امریکہ اب افغانستان میں پاکستان کے کردار سے مطمئن نہیں ہے

امریکہ اب افغانستان میں پاکستان کے کردار سے مطمئن نہیں ہے، میاں افتخار حسین
امن عمل کے حوالے سے افغان حکومت اور وہاں کی سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔
عمران خان حکومت چلانے کے اہل نہیں، قبل از انتخابات کی بات کر کے راہ فرار اختیار کی گئی۔
مقتدر قوتوں کو بھی اس بات کا احساس ہو چکا ہے کہ انہوں نے عمران خان کے سر پر جوا کھیلا ہے۔
گوگلی والا بیان غیر مناسب تھا، راہداری کے حوالے سے بھارت کا اعتماد بحال کرنا چاہئے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ امریکہ افغانستان میں پاکستان کے ابھی تک کے کردار سے مطمئن نہیں ہے اور اب وہ افغانستان میں پاکستان کا فیصلہ کن کردار اور تعاون چاہتا ہے ،تمام فریقین کو دل کھول کر افغانستان کے امن میں اپنا کردار ادا کرناچاہئے ، عمران خان کے حالیہ بیان پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن عمل کے حوالے سے افغان حکومت اور وہاں کی سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینا ضروری ہے اور اس کے بغیر امن مذاکرات کی کامیابی کے امکانات معدوم ہوں گے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ امریکہ افغانستان میں جاری جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانا چاہتا ہے جو پاکستان میں بھی دہشت گردی اور بد امنی کا باعث بنی رہی اور اس بار بھی پاکستان امریکی پالیسیوں کے نتیجے میں جنگ کا ایندھن بنے گا، قبل از انتخابات کے حوالے سے بیان پر انہوں نے کہا کہ مڈٹرم الیکشن کی بات عمران خان کی جانب سے راہ فرار ہے ،ہم نے پہلے ہی دھاندلی زدہ الیکشن اور جعلی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا ، انہوں نے کہا کہ عمران خان نے اب تسلیم کر لیا ہے کہ حکومت چلانے کیلئے اہل نہیں ہیں،جبکہ مقتدر قوتوں کو بھی اس بات کا احساس ہو چکا ہے کہ انہوں نے عمران خان کے سر پر جوا کھیلا ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ملک کو 100دنوں میں دیوالیہ کر دیا گیا ہے کیونکہ بیرونی دنیا عمرانی حکومت پر اعتماد نہیں کرتی ،انہوں نے کہا کہ حکومت زیادہ عرصہ چلتے دکھائی نہیں دے رہی ،کرتار پور راہداری بارے انہوں نے واضح کیا کہ شاہ محمود قریشی کا گوگلی والا بیان غیر مناسب تھا اور بادی النظر میں ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ کرتار پور راہداری کا اقدام ایک فرد کیلئے اٹھایا گیا،انہوں نے کہا کہ حکومت کو راہداری کے حوالے سے بھارت کا اعتماد بحال کرنا چاہئے ،کرتار پور راہداری کیلئے نوازشریف اور شہید بینظیر بھٹو کے دور میں بھی کوششیں کی جاتی رہیں تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس وقت مقتدر قوتوں کا موڈ کچھ اور تھا اور اس بار سیاسی و عسکری قیادت نے یکجا ہو کر کرتار پور راہداری کا افتتاح کیا۔

Facebook Comments