نوشہرہ میں اسفندیار ولی خان کا جلسہ آئندہ الیکشن کیلئے گیم جینجر ثابت ہوگا، میاں افتخار حسین

نوشہرہ میں اسفندیار ولی خان کا جلسہ آئندہ الیکشن کیلئے گیم جینجر ثابت ہوگا، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدراسفندیار ولی خان 18مارچ کو نوشہرہ میں عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب کریں گے، اس بات کا اعلان پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے پی کے12حکیم آباد میں جلسہ کی تیاریوں کے حوالے سے منعقدہ تنظیمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر مختلف کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئی اور حلقوں کی سطح پر تنظیموں اور نامزد امیدواروں کو جلسے کی تیاری کے حوالے سے ذمہ داریاں سونپی گئی۔ میاں افتخار حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ آئندہ عام انتخابات سے قبل نوشہرہ میں ہونے والا جلسہ عام اہم سنگ میل اور آئندہ الیکشن میں کامیابی کے حوالے سے گیم چینجر ثابت ہوگا۔ انہوں نے تمام تنظیموں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی تمام توانائیاں بروئے کار لائیں اور جلسے میں عوام کی بھرپور شرکت یقینی بنانے کے لیے اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ عوام موجودہ حکومت کی جھوٹ اور فریب کی پالیسیوں سے متنفر ہو چکے ہیں جس کی واضح مثال احتساب کمیشن سمیت تمام شعبوں میں حکومت کی ناکامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتساب کمیشن جھوٹ کا پلندہ تھا جسے صرف مخالفین کی پگڑیاں اچھالنے کے لیے استعمال کیا گیا اور اپنی کرپشن بچانے کی خاطر اسے غیر فعال کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کا تعلیمی نظام این جی اوز کے حوالے کر دیا گیا ، پرائیویٹ تعلیمی ادارے تباہ کر کے سرکاری سکولوں کو پرائیویٹ بنا دیا گیااسی طرح صحت کا شعبہ نوشیروان برکی کے ہاتھوں یرغمال ہے جبکہ سیکرٹری ہیلتھ اور دیگر اہم افسران بے یاروں مددگار خاموش تماشائی بنے رہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو غیر سیاسی کہنے والے پرویز خٹک آئے روز صوبے کی پولیس کو گالیاں دے رہے ہیں حالانکہ محکمہ پولیس میں سیاست اس حد تک سرایت کر چکی ہے کہ سارا نظام پی ٹی آئی کی خواہش پر چل رہا ہے، پولیس مفلوج ہو چکی ہے، حکومت تمام بڑے واقعات کی ایف آئی آر کاٹنے سے روکنے کے لیے پولیس پر دباؤ ڈالتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ بلین سونامی ٹری میں جو کرپشن کی گئی اس کی صوبے کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ تین روپے کا پودا 20روپے میں خریدا گیا اور ایک ارب 77کروڑ میں وہ خود رودرخت بھی شامل ہیں جو صدیوں سے خیبر پختونخوا میں اگتے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تین سو ارب سے زائد کا قرضہ لے کر حکومت نے صوبے کو مالیاتی اداروں کے پاس گروی رکھ دیا ہے اور بی آر ٹی کو صرف اس لیے آخری مہینوں میں شروع کیاتاکہ آئندہ الیکشن سے قبل اسے سیاسی رشوت کے طور پر پیش کیا جا سکے اور اس کے ساتھ کمیشن اور کرپشن پر ہاتھ صاف کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی جیسے منصوبوں کی پشاور کے شہریوں کو ضرورت نہیں تھی اور یہی وجہ ہے کہ اب عوام موجودہ حکمرانوں سے نفرت کرتے ہیں اور آنے والے الیکشن میں اے این پی پر اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کریں گے۔ قبل ازیں میاں افتخار حسین نے نوشہرہ میں انجمن پٹواریان و قانون گویان کے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا اور ان سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ مظاہرین سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سرکاری ملازمین کے جائز مطالبات تسلیم کیے جائیں، پروموشن اور مستقلی ملازمین کا حق ہے جس سے حکومت راہِ فراراختیار نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ہم پوائنٹ سکورنگ نہیں چاہتے، حکومت ملازمین کے مسائل تسلیم کر لیں تو ہم اس کا شکریہ ادا کریں گے۔ میاں افتخار حسین نے احتجاج کرنے والے مظاہرین پر بھی زور دیا کہ وہ اراضی کے ریکارڈ اور پیمائش کے حوالے سے غریب عوام کو درپیش مشکلات میں ان کی رہنمائی کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں اراضی کے ریکارڈ کے حوالے سے غریب لوگوں کو زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور انجمن پٹواریان و قانون گویان ایک ایسا طبقہ ہے جن کے ہاتھوں میں انتہائی اہم ذمہ داریاں ہیں اور عوام کی رہنمائی کرنے اور ان کی مشکلات کم کرانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ بعدازاں مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے ہارون الرشید کی لکھی گئی کتاب کی تقریب رونمائی میں بھی شرکت کی اور اس عظیم کاوش پر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ شاعری اور نثر دونوں شعبوں میں کام کرنے والے لوگ انتہائی باہمت ہیں اور پشتو زبان کے تمام لکھاریوں کو چاہئے کہ وہ میدان میں آئیں اور اپنی عظیم تحریروں کے ذریعے نوجوان نسل کی رہنمائی کریں۔

Facebook Comments