عوامی نیشنل پارٹی کے انتخابی منشور2018کا اعلان

 June-2018  Comments Off on عوامی نیشنل پارٹی کے انتخابی منشور2018کا اعلان
Jun 192018
 

عوامی نیشنل پارٹی کے انتخابی منشور2018کا اعلان ، پائیدار امن کا قیام اولیں ترجیح قرار

ملکی سالمیت کی خلاف ورزی کی کھل کر مخالفت کی جائے گی۔ منشور کا متن

پانچ سے سولہ سال کے بچوں کو مفت تعلیم فراہم کی جائے گی۔ منشور کا متن

بے گھر افراد کیلئے کم قیمت مکانات کی تعمیر کیلئے منصوبہ بندی کی جائے گی ، منشور کا متن

دہشت گردی سے متاثرہ افراد کے لئے انشورنس بلان ترتیب دیا جائے گا۔ منشور کا متن

سپریم کورٹ کو آئینی مسائل میں الجھانے کی بجائے علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کی حمایت کرینگے۔ منشور کا متن

خواتین کے حقوق کا تحفظ اور انہیں بااختیار بنایا جائے گا۔ منشور کا متن

مزدور کی اجرت کم از کم 25ہزار روپے مقرر کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

صحت کے لئے جی ڈی پی کا چھ فیصد مختص کیا جائے گا۔ منشور کا متن

ہر ضلع میں ایک یونیورسٹی اور صوبائی حلقے میں کالج بنایا جائے گا،میاں افتخار حسین کی انتخابی منشور کے اہم نکات پر پریس بریفنگ

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی نے اپنے انتخابی منشور کا اعلان کر دیا ،دیرپا امن کا قیام ، تعلیم اور ملکی استحکام اولیں ترجیح قرار ۔ کم از کم اجرت 25ہزار کرنے کا اعلان ، پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری اور منشور کمیتی کے چیئرمین میاں افتخار حسین نے باچا خان مرکز میں پر ہجوم پریس کانفرنس کے دوران منشور کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس منشور کا مقصد عوام میں اے این پی کے اغراض و مقاصد کے شعور کو اجاگر کرنا ہے ،اور اس کا مقصد پارٹی کے جذبہ سیاست کی وضاحت اور محرکات کا تعین کرنا ہے جو پارٹی حکمت عملی کا سرچشمہ ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے این پی نے گزشتہ دور حکومت میں اپنے پیش کئے گئے منشور پر عمل کیا اور آئندہ بھی اپنے منشور پر من و عن عمل کرے گی ، انہوں نے کہا کہ ہم 90دنوں یا سو دنوں کا منشور نہیں رکھتے ہم حقیقت پسندانہ سوچ رکھتے ہیں اور پانچ سال کا مکمل پروگرام لے کر آئے ہیں جس پر عمل درآمد بھی کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ حکومت میں آنے کے بعد پائیدار امن کا قیام ہماری ترجیح ہو گی ، اور اس عارضی امن کو مستقل امن میں تبدیل کریں گے ،انہوں نے کہا کہ ملکی سالمیت کی خلاف ورزی کی کھل کر مخالفت کی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم کے شعبہ میں انقلابی اصلاحات کی ضرورت ہے اور اے این پی نے اپنے گزشتہ دور میں بھی تعلیم پر خصوصی توجہ دی تھی ، انہوں نے کہا کہ موجودہ خارجہ و داخلہ پالیسیوں کے نتیجے میں ملک غیر محفوظ ہے اورخطرات تاحال منڈلا رہے ہیں ، اے این پی ان پالیسیوں کو تبدیل کرنے کیلئے مؤثر حکمت عملی اپنائے گی،انہوں نے مزید کہا کہ عدالتی نظام ، پولیس میں اصلاحات ، انسانی حقوق ،اقلیتوں کے حقوق کیلئے جدوجہد اور صوبائی خود مختاری، اٹھارویں ترمیم کے نفاذ اور استحکام کیلئے اپنی کاوشیں جاری رکھیں گے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انتخبات میں اتحاد کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں ہوا البتہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا اختیار اضلاع کے پاس ہے ،انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے متاثرہ افراد کی بحالی اور انشورنس پلان کیلئے مربوط پروگرام بنایا جائے گا ، ہرضلع میں جوڈیشل کمپلیکس بنایا جائے گااور سپریم کورٹ کو آئینی مسائل میں الجھانے کی بجائے علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کی حمایت کرینگے،خواتین کے حقوق کا تحفظ اور انہیں بااختیار بنایا جائے گاجبکہ خواتین کو ملازمتوں کے یکساں مواقع دئے جائنگے،پانچ سے سولہ سال تک کے عمر کے بچوں کو مفت تعلیم دی جائے گی،اردو انگریزی اور چینی زبان کو مضمون کی بجائے زبان کے طور پر پڑھایا جائے گا،میاں افتخار حسین نے کہا کہ تعلیم کے حوالے سے جامع پلان ہے اور ترجیحی بنیادوں پر ہر ضلع میں ایک یونیورسٹی اور صوبائی حلقے میں کالج بنایا جائے گا،پرائمری تعلیم کی مالی اور انتظامی معاملات مقامی حکومتوں کے سپرد کی جائنگی،صحت کے لئے جی ڈی پی کا چھ فیصد مختص کیا جائے گا،طلبہ و طالبات کو تعلیمی وضائف بھی دیئے جائیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ تمام اضلاع میں سپورٹس کمپلیکس بنائے جائنگے۔

وانا میں کشیدہ صورتحال کا خاتمہ کر کے مسائل کا پرامن حل نکالا جائے، اسفندیار ولی خان 

وانا میں کشیدہ صورتحال کا خاتمہ کر کے مسائل کا پرامن حل نکالا جائے، اسفندیار ولی خان  گولی مسائل کا حل نہیں تمام معاملات افہام و تفہیم سے ہی حل کئے جا سکتے ہیں۔ واقعے کی مکمل تحقیقات کر کے حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں۔  اے این پی ہر قیمت پر امن چاہتی ہے Read More……

فاٹا کا صرف ایک باب مکمل ہواہے ، رخنہ ڈالنے کی کوششیں کی جا سکتی ہیں،اسفندیار ولی خان

فاٹا کا صرف ایک باب مکمل ہواہے ، رخنہ ڈالنے کی کوششیں کی جا سکتی ہیں،اسفندیار ولی خان ابھی بہت کام باقی ہے ، تمام معاملات حل ہونے تک اپنی بھرپور کوششیں جاری رکھیں گے۔ پختونوں کے درمیان تقسیم کی ایک لکیر باقی ہے جسے مٹاکرپختونوں کی ایک وحدت قائم کریں گے۔ آئندہ الیکشن میں Read More……

زندہ قومیں اپنے اسلاف، شہداء اور غازیوں کی قربا نیوں کو کبھی فراموش نہیں کرتیں

زندہ قومیں اپنے اسلاف، شہداء اور غازیوں کی قربا نیوں کو کبھی فراموش نہیں کرتیں، اسفندیار ولی خان جب تک ممکن ہوا ہم اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کبھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ شہداء ٹکر کی قربانیاں ہمارے لئے مشعل راہ ہیں اور عدم تشدد کے فلسفے پر گامزن Read More……