انتخابی منشور 2013ء


 

اس منشور کا مقصد انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی کے مقاصد کو عوام تک پہنچانا ہے تاکہ ووٹ ڈالتے وقت ان کے دل و دماغ میں عوامی نیشنل پارٹی کے مقاصدکا واضح شعور موجود ہو۔منشور کا مقصد یہ نہیں کہ اس کے نفاذ کی تفصیلات پیش کی جائیں۔ بلکہ اس میں و ہ رہنما ا صول شامل ہیں جن کے ذریعے پارٹی کو متحرک کیا جا سکے اور وہ تمام مقاصد جن کو پالیسیوں مین تبدیل کرکے نافذ کئے جاسکیں۔جسکے ذریعے ہم تنہا یا دوسروں کے ساتھ اتحاد کی صورت میں پاکستانی عوام کی خدمت کر سکیں ۔
منشور کو مندرجہ ذیل حصوں میں تقسیم کیا گیاہے۔
دیباچہ
I۔ امور داخلہ
1۔امن اور سلامتی
2۔سیاسی ،قانونی اور انتظامی امور
3۔معاشرتی، معاشی اورمالی امور
4۔ صوبائی خودمختاری

i۔تعلیم
ii۔صحت
iii۔آبادی سے متعلق منصوبہ بندی اورفلاح بہبود
iv۔مزدوروں کے حقوق اور بہبود
v۔نوجوانوں کی فلاح و بہبود اور روزگار
vi۔زراعت
vii۔ماحولیات
viii۔صنعتی اور تکنیکی ترقی
ix۔فن و ثقافت
x۔کھیل اور سیاحت
xi۔انفارمیشن ٹیکنالوجی
II۔انسانی حقوق
1۔عورتوں کے حقوق اور انہیں بااختیار بنانا
2۔بچوں کے حقوق
3۔اقلیتوں کے حقوق اورانہیں بااختیار بنانا
4۔ضعیف العمر اور معذور
III۔قبائلی علاقہ جات
IV۔ امور خارجہ







