سیاسی مسائل میں الجھنے سے سپریم کورٹ کی اپنی حیثیت متنازعہ ہو رہی ہے

پڑانگ میں ورکرز کنونشن

سیاسی مسائل میں الجھنے سے سپریم کورٹ کی اپنی حیثیت متنازعہ ہو رہی ہے ، اسفندیار ولی خان 

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ ملک کو غیر ضروری بحران کی طرف دھکیلا جا رہا ہے اورسیاسی مسائل میں الجھنے سے سپریم کورٹ کی اپنی حیثیت متنازعہ ہو رہی ہے ، سیاسی مسائل کے حل کیلئے پارلیمنٹ ہی بہترین فورم ہے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے چارسدہ پڑانگ میں ایم سی ٹواور ایم سی تھری کے مشترکہ ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ سیاسی رہنما تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے مسائل عدالتوں میں نہ گھسیٹیں ورنہ حالات خراب ہوں گے، انہوں نے کہا کہ ہمارا سیسی کلچر کپتان کے سیاست میں آنے سے تبدیل ہو چکا ہے سیاست سے شرافت کا جنازہ نکالنے میں کپتان کا بڑا ہاتھ ہے،انہوں نے عمران خان سے درخواست کی سیدھے رستے پر چلنے کا نام ہی سیاست ہے اور اس میں یوٹرن کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی لہٰذا سب سے پہلے تبدیلی اپنی پارٹی میں لائیں جس میں نظریاتی کارکنوں کو دیوار سے لگا کر دوسری جماعتوں کے لوگوں کو شامل کر کے آگے لایا جا رہا ہے، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ پنجاب میں جنگلہ بس میں کمیشن کے الزامات لگانے والوں نے اب پشاور میں وہی جنگلہ بس شروع کر کے کمیشن لینے کا ذریعہ بنا لیا ہے، انہوں نے کہا کہ 6ماہ مکمل ہو نے کو ہیں لیکن ابھی تک میٹرو کا نام و نشان تک نہیں ، انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات کی بارش نے پشاور میں 300ڈیم بھی آشکارا کر دیئے ، سینیٹ الیکشن کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپنا ایمان اور ضمیر بیچنے والوں سے قوم کیا توقع رکھ سکتی ہے، پی ٹی آئی کے چار ارکان اسمبلی نے سارا پول کھول دیا ہے اور اب اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ تحریک انصاف کے ارکان سب سے زیادہ بکے ، انہوں نے حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ سب کچھ سامنے آنے کے بعد الیکشن کمیشن نے اپنی آنکھیں کیوں بند کر رکھی ہیں ، اسفندیار ولی خان نے سینیٹ الیکشن میں کپتان کا اصل چہرہ قوم کے سامنے لانے کا کریڈت زرداری کو دیا اور کہا کہ نواز شریف اور زرداری دونوں کو ڈاکو کہنے والا سینیٹ الیکشن میں انہی کی گود میں جا بیٹھا ، انہوں نے کہا کہ اب فوجداری مقدمات کیوں نہیں چلائے جا رہے؟ سی پیک کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سی پیک میں انڈسٹریل زون کی تفصیلات سامنے لائی جائیں اور بتایا جائے کہ اس میں پختونوں کا کتنا حصہ ہے ، مرکزی صدر نے افسوس کا اظہار کیا کہ سی پیک کے تمام وسائل پنجاب کے روت پر لگا دیئے گئے اور مغربی اکنامک کوریڈور کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا جس کی وجہ سے یہاں کے عوام میں احساس محرومی میں اضافہ ہوا ، انہوں نے کہا کہ پنجاب بڑا بھائی ضرور ہے لیکن چھوٹے صوبے بڑے بھائی کے غلام نہیں ہیں انہیں ان کا جائز حق ملنا چاہئے ، فاٹا کے حوالے سے اسفندیار ولی خان نے ایک بار پھر اپنا مؤقف دہرایا اور کہا کہ خود حکومت نے کمیٹی بنائی اور اس کی سفارشات کی روشنی میں فاٹا کو صوبے میں ضم کرنے کا اعلان کیا جسے آج تک عملی جامہ نہیں پہنایا گیا، انہوں نے کہا کہ الیکشن سے قبل فاٹا کو صوبے میں ضم کر کے صوبائی اسمبلی میں اسے نمائندگی دی جائے اور آئینی ترمیم کر کے صوبائی کابینہ میں بھی فاٹا کا حصہ مقرر کیا جائے ، انہوں نے کہا کہ اگر اب بھی یہ مسائل حل نہ کئے گئے تو حالات اتنے زیادہ بگڑ جائیں گے کہ پھر کوئی انہیں کنٹرول نہیں کر سکے گا، صوبائی حکومت کی کارکردگی پر اسفندیار ولی خان نے کہا کہ موجودہ حکومت نے صوبے پر قرضوں کا تنا بوجھ لاد دیا ہے جسے اتارنے کیلئے آئندہ آنیوالی حکومتوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، اے این پی کو کرپٹ کہنے والے پرویز خٹک اپنے گریبان میں جھانکیں وہ اے این پی حکومت کا ساڑھے چار سال تک حصہ رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ صوبے کی تاریخ میں پہلی بار حکومت کے اپنے ممبران اسمبلی اپنے ہی وزیر اعلیٰ کے خلاف سلطانی گواہ بن رہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ نیب نے کیسز کا آغاز کر دیا ہے اور اب ان کے خلاف تحقیقات کی شروعات ہو چکی ہے، انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ آئندہ الیکشن کے حوالے سے اپنی تیاریوں کا آغاز کر دیں اور آنے والی حکومت ایک بار پھر اے این پی کی ہوگی۔

Facebook Comments