دوستانہ تعلقات کیلئے کرتار پور جیسا رویہ پاک افغان راہداری پر بھی دکھا یاجائے

دوستانہ تعلقات کیلئے کرتار پور جیسا رویہ پاک افغان راہداری پر بھی دکھا یاجائے، اسفندیار ولی خان
اقدام سے کاروباری برادری کو درپیش مسائل حل ہونے کے ساتھ ٹورازم کو بھی فروغ ملے گا۔
کریڈٹ کسی ایک شخص کو نہ دیا جائے ،شہیدبے نظیر اور محمد نواز شریف کے دور میں بھی کوششیں ہوتی رہیں۔
اے این پی کے منشور میں معیشت کی بہتری اور امن کیلئے دس راہداریاں قائم کرنے کا پلان واضح موجود ہے۔
پاک افغان تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ دو طرفہ عدم اعتماد ہے۔
خطہ کے امن کیلئے پاک افغان تعلقات میں تیزی سے بہتری ضروری ہے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کرتار پور راہداری کھولنے کے اقدام کی خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے کاروباری برادری کو درپیش مسائل حل ہونگے اور خصوصاً ٹورازم کو فروغ ملے گا، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ کرتار پور بارڈر کھولنے کا کریڈٹ کسی ایک شخص کو نہیں دیا جا سکتا کیونکہ اس حوالے سے شہید بینظیر بھٹو اور سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کے دور میں بھی بہت کام ہوچکا تھا ،اسفندیار ولی خان نے کہا کہ 71برس بعد کرتارپور سرحد کھلنے سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بہتر بنانے میں مدد ملے گی تاہم یہی رویہ پاک افغان بارڈر پر بھی اپنانا چاہئے تاکہ پشتونوں کے درمیان پائے جانے والے احساس محرومی کا خاتمہ کیا جا سکے ، انہوں نے کہا کہ سرحد کے دونوں جانب بسنے والے پشتونوں کی روایات ،ثقافت اور اقدار مشترک ہیں اور دونوں جانب کے پختون 40سال سے جنگ کا ایندھن بنتے رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ اے این پی کے منشور میں یہ واضح طور پر موجود ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد خطے میں معیشت کی بہتری اور دیرپا امن کے قیام کیلئے کم از کم دس راہداریاں قائم کی جائیں گی اور ہمارا گزشتہ کئی برس سے ملک کی حکومتوں سے مطالبہ چلا آ رہا ہے،انہوں نے کہا کہ پاک افغان تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ دو طرفہ عدم اعتماد ہے ،جب تک دونوں ممالک ایک دوسرے پر بھروسہ نہیں کریں گے حالات بہتر نہیں ہو سکتے اور خطہ کے امن کیلئے پاک افغان تعلقات میں تیزی سے بہتری ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا امن افغانستان کے امن سے مشروط ہے اور مترقی پاکستان کیلئے افغانستان کا مترقی ہونا ضروری ہے، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ پاکستان کو تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کرنا ہونگے ، کرتارپور راہداری کھولنے کے بعد ہم افغانستان کے ساتھ بھی راہداریاں کھولنے اور تعلیمی،تجارتی،ثقافتی و دیگر سرگرمیوں کی ریاستی سطح پر سرپرستی کی توقع رکھتے ہیں۔

Facebook Comments