دیباچہ
عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) خان عبدالغفار خان جنہیں لوگ باچا خان کے نام سے جانتے ہیں کے افکار اورجدوجہد کا تسلسل ہے ۔امن اور عدم تشدد ان کے رہنما اصول تھے۔آزادی اور انصاف کے لیے انہوں نے پوری زندگی کوشش کی ۔ناانصافی،استحصال اور بے رحمی کے خلاف ہمیشہ آواز اُٹھائی ۔باچا خان اور ان کے خدائی خدمتگاروں نے جنوبی ایشیاء کو آزادی دلانے کے لیے اس وقت کی سامراجی اور استعماری قوتوں کے خلاف آواز اٹھائی ۔ان کوششوں میں انہوں نے جو قربانیاں دیں ان کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی اور یہی قر بانیاں ان لوگوں کے لیے مشعل راہ ہیں جو انصاف اور آزادی چاہتے ہیں۔ان کی کوشش صرف جنوبی ایشیاء کے عوام اور بالخصوص پختونوں کی آزادی کیلئے ہی نہیں تھی بلکہ وہ ان کو بیرونی طاقتوں کے استحصال ،بے رحمی اور ناانصافی سے بھی بچانا چاہتے تھے۔وہ اپنی قوم سے غربت، جاہلیت ، فضو ل رسم ورواج ،اندورنی اختلافات اور سیاسی جمود کا خاتمہ چا ہتے تھے ۔ وہ تمام قوموں کی معاشرتی اور سیاسی ترقی چاہتے تھے ان کی خواہش تھی کہ تمام قومیں اپنے اندرونی اختلافات کو بھلا کر آزادی کے ساتھ رہیں اور دوسری قوموں کے ساتھ تعاون کریں ۔مختصر یہ کہ باچا خان سیاست اور عوام کی فلاح و بہبود کو تصویر کے دو رخ سمجھتے تھے۔
عوامی نیشنل پارٹی نے اس تسلسل کو جاری رکھتے ہوئے نیپ اور این ڈی پی کی طرح سیاست اور عوامی فلاحی وبہبود کو ایک دوسرے کا ضروری حصہ سمجھا ہے اسلئے کہ اے این پی کے نقطہ نظر میں انکو ایک دوسرے سے جدا کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہے پارٹی نے اپنے آپ کو جمہوریت اور آزادی کی بہتری ، غربت اور جاہلیت کے خاتمے ، انسانی حقوق کے تحفظ اور معاشرے کے کمزور طبقوں کے حقوق کی پاسداری کے لیے وقف کیا ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی مکمل طور پر امن اور عدم و تشدد پر یقین رکھتی ہے تشدد اور شدت پسندی خواہ جس شکل میں بھی ہواے این پی اس کی مخالفت کرتی ہے اور تمام معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کو بہتر رویہ تصور کرتی ہے۔پارٹی بغیر کسی تفریق اور تعصب کے شہریوں کو برابرحقوق دینے پر یقین رکھتی ہے۔ فیڈریشن میں چاروں صوبوں کی سیاسی ،معاشی ، معاشرتی اور قومی ترقی میں حصے داری پر مکمل یقین رکھتی ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی مذہب اور رسم ورواج کی تنگ نظری پر مبنی تشریح کی مخالفت کرتی ہے اور باچا خان کے نظریہ بشر دوستی ، شراکت داری اور دھرتی کے دانش جو تہذیبی ارتقا ء سے جڑی ہو کی مکمل پاسداری کرتی ہے۔ان اہداف کو مد نظر رکھتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی پاکستان میں ان تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ چلنے کے لیے تیا ر ہے جن کے مقا صد بھی یہی ہوں ۔یہی نہیں بلکہ پارٹی پر امن مما لک کا ساتھ دینے کے لیے بھی تیا ر ہے۔
I۔ امور داخلہ
عوامی نیشنل پارٹی دہشت گردی اور شدت پسندی کو ملک کی بقاء کے لیے بڑا خطرہ سمجھتی ہے۔امن کی بقاء کے لیے پارٹی نے پچھلے پانچ سالوں میں ۷۰۰ سے زیادہ پارٹی کارکنوں کی قربانی دی ہے۔پرُ امن ملک کے لیے پارٹی اپنے آپ کو ذمہ دار سمجھتی ہے اور اس کے مقصد کے لیے دی جانے والی پاکستانی قوم ،سیکیورٹی ایجنسیوں اور خصوصاً پارٹی کارکنوں کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دے گی۔
1۔امن اور سلامتی
i۔عوامی نیشنل پارٹی ایسے تمام عناصر کی مخالفت کرے گی جو ملک کی بقاء اور سا لمیت کو نقصان پہنچائے ۔
ii ۔عوامی نیشنل پارٹی اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ وہ قومی اتفاق رائے سے اس ملک کو جمہوری ملک بنائے گی ۔
iii۔ عوامی نیشنل پارٹی اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ عوام کے نامزد نمائندوں کی اولین ذمہ داری سیکیورٹی اور خارجہ پالیسی ہے۔سیکورٹی اور خارجہ پالیسی کا عمومی جائزہ پار لیمنٹ کے اند ر اور با ہر لیا جائے گا تاکہ ملک کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔
iv ۔عوامی نیشنل پارٹی قبائلی علاقہ جات میں حکومتی رٹ کو لاگو کرنے کی یقین دہانی کرواتی ہے اور علاقہ کو دہشت گردی کے ناسور سے پاک کرنے کی کو شش کرے گی۔
v۔عوامی نیشنل پارٹی فاٹا اور پاٹا کو اتفاق رائے سے رائج الوقت معاشرتی، معاشی اور سیاسی اصلاحی پروگرام میں شامل کرے گی۔
vi۔عوامی نیشنل پارٹی ہر اس جماعت کے ساتھ بات چیت کرے گی جو آئین کی بالادستی کو مانتی ہو اور تشدد کے خلاف ہو۔
vii۔عوامی نیشنل پارٹی دہشت گردی، شدت پسندی اور فرقہ واریت کی بیخ کنی کے لیے جدید، مربوط اور پیشہ ورانہ دفاعی حکمت عملی پر یقین رکھتی ہے ۔عوامی نیشنل پارٹی تمام دفاعی پالیسیوں کو جدید خطوط پراستوار کرنے کی حتی الوسع کوشش کرے گی۔
viii۔عوامی نیشنل پارٹی قانون کی پاسداری اور ً انصاف سب کے لیےً کی حکمت عملی کے نفاذ کی کوشش جاری رکھے گی۔
ix۔عوامی نیشنل پارٹی دہشت گردی ، شدت پسندی اور فرقہ واریت سے متاثرہ لوگوں کے لیے معاوضہ دینے کی پالیسی مرتب کرے گی۔ جس کے لیے پبلک انشورنس پالیسی سسٹم متعارف کرائے گی۔اس پالیسی کو قبائلی علاقہ جات تک وسعت دی جائے گی کیونکہ شدت پسندی اور تشدد نے ان کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔
x ۔عوامی نیشنل پارٹی صوبوں اور فاٹا میں شہیدوں کا ایک سیل بنائے گی تاکہ شدت پسندی اور دہشت گردی میں شہید ہونے والوں کے خاندانوں کی کفالت کی جا سکے۔
2۔سیاسی ،قانونی اور انتظامی امور
عوامی نیشنل پارٹی ایک ایسے پر امن ، ترقی پسند اور لبرل معاشرے کو معرض وجود میں لانے کی کوشش کرے گی جومندرجہ زیل عوامل پر مشتمل ہوگا۔
i۔عوامی نیشنل پارٹی جمہوری اقدار کی مضبوطی ، قانون کی پاسداری اور انصاف تک ہر کسی کی رسائی کو ممکن بنانے کے لئے اقدامات کرے گی۔
ii۔عوامی نیشنل پارٹی دوسری اقوام سے نفرت اور مذہبی شدت پسندی کے خلاف اپنی کوششیں جاری رکھے گی کیونکہ یہ ملک کو تنہائی کی طرف لے جا سکتا ہے۔
iii۔عوامی نیشنل پارٹی مذہب، نسل، قوم اور جنس کی بنیاد پر تعصب کی سخت مذمت کرتی ہے۔
iv ۔عوامی نیشنل پارٹی پاکستان کے عام شہریوں کے اس حق پر یقین رکھتی ہے کہ وہ ہر قسم کا عہدہ حاصل کر سکتا کرسکتی ہے ۔یہاں تک کہ وہ ملک کا صدر اور وزیر اعظم تک بن سکتا سکتی ہے۔
v۔عوامی نیشنل پارٹی تمام امتیازی قوانین کو ختم کر ے گی اوراقلیتوں کے جان ومال کے حفاظت کو یقینی بنائے گی۔
vi۔عوامی نیشنل پارٹی چاروں صوبوں ، فاٹا اور گلگت بلتستان کے عوام کی شناخت اور آئینی تحفظ کو یقینی بنائے گی۔چاروں صوبوں کے عوام کی زبان اور کلچر کی ترقی کے لیے ان کو مکمل آزادی دی جائے گی۔
vii۔عوامی نیشنل پارٹی نے ہمیشہ بلوچستان کے عوام کے خلاف تشدد کی مخالفت کی ہے ۔پا رٹی چاہتی ہے کہ بلوچ، پختون اور دیگر اقوام سے تعلق رکھنے والوں کو بااختیار بنایا جا ئے اور صوبے کے وسائل اور حکومت میں مکمل حصہ دیا جائے ۔
viii۔عوامی نیشنل پارٹی بلدیاتی نظام حکومت کے انتحابات کو جمہوریت کی مضبوطی اور عام شہری کے لیے انصاف اور خدمات کے حصول کا اہم ترین ذریعہ سمجھتی ہے۔پارٹی بلدیاتی نظام کو مزید مستحکم بنائے گی اور اس سطح پر خواتین نشستوں میں اضافہ کی کاوشیں کرے گی ۔
ix۔پارٹی انجمن سازی اور آزادئ رائے کی مکمل ضمانت دیتی ہے اور اطلاعات تک رسائی کے حق کو بھی یقینی بنائے گی ۔
x۔عوامی نیشنل پارٹی صوبائی خود مختاری کی حمایت کرتی ہے ۔ دفاع، خارجہ امور، کرنسی، تعلقات عامہ اور اس طرح کے دیگر شعبے جو عام شہریوں کے مفاد میں ہوں اور چاروں صوبے ان پر متفق ہوں تو مرکز کے پاس ہوں گے۔عوامی نیشنل پارٹی ا ٹھارویں ترمیم کو تیل، گیس، پانی،بجلی، توانائی ، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں نافذ کرنے کی حکمت عملی کی تشکیل کرے گی۔پچھلے تین برسوں میں صوبوں نے جو منصوبے شروع کیے ہیں ان سے متعلق پالیسی بنائے گی۔
xi۔عوامی نیشنل پارٹی پانی کے ذخائر کی تقسیم بالخصوص دریائے سندھ کے دریائی نظام کی منصفانہ تقسیم پر یقین رکھتی ہے اور صوبوں کے پانی پر نا جائز قبضے کی مخالفت کرتی ہے۔
xii۔عوامی نیشنل پارٹی دفاعی بجٹ کو کم کرنے کی کوشش کرے گی تاکہ پاکستان کے عام شہریوں کی معاشی اور فلاحی بہبود کو پامال کرنے سے بچایا جا سکے۔
xiii۔عوامی نیشنل پارٹی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ فوج کے پیشہ ور ملازمین جیسا کہ ڈاکٹر، انجنئیر، اساتذہ اور دوسرے ہنر مند اور نیم ہنر مند افرادکی خدمات کو ضرورت کے مطابق بغیر کسی معاو ضے کے استعمال کرے گی۔
xiv۔عوامی نیشنل پارٹی ملکی سیاست میں سول اور ملٹری بیورو کریسی کی مداخلت برداشت نہیں کرے گی۔ پارٹی ان اصولوں کی تائید کرتی ہے جن کے تحت ہر ادارہ اپنے آئینی دائرہ اختیارمیں رہتے ہوئے کام کرنے کا مجاز ہے۔
xv۔عوامی نیشنل پارٹی پارلیمنٹ اور پارلیمانی کمیٹیوں کے محاسبانہ کردار کو مضبوط بنائے گی تاکہ انتظامیہ اور اعلیٰ عہدوں پر نامزدگیوں کے عمل پر کڑی نظر رکھی جاسکے بالخصوص اعلیٰ عدلیہ کے ججوں ، سفیروں اور اعلیٰ حکومتی اداروں کے سربراہوں کی نامزدگی کو شفاف بنائے گی۔
xvi۔وفاقی حکومت کے تحت کام کرنے والوں کی صوبے میں پوسٹنگ متعلقہ صوبے کی مشاورت سے ہوگی ۔صوبے میں پوسٹنگ پر فرائض منصبی ادا کرنے کا اختیار صرف صوبے کے پاس ہو گا۔
xvii ۔عوامی نیشنل پارٹی وفاق میں ہر سطح کی تقرری کے حوالے سے صوبوں کے جائز حقوق کا مکمل دفاع کرے گی ۔
xviii ۔عوامی نیشنل پارٹی متوازی قوانین کو ختم کرنے کی کو شش کرے گی تاکہ ملک میں یکساں نظام انصاف کو فروغ دیا جا سکے۔
xix۔عوامی نیشنل پارٹی وفاقی اکائیوں کی زبان ، کلچر اور تاریخی حوالوں سے ازسرنو تشکیل کی ان تمام کاوشوں کی حمایت کرے گی جو آئین کے مطابق ہوں ۔
xx۔معاشی، معاشرتی اور قانونی لحاظ سے ایک مکمل پیکج تیار کیا جائے گا تاکہ مزدوروں اور غرباء کے حقوق کو محفوظ کیا جا سکے۔
xxi ۔عوامی نیشنل پارٹی معذوروں کے حقوق کا تحفظ کرنے ،ان کی فلاح و بہبود اور ترقی کو یقینی بنانے اور ان کی ہر سطح پربامعنی شرکت کی تائید کرے گی۔مزید برآں معذور ں کے کوٹے کی ضمانت کو یقینی بنائے گی۔
