مدینہ جیسی ریاست میں معاملات یوٹرن سے نہیں ، صراط مستقیم سے چلتے ہیں

مدینہ جیسی ریاست میں معاملات یوٹرن سے نہیں ، صراط مستقیم سے چلتے ہیں،میاں افتخار حسین
حکمران کچھ بھی ڈیلیور نہیں کر سکے ، سو روزہ کارکردگی پرعمران کی تقریر نے ڈی چوک کی یاد تازہ کر دی۔
احتساب کے دعوے کرنے والے نے احتساب کمیشن کو تالے لگا دیئے ، نیب کا مستقبل بھی مخدوش ہے۔
کرتار پور راہداری سے تعلقات اور تجارت کو فروغ ملے گا ،افغان سرحد پر بھی یہی پالیسی اختیار کی جائے۔
دوہری پالیسی سے قطع نظر افغانستان کے ساتھ بھی ویزہ پالیسی ختم کی جائے۔
اے این پی آزاد خارجہ پالیسی کے حق میں ہے ، حکومت خارجہ و داخلہ پالیسیوں کو ری وزٹ کرے ۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے حکومت کی سو روزہ کاکردگی پر وزیر اعظم کی تقریر کو ڈی چوک کی تقریر قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ حکمران سو دن میں کچھ بھی ڈیلیور نہیں کر سکے اس کے برعکس عوام کو مہنگائی اور بے روزگاری کی ایسی دلدل میں دھکیل دیا ہے جس سے نکلنا اب مشکل دکھائی دیتا ہے، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت سو دن میں مکمل ناکام ہو چکی ہے ،احتساب کے دعوے کرنے والے سیلیکٹڈ وزیر اعظم نے احتساب کمیشن کو تالے لگا دیئے جبکہ عنقریب نیب کا مستقبل بھی مخدوش دکھائی دے رہا ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں سے بہتری کی توقع عبث ہے ،موجودہ وزیر اعظم عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوتے تو انہیں قوم کی مشکلات کا ادراک ہوتا تاہم وہ مخصوص قوتوں کے توسط سے آنے والے سلیکٹڈ وزیر اعظم ہیں، انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتیں کم ترین سطح پر آ چکی ہیں لیکن پاکستان میں تبدیلی سرکار کی گنگا الٹی بہہ رہی ہے ،سو دن میں سلیکٹڈ وزیراعظم نے سو یوٹرن لئے حالانکہ مدینہ جیسی ریاست میں معاملات یوٹرن سے نہیں بلکہ صراط مستقیم سے چلتے ہیں،کرتارپور راہداری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ معاملہ خوش آئند ہے اور اس سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات اور تجارت کو مزید فروغ حاصل ہوگا ، تمام ہمسایہ ملکوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات خطے کے بہترین مفاد میں ہے،لہٰذا بھارت کو بھی امن عمل میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہئے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ حکومت کی حکمت عملی ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے غلط سمت میں جا رہی ہے جس کی وجہ سے مسائل مزید گھمبیر ہوتے جا رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ پائیدار اور دیرپا امن کے قیام میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دوہری پالیسی سے قطع نظر افغانستان کے ساتھ بھی ویزہ پالیسی ختم کی جائے اور تجارت کے فروغ کیلئے تعلقات کو مزید فروغ دیا جائے ،انہوں نے کہا کہ اے این پی آزاد خارجہ پالیسی کے حق میں ہے لہٰذا حکومت خارجہ و داخلہ پالیسیوں کو ری وزٹ کرے اور انہیں قومی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے از سر نو تشکیل دے۔

Facebook Comments