اے این پی کا مقابلہ نظریاتی سیاست سے نابلد لوگوں کے ساتھ ہے، اسفندیار ولی خان

اے این پی کا مقابلہ نظریاتی سیاست سے نابلد لوگوں کے ساتھ ہے، اسفندیار ولی خان

ایمل ولی کے مقابلے میں جماعت اسلامی کاامیدوار زندگی بھر اسمبلی نہیں دیکھ سکے گا۔

اے این پی کے بغیر تمام سیاسی جماعتوں نے پیراشوٹ امیدواروں کو ٹکٹ جاری کئے ۔

اقتدار کے مزے لوٹنے والوں کو حکومتیں ختم ہونے کے بعد اسلام خطرے میں نظر آنے لگا ہے۔

اے این پی کے خاتمے کی باتیں کرنے والے باچا خان مرکز میں کی گئی پریس کانفرنس یاد رکھیں۔

انتخابات میں اے این پی کی کامیابی یقینی ہے ، میرہ نستہ پی کے58میں انتخابی جلسہ عام سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ چارسدہ میں عوامی نیشنل پارٹی کا مقابلہ ان لوگوں سے ہے جو نظریاتی سیاست کے الف ب سے بھی واقف نہیں،ایمل ولی کے مقابلے میں جماعت اسلامی سے سامنے آنے والا امیدوار زندگی بھر اسمبلی نہیں دیکھے گا،مولانا فضل الرحمان کو اسلام سے زیادہ حکومت کی فکر لاحق ہے،اے این پی کے خاتمے کی باتیں کرنے والے جماعت اسلامی کے امیر باچا خان مرکز میں پریس کانفرنس کر چکے ہیں جس میں سینیٹ انتخابات مین اتحاد پر انہوں نے اے این پی کا شکریہ ادا کیا ، انہون نے کہا کہ سیاست مین منافقت کیلئے کوئی جگہ نہیں،الیکشن میں اے این پی کیلئے میدان خالی ہے اور انتخابات میں کامیابی کے سوا دوسرا کوئی آپشن نہیں ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کے58میرہ نستہ چارسدہ میں انتخابی مہم کے سلسلے میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اپنے خطاب میں انہوں نے مزید کہا کہ انتخابی مہم زور و شور سے جاری ہے البتہ پارٹی عہدیدار اور تمام کارکن جرگے کریں اور پارٹی کا پیغام گھر گھر پہنچائیں،انہوں نے کہا کہ پانچ سال تبدیلی کے نعروں میں حقیقت نہیں تھی پشاور کو کھنڈرات میں تبدیل کر کے تبدیلی لائی گئی،تبدیلی والوں نے صرف پنجاب کی سیاست پر توجہ مرکوز رکھی ،کپتان پانچ سال تک جنہیں کوستے رہے انہی کو صاف شفاف کر کے ٹکٹ جاری کر دیئے یہی وہ تبدیلی ہے جس کی توقع کی جا سکتی تھی ، انہوں نے کہا کہاے این پی کے بغیر باقی تمام جماعتون نے ان امیدواروں کو ٹکٹ دیئے جو پیراشوٹ کے ذریعے دوسری جماعتوں سے آئے ، انہوں نے کہا کہ پانچ سال تک مرکز اور صوبے میں اقتدار کے مزے والوں کو حکومتیں ختم ہونے کے بعد اسلام خطرے میں نظر آنے لگا ہے اوراسلام کے نام پر اسلام آباد کیلئے تگ و دو شروع کر دی گئی ہے ، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ سراج الحق صوبے میں پی ٹی آئی کے کندھے پر جبکہ مرکز میں مولانا وفاقی حکومت کا حصہ رہے اس وقت اسلام بھی محفوظ تھا ، فاٹا اصلاحات کا بل پیش ہونے کو تھا جب مولانا نے نواز شریف کو فون کر کے بل رکوا دیا لیکن اسلامی نظام کے نفاذ کیلئے انہیں کبھی فون نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام عہدیدار اور کارکن بھرپور مہم چلائیں ،25جولائی کا سورج اے این پی کی کامیابی کی نوید لے کر طلوع ہو گا۔

Facebook Comments