xxii ۔عوامی نیشنل پارٹی حکومتی عملہ میں زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم تنخواہ لینے والے کے درمیان فرق کو کم کرنے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کو 5:1کے تناسب پر لایا جا سکے۔ تنخواہ اور دوسرے الاؤنسز کومہنگائی اور حالات سے مطابقت کی سطح تک لایا جائے گا۔
xxiii۔ریٹائرڈ حکومتی عملے کو قانون کے مطابق دوبارہ کنٹریکٹ نہیں دیا جائے گا۔ عام شہریوں کے مفاد کی خاطر ان کو کنٹریکٹ دیا جا سکتا ہے لیکن اس کے لیے تحریری وجوہات دینا ضروری ہو نگی۔
xxiv۔ملک میں سابق حکمرانوں اور ان کے خاندانوں کو جو مراعات دی جارہی ہیں وہ تمام مالی مراعات بند کر دی جائیں گی۔
xxv۔رشوت خوری، بلیک مارکیٹنگ ،سمگلنگ اور اس قسم کی دوسری معاشرتی برائیوں کو ختم کرنے کو اولین ترجیح دی جائے گی اور اس کے لیے ایک آزاد اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا تاکہ وہ ان کا مکمل احتساب کرے ۔
xxvi۔عام شہریوں کے گھریلو معاملات اور رابطوں کے حق اخفا کو یقینی بنایا جائے گا۔وائر ٹیپنگ، سنسر شپ اور کسی کی ذاتی استعمال کے جگہ میں بغیر قانونی ثبوتوں کے اندر جانے کی مما نعت ہو گی۔
3۔معاشی اور معاشرتی اصلاحات
عام شہریوں کو اچھی سہولیات کی فراہمی ایک ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں سے ہے۔سیاسی حقوق اور آزادی معاشی اور معاشرتی ترقی سے مربوط ہونی چاہئے ۔غربت ، بیماری اور ناخواندگی کاخاتمہ ہونا چاہئے اور سماجی انصاف کو یقینی بنایا جانا چاہئے ۔بڑھتی ہوئی آبادی ، بے تحاشاغیرترقیاتی و دفاعی اخراجات اور اندرونی و بیرونی قرضہ جات دراصل سماجی ومعاشی پسماندگی کے اشاریے ہیں۔
1۔معاشی اور معاشرتی اصلاحات
عوامی نیشنل پارٹی معاشی اور معا شرتی پالیسیوں کے ساتھ ان نیچے دیے گئے تجاویز پر عمل پیرا ہو گی تاکہ ملک اس وقت جن معاشی اور معاشرتی مسائل سے دو چار ہے ان کا تدارک کیا جاسکے۔
i۔عوامی نیشنل پارٹی چاہتی ہے کہ وہ معاشی اور ادارہ جاتی اصلاھات کا ایجنڈا مرتب کرے تاکہ ملک میں معاشی، معاشرتی اورتوانائی کے بحرانو ں کا درست حل نکالا جا سکے۔
ii ۔عوامی نیشنل پارٹی معاشرے کے مختلف طبقات ،جنس، دیہی ، شہری علاقوں اور صوبوں کے درمیان معاشی تر قی کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنا چاہتی ہے تاکہ غربت کے ناسور کو معاشرے سے ختم کیا جا سکے اور انسانی ترقی کو بہتر بنایا جا سکے۔
iii۔عوامی نیشنل پارٹی پن بجلی کی آمدن کے حوالے سے مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلوں کو حقیقی رنگ میں نافذ کرے گی ۔
iv ۔ تیل اور گیس کے نئے ذخائر کی دریافت (خصوصاً پختونخوا میں) کے بعد آئین کی 18ویں ترمیم کی روشنی میں نئے نرخوں کے تعین کے حوالے سے گفت وشنید کی جائے گی ۔
v ۔خیبر پختونخوا گیس کمپنی کوپختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی کے دور حکومت میں شروع کیا گیا تھا اس کو جلد از جلدفعال کیا جائیگا اور اس طرح کے منصوبوں کو دوسرے صوبوں میں بھی متعارف کیا جائے گا۔
vi۔توانائی کے دوسرے ذرائع جیساکہ کوئلہ ،نہری پانی ،شمسی توانائی، پن بجلی اوراسطرح کے دوسرے ذرائع کو بھی متعارف کیا جائے گا۔
vii ۔صوبائی وسائل میں اس وقت کمی دیکھنے میں آئی جب وفاقی حکومت نے صوبوں سے کنٹونمنٹ ٹیکسز کو اپنی دسترس میں لے لیا لیکن انفرا سٹرکچر ،خدمات اور امن و امان کی ذمہ داری صوبوں کے ذمہ چھوڑ دی۔وفاقی حکومت کو چاہئیے کہ وہ ان ذمہ داریوں کے لیے عام شہریوں کو معاوضہ ادا کرے۔
viii۔بہت سارے بڑے بڑے ادارے جیسا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی،سول ایوی ایشن اتھارٹی وغیرہ وغیرہ کو قومی معاشی کونسل سے ہٹا دیا گیا جس کی وجہ سے فنڈز کی تقسیم اورمنصوبوں کو آگے نہیں بڑھا یا جا سکتا۔ عوامی نیشنل پارٹی اس کو مشترکہ مفادات کونسل کے زیر سایہ لائے گی تاکہ اس میں برابری کو یقینی بنایا جا سکے۔
ix۔دہشت گردی اور شدت پسندی کی لہر نے کئی برسوں تک ملک کے وسائل اور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچایا اس میں پختونخوا اور فاٹا سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔عوامی نیشنل پارٹی قدرتی وسائل اور انفرا سٹرکچر کی بحالی کو اپنی اولین تر جیح سمجھتی ہے۔
x۔عوامی نیشنل پارٹی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے جہاں کہیں ممکن ہو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کو یقینی بنائے گی تاکہ کم خرچ میں بہتر سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔
xi۔عوامی نیشنل پارٹی بیرونی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے گی اور اس سلسلے میں خصوصی رعایات دے گی۔
xii۔پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی کے دور حکومت میں باچا خان روزگار سکیم ، ٹیکنیکل ٹریننگ اور رورل ڈیولپمنٹ سکیم کے جو منصوبے شروع کیے گئے تھے ان کو مزید ترقی دی جائے گی اور ان کو دوسرے صوبوں تک پھیلایا جائے گا۔
xiii۔عوامی نیشنل پارٹی صنعت اور زراعت میں خود کفالت پر مکمل توجہ د ے گی اور پیداوار کی بہتری کے لیے نئی ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال، انسانی وسائل کی ترقی اور افراط زر کی کمی کی بہتری کے لیے کام کرے گی۔
xiv۔انتہا پسندی، دہشت گردی اور فرقہ واریت کے خطرات ملک کی معیشت پر منفی طور پر اثر انداز ہورہے ہیں ۔عوامی نیشنل پارٹی شدت پسندی، انتہا پسندی اور دہشت گردی کی بیخ کنی کے لیے کام کرے گی تاکہ ملک کی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔
xv۔گوادر، کراچی، بلوچستان اور ملک کے دوسرے حصوں میں قبضہ مافیا کے ساتھ متعلقہ صوبائی حکومت اور متاثرہ لوگوں کی خواہش کے مطابق سختی سے نمٹاجائے گا۔
2۔مالی اور ٹیکس اصلاحات
i۔عوامی نیشنل پارٹی GDPمیں ٹیکس کے تناسب کو کم سے کم ۱۵ فی صد تک بڑھائے گی۔
ii۔ٹیکسوں کو بڑھانے کے لیے پارٹی ان لوگوں پر ٹیکس لگائے گی جن کے پاس دولت ہے اور تمول کی شرح کو چھو رہی ہے ۔ان لوگوں پر ٹیکس لاگو نہیں کیا جائے گا جن پر یہ بوجھ بنتا ہے۔اسکے علاوہ ڈائریکٹ ٹیکس کو۷۰ فی صد تک بڑھایا جائے گا اورٹیکس کی وصولی کو وقت کے ساتھ ساتھ بہتر بنایا جائے گا۔
iii۔عوامی نیشنل پارٹی اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ آمدنی خواہ جہاں اور جس طریقے سے بھی ہو پر ٹیکس لاگو ہونا چاہیئے اور کسی کو بھی ٹیکس سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ زراعت، پراپرٹی کا کاروبار کرنے والے، دفاع سے متعلق کاروبار کرنے والے، کنٹونمنٹ میں کام کرنے والوں کی جائیدادیں، اور قیاسی مارکیٹس وغیرہ کو بھی ئیکس کے زمرے میں لایا جائے گا۔
iv۔عوامی نیشنل پارٹی حکومتی اخراجات کا مشاہدہ کرکے ان سے غیرضروری اخراجات اور رشوت خوری کا خاتمہ کرے گی اور انکے احتساب کو یقینی بنائے گی۔
v۔قرض کے حجم نے ملک کی معیشت کو معذور کر دیا ہے ۔مجموعی طور پر حکومتی اخراجات قرضوں پر چلتے ہیں جس کی وجہ سے ملکی اور غیر ملکی قرضوں کا حجم بہت زیادہ بڑھ گیا ہے جس نے سود کی شرح کوبھی بڑھا دیا ہے جس سے روپے کی قدر میں بھی کمی آئی ہے ۔قرضوں کی دیکھ بھال کرنے والوں نے بیرونی فنڈز کی موثر استعمال کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے اور یہ زیادہ تررشوت ،سرمایہ کی پرواز، قرضوں کے تنازعات کے مقامی بچت پرغلط اثراور ان کو بچت کی بجائے خرچ کیے جانے والی چیزوں پرصرف کیا جاتا ہے۔عوامی نیشنل پارٹی اس چیلنج کا سامنا درجہ ذیل طریقوں سے کرے گی۔
ا۔مالی ذمہ داری اور قرضوں کی حد قائم کرنے کے اقدامات اٹھائے گی۔
ب۔اولین ترجیح مہنگے قرضوں کی واپسی ہو گی تاکہ قرض کا حجم کم کیا جاسکے۔
ج۔قرضوں کی واپسی کے لیے ایساطریق کار بنائے گی تاکہ ان کی دوبارہ واپسی یقینی ہو۔
د۔ملکی اور بیرونی سرما یہ کاروں کی ملک میں سرمایہ کاری کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
ھ۔قرض کے حوالے سے اپنی ساکھ /اعتبار کو برقرار رکھے گی ۔
س۔قلیل مدتی اور کثیر المدتی منصوبوں کے لیے قرضوں کو کثیر الجہت بنایا جائے گا۔
و۔ تجارتی خسارے کو ایک پائیدار سطح تک کم کرنے کی کوشش کی جائے گی اور ملکی برامدات اورترسیلات زر کو بڑھایا جا ئے گا۔
ز۔ ہماری معیشت جو کہ زرعی بنیادوں پر کھڑی ہے اسکو مضبوط کرنے کے لیے زراعتی کاروبار کو فروغ دیا جائے گا۔
ح۔ تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے موجودہ ساکھ/اعتبار کے خسارے کو کم سے کم کرنے کی کوشش کی جائے گی اور معیار کے پیمانوں کو بہتر بنایا جائے گا۔
ط۔علاقائی تجارت بالخصوص افغانستان سے تجارت کو فروغ دیا جائے گا۔۔ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ دو سڑکیں (طورخم اور سپین بولدک) تجارتی فروغ کے لیے ناکافی ہیں۔کم از کم مزید دس سڑکیں اور ریلوے نظام متعارف کیا جائے گا تاکہ دونوں مما لک کے درمیان تجارتی فروغ کو مضبوط کیا جا سکے۔
ی۔ملک کے کمزور معیشت کے علاقوں کے بے روزگار نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے روایتی کاریگری میں سرمایہ کاری کی جائے گی تاکہ متعلقہ علاقے کے نوجوان اپنے لیے روزگار کے مواقع پیدا کریں۔
ک۔آنے والے دس سالوں میں مینوفیکچرنگ شعبے کا حصہGDP میں موجودہ ۱۹ فی صد سے بڑھا کر۳۰ فی صد تک پہنچایا جائے گا۔
ل۔ریاستی اداروں کو مزید کارگر بنایا جائے گااور ان کو رشوت سے پاک کرکے شفاف بنایا جائے گا۔
م۔انڈسٹری سیکٹر میں پیداواری صلاحیت پر خرچہ کم کرنے کے لیے جدید طریقوں کو اپنایا جائے گا۔برآمدات پر ڈیوٹی کو کم سے کم کر دیا جائے گا قیاسی مارکیٹ پر مبنی معاشی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کی جائے گی اور انفراسٹرکچر کو ترقی دی جائے گی تاکہ ملکی معیشت کوصحت مند اور توانا کیا جاسکے۔
ن۔عوامی نیشنل پارٹی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ صنعتوں کے لئے مراعاتی پیکیجز اس طرز سے بنائے جائیں کہ پیداوارمیں کمی کا رجحان ختم ہو، زیادہ توجہ لوگوں کی استعداد کار کی تعمیر پر ہو تاکہ صنعتی تحقیق و ترقی پر مبنی تکنیکی صلاحیتوں میں اصل سرمایہ کاری ہو۔
ق۔ملک میں بجلی، پانی ، تیل ، گیس اور توانائی کے دوسرے ذرائع کی مجموعی صورتحال بہتر کر نے کے لیے صوبائی حکومتوں کے ساتھ معا ہدوں کو یقینی بنائے گی تاکہ مجموعی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔

