حکومت طاہر داوڑ کیس پر مجرمانہ خاموشی کی وضاحت کرے

حکومت طاہر داوڑ کیس پر مجرمانہ خاموشی کی وضاحت کرے، ایمل ولی خان
اے این پی خاموش نہیں رہے گی ، بربریت کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائی جائے گی۔
حکومتی مشینری اور ادارے واضح کریں کہ طاہر داوڑ کیس کو کیوں دبایا جا رہا ہے؟
اسلام آباد سے اغواء ہونے والے پولیس افسر کی افغانستان منتقلی سیکورٹی پر سوالیہ نشان ہے۔
میڈیا پر واقعے کا بلیک آؤٹ کیا گیا، حکومت واقعے کے محرکات سے آگاہ دکھائی دیتی ہے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ شہید ایس پی طاہر داوڑ کی شہادت پر حکومتی خاموشی معنی خیز ہے البتہ اے این پی اس سنگین نوعیت کے معاملے پر کسی طور خاموش نہیں رہے گی، اپنے ایک بیان میں انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت شہید ایس پی طاہر داوڑ کے کیس پر مجرمانہ خاموشی کی وضاحت کرے ،حکومتی مشینری اور ادارے واضح کریں کہ طاہر داوڑ کیس کو کیوں دبایا جا رہا ہے ، ایمل ولی خان نے وزیر داخلہ کے بیان پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ وزیر موصوف کیلئے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ نڈر پختون پولیس آفیسر کی شہادت پر خاموش ہیں،انہوں نے کہا کہ قوم کو واضح کیا جائے کہ ایس پی طاہر داوڑ کا کیس کیوں اس قدر حساس ہے ؟دکھائی ایسا دے رہا ہے کہ حکومت قاتلوں اور قتل کے محرکات سے بخوبی آگاہ ہے، ایمل خان نے تعجب کا اظہار کیا کہ اسلام آباد سے اغواء ہونے والے پولیس افسر کو افغانستان کیسے منتقل کیا گیا،انہوں نے کہا کہ میڈیا پر واقعے کو بلیک آؤٹ کر کے حکومت کیا ثابت کرنا چاہتی ہے؟انہوں نے کہا کہ ہمیں خیبر پختونخوا کے پولیس جوانوں پر فخر ہے اور ہم اپنے جوانوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے تاہم طاہر داوڑ کی شہادت سے پولیس کا مورال زمین بوس ہو گیا ہے،انہوں نے کہا کہ اے این پی طاہر داوڑ شہید کے واقعے پر خاموش نہیں رہے گی اور ہر پلیٹ فارم پر اس بربریت کے خلاف آواز اٹھائی جائے گی۔

Facebook Comments