ظلم کا نظام باچا خان کے قافلے کو مشن سے نہیں ہٹا سکتا، اسفندیار ولی خان

ظلم کا نظام باچا خان کے قافلے کو مشن سے نہیں ہٹا سکتا، اسفندیار ولی خان
اے این پی کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے اور شہید حمید داوڑ اس تاریخ کا انمٹ باب ہیں۔
شہید فضل حمید داوڑ کو ڈکٹیٹروں کے ٹارچر سیل اور عقوبت خانے بھی اپنے مشن سے نہ ہٹا سکے۔
وزیرستان کے لوگوں کی خدمت اور پارٹی کیلئے خدمات کا سہرا شہید فضل حمید کے سر ہے۔
اغوا کار شہید فضل حمید سے اے این پی کا مشن چھوڑنے کا مطالبہ کرتے رہے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ اے این پی کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے اور شہید حمید داوڑ اس تاریخ کا انمٹ باب ہیں ، 5دسمبر یوم شہادت فضل حمید داوڑ پر اپنے پیغام میں انہوں نے شہید فضل حمید داوڑ کو پارٹی اور عوام کیلئے ان کی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی شمالی وزیرستان کے سابق صدرشہید فضل حمید داوڑ صبر و استقامت کا پہاڑتھے جنہوں نے قبائلی علاقے اور وزیرستان کے لوگوں کے لئے اپنی زندگی وقف کر رکھی تھی۔ ہر جابر ہر ظالم کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ لیکن شکست تسلیم نہیں کی،خواہ وہ قلعہ بالاحصار کے عقوبت خانے ہوں۔ یا شمالی وزیرستان کے چھپے ہوئے ٹاچر سیل ہوں۔ ظلم و جابر نے ان کو اپنے راستے اور اپنے مقصد سے ہٹا نہ سکے۔انہوں نے کہا کہ شہید فضل حمید داوڑ 1971 سے لیکر دسمبر 2010 تک اپنی جدوجہد کو جاری رکھتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کو شمالی وزیرستان میں دوسرے نمبر پر لے آئے،شہید نے زمانہ طالب علمی سے عوامی نیشنل پارٹی سے منسلک ہوکر تادم شہادت اپنا راستہ تبدل نہیں کیا،ضیاء الحق اور بعد ازاں ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے عقوبت خانے بھی شہید کو اپنے مشن سے نہ ہٹا سکے ، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ فضل حمید کو اغوا کرنے والے ان سے یہی مطالبہ کرتے رہے کہ اے این پی کا مشن چھوڑ دو جس پر فضل حمید نے جان کی پرواہ نہ کی اور اغواء کاروں کی شرائط سے قطع نظر باچا خان کے فلسفے پر کاربند رہنے کا عزم دہرایا ،بالآخر 5 دسمبر 2010 شام 8 بجے اسی مقام پر شہید کیا گیا۔ جہاں سے اٹھایا گیا تھا، انہوں نے کہا کہ ظالموں ،جابروں اور ظلم کا نظام قائم کرنے والوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ اے این پی باچا خان بابا کے سپاہیوں کا قافلہ ہے اور اس قافلے کو اپنے مشن سے ہٹانے کے تمام حربے ناکام ہو نگے جبکہ شہدا کا مشن نسل در نسل جاری رہے گا۔

Facebook Comments