے کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ کے روزگار پر وار کیا ہے اور ایک بار پھر 28ہزار سے زائد افراد کو بے روزگار کرکے عوام دشمنی کا ثبوت دیا ہے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پبی میں کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ ایسوسی ایشن کے ہڑتالی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، میاں افتخار حسین نے احتجاجی مظاہرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور کہا کہ ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے فارماسسٹ کو اٹیارات دے دیدئے گئے ، انہوں نے کہا کہ ہم فارماسسٹ کی ترقی ضرور چاہتے ہیں تاہم کیمسٹ و ڈرگسٹ کے روزگار کا سودا اور انہیں متاثر کئے بغیر کام کیا جانا چاہئے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ایگزیکٹو آرڈر سے کیٹیگری سی ختم کر دی گئی جبکہ کیٹیگری بی بھی غیر فعال ہو چکی ہے ، انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ان لوگوں نے احتجاج کیا جس پر پنجاب حکومت نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کر کے دبانے کی کوشش کی لیکن باآخر حکومت کو ہی گھٹنے ٹیکنے پڑے حالانکہ وہاں ایکٹ اسمبلی سے پاس کرایا گیا تھا جسے واپس لیا گیا ، انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایک ایگزیکٹو آرڈر سے تمام اختیارات فارماسسٹ کو دے کر ادویات فروشوں کو بے روزگار کر دیا گیا ، انہوں نے کہا کہ فارماسسٹ کے لائسنس مارکیٹوں میں برائے فروخت موجود ہیں اور کوئی بھی شخص ان کی بنیاد پر کاروبار کر سکتا ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں ،تجربہ کار افراد کو راستے سے ہٹانے اور اپنے چہیتوں کو نوازنے کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ،وزیر اعلیٰ نے اپنے حلقے کے عوام کو بے روزگار اور ان کی عزت نفس داؤ پر لگا دی ہے ،انہوں نے کہا کہ ہم اس اہم ایشو پر سیاست نہیں کرتے اور پوائنٹ سکورنگ سے قطع نظر اس عوامی مسئلے کا فوری حل چاہتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ فوری طور پر ایگیکٹو آرڈر واپس لیں اور 1982والا رول بحال کر کے کیمسٹوں میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ کریں ،انہوں نے کہا کہ ہم ہڑتالی مظاہرین کے ساتھ ہیں اور حکومت کی طرف سے کئے جانے والے ظلم کے خلاف آواز اتھائیں گے۔
قبل ازیں میاں افتخار حسین نے باب قدیم پبی میں عوامی رابطہ مہم کا آگاز کیااور مختلف علاقوں میں5 حجروں کا دورہ بھی کیا اس موقع پر مختلف حجروں میں بیشتر افراد نے اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ، میاں افتخار حسین نے عوام کے جذبے کو سراہا اور انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک نیا تجربہ ہے جس میں لوگوں کی طرف سے کافی پذیرائی بھی ملی ہے ، انہوں نے اسے رابطہ عوام مہم کا مؤثر ذریعہ قرار دیا اور کہا کہ ہم اپنی سوچ و فکر اور باچا خان بابا کے فلسفے کا پرچار کرہے ہیں ، انہوں نے مختلف سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کی خدمت کرنے میں ناکام رہی اور پختونوں نے جس اعتماد کا اظہار کیا پانچ سال تک اسے ٹھیس پہنچائی گئی ، انہوں نے کہا کہ صوبے کے تمام شعبے زبوں حالی کا شکار ہیں خزانہ خالی کر کے صوبے کو اربوں روپے کے قرض کے بوجھ تلے دبا دیا گیا ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ پشاور کے عوام کو کس جرم کی سزا دی گئی ،شہر کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے اور بی آر ٹی حکمرانوں کے گلے کی ہڈی بن چکا ہے ، انہوں نے کہا کہ کارکن اے این پی کے پلیٹ فارم پر متحد ہو جائیں اور آنے والے الیکشن کی بھپور تیاری کریں ، انہوں نے کہا کہ آنے والا دور ایک بار پھر اے این پی کا ہے اور اقتدار میں آ کر عوام کی خدمت بھرپور انسانی جذبے کے ساتھ کریں گے۔

Facebook Comments