4۔صوبائی خودمختاری
i۔تعلیم
پاکستان کا تعلیمی نظام رسائی اور معیار دونوں حوالوں سے بحران کا شکار ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد ریاست ۱۶ سال تک کے لڑکے لڑکیوں کو مفت تعلیم کی سہولیات فراہم کرنے کی پابند ہے۔عوامی نیشنل پارٹی اس پر یقین رکھتی ہے کہ تعلیم ہی وہ واحد ہتھیار ہے جو دہشت گردی، شدت پسندی اور اس طرح کے دوسرے خطرات کا مقابلہ کر سکتی ہے۔پختونخوا میں پچھلے پانچ سالوں کی حکومت کے دوران عوامی نیشنل پارٹی نے زیادہ تر زورتعلیم کے معیار ورسائی کو بہتر بنانے پرصرف کیا ۔
تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور اس کو ہر کسی کے لیے عام کرنے کے لیے عوامی نیشنل پارٹی مندرجہ ذیل اقدامات کرے گی
ا۔GDP سے تعلیم کے لیے کم از کم ۶ فی صدفنڈ مختص کریگی۔
ب۔اُن تعلیمی نظاموں کی بیخ کنی کرے گی جوجاگیردارنہ نطام کی حفاظت کے ضامن ہیں ۔پارٹی ایک ایسے تعلیمی نطام کی حمایت اور اس کی ترویج کے لیے کام کرے گی جو بین الاقوامی معیار کے عین مطابق ہو۔
ج۔ مختلف علاقوں میں پرائمری اور سکینڈری سکولوں کا ایسا نیٹ ورک متعارف کرائے گا جس کی جانچ پڑتال کی جاسکے اور بچوں کی پہنچ میں ہو خصوصاً لڑکیوں کے لیے ۔
د۔موجودہ پرائمری اورسکینڈری سکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
ھ۔دہشت گردوں کے حملوں میں تباہ ہونے والے سکولوں کی جگہ بہتر سکولوں کی تعمیر کو یقینی بنائے گی۔
و۔تعلیم میدان کو بیوروکریسی ، سیاسی مداخلت اوررشوت خوری سے پاک کیا جائے گا۔
ز۔تعلیمی ٹاسک فورس بنائی جائے گی تاکہ تعلیم کو ہر کسی کے لیے عام کرنے کے لیے اور اس کے انتظام پر نظر رکھی جاسکے۔
ح۔سکولوں میں کمرہ جماعت کے اندر ، اساتذہ اور طلباء کی تعداد کے باہمی تناسب کا خیال رکھا جائے گا۔
ط۔تمام ہائی سکولوں کوہائیر سکینڈری کا درجہ دیا جائے گا۔
ی۔موجودہ Parent Teacher Association (PTA) کے نظام کوفعال بنادیا جائے گا اور انکو مالی آزادی بھی دی جائے گی تاکہ انفرا سٹرکچر کی ترقی اور درسی نظام کے محاسبے کے لیے والدین کی شمولیت کو یقینی بنایا جا سکے تاکہ صوبے کی درسی نظام کو بہتر بنایا جاسکے۔
ک۔سرکاری سکولوں میں میرٹ اور ضرورت مند طلباء خاص کر لڑکیوں کے لیے وظیفے مہیا کیے جائینگے۔
ل۔دور دراز اضلاع کے طلباء کو خصوصی وظیفہ دیا جائے گا۔
م۔عوامی نیشنل پارٹی پرائیوٹ سکولز کے لیے قوانین بنانے کو یقینی بنائے گی۔
ن۔ہر ضلع میں کم سے کم ایک کالج ہو گا جو ڈگری دینے کا اہل ہو گااور ہر ضلع کو اپنی یونیورسٹی بنانے کا موقع دیا جائے گا۔
ق۔عوامی نیشنل پارٹی ایسے پیشہ ورانہ مراکز کی تعمیر کو یقینی بنائے گی جن میں مستند اور پیشہ ور عملہ جو مقامی انڈسٹری کا سند یافتہ ہومیں ایسے طلباء کو تربیت دے جو کسی پیشہ ورانہ ڈگری کے حصول میں کامیاب نہیں رہے۔
ر۔ایسی یونیورسٹیوں کو ریسرچ میں سنٹر آف ایکسیلنس قرار دیاجائے گا جن میں MS، پی ایچ ڈی اور اس طرح کے دوسرے منصوبے موجود ہوں اور جن کا اکادمیاتی تعلق مقامی اور بین الاقوامی اداروں سے ہو ۔
ش۔یونیورسٹیوں میں میرٹ کی بنیاد پر MSاور پی ایچ ڈی کے طلباء کو ریسرچ فیلو شپ دی جائے گی ۔
ت۔صوبائی سطح پر ہائیر ایجو کیشن کمیشن بنایا جائے گا اور اس کو مضبوط سے مضبوط تر بنایا جائے گا۔

تعلیمی معیار بہتر کرنے کے لیے عوامی نیشنل پارٹی درجہ ذیل تجاویز پر عمل کرے گی۔
ا۔ نصاب پر نظر ثانی کی جائیگی تاکہ نفرت پر مبنی اورمناقشتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کردہ اسباق کونصاب سے نکال دیا جائے اور نصاب کو زیادہ تخلیقی اور ہنر پرور بنایا جاسکے۔
ب۔ سوکس(شہریت)، امن،کلچر اور ماحولیاتی تعلیم کو سکولوں کے نصاب کا باقا عدہ حصہ بنا یا جائے گا۔
ج۔نصاب میں مقامی تاریخ، مقامی طور پر تیار شدہ اشیاء، ماحولیاتی، معاشرتی، سیاسی اور ثقافتی ورثہ اور معزز تاریخی شخصیاتپر اسباق کو شامل کیا جائے گا۔
د۔نصابی کتابوں کی اشاعت پراجارہ داری کا خاتمہ کیا جائے گا۔
ھ۔اساتذہ کی تر بیت جدید ریسرچ کی بنیاد پر کی جائے گی۔
و۔ امتحانات اور جانچ پڑتال کے نظام کو کمپیوٹرائزڈ کر دیا جائے گا۔
ز۔مادری زبان میں تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید ریسرچ پر مبنی زبانوں کی تعلیم بھی دی جائے گی۔
ح۔اساتذہ کی بھرتی، امتحانات اور پروموشن کا طریقہ کار میرٹ کی بنیاد پر وضع کیا جائے گا۔
ی۔پرائیوٹ تعلیمی اداروں کے لیے قوانین مشاہدات کی بنیاد پر لاگو کیے جائنیگے۔
ک۔اساتذہ کے لیے معیاری تربیتی ادارے قائم کئے جائیں گے اور ان کی ترقی کو ان کی تربیتی سر ٹیفیکیٹس سے مربوط کر دیا جائے گا۔

ii۔صحت
ا۔ عوامی نیشنل پارٹی تمام شہریوں کے لیے یکساں معیاری صحت کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے گی۔اس سلسلے میں مختلف آپشنز جیسا کہ انشورنس سکیم،صحت کے پرائیوٹ اداروں کے لیے قوانین اور ان کے سپورٹ جیسی سکیموں کو زیر غور لایا جائے گا۔
ب۔عوامی نیشنل پارٹی GDPسے صحت کے لیے ۶ فی صد حصہ مختص کر یگی۔
ج۔عوامی نیشنل پارٹی صحت کی سہولتوں کی لامرکزیت پر یقین رکھتی ہے اور اس بات کے لئے کوشاں ہے کہ صحت کی سہولتیں لوگوں کو انکی دہلیز پر مہیا ہوں۔ اور یہ کہ دیہی علاقوں میں صحت کی سہولتوں پر خاص توجہ ہونی چاہئے
د۔عوامی نیشنل پارٹی ماں اور بچے کی صحت ،صاف پینے کا پانی اورجان بچانے والی ادویات پرزیادہ زور دے گی۔
ھ۔عوامی نیشنل پارٹی پرائمری ہیلتھ کئیر پر زور دیتی ہے ۔جو ثانوی و اعلیٰ طبی سہولتوں کے حوالے سے اچھی اور مضبوط بنیاد فراہم کرے گی۔
و۔عوامی نیشنل پارٹی ہیلتھ کئیر کے لیے پبلک اور پرائیویٹ پارٹنر شپ سے مدد لے گی اور یہ پارٹنر شپ پرائمری ہیلتھ کئیر کے لیے مخصوص ہو گی۔
ز۔عوامی نیشنل پارٹی معمر افراد کے لیے سپیشل ہیلتھ کئیر انشورنس اور دوسری مراعات دے گی۔
ح۔عوامی نیشنل پارٹی پرائمری ہیلتھ کئیر میں کمیونٹی کی مکمل شمولیت کو یقینی بنائے گی اور دور دراز علاقوں میں کام کرنے والے عملے کو خصوصی مراعات دی جائے گی۔
ط۔زچہ و بچہ کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے عوامی نیشنل پارٹی BHU اور RHCکو ضروری سامان سے آراستہ کرنے کے عمل کو یقینی بنائے گی۔
ط۔عام بیماریوں کی شرح اور ان بیماریوں میں شرح اموات کے انسداد کے لیے پرائمری ہیلتھ کئیرکی سطح پر ضروری اشیاء مہیا کی جائے گی۔
ی۔BHUاور RHCمیں خاندانی میڈیکل رجسٹریشن فارم اور ریکارڈ رکھنے کے نظام کو متعارف کیا جائے گا۔اس کے علاوہ مختلف میڈیکل کیسز میں مکمل ریفرل سسٹم بھی متعارف کیا جائے گا ۔اس کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ کا نظام نہ نفع نہ نقصان کی بنیاد پر متعارف کیا جائے گا۔
ک۔ہیلتھ کئیر سٹاف(ڈاکٹر، نرس ، پیرا میڈیکس اور ہیلتھ ٹیکنیشنز) کے لیے مستقل بنیادوں پر ہیلتھ کیئر تعلیم کا سلسلہ جاری رہے گا ۔ عوامی نیشنل پارٹی ضلع کی بنیاد پر ایسے اداروں کو متعارف کرائے گی جو نرسز ، پیرامیڈیکس اور ٹیکنیشنز کو ٹریننگ دے گی ان اداروں کو ضلعی ہسپتالوں کے ساتھ منسلک کیا جائے گا۔
ل۔عوامی نیشنل پارٹی محکمہ صحت کو پبلک ہیلتھ انجنئیرنگ ،انڈسٹریل اور ماحولیاتی محکموں کے ساتھ مربوط کرے گی۔
م۔عوامی نیشنل پارٹی میڈیکل انسٹیٹیوشنز،ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ اور پرائیویٹ صحت کے اداروں کے درمیان تعلق کو یقینی بنائے گی تاکہ صحت کی سہولیات اور عملے کی رسد اور ضرورت کے توازن کو برقرار رکھا جا سکے۔
ن۔عوامی نیشنل پارٹی پرائیوٹ میڈیکل اداروں میں معیار اور قوانین پر عمل کرنے کو یقینی بنائے گا۔
ق۔عوامی نیشنل پارٹی برن سنٹرز اور ٹراما سنٹرز بنائے گی ۔ اولین طور پر یہ ہسپتال صرف صوبائی دارلحکومت اور بعد میں یہ ڈویثرنکی سطح پر بھی بنائے جائیں گے۔

iii ۔ آبادی کی منصوبہ بندی اورفلاح بہبود
عوامی نیشنل پارٹی تمام شہریوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنائے گی اورروز بروز آبادی کی بڑھتی ہوئی تشویشناک صورتحال اور اس کی زندگی پر غیر معیاری اثرات سے نمٹنے کے لیے ٹھوس پالیسی مرتب کرے گی۔پختونخوا میں حکومت کے دوران عوامی نیشنل پارٹی نے عورتوں اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بہت سے قوانین بنائے ہیں ،عوامی نیشنل پارٹی انقوانین کے نفاذ کے لیے اپنے آپ کو ذمہ دار سمجھتی ہے۔
ا۔ عوامی نیشنل پارٹی آبادی کی منصو بہ بندی اور فلاح و بہبود کے حوالے سے ایک مربوط اور موثر حکمت عملی مرتب کرنے کو یقینی بنائے گی۔ان اقدامات اور پروگراموں کو صحت ، تعلیم ، پرورش، ماحولیات، پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے فروغ اور غربت کی بیخ کنی کے ساتھ مربوط کرے گی ،غربت مٹاؤ وغیرہ کے ساتھ جوڑا جائے گا۔
ب۔حکومتی اور پرائیوٹ اداروں کے پروگراموں میں زچہ و بچہ کی صحت اور فلاح و بہبود کو اولین ترجیح سمجھ کر یقینی بنایاجائے گا ۔
ج۔آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے اور اس میں استحکام پیدا کرنے کے عمل کو یقینی بنایا جائے گا ۔۲۰۲۰ تک آبادی کے اضافے کو ایک فی صد تک لایا جائے گا۔
د۔فی کس آمدنی کو دوگنا کیا جائے گا ۔
ھ۔دوردراز علاقوں میں بچوں کی پیدائش کے عمل کو معیاری اور بہتر بنایا جائے گا۔
س۔زنانہ کمیونٹی ہیلتھ ورکرز اور دائیوں کی تربیت کو یقینی بنا یا جائے گا اور ان کی خدمات کو BHUکے ساتھ جوڑا جائے گا۔
ح۔کمیونٹی کوسہارا دینے کے پروگرامزکی مانیٹرنگ اور ان کو لاگو کرنے کے عمل کو یقینی بنایا جائے گا۔
ط۔صوبائی سطح پر ریسرچ اور مانیٹرنگ کے قابل عمل اور قابل اعتبار میکنزم کو یقینی بنایا جائے گا۔
ی۔زچہ و بچہ کی صحت اور فلاح و بہبود کے لیے مرد، عورتوں، خاندانوں اور کمیونٹی کے دیگر افرادکی آگاہی کے لئے ایک منظم مہم چلائی جائے گی ۔
ک۔ ریٹائر منٹ کے فوائد اور سوشل سیکیورٹی کی مراعات معمر افراد کو دی جائیں گی
ل۔نوجوان طبقے کے لیے ملازمت کے مواقع فراہم کرنے، پیشہ ور بنانے اور ان کو تفریح کے مواقع دینے کے لیے رقوم مختص کی جائیں گی۔

iv۔نوجوانوں کی ترقی اور ملازمت کے مواقع
ا۔ عوامی نیشنل پارٹی نوجوان طبقے کے لیے موزوں روزگار کے مواقع فراہم کرنے اورتعمیر و ترقی کے عمل کو یقینی بنائے گی۔
ب۔عوامی نیشنل پارٹی نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے خصوصی معاونت کرے گی اس سلسلے میں وہ طلباء کو درسی وظائف، اندرون و بیرون ملک ٹریننگ اور درسی ٹور کا انتظام کرے گی۔
ج۔ابتدائی دور میں نوجوانوں کی پیشہ ور مہارت اور وکیشنل ٹریننگ کے لیے عوامی نیشنل پارٹی ان پر توجہ مرتکز کرے گی۔
د۔عوامی نیشنل پارٹی نوجوانوں کی تخلیقی نشونما اور انکوآرٹ ،کلچر اور کھیل کود کے موقع فراہم کرنے کے لیے خصوصی زور دے گی۔
ر۔تعلیم سے فارغ افراد میں بے روزگاری کا خاتمہ کرنے کے لیے خصوصی توجہ دی جائے گی۔انٹرن شپ اور اڈوائزری اداروں کی سہولیات میسر کی جائے گی تاکہ بے روزگاری کا خاتمہ کرنے اور ملازمت ڈھونڈنے میں ان کی مدد کی جائے۔اپنے لیے خود کام ڈھونڈنے کے لیے بڑے منصوبوں کو بھی ترجیح دی جائے گی۔
ھ۔ عوامی نیشنل پارٹی ہر ضلع میں نوجوان رضا کاروں کی ایسی کھیپ تیار کرے گی جوناگہانی ٓفات اور اسطرح کے مشکل حالات سے نمٹنا جانتے ہوں ۔

v۔مزدوروں کے حقوق
ا۔عوامی نیشنل پارٹی ٹریڈ یونین ازم پر یقین رکھتی ہے کیونکہ ایسی یونینز مزدوروں کے حقوق کا تحفظ کرنے،ان کی زندگی کو محفوظ بنانے اور ان کو زندگی گزارنے کی بہتر سہولیات فراہم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔پارٹی ایسی تمام انجمن سازی کی حمایت کرتی ہے اور ایسے تمام قوانین جو ان یونینز کے خلاف ہیں میں ضروری ترامیم یا ان پر نظر ثانی کی کاوش کرے گی۔
ب۔عوامی نیشنل پارٹی ان تمام مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز اُٹھائے گی جوانفارمل سیکٹر میں کام کرتے ہیں۔اس کے علاوہ جہاں وہ کام کرتے ہیں وہ جگہ اوران کی اجرت دینے کو محفوظ بنانے کو یقینی بنائے گی۔
ج۔عوامی نیشنل پارٹی مزدوروں کی بہتر صحت،تعلیم، فنی مہارت اور باجواز و قانونی چھٹیاں دینے کی ضمانت دیتی ہے۔
د۔عوا می نیشنل پارٹی مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے قوانین پر نظر ثانی کرے گی اور ان کو بہتر بنائے گی تاکہ رسمی اور غیر رسمی جگہوں پر ان مزدوروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ھ۔عوامی نیشنل پارٹی مزدوروں کے رہن سہن اور افراط زر کا باقاعدہ موازنہ کرے گی تاکہ ان کے لئے مناسب اجرت مقرر ہو سکے۔

vi۔زراعت، مال مویشی اور مرغی بانی کے پیشوں کی ترقی و ترویج
پاکستان کی معیشت میں زراعت کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے ملک کی GDPمیں زراعت کا حصہ ۳۰ فی صد ہے۔زراعت کی ترقی ملکی معیشت میں بہتری کے لیے ایک اہم بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔ملک کے ۵۰ فی صد مزدور زراعت کے پیشے سے اپنی روزی روٹی کماتے ہیں اورملک کی ۷۰ فی صد آبادی کا دارومدار اس پیشہ پر ہے۔اس لیے زراعت کے پیشے کی بہتری اولین ترجیح تصور کی جائے گی۔
ا۔اس سکیٹر میں مال مویشی پالنے کا بہت بڑا حصہ ہے۔عوامی نیشنل پارٹی اس سیکٹر کو خاص توجہ دے گی کیونکہ اس پیشے کا غربت کے خاتمے،پرورش اور معیشت کی بہتری کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔
ب۔پولٹری فارمنگ نے قلیل عرصے میں ملک کی معیشت پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔اسطرح دودھ اور اس سے بننے والی دوسری اشیاء اور جانوروں کی شہری علاقوں میں فروخت کاشتکاروں کے لیے آمدنی کا دوسرا مفید ذریعہ بن چکا ہے۔عوامی نیشنل پارٹی اس میں مزید بہتر ی لانے کے لیے اہم اقدام اُٹھائے گی تاکہ اس کوہر صوبے کی سطح پرمزید مستحکم کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پارٹی حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق پولٹری اور ڈیری مصنوعات کی پیکنگ کرکے اس کو ایکسپورٹ کرنے کے عمل کو بھی ترقی دینے کا ارداہ رکھتی ہے۔
ج۔ہر صوبے میں چراہ گاہوں کی حالت کو بہتر بنایا جائے گا تاکہ کاشتکار اس سے فائدہ اُٹھائیں۔
د۔زراعت میں مزید بہتری لانے کے لیے نقد فصلوں جیسا کہ پھل، سبزیاں، پھول، کھانے کے قابل تیل اور اس طرح کے دوسرے فصلوں کومنافع کے لیے اگایا جا سکتا ہے ۔اس طرح کی فصلوں کے فروغ کے لئے کاشکاروں کو مراعات اور ضروری سہولیات مہیا کی جائیں گی۔
ھ۔گندم، جواراور تمباکو میں مزید بہتری لانے کے لیے مزید اصلاحات کی جائیں گی اور ان فصلوں پر مبنی صنعت کو فروغ دیا جائے گا۔
ز۔کاشتکاری کے جدید طریقوں کو رائج کیا جائے گاخاص طور پر ایسے طریقے جن میں آب پاشی کے لیے پانی کا استعمال کم کیا جاسکے۔
ح۔زراعت کی ترقی اور ریسرچ کے لیے سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کی جائیگی۔

vii ۔صنعتی اور تیکنیکی ترقی
ا۔عوامی نیشنل پارٹی وسیع پیمانے پر صنعتی ترقی کے عمل کو تیز کرنے کی کوشش کرے گی۔اس سلسلے میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے گا خاص کر تیل وگیس، پانی وبجلی اور توانائی کے دوسرے ذرائع پر سرمایہ کاری کو خصوصی توجہ دی جائے گی۔
ب۔ماربل ، قیمتی پتھروں اور اس طرح کے دوسرے معدنیات کے نکالنے اور ان کے پالش کا کافی امکان موجود ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی ان صنعتوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دے گی۔
ج۔اناج کو محفوظ کرنے اور اس پر مزید کاروائی کرنے والے کارخانوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی تاکہ سبزی اور پھل اُگانے والے کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافہ کیا جاسکے۔
viii۔فن اورثقافت
ا۔عوامی نیشنل پارٹی ثقافتی ورثہ کو محفوظ اور اس کو فروغ دینے کے لیے ایک جامع ثقافتی نقشہ کشی کریگی۔
ب۔ثقافتی صلاحیتوں سے مالا مال پیشہ ور لوگوں، آرٹ اور ادبی اداروں کے ذریعے اظہار رائے کو وسعت دی جائے گی۔
ج۔آرٹ کونسل اور کمیونٹی کلچر ایسوسی ایشن کے ذریعے مقامی کھیلوں،زبانوں اور فولکور کو فروغ دیا جائے گا۔
د۔تعلیم میں ثقافتی تعلیم کو متعارف کیا جائے گا۔
ھ۔تاریخی ثقافتی ورثے کو ہم عصر بنانے کے لیے فائن آرٹ، اداکاری اور بصری ثقافت کے ذریعے انکو فروغ دیا جائے گا اور اس کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
ز۔عوامی نیشنل پارٹی آرٹسٹوں ،لکھاریوں، شعراء،مجسمہ سازوں اور اس طرح کے دوسرے لوگ جو ثقافت سے منسلک ہیں اور کسی نہ کسی طریقے سے صوبے اور ملک کے ثقافتی تنوع کوبرقرار رکھتے ہیں کی ہر قسم حوصلہ افزائی کرے گی۔
ح۔عوامی نیشنل پارٹی ان نقصانات اور تباہیوں کا جائزہ لے گی جو دہشت گردی اور تشدد پسندی نے ثقافتی ورثے کو پہنچایا ہے اور ان کی بحالی اور بہتری کے لیے اقدامات کر یگی۔
ط۔عوامی نیشنل پارٹی مقدس مقامات ،روحانی اہمیت کے حامل مقامات اور شخصیات ، تمام مذاہب اور فرقوں کو قابل احترام اور محفوظ بنانے کے لیے موثر اقدامات کر گی ۔
ی۔عوامی نیشنل پارٹی ثقافت کے حوالے سے سول سوسا ئٹی کے اقدامات ،ثقافت کے حوالے سے کیے جانے والے پروگراموں ،ثقافتی رونمائی، آرٹ اورثقافت کی بہتری کے حوالے سے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی حواصلہ افزائی کرے گی۔
ک۔عوامی نیشنل پارٹی کاپی رائٹ کے حقوق کی پامالی کی بیخ کنی کرے گی اورمقامی آرٹ کو دنیا میں متعارف اور اسکو مقابلے کے لیے تیار کرنے کے لیے ہر قسم کے مواد، ملازمت وغیرہ کی تائید کرے گی۔
ل۔عوامی نیشنل پارٹی ا ٹھارویں ترمیم کے تناظر میں ثقافتی پالیسی کی مضبوطی اور بہتری کے لیے کو شش کرے گی ۔اس کے ساتھ ساتھ انتظامی امور، سالانہ منصوبہ بندی کے لیے فنڈز کی فراہمی اور خالی پوسٹوں پر بھرتی کے عمل کو بھی یقینی بنائے گی۔
ix ۔ماحولیات
ا۔ عوامی نیشنل پارٹی قدرتی ماحول کو محفوظ بنانے اور زندگی کو پائیدار بنانے پر خصوصی توجہ دے گی۔
ب۔عوامی نیشنل پارٹی صاف ہوا، پینے کا پانی، فضلے اور گندگی کو ٹھکانے لگانے کا انتظام اور صحت و صفائی کے نظام میں بہتری کی کوشش کرے گی۔
ج۔عوامی نیشنل پارٹی پہلی فرصت میں ہسپتالوں، کارخانوں اور دوسری جگہوں سے زہریلے مواد کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات کرے گی۔
د۔عوامی نیشنل پارٹی شہری علاقوں میں فضلے کو تلف کرنے کے عمل پر خصوصی توجہ دے گی ۔
ھ۔عوامی نیشنل پارٹی پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور ترسیل کوبڑھائے گی۔
و۔عوامی نیشنل پارٹی حکومت کی تحویل میں موجود اورذاتی جنگلات کو دوگنا کرے گی ۔
ز۔ اولین ترجیح نہروں کی صفائی کو دی جائے گی۔
ح۔وائلڈ لائف کو محفوظ بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔
ط۔صوبائی ایجنسی برائے تحفظ ماحولیات اور دوسرے اداروں کو مضبوط بنایا جائے گا تاکہ موثر طریقے سے ماحولیات کی خلاف ورزیوں پر کاروائی کی جا سکے۔
ی۔عوامی نیشنل پارٹی موثر ایندھن استعمال کرنے والی ،آرام دہ اور پائیدار ٹرانسپورٹ سسٹم کو یقینی بنائے گی۔
ک۔عوامی نیشنل پارٹی توانائی کے دوسرے ذرائع جیسا کہ شمسی اور پانی سے بننے والی توانائی متعارف کرانے کی کوشش کرے گی۔
x۔کھیل اور سیر و تفریح
ا۔لڑکے اور لڑکیوں کے لیے کھیل کود کی سہولیات کو ہر سکول اور کالج میں لازمی قرار دیا جائے گا۔
ب۔صوبائی ،قومی اور بین الاقوامی سطح پر کھیل کے مقابلوں کا انعقاد کیا جائے گا اور ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔
ج۔کھیل اور سیر و تفریح کے لیے ضلعی سطح پر کمپلیکس بنائے جائیں گے جن میں عورتوں کے لیے مخصوص سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
د۔عوامی نیشنل پارٹی مقامی اور روایتی کھیلوں کی ترویج کرے گی۔
ھ۔عوامی نیشنل پارٹی روایتی ورثے اور مذہبی مقامات کے تحفظ کے حوالے سے حکومتی یا ذاتی پارٹنر شپ کی حوصلہ افزائی کرے گی۔
و۔عوامی نیشنل پارٹی ملک میں سیر و تفریح کی سہولیات فراہم کرنے اور ان کی حفاظت کے لیے سرمایہ کاری کرے گی۔
x ۔اطلاعات اور ترسیل
ا۔عوامی نیشنل پارٹی اظہار رائے کی آزادی اور معلومات کے حق کی تائید کرتی ہے۔
ب۔عوامی نیشنل پارٹی سنسر شپ اور بلاکنگ کے نظام میں شفافیت پیدا کرنے کے عمل کو یقینی بنائے گی۔
ج۔عوامی نیشنل پارٹی اظہار رائے کی آزادی اور معلومات کے حق کو محفوظ کرنے کے لیے قانون سازی کرے گی۔
د۔عوامی نیشنل پارٹی صوبائی حکومتوں کی آسانی کے لیے صوبائی ٹیلی وژن چینل اور ریڈیو اسٹیشن کوآزادی سے چلانے کے عمل کو یقینی بنائے گی۔
II ۔انسانی حقوق
1۔عورتوں کے حقوق اور ان کو بااختیار بنانا
پاکستان کی خواتین اپنی کمتر سیاسی ، سماجی اور معاشی اثر کی وجہ سے انحصار اور ماتحتی کے جال میں پھنسی ہوئی ہیں ۔خواتین کی اکثریت ہر قسم کی ناانصافیوں اور تشددکی شکار ہے ، متذکرہ پدرشاہی نظام جو انہیں فیصلہ سازی کے عمل میں شریک ہونے سے روکتا ہے ان کی اس موجود ہ حالت کا ذمہ دار ہے ۔ اگر چہ پاکستان قومی و بین الاقوامی سطح پر خواتین کے مقام کے حوالے سے کئی معاہدوں کی پاسداری کا اعلان کرچکا ہے لیکن اس اعلان اور حقیقت حال میں حائل خلیج کافی وسیع ہے ۔
عوامی نیشنل پارٹی صنفی برابری پر یقین رکھتی ہے۔اس سوچ کی روشنی میں پارٹی اپنے آئین اور طریقہ کار کے مطابق درج ذیل اقدامات اٹھائے گی ۔
ا۔عوامی نیشنل پارٹی فیصلہ سازی کے عمل میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے اور اسے کم ازکم 33فیصد کرنے کے لئے اپنی کاوشیں جاری رکھے گی ۔ فیصلہ سازی کے یہ ادارے مثلاً پارلیمنٹ ، صوبائی اسمبلیاں ، بلدیاتی نظام ، اعلیٰ عدلیہ ، حکومتی ادارے اور بورڈ وغیر ہ ہوسکتے ہیں ۔
ب۔عوامی نیشنل پارٹی خواتین کے لیے مختص نشستوں /کوٹہ پر بھی ان کے براہ راست طریقہ انتخابات پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کرے گی کیونکہ پارٹی اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ براہ راست انتخابات کا کوئی متبادل نہیں ۔
ج۔زندگی کے مختلف شعبوں میں ان کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے انکوبا معنی ،تکنیکی اور معاشی معاونت فراہم کی جائے گی ۔
د۔عوامی نیشنل پارٹی یہ عہد کرتی ہے کہ وہ عورتوں کے لیے ملازمت کے ایک جیسے مواقع فراہم کرے گی۔اس کے علاوہ عورتوں کے لیے موجود ہ ۱۰ فی صد کوٹے کو یقینی بنانے کے لیے ضروری انتظامی اقدامات کرے گی۔
ھ۔عورتوں کو ان کے حقو ق دلوانے اور ان کو بااختیار بنانے کے لیے موثر اقدامات اور قانون سازی کرے گی۔
ھ۔عورتوں کے خلاف ایسے تمام قوانین اور اقدامات کی حوصلہ شکنی کرے گی جو تفریق اور منفی پر مبنی ہو خاندان، معاشرے اور ریاست میں فیصلہ سازی کا طریقہ ء کار شرکت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی فیصلہ سازی کے طریقہ کار کو تبدیل کرنے اور خواتین کو برابری کی سطح پر شرکت کا موقع فراہم کرنے کیلئے کاوشیں جاری رکھے گی ۔
و۔ایسے تمام قوانین جو گھریلو تشدد اور عورتوں کی خرید وفروخت کیخلاف بنے ہیں ان کو لاگو کیا جائے گا۔
ز۔عورتوں اور بچوں کے خلاف تشدد اور ان کی خرید وفروخت کے خلاف پاکستان اوربین الاقوامی سطح پر جو قوانین بنے ہیں ان پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔
ح۔یہ بات بھی یقینی بنائی جائے گی کہ ریاست کوئی ایسا قانون یا پالیسی یا کسی بھی قسم کی نوشتہ یا غیر نوشتہ حکمت عملی نہ اپنا سکے جو حقوق نسواں سے متصادم ہو اور یا خواتین کو اس سے باہر رکھنے کی کوشش کی گئی ہو۔
ط۔ایسی تمام پالیسیوں پر نظر ثانی کی جائے گی جن میں عورت کی شناخت والدین کی بجائے شوہر سے کی جائے تاکہ شادی کے بعد شناختی کارڈ غیر موثر نہ رہے ۔شناختی کارڈ بنانے کے لیے ایک بالغ عورت کے لیے مرد سرپرست کی ضرورت کو ختم کیا جائے گا۔
ی۔میڈیا اور تعلیم کے ذریعے صنفی برابری کی ضرورت کا شعور اجاگر کیا جائے گا
ک۔عوامی نیشنل پارٹی صنف کی بنیا دپر ہونے والی ناانصافیوں اور تشدد کے خلاف ٹھوس قدم اٹھانے کا عزم رکھتی ہے اور اس حوالے سے حکومتی اداروں کا افقی طرز نفاذ ، قوانین و ضابطوں کی کجیوں اور رکاوٹوں کی تصحیح بھی پارٹی کا عزم ہے ۔
ل۔عوامی نیشنل پارٹی صنفی تشدد کا شکار ہونے والی خواتین کی بہتری کے لیے اصلاحی اداروں کا قیام عمل میں لائے گی۔
م۔صوبوں میں عورتوں کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے متعلقہ وزارتیں اور ڈیپارٹمنٹ کو پیشہ ورانہ ،تیکنیکی اور معاشی لحاظ سے مضبوط کیا جائے گا تاکہ ان کے سامنے عورتوں کی تعمیر و ترقی کا اہم ایجنڈا پڑا رہے۔
ن۔عورتوں کے حوالے سے موجود صوبائی کمیشن کو معاشی اور انتظامی طور سے خودمختار بنایا جائے گااور دوسرے صوبوں تک پھلایا جائے گا تاکہ ان کو مکمل خودمختارفورم بنایا جائے اور یہ متعلقہ فورم پر درست انداز میں عورتوں کے مسائل کو اٹھائے۔
ق۔سیاسی جماعتوں اورمقامی لوگوں کے درمیان ان معاہدوں کی روک تھام کی جائے گی جن میں عورتوں کے ووٹ ڈالنے کے حق یا انتخابات میں حصہ لینے سے باز رکھنے کی کوشش کی جائے۔
ر۔عدالتوں ،پولیس اور دوسرے اداروں میں عورتوں کے وراثتی حقوق کے حوالے سے قوانین ،کم عمر ی میں شادی ،سورہ ،غگ ،ونی وغیرہ کے خلاف انتظامی اصلاحات کو موثر بنایا جا ئے گا۔اس کے علاوہ عورتوں کو عدالتی نظام کا ایسا حصہ بنایا جائے گا تاکہ محرر اور ریڈر کی آسامیوں پر بھی ان کا تقرر ہوسکے مزید برآں اعلیٰ عدالتوں میں اہم مناصب پر بھی ان کی تقرری کی ضرورت ہے۔
ش۔اے این پی سول سوسائٹی ، سی ایس اوز کے اس کردار کی بھی معترف ہے جو تمام شعبۂ ہائے حیات میں وہ خواتین کی ترقی کیلئے ادا کر رہی ہیں اور جن میں خواتین کے بارے میں قانون سازی ، سیاسی تعلیم و شراکت اور انسداد غربت شامل ہے ۔
2.2 ۔بچوں کے حقوق
پاکستان کی آبادی کا ۵۰ فی صدحصہ ۱۸ سال سے کم عمر بچوں کاہے۔اپریل ۲۰۱۰ میں پاکستان کے آئین میں ا ٹھارویں ترمیم کومتعارف کروا دیا گیا جس میں آرٹیکل 25-A میں اس بات کا وعدہ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں ۵ سے ۱۶ سال کے عمر کے بچوں کومفت اور لازمی تعلیممندرجہ ذیل تجاویز کی روشنی میں دی جائے گی۔
ا۔اٹھارویں ترمیم کے بعد پاکستان میں تعلیم حاصل کرنا ہر بچے کا بنیادی حق ہے۔اب یہ ریاست پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح سے اس حق کو محفو ظ کرتی ہے۔عوامی نیشنل پارٹی 25-A کو مکمل طور پر لاگو کرنے کو یقینی بنائے گی۔
ب۔عوامی نیشنل پارٹی ان تمام قوانین کو دوبارہ بنائے گی یا موجودہ قوانین پر نظر ثانی کرے گی جو ۱۶ سال سے کم عمر بچوں کی مشقت سے متعلق ہے خواہ وہ گھریلو ہو، رسمی یا غیر رسمی ہو، ان پرمما نعت ہو گی۔
ج۔عوامی نیشنل پارٹی سن بلوغت تک نہ پہنچے ہوئے بچوں کے لیے عدالتی نظام ،ان کے لیے مخصوص عدالتیں اور جیل بنانے کے عمل کو یقینی بنائے گی جس میں بچوں کی بحالی اور ذہنی نشونما پر کام کیا جا سکے۔
د۔عوامی نیشنل پارٹی بچوں کے خلاف ہر طرح کے تشدد کو روکنے کی کوشش کرے گی ، جیسا کہ سکول یا کام کی جگہ پر بچوں پر جسمانی تشدد،جنسی ہراسانی، بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور ان کے اغوا کے لیے بنائے گئے قوانین کے مطابق مجرموں کو قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی ۔
ھ۔عوامی نیشنل پارٹی نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کی صوبائی اور ضلعی شاخوں کو صوبائی حکومت کے تعاون سے مضبوط بنائے گی تاکہ ملک میں بچوں پر جبری مشقت کے خلاف قوانین کے نفاذ کو درست طریقے سے مانیٹر کیا جا سکے۔
2.3 ۔اقلیتوں کے حقوق
ا۔سیاست میں مذاہب کے غلط استعمال و تشریح نے تشدد کو فروغ دیا ہے ۔عوامی نیشنل پارٹی پاکستان کو سیکولر اور جمہوری ملک بنانے کے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی جہاں پر تمام شہریوں کو برابر حقوق اور مواقع فراہم کے جائیں گے۔
ب۔عوامی نیشنل پارٹی ۱۹۷۳ کے آئین میں اقلیتوں کو دوسرے درجے کاشہری بنا کر رکھ دینے والی ان ترامیم کو منسوخ کردے گی جو آمروں نے کی تھیں۔
د۔عوامی نیشنل پارٹی آئین میں اقلیتوں کے خلاف تفریق اور امتیاز پر مبنی تمام قوانین پر نظر ثانی کر کے ان کو بہتر بنائے گی تاکہ ان کو تمام شہریوں کی طرح برابر حقوق دیے جائیں۔
ھ۔دوسرے مذاہب، فرقوں اور نسلوں سے تعلق رکھنے والوں کے خلاف تشدد کو ممنوع قرار دیا جائے گا۔



III۔قبائلی علاقہ جات
پاکستان میں فاٹا کی آبادی ۱۰ میلین اور رقبہ ۲۷۰۰۰ مربع کلومیٹر ہے۔ آئین کے آرٹیکل 246اور 247کے تحت اس علاقے کا انتظام صدر پاکستان کے پاس ہوتا ہے۔پاکستان میں ہوتے ہوئے بھی اس علاقے میں پاکستان کے قوانین نافذ نہیں۔اس کے علاوہ یہ علاقہ ملک کی اعلٰی عدالتوں کے دائرہ کار میں بھی نہیں آتا ۔یہاں کے رہنے والوں کو وہ حقوق حاصل نہیں جو آئین نے ملک کے دوسرے شہریوں کو دیے ہیں ۔
یہاں کے قبائل غربت کا شکار ہیں اور معاشرے میں ان کا مقام کافی پسماندہ ہے۔شرح خواندگی صرف ۱۷ فی صد ہے جو ملکی شرح خواندگی جو ۴۵ فی صد ہے سے نہایت کم ہے۔خواتین کی شرح خواندگی نہایت کم یعنی صرف ۳ فی صد ہے جو ملک کے ۳۲ فی صد کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔
افغانستان میں ۱۹۷۹ کے حالات نے اس علاقے کا فاصلہ ملک کے دوسرے علاقوں سے کافی بڑھا دیا تھا۔تشدد پسندوں نے اس علاقے میں پناہ لے کر اپنی محفوظ پناہ گاہیں بنوائیں اور قبائل پر حاوی ہو گئے۔اس وجہ سے جو برائے نام ترقیاتی کام ان علاقوں میں ہوتے تھے وہ بھی ختم ہو گئے۔انتظامیہ مکمل طور پر ناکام ہو گئی اور مفاہمت کے روایتی طریقہ کار یعنی جرگہ کو بھی درست طریقے سے استعمال نہیں کیا گیا۔
علاقے کو فوجی تصادم نے تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کردیا ہے ۔قبائل ملکی افواج اور تشدد پسندوں کے تصادم کے درمیان پستے رہے جس کی وجہ سے قبائلیوں خاص کر عورتوں اور بچوں کو تباہی کے دھانے پر لا کھڑا کر دیا گیا ۔فوجی تصادم نے قبائل کواپنے گھروں سے نکال کر کیمپوں میں جانے پر مجبور کیا جس کی وجہ سے ان کی زندگیاں داؤ پر لگ گئیں کیونکہ ان کو بہت سارے چیلنجزخصوصا تعلیم اور صحت میں بہت دشورای کا سامنا کرنا پڑا۔
موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے عوامی نیشنل پارٹی ان عوامل کی نشاندہی کرتی ہے
1۔سیاسی تبدیلیاں
ترقی سے محروم اورتشدد کے ناخوشگوار تجربے سے گزرنے والے قبائل کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لیے نیچے دی گئی تجاویز کی روشنی میں اے این پی اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
ا۔فا ٹا کے رہائشیوں کے خواہشات کے مطابق علاقے کے انتظام پرفوری اتفاق رائے پیدا کرکے اس پر عمل کو یقینی بنائے جائے گی۔
ب۔عوامی نیشنل پارٹی فا ٹا کی پختونخوا اسمبلی میں شمولیت اور یہاں کے عورتوں کو کوٹہ پر مخصوص سیٹوں پر نمائندگی دئے جانے کے حق میں ہے۔اورصوبائی کابینہ میں بھی قبائلی علاقوں کو معنی خیز نمائندگی ملنی چاہئے ۔
ج۔ آئین میں ضروری ترامیم کروا کر فاٹا کوپارلیمنٹ کے تصرف میں لایا جا ئے گا تاکہ اہل علاقہ کے لیے برابرحقوق، سہولیات اور مواقع پیدا کیے جا سکیں۔
د۔عوامی نیشنل پارٹی گورنر کو فاٹا یا پختونخوا کارجسٹرڈ ووٹرہونے کے لیے آئین میں ضروری ترمیم کروانے کے عمل کو یقینی بنائے گی۔
ھ۔ایف سی آر میں فوری طور پر ضروری ترامیم کروائے جائیں گے تاکہ بنیادی حقوق جو آئین نے دیے ہیں پر عمل کو یقینی بنایا جاسکے۔ایف سی آر کے دوسرے قوانین میں بھی ضروری ترامیم کروائی جائیں گی تاکہ پشاور ہائی کورٹ کے مخصوص بنچ کو اس امر کے قابل بنایا جاسکے کہ وہ علاقے پر نظر رکھ سکے ۔
و۔علاقے میں بااختیار لوکل باڈیز کوایک ادارے کی شکل دی جائے گی جس میں عورتوں کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے گا اور اہل علاقہ اپنے مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کر سکیں گے۔
ز۔عوامی نیشنل پارٹی بے گھر قبائلیوں کی باعزت اپنے گھروں کو واپسی کے عمل اور ان کے رہن سہن کی بہتری کے عمل کو یقینی بنائے گی ۔
ح۔عوامی نیشنل پارٹی ان تمام متاثرہ قبائل جن کے اپنے گھر اور دوسرے مال واسباب جو کسی نہ کسی طرح شدت پسندی اور دہشت گردی کا شکار ہوئے ہیں ان کے لیے جامع اور منا سب پیکج کا انتظام کرے گی ۔
ط۔عوامی نیشنل پارٹی قبائلیوں خصوصا ان قبائلیوں جو کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں کے ووٹ ڈالنے کے حق کوعملی جامہ پہنانے کے حق میں ہے۔
ی۔وہ قبائل جن کی زندگیوں کو شدت پسندی اور فوجی تصادم سے خطرہ ہے کی سہولت کے لیے مطلوبہ جگہ یا متصل شہری علاقے میں ووٹ ڈالنے کا انتظام کیا جائے گا۔
2۔ترقیاتی اصلاحات
عوامی نیشنل پارٹی قبائلی علاقے میں مثبت تبدیلی اورامن کے لیے درجہ ذیل تجاویز پیش کرتی ہے جن کو فوری طور پر لاگو کرنا نہایت ضروری ہے۔
ا۔ قبائلی علاقے میں حکومتی رٹ کو جلد از جلد بحال کرنے کے عمل کو یقینی بنایا جائے گا اور اس کو دہشت گردی کے نیٹ ورکس سے صاف کیا جائے گا۔
ب۔ قبائلی علاقہ جات میں ترقیاتی کاموں اور سروے کا قابل اعتماد ریکارڈموجود نہیں ہے جسکا ہونا نہایت ضروری ہے۔
ج۔عوامی نیشنل پارٹی ترقی کے ان اصولوں سے متفق ہے جو فاٹا کی پائیدار ترقی کے پلان میں موجود ہیں لیکن اس کے ساتھ یہ اضافہ بھی کرتی ہے کہ اس میں مقامی شمولیت زیادہ سے زیادہ ہونی چاہئے ۔
د۔ عوامی نیشنل پارٹی قبائلی علاقے کے لیے اسی ترقیاتی پلان پر عمل کریگی جو اس نے پختونخوا صوبے کے لیے اپنایا ہے۔لیکن ان علاقوں میں زیادہ غربت اور ترقی کے فقدان کی وجہ سے خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
IV۔امور خارجہ
دنیا میں پاکستان کی اہمیت کے عوامل متعدد ہیں او ر یہ تمام عوامل اس کی ساخت سے متعلق نہیں ۔ عموماَ پاکستان کی جیو پولیٹیکل واقعیت کو اس کی اہمیت کا جزواعظم سمجھا جاتا ہے لیکن درحقیقت یہ ایک امتزاج ہے۔ پاکستان کے پڑوس میں چار ممالک ہیں جو یا تو بین الاقوامی صورت حال میں اپنا کردار نبھا چکے ہیں یہ ان امور میں ابھی تک مصروف عمل ہیں ۔ یہ ممالک ، افغانستان ، ہندوستان ، چین اور ایران ہیں ۔ پاکستان کی ان چار ممالک سے قربت عالمی طاقتوں کے لئے پاکستان کی اس اہمیت کو اجاگر کرتی ہے کہ وہ اس ملک کو اپنے عالمی مفادات کی تکمیل کا ذریعہ بنائے ، اگر چہ اس قربت کو ایک فائدہ کے طور پر بھی دیکھا جاسکتا ہے لیکن اس کے نقصانات (جو اس ملک کی آزادی اور بالادستی سے متعلق ہیں ) بھی بہر حال موجود ہیں ۔ لہٰذا اس ملک کی خارجہ پالیسی بھی ایسی ہونی چاہئے کہ اس سے ان خطرات کا صرف مقابلہ ہی نہ کیا جائے بلکہ اس سے قومی مفاد یعنی اقتصادی و معاشی ترقی کی تکمیل بھی ہو۔ اس امر کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اے این پی ایک آزادانہ خارجہ پالیسی کی خواہاں ہے جس کی بنیا د درج ذیل نکات پر ہو۔
ا۔دوستانہ اور پرامن روابط تمام ممالک کے ساتھ خصوصاً ہمسایہ ممالک کے ساتھ۔
ب۔اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق ان کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے جو ترقی اور امن کے لیے ہوں ۔اس کے علاوہ پاکستان کو ان تمام بین الاقوامی اداروں کے کاموں میں بھی حصہ لینا چاہیے جن کا پاکستان رکن ہے۔پاکستان کو مساویانہ عالمی نظام کی ترویج کی کوششوں کا حصہ ہونا چاہئے ۔اسلحے کو کم کرنے اور جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی طور پر کی گئی تمام کو ششوں کی بلا کسی تفریق کے حمایت کر نا چاہیے۔
ج۔کثیر الجہتی دنیا کے تصور کی حمایت کرنی چاہیے تاکہ دنیا ایک یا دو طاقتوں کے تصادم سے بچی رہے۔
د۔ملکی تجارت اور معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے ڈپلومیسی کو ہتھیا ر کے طور پر استعمال کرنا چاہئے اور بیرونی سرمایہ کاروں کو پاکستانی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے اقدامات کرنے چاہیےے۔
ر۔ افغانستان اور پاکستان بالخصوص پختونخوا اور بلوچستان کے زیادہ تر علاقوں کا افغانستان سے زبان، ثقافت، تاریخ وغیرہ مشترک ہونے کی وجہ سے تعلقات پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ زندگی کے مختلف شعبوں جیساکہ معاش، تعلیم ،ثقافت وغیرہ میں ایک دوسرے کے ساتھ مکمل تعاون کرنا چاہئے۔ایک دوسرے سے تعلقات استوار کرنے کے لیے ایک دوسرے کی حاکمیت کو تسلیم کر نا اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی سے گریزکرنا ضروری ہے۔
س۔ اسی طرح ہندوستان سے بھی دوستانہ اور پُرامن تعلقات کو اولین ترجیح دی جانی چاہئے۔تمام مسائل بمعہ جموں اورکشمیر اور دوسرے حل طلب مسائل کوپُر امن طریقے سے بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہیے۔ ایسی بات چیت دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
ص۔ ایران، روس اور دوسرے وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ بھی دوستانہ تعلقات کو فروغ دینا چاہیئے۔ ان تعلقات کی بنیاد ایک دوسرے کی اقتدار اعلٰی کو تسلیم کرنے اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی سے پرہیز پر مبنی ہونا ضروری ہے۔
ط۔چین سے روایتی تعلقات کو مزید مضبوط کیا جائے۔
ع۔عوامی نیشنل پارٹی امریکہ سے تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کرے گی۔تعلقات کی مضبوطی کے لیے ایک دوسرے سے باہمی تعاون،احترام ،ایک دوسرے کی آزادی اور اقتدار اعلٰی کا احترام کرنا ضروری ہے۔پیچیدہ پالیسیوں سے پرہیز کرنا چاہیئے کیونکہ اس سے سرحد کے دونوں اطراف فوجی تصادم کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ف۔ یورپی یونین کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط اور استوار کرنا چاہیئے۔
ق۔پاکستان کو چاہئیے کہ اسلامک کانفرنس ،سارک اور ای سی او کی تنظیم سازی کے لیے تعمیری کردارادا کرے۔
ک۔بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل پر ہماری تحریک خصوصی توجہ دے گی خصوصا سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ملکوں میں جہاں پر بہت سارے پختون کام کرتے ہیں۔
ل۔پاکستان تمام سیاسی مسائل کو سیاسی طریقوں سے حل کرنے کی کاوشوں کی حوصلہ افزائی کرے گا نہ کہ بزور اور بالجبر مسائل حل کرنے کا طریقہ اپنایا جائے ۔

 

Back to the main page