بادی النظر میں پانامہ سکرپٹ پلانٹڈتھا ،جاوید ہاشمی کو طلب کیا جانا چاہئے،میاں افتخار حسین

بادی النظر میں پانامہ سکرپٹ پلانٹڈتھا ،جاوید ہاشمی کو طلب کیا جانا چاہئے،میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ بادی النظر میں پانامہ سکرپٹ پہلے سے تیار تھا جسے بعد میں عملی جامہ پہنایا گیا ،نواز شریف سے متعلق جاوید ہاشمی کے عمران خان بارے انکشافات سے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونین کونسل چوکی ممریز میں تنظیمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،انہوں نے کہا کہ سال ڈیڑھ سال قبل جاوید ہاشمی نے اپنی پریس کانفرنس میں عمران خان کے حوالے سے جو انکشافات کئے وہ خوفناک ہیں اور اس سے مسلسل خدشات بڑھتے جا رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ ان حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو لگتا یہی ہے کہ پانامہ سکرپٹ پہلے سے طے شدہ تھا،، انہوں نے کہا کہ عدالت جاوید ہاشمی کو طلب کرے اور ان کے الزامات کی چھان بین کرے تاکہ عدالت کی حیثیت متنازعہ نہ ہو ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ سیاسی قائدین تدبر کا مظاہرہ کرتے تو آج حالات مختلف ہوتے ، سیاسی مسائل کے حل کیلئے پارلیمنٹ بہترین فورم ہے ،عمران خان کی ایک غلطی کی وجہ سے سیاسی معاملات عدالت تک پہنچے جس کا نقصان پارلیمنٹ اور عدالت دونوں کو ہوا، انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اپنی ساکھ اور حیثیت کو متنازعہ ہونے سے بچانے کیلئے سیاسی معاملات میں الجھنے سے گریز کرے۔18ویں ترمیم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 19اپریل2010اے این پی کیلئے تاریخ ساز دن ہے جب آج ہی کے دن ہم صوبائی خود مختاری اور صوبے کی شناخت حاصل کی تاہم جو عناصر 18ویں ترمیم کے خاتمے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں وہ یاد رکھیں اے این پی اپنی فتح کسی کو چھیننے نہیں دے گی،انہوں نے کہا کہ سی پیک پر پختونوں کے ساتھ جو ظلم کیا گیا وہ ناقابل برداشت ہے چینی سفیر نے ملاقات دوران ہمیں یقین دہانی کرائی تھی کہ مغربی اکنامک کوریڈور ہر حال میں بنے گا لیکن وفاقی حکومت نے حسب سابق پختونوں کو اس کے ثمرات سے محروم رکھنے کی سازش کی ، انہوں نے کہا کہ حکومت مغربی اکنامک کوریڈور پر جلد کام کا آغاز کرے ۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پہلے ہی عوام مشکلات کی دلدل میں دھنس چکے ہیں اور صوبائی حکومت کی بد انتظامی کی وجہ سے خیبر پختونخوا تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے ، انہوں نے کہا کہ پشاور میں جو گرین بیلٹ موجود تھی اس کا ریکارڈ بی آر ٹی کی نذر کر دیا گیا ہے جبکہ بلین سونامی ٹری میں ایک پودے میں18روپے کی کرپشن کی گئی جو اربوں میں بنتی ہے، انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے50فیصد خود رو پودے بھی بلین ٹری میں شمار کئے گئے اور جو پودے مرجھا گئے ان کے بارے میں سرکاری مؤقد اپنا یا گیا کہ وہ بے موسمی پودے تھے ، انہوں نے کہا کہ ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ پودوں کی اقسام اور موسمی اثرات سے نا بلد ہے ،احتساب کمیشن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خلاف اور دوسروں کا احتساب کرنے والا ادارہ خود داغدار ہو چکا ہے اور احتساب کمیشن میں حکومت نے جو تاریخی بے قاعدگیاں کیں وہ اپنی مثال آپ ہے ،انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی جانب سے بجٹ پیش نہ کرنے کا اعلان محض ڈرامہ ہے بجٹ پیش کرنے کے بعد وہ بجٹ پاس نہیں کراسکتے تھے کیونکہ ان کے پاس ممبران کی تعداد پوری نہیں ، انہوں نے کہا کہ جس حکومت سے دور حکومت کے تمام بجٹ لیپس ہو جائیں اور آخری بجٹ پیش کرنے سے قاصر ہو وہ تاریخ کی ناکام ترین حکومت ہوتی ہے ، میاں افتخار حسین نے پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں سے کہا کہ الیکشن کی تیاریاں شروع کریں اے این پی الیکشن میں بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔

Facebook Comments