باطل نظریات کو شکست دینے کیلئے باچا خان بابا کی سوچ اور فکر پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے

باطل نظریات کو شکست دینے کیلئے باچا خان بابا کی سوچ اور فکر پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے،میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ باطل نظریات کو شکست دینے کیلئے باچا خان بابا کی سوچ اور فکر پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے اور باچاخان بابا اور ولی خان بابا کے تصورات اور خیالات کو نئی نسل تک منتقل کرنا ہی درحقیقت جامع باچا خانی ہے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کے 12ناٹال اکبر پورہ میں ایک نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، قبل ازیں علاقے سے دو گھرانوں نے اپنے درجنوں ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ، میاں افتخار حسین نے شامل ہونے والوں کوسرخ ٹوپیاں پہنائیں اورانہیں باچا خان کے قافلے میں شمولیت پر مبارکباد پیش کی ،اپنے خطاب میں انہوں نے باچا خان اور ولی خان بابا کی زندگی اور جدوجہد پرسیر حاصل گفتگو کرتے ہوئے تفصیلی روشنی ڈالی اور کہا کہ موجودہ دور ہم سے باچا خانی کا متقاضی ہے اور باطل نظریات کو شکست دینے کیلئے باچا خان بابا کی سوچ اور فکر پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ فخر افغان باچا خان حقیقی معنوں میں عدم تشدد کے داعی تھے،باچا خان اور ولی خان پختون قوم کے عظیم سپوت تھے جنہوں نے پختون قوم میں سیاسی شعور بیدار کرنے میں اہم رول پلے کیا‘ باچا خان جنگ آزادی میں پختون قوم کی نمائندگی کی اور ولی خان نے پاکستان بننے کے بعد ملک میں جمہوریت کی بالادستی ‘ پارلیمنٹ کی حیثیت کو تسلیم کروانے‘ 1973 کا آئین پاس کروانے اور صوبائی خودمختاری یلئے ایک لمبے عرصے تک اپنی بھرپور جدوجہد جاری رکھی۔ باچا خان بابا جیسی عظیم ہستی نے اپنی زندگی مخلوق خدا کی خدمت کیلئے وقف کئے رکھی ،میاں افتخار حسین نے کہا کہ انہوں نے دنیا بھر میں پختونوں کو ایک شناخت دی اور ان کا نام روشن کیا جبکہ اپنی سوچ فکر اور عدم تشدد کے فلسفے کے ذریعے برداشت کا علم دیا ، باچا خان نے قوم کو غلامی سے آزاد کرانے کیلئے جدوجہد کی اور آزادی کیلئے ضرورتِ علم کو محسوس کرتے ہوئے بے شمار سکول قائم کئے ،اور قلم کے فلسفے کے ذریعے انگریز کو نکال کر قوم کو آزادی دلائی ، انہوں نے کہا کہ باچا خان بابا وہ شخصیت تھے جنہوں نے پختونوں کو ایک ایسی جِلا بخشی کہ وہ اتحاد و اتفاق کی مثال بنے اور یہی وجہ تھی کہ انتہائی کم عرصہ میں ان کے پیروکاروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا، انہوں نے کہا کہ باچا خان نے عدم تشدد کا فلسفہ اسی لئے دیا کہ ماضی میں پختونوں کی تاریخ میں لڑائی جھگڑوں اور بزور طاقت حکمرانی کی جاتی رہی لہٰذا باچا خان نے قوم میں شعور اجاگر کرنے کیلئے قلم کا سہارا لیا ،اور اس مقصد کیلئے انہوں نے بے شمار سکول قائم کئے ، اسی طرح جو اقتصادی نظام باچا خان نے دیا اس میں سماجی انصاف بنیادی نکتہ تھا تاکہ سب کو برابری کی بنیاد پر حق ملنا چاہئے،انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں باچا خان کی سوچ و فکر کی زیادہ ضرورت ہے اور ان کے بتائے ہوئے عدم تشدد کے فلسفے پر چل کر ہی امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ فخر افغان باچا خان اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان کے پیروکاروں نے تاریخ کے ہر دور میں جمہوریت کی بالادستی کی جنگ لڑی۔ آج تاریخ نے ثابت کر دیا ہے کہ فخر افغان بابا باچا خان اور ولی خان بابا کی فکر ہی دراصل ملک دوستی اور عوام دوستی پر مبنی تھی اور ان کی سوچ کی جتنی ضرورت آج ہے پہلے کبھی نہیں تھی ،انہوں نے باچا خان بابا اور ولی خان بابا کے سیاسی عہد پر روشنی ڈالی اور کہا کہ پختون سرزمین کو باچا خان بابا کی صورت میں ایک ایسے عظیم شخص کو جنم دینے کا اعزاز حاسل ہے جو درویش بھی اور اپنے زمانے کے دانا بھی تھے جنہوں نے اپنی سرزمین سے حد درجہ محبت کی اور اس کی پاداش میں تمام عمر تکالیف اور اذیتیں برداشت کیں۔اُنہوں نے کہا کہ باچا خان بابا نے اپنی زندگی کے آخری وقت تک امن ، عدم تشدد ، آزادی ، انصاف اور رواداری کی عظیم اقدار کو فروغ دینے کا عہد برقرار رکھ کر ایک عظیم انسان ہونے کا ثبوت دیا۔

Facebook